بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

دو چہرے ایک رویہ

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مسلمانوں کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ان کے ایمان، محبت اورعقیدت کا محور ہے۔ ایک مسلمان چاہے کتنا بھی بے عمل کیوں نہ ہو وہ آپ کی محبت اور عقیدت کے معاملے میں بے حد حساس واقع ہوا ہے۔ حضورکی طرح ہی آپ کا لایا ہوا دین، آپ کی دی ہوئی شریعت اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب بھی مسلمانوں کے نزدیک بہت محترم ہے۔

کیا موجودہ دور میں بھی الحاد پایا جاتا ہے؟ الحاد نے مغربی اور مسلم معاشروں کو کس بری طرح متاثر کیا ہے؟ یورپ میں مذہب سے بغاوت کیوں پیدا ہوئی؟ مسلم دنیا میں الحاد کس طرح سرایت کر رہا ہے۔ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

حضور کی بے مثل شخصیت اور آپ کی لائی ہوئی آفاقی تعلیمات نے ہر دورمیں انسانوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ لیکن دوسری طرف اعدائے اسلام نے بھی ہر دور میں انہی دو چیزوں کو نشانہ بنا کر نہ صرف اچھے غیر مسلموں کو اسلام سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے بلکہ مسلمانوں کا بھی اسلام پر اعتماد مجروح کرنا چاہا ہے۔

اسلام کے ان دشمنوں کا طریقہ کار ہمیشہ سے سادہ رہا ہے۔ یہ لوگ کبھی اسلام کے مثبت اور اچھے پہلوؤں کو لوگوں کے سامنے نہیں لاتے بلکہ چن چن کر اسلامی تعلیمات اور سیرت پاک کے ان پہلوؤں کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں جہاں سطحی طور پر دیکھنے میں ایک چیز اخلاقی اور عقلی پیمانوں کے بالکل خلاف نظر آتی ہے۔ حالانکہ جیسے ہی تمام باتوں کو ان کے موقع محل اور حالات میں رکھ کر دیکھا جاتا ہے، اصل بات بالکل واضح ہوجاتی ہے۔

ان کا دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ حقائق کی سادہ توجیہ کرنے کے بجائے ایک انتہائی رکیک اور منفی توجیہ کرتے ہیں۔ اسلام کے خلاف اس طرح کی خلاف عدل باتیں وہی لوگ کرتے رہے ہیں جو حق کی دشمنی میں بالکل اندھے ہو جاتے ہیں یا پھر اپنے پیروکاروں کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ انہیں ہر اخلاقی اصول سے بالکل بے نیاز کر دیتا ہے۔ کسی کی دشمنی میں اندھے ہو کر خلاف عدل معاملہ کرنا یا اپنے مفادات کی خاطر اخلاقی اصول کو پامال کر دینا ایک خاص قسم کا منفی کردار ہے۔

یہ کردار ضروری نہیں کہ کسی دشمن اسلام میں پایا جائے۔ عین ممکن ہے کہ یہ کردار کسی مسلمان میں بھی موجود ہو۔ چنانچہ قرآن وحدیث میں مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس قسم کے رویے اور کردار سے دور رہیں۔ ہم مثال کے طور پرصرف ایک آیت نقل کر رہے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ.

اے ایمان والو! عدل کے علم بردار بنو، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے۔ اورکسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو۔ یہی تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اوراللہ سے ڈرتے رہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو بے شک اللہ اس سے باخبر ہے۔(مائدہ5:8 )

بدقسمتی سے مسلمانوں اور خاص کر مذہبی حلقوں میں دین کی [اخلاقی] تعلیم بالکل غیر اہم سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ جب وہ کسی کی دشمنی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، تو عدل و انصاف کی ہر حد پامال کرجاتے ہیں۔ مخالفین کے بارے میں لکھی ہوئی ان کی تحریریں کبھی پڑھ لیجیے، اختلاف کرنے والوں کے بارے میں ان کی تقریریں ذراسن لیں تو اندازہ ہوگا کہ ان میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین، کفار و منافقین اور اسلام دشمنوں کے طریقہ واردات میں کوئی فرق نہیں۔

جھوٹ، دروغ گوئی، خلاف واقعہ الزام تراشی، بات کو سیاق وسباق سے جدا کر کے پیش کرنا، معاملے کی غلط اور رکیک تاویل کرنا، واقعہ کو موقع محل سے الگ کرکے بیان کرنا، تحقیر و تذلیل پر مبنی اسلوب اختیار کرنا، کفر و ضلالت اور شرک و بددینی کے فتویٰ لگانا، جان، مال اور آبرو کے درپے ہو جانا۔۔۔۔ یہ وہ رویے ہیں جو اسلام دشمن عناصر بھی اختیار کرتے ہیں اور اسلام کے نام پر کھڑے ہوئے لوگوں کے معمولات میں بھی شامل ہیں ۔

سیاسی غلامی سے اگرچہ کسی قوم کو آزادی مل جائے لیکن اگر انہیں ذہنی طور پر غلام بنا دیا جائے اور احساس کمتری کا شکار کر دیا جائے تو وہ سیاسی آزادی کے باوجود نسل در نسل غلام رہنا قبول کر سکتے ہیں۔ لارڈ میکالے

یہ رویہ اختیارکرنے والے لوگ بظاہر خدا پرستی اور تقویٰ کے لبادے میں خود کو چھپاتے ہیں۔ مگر قرآن کے مطابق یہ لوگ خلاف عدل بات کہہ کر خدا اور تقوی دونوں سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا اس کے سوا کوئی انجام نہیں ہوگا کہ قیامت کے دن خدا کے حضور یہ لوگ مجرموں کی طرح پیش ہوں گے اور خدا ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ہوگا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مذہبی اور غیر مذہبی افراد کسی سے اختلاف رائے کی صورت میں جو رویہ اختیار کرتے ہیں، اس کی ایک مثال اپنی عملی زندگی سے پیش کیجیے۔

      اختلاف رائے کی صورت میں اس قدر برے رویے کی وجہ بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے