بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اس کے سوا کہ اسلام حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ابن اللہ ہونے کو تسلیم نہیں کرتا، اسلام اور عیسائیت میں کوئی اساسی اختلاف نہیں۔ دونوں کا جوہر، دونوں کی روح و رواں ایک ہی ہے، دونوں نوع انسانی کے بطون میں کام کرنے والی ایک ہی قسم کی روحانی قوتوں کی پیداوار ہیں۔

عیسائیت، یہودیوں اور رومیوں کی شقی القلب مادہ پرستی کے خلاف ایک صدائے احتجاج تھی۔ اسلام عربوں کی انسانیت سوز بت پرستی اور ان کے وحشیانہ و ظالمانہ رسوم و عادات کے برخلاف ایک اعلان جنگ تھا۔ عیسائیت کی تبلیغ ایک متمدن و مہذب قوم کو کی گئی جو ایک منظم حکومت کی تابع فرمان تھی۔ اس لئے اسے کم شورہ پشت خرابیوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اسلام کی اشاعت ایسے قبیلوں اور فرقوں میں ہوئی جو ہمیشہ ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے۔ اس لئے اسے ذاتی مفادات کے جبلی تقاضوں اور آبائی و جدی توہم پرستی کی قلعہ بندیوں کے خلاف لڑائی لڑنی پڑی۔

انسانوں میں تکبر، حسد، ریاکاری اور دیگر شخصی مسائل کیوں پائے جاتے ہیں؟ ان کا علاج کیا ہے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

عیسائیت مشرق کی طرف جو قدم بڑھا رہی تھی، انہیں ایک نفیس الدماغ، لیکن عجیب الفطرت شخص نے، جو نسلاً یہودی لیکن تعلیماً اسکندریہ کا ایک یونانی تھا، روک دیا۔ چنانچہ وہ یونان اور روما کی طرف چل دی۔ ان ملکوں میں پہنچ کر اس نے ان کی صدیوں پرانی مشرکانہ تہذیب کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا اور اس نئے افکار اور نئے نظریوں کی صورت میں منتقل کر دیا۔ عیسائیت نے جس لمحہ اپنے مولد سے نقل مکان کیا، وہ عیسائیت نہ رہی بلکہ حضرت عیسی کے دین کی بجائے پال حواری کا مذہب بن گئی۔۔۔۔۔

اسلام کے موجودہ نام لیواؤں کی حالت پر افسوس ہے! جس طرح کلیسائی "آبائیت (Patristicism)" نے دین عیسوی کی اصلی صورت کو مسخ کر دیا تھا، اسی طرح علمائے ظاہر کی اندھا دھند تقلید پرستی نے اسلام کی حقیقی روح کو جلوہ گر ہونے سے روک دیا ہے۔ ایک عیسائی خطیب [مامرے] نے دین اور دینیات کے باہمی اختلاف کو اور ان خرابیوں کو جو ان دونوں کے التباس کی بدولت عیسوی کلیسا یں پیدا ہو گئی ہیں، بڑے پرزور الفاظ میں بیان کیا ہے۔ جو کچھ عیسائیت میں ہو چکا ہے وہی اب اسلام [یعنی مسلمانوں] میں ہو رہا ہے۔

عمل کی جگہ زبانی اقرار کے ڈھونگ نے لے لی ہے۔ نیک اور پرخلوص کاموں کو، یعنی ایسے کاموں کو جو خلق خدا کی بھلائی کے لئے، نیکی کرنے کی خاطر اور حب الہی کی وجہ سے کئے جائیں، خالی خولی رسم پرستی نے معطل کر دیا ہے۔ مذہبی جوش مردہ ہو چکا ہے اور خدا و رسول کی محبت ایک مہمل ترکیب لفظی بن گئی ہے۔

وہ ذوق و شوق جس کے بغیر انسانی زندگی بہائم کی زندگی سے بہتر نہیں، یعنی راست روی و راست اندیشی کا ذوق و شوق رخصت ہوچکا ہے۔ آج کل کے مسلمان الفاظ کی محبت میں مبتلا ہو کر معانی سے غافل ہو گئے ہیں۔ معلم اسلام نے جس مثالی نصب العین کی تلقین کی تھی، اس کے حصول کی جدوجہد کرنے کی بجائے، نیکو کاری و اتقاء میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں کوشاں رہنے کی بجائے، خدا سے محبت کرنے اور اس کی خاطر انسانوں سے محبت کرنے کی بجائے، وہ موقع پرستی اور ظاہر داری کے غلام ہو گئے ہیں۔۔۔۔

مسلم جماعتوں کے موجودہ جمود کا سب سے بڑا باعث یہ غلط خیال ہے جس نے مسلمانوں کی اکثریت پر قبضہ جما لیا ہے کہ اجتہاد ذاتی کا حق فقہائے قدیم پر ختم ہوگیا ہے اور اس زمانے میں اس کی مشق گناہ ہے۔ اسی کی ایک شق یہ خیال ہے کہ ایک مسلمان صرف اس صورت میں صحیح العقیدہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کا مقلد ہو اور اپنی ذاتی رائے کو معطل کر کے ایسے علماء کے احکام و اقوال پر اعتماد کرے جو نویں صدی عیسوی میں زندہ تھے اور بیسویں صدی کے مقتضیات کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔

اچھی ساکھ اپنی اصل میں کسی پودے کی طرح ہے۔ اسے قائم کرنے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ اچھی ساکھ کو ایک رات میں قائم نہیں کیا جا سکتا لیکن اسے ایک ہی رات میں تباہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔ جیریمی ٹیلر

اہل سنت کا یہ عام عقیدہ ہے کہ چار اماموں کے بعد کوئی عالم دین ایسا پیدا نہیں ہوا جو شریعت محمدی کی تعبیر و تفسیر کی قابلیت رکھتا تھا۔ مسلمان جن بدلے ہوئے حالات میں آج کل زندگی بسر کر رہے ہیں، ان کا کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا اور یہ خیال کیا جات اہے کہ جن نتائج پر یہ علمائے دین آج سے صدیوں پہلے پہنچے تھے، وہ آج بھی جوں کے توں قائم ہیں اور ان کا اطلاق آج کے حالات پر بھی اسی طرح ہوتا ہے۔

شیعوں میں اخباریوں کا فرقہ ذاتی رائے کو مفسرین شریعت سے ایک قدم آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فکر کو ذہن انسانی کا سب سے اہم اور سب سے اشرف وظیفہ کہا تھا۔ ہمارے مکتبی ارباب فقہ اور ان کے غلامانہ ذہنیتوں والے مقلد اسے بروئے کار لانے کو گناہ اور جرم قرار دیتے ہیں۔ جو کچھ عیسائیوں کے یہاں ہوا تھا وہ ہی مسلمانوں کے یہاں ہوا ہے۔۔۔۔

عیسائی کلیسائیوں کی طرح ان علمائے فقہ میں بہت سے ایسے تھے جو جابر اور مستبد بادشاہوں کے ملازم تھے، جن کے مطالبات معلم اسلام صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ارشادات سے مطابقت نہ رکھتے تھے۔ چنانچہ نئے نئے قانون ایجاد کئے گئے، نئے نئے نظریے تراشے گئے، نئی نئی روایات ڈھونڈ نکالی گئیں اور شارع کے الفاظ کو ایسے ایسے معانی پہنائے گئے جو ان کے اصلی مفاہیم کی ضد تھے۔۔۔۔ ایک انگریز مصنف کہتا ہے،

جس طرح عبرانیوں [یعنی یہودیوں] نے عہد عتیق کی کتابوں [یعنی بائبل] کو برطرف کر کے تلمود کو اختیار کیا، اسی طرح مسلمانوں نے قرآن کو بالائے طاق رکھ کر [ضعیف و موضوع] روایتوں اور علمائے دین کے فتووں کا اپنا رہبر بنا رکھا ہے۔ اگر کسی مسلمان سے پوچھا جائے کہ اس کے مذہب کا نصاب کیا ہے تو وہ قرآن کے سوا کسی اور کتاب کا نام لے گا۔ پھر بھی ہمارا مطلب ضرور ہے کہ فی الواقع قرآن اس کے اعمال یا عقائد کی راہنمائی نہیں کرتا۔

قرون وسطی میں نیا عہد نامہ [یعنی انجیلیں] نہیں بلکہ ٹامس ایکوئیناس کی سما تھیولوجیکا (Summa Theologica) یعنی 'جامع دینیات' عیسوی عقائد کے صواب و خطا کا معیار تھی۔ اور کیا موجودہ زمانے میں عیسائی گرجا کا کوئی رکن انجیلوں کی ذاتی چھان بین کر کے حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات سے اپنے عقائد اخذ کرتا ہے؟ غالباً اگر وہ کسی تحریر سے رجوع کرتا بھی ہے تو صرف گرجا کے سوال و جواب نامہ ہی سے۔ یہی اس کے لئے کافی ثابت ہوتا ہے۔

اگر اس کی طبیعت میں چیزوں کی ٹوہ لگانے کا مادہ ہو تو گرجا کے انتالیس ارکان سے اس کے تمام شبہات زائل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر اس سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہے گے گا کہ اس کا ضابطہ عقائد انجیلوں سے ماخوذ ہے اور وہ کبھی یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ اس نے انجیلوں کے مضمون کا اکتساب کن وسیلوں سے کیا۔ موجودہ زمانے کا اسلام بالکل اسی قسم کے طریقوں سے وضع کیا گیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے عقائد و اعمال کا بیشتر حصہ ایسا ہے کہ قرآن پر مبنی نہیں۔

(مصنف: جسٹس سید امیر علی، ترجمہ: محمد ہادی حسین، "روح اسلام" سے اقتباس)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اسے پرنٹ کر کے اپنے ان دوستوں کو دیجیے جو کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔

mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      اس تحریر سے آپ کیا سبق اخذ کر سکتے ہیں؟

      ہماری جامد ذہنیت کے تین اسباب بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے