بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

وجود زن کے مصنوعی رنگ

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

عورت کا وجود نوعِ انسانی کی بقا کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ مردوں کا۔ عورت بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں ایک نعمت ہے ۔ سب سے بڑھ کر وہ ایک ماں ہے جس کی آغوش ایک نومولود کی طبعی ضروریات ہی پورا نہیں کرتی بلکہ اس کی نفسیات پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ لہٰذا ایک ماں کی گود سے ایک بچہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ دنیا کی اعلیٰ ترین درسگاہ بھی فراہم نہیں کر سکتی۔ اگر ماں خدا کو بھگوان کے روپ میں پیش کرے تو بعد میں اس بھگوان سے خدائے حقیقی تک پہنچنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ ایک بچہ خیر و شر، شرک و توحید اور جبر و قدر جیسے دقیق موضوعات سے لے کر صبروقناعت سادگی و حیا اور فقر و استغنا جیسے عملی مسائل پر ابتدائی تعلیم ماں ہی سے حاصل کرتا ہے۔

ہمارے میڈیا میں اربوں روپیہ ایڈورٹائزنگ پر صرف کیا جاتا ہے۔ کیا اس ایڈورٹائزنگ سے معاشرے کو حقیقی فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ موجودہ ایڈورٹائزنگ کے ہماری اصل زندگی یعنی آخرت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

علم کی اس اولین درسگاہ کا اپنا قبلہ ہی درست نہ ہو تو قدرت کے فطری نقشہ میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس بگاڑ کا عملی نمونہ کبھی دنیا ہٹلر میسولینی اور چنگیزخان کی شکل میں انفرادی سطح پر دیکھتی ہے تو کہیں اجتماعی سطح پر قوم لوط، قوم عاد اور ثمود کی صورت میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ خواتین کی طبیعت میں کئی پہلوؤں سے بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے مگر اس تحریر میں ہم صرف ایک خاص چیز کی طرف توجہ دلارہے ہیں یعنی نمود و نمائش کے جذبے میں حد سے بڑھ جانا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ عورتوں میں نمود و نمائش کا جذبہ مردوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ اگر اپنی حدود میں رہے تو دنیا کے حسن میں اضافہ کرتا ہے اور اگر ان قیود سے ماورا ہو جائے تو فساد برپا کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی نمود و نمائش کے بے شمار پہلو ہیں لیکن ان کاسب سے نمایاں اظہار ملبوسات اور زیورات کے ذریعے سے ہوتا ہے۔

جہاں تک لباس کا تعلق ہے تو اس کا بنیادی مقصد سترپوشی ہی نہیں بلکہ زینت و آرائش بھی ہے بشرطیکہ اس میں اسراف نہ ہو ۔لیکن اگر ہم خواتین کے طرز عمل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطمح نظر اکثراس سے مختلف ہوتا ہے۔ اکثر خواتین ملبوسات کو مقابلے کے جذبے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ کسی لباس کو زیب تن کر لیا جائے تو دوسری تقریب کے لیے وہ شجرِ ممنوعہ بن جاتا ہے۔ پھر اگر کوئی یہ بدعت کر بھی لے تو اسے غربت کے طعنے دے کر راہِراست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لباس جتنا مہنگا ہو، اتنا ہی خاتون کے اعلیٰ ذوق اور اسٹیٹس کا عکاس سمجھا جاتا ہے۔

تمہارے ملازمین تمہارے بھائی ہیں۔ انہیں اللہ نے تمہارا ماتحت کیا ہے۔ انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔ ان سے کوئی ایسا کام نہ کہو، جو کرنے کی طاقت وہ نہ رکھتے ہوں۔ اگر کسی ایسے کام کا انہیں کہو تو پھر خود بھی اس میں ان کی مدد کرو۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (بخاری، کتاب الادب)

دوسری جانب زیورات کا شوق بھی خواتین کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ سونا جو کہ انتہائی بے مصرف دھات ہے خواتین ہی کی وجہ سے انتہائی قیمتی بنا ہوا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اسٹیل کی چوڑیاں پہننا عار اور سونے کی چوڑیاں پہننا وقار سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں محض دھاتیں ہیں۔ سونے کی قدروقیمت کا تعلق قدیم ترین نفسیات سے ہے۔ چنانچہ یہ زیورات تالوں میں بند الماریوں میں پڑے رہتے ہیں ۔ اگر کبھی خواتین سے یہ کہا جائے کہ ان زیورات کو کسی منافع بخش مصرف میں استعمال کیا جائے تو ان کے لیے یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔

خواتین اسی نمود و نمائش کے جذبے کے تحت تقاریب کو رونق بخشتی ہیں۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے نت نئے لباس پہنے جاتے ہیں۔ منفرد نظر آنے کی خواہش میں لاکھوں روپے کے زیورات بنوائے جاتے ہیں اور پھر اسے مووی میں محفوظ کرکے امر کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اسی طرز عمل کی بناء پر آمدنی کے ناجائز ذرائع کو فروغ ملتا ہے۔ کرپشن پیدا ہوتی ہے۔ سادگی کی جگہ تصنع و بناوٹ آجاتی ہے۔ معصومیت کی بجائے چالاکی پیدا ہوتی ہے۔ ہمدردی کی بجائے حسد گھر کر لیتا ہے۔ یوں انسانیت کی یہ عظیم ترین درسگاہ بگاڑ کا شکار ہو کر ایک بڑے بگاڑ کو جنم دینے کا سبب بن جاتی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ خواتین یہ فیصلہ کریں کہ انہیں اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس جھوٹی شان و شوکت کی ختم نہ ہونے والی جدوجہد میں جھونک دینا ہے یا انہیں سادگی اور وقار کا درس دینا ہے ۔ کیونکہ سادگی ہی وہ راستہ ہے جس کے ساتھ کسی شخص کو اپنی شخصیت کی تکمیل کے لیے ظاہری سہاروں کی ضرورت نہیں رہتی۔ (مصنف: پروفیسر محمد عقیل)

دوسرے لوگ اپنی شخصیت کی تعمیر کے لئے آپ کے منتظر ہیں۔ آپ کے سوالات، تاثرات اور مثبت تنقید اس تحریر کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ ای میل بھیجیے۔

mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      تین ایسے مواقع گنوائیے جب نمود و نمائش پر بہت زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہو۔

      نمود و نمائش کا ایک انسان کی فیملی لائف پر کیا اثر رونما ہوتا ہے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے