بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

لیجیے انقلاب آ گیا

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ہمارے ہاں ایک طویل عرصے سے انقلاب کا انتظار جاری ہے۔ اس انتظار کا پس منظر یہ ہے کہ ہمارے ملک کے ذرائع وسائل پر، دیگر بہت سے ترقی پذیر ممالک کی طرح، استحصالی طبقات کا قبضہ ہے۔ فوج، جاگیردار، سیاستدان، سرمایہ دار اور بیوروکریسی میں پایا جانے والا استحصالی عنصر اس ملک کی سیاسی اور معاشی شہ رگ پر قابض ہے۔

دوسری طرف عوام کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ غریب ہر دور میں چاہے وہ فوجی دور ہو یا عوامی سیاسی دور، یکساں طور پر پستا رہا ہے۔ حکومتیں بدلنے سے عوام کی تقدیر کبھی نہیں بدلی۔ ہر آنے والا پچھلے پر لعنت کرتا ہے، نئی روشنی اور ترقی کی نوید دیتا ہے اور جب جاتا ہے تو صورتحال پہلے سے زیادہ خراب ہوچکی ہوتی ہے۔ عوام کے کچلے جانے کا یہ عمل کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ امتیاز کیوں برتتا ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں بھی نسلی و قومی امتیاز پایا جاتا ہے؟ اس ضمن میں اسلام ہمیں کیا سبق دیتا ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

اس عرصے میں ہمارے مذہبی اور غیر مذہبی دانشور قوم کو ایک عظیم انقلاب کی نوید دیتے رہے ہیں۔ ان کا یہ خیال ہے کہ جس طرح روس،فرانس اور ایران میں انقلاب آیا تھا، اسی طرح پاکستان میں بھی عوامی انقلاب کی لہر استحصالی طاقتوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گی۔ انقلاب کی لہر کو پیدا کرنے کا جو طریقہ انہوں نے ٹھیک سمجھا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ استحصالی طبقات کے خلاف غصے کی وہ آگ بھڑکائیں کہ لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی تپش آتش فشاں بن کر دہکنے لگے۔ قلم کے جوش اور لہجے کی گرمی سے عوامی جذبات کو برانگیختہ کریں۔ اپنے فکر و نظر کے ہر سوتے کو صرف لوگوں میں ردعمل کی نفسیات کے فروغ کے لیے وقف کر دیں۔

چنانچہ اس پس منظر میں ہر قلمکار اور ہر مقرر کوشش کرتا ہے کہ وہ ان طبقات کے خلاف لوگوں کے ذہن میں نفرت کا زہر انڈیلتا رہے۔ ان کے ظلم، بدعنوانیوں، ریشہ دوانیوں سے عوام کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرتا رہے۔ اس مقصد کے لیے صاحب اقتدار شخص کو عام طور پران استحصالی طبقات کا نمائندہ بنا کر سامنے لایا جاتا ہے۔ پھر یہ لوگ عوام کو بتاتے ہیں کہ ان کا ہر حکمران اصل میں حکمران نہیں بلکہ شیطان ہے۔ اس کے دور میں کوئی خیر نہیں اوراس کی ذات سے کسی کا بھلا نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس قوم کی تاریخ یہی ہے کہ جو شخص حکومت میں آجاتا ہے اس کی برائیاں لوگوں کو ازبر ہوجاتی ہیں اور اس کا ہر اچھا کام اس کا ذاتی مفاد ہی لگنے لگتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام ہر سیاسی اور فوجی حکومت سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ سن ستتر تک عوامی تحریک کی مدد سے اور اس کے بعد عوام کی خاموش رضامندی کے ساتھ ہر حکومت بدل جاتی ہے۔ لیکن حکومتی تبدیلی چونکہ عوامی انقلاب کے مترادف نہیں ہوتی اس لیے وہ ایک دفعہ پھر نئے آنے والے پر اپنی توپوں کے دہانے کھول دیتے ہیں۔

ان مفکرین اور دانشوروں کو یہ نہیں معلوم کہ لوگوں کے ذہنوں میں منفی سوچ کا جو بیج انہوں نے لگایا تھا، وہ اب برگ وبار لانے لگا ہے۔ انقلاب آگیا ہے۔ مگر یہ ایک بہت برا انقلاب ہے۔ لوگوں نے اپنے معاملا ت خود ٹھیک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مگر اس کا طریقہ یہ نہیں کہ استحصالی طبقات کے خلاف وہ اٹھیں، بلکہ وہ خود استحصالی طبقات میں شامل ہوگئے ہیں۔ ملازمت پیشہ لوگوں نے رشوت اور بدعنوانی کے ذریعے سے جبکہ تاجروں نے ملاوٹ اور گرانی کے ذریعے سے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ مڈل کلاس کے ان دو نمایاں طبقات کے بعدجو غریب غربا رہ گئے تھے، انہوں نے اسٹریٹ کرائم کو اپنے ہر مسئلے کا حل بنا لیا ہے۔ سوسائٹی کے باقی لوگوں کے پاس سوائے صبر اورخود کشی کے کوئی اور چارہ نہیں بچا۔ سو سارے مفکرین اور دانشوروں کو مبارک ہو، انقلاب آگیا ہے۔

مگر یہ راستہ تباہی کا راستہ ہے۔ ہم اس راستے کے ہر موڑ اور ہر راہ گذر پر کھڑے ہوکر لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ یہ غلط راستہ ہے۔ نفرت نہیں بلکہ محبت، بدلہ نہیں بلکہ درگزر، برائی نہیں بلکہ بھلائی، یہی طریقہ ہے جو قوم کی نجات کا راستہ ہے۔ ساری دنیا میں اگر برائی پھیل جائے تب بھی ہمیں نیکی کرنی ہوگی اس لیے کہ ہمیں اپنا بدلہ اپنے رب سے لینا ہے، انسانوں سے نہیں۔ ہمیں آخرت چاہیے ،دنیا نہیں۔ ہمیں حبیب خدا کے راستے پر چلنا ہے، کمیونسٹوں کے طریقے پر نہیں۔ اسی سے اصل انقلاب آئے گا۔ اسی سے اصل خیر پھوٹے گی۔ اسی سے صبح طلوع ہوگی۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اپنے اندر جھانکیے۔ انسان کے اندر ہی سے نیکی کا سرچشمہ پھوٹتا ہے۔ اگر ہم اس چشمے کو کھودنا بند نہ کریں تو یہ بہنا کبھی بند نہیں کرتا۔ مارکوس آرلیوس

یاد رکھیے کہ کسی بھی مثبت انقلاب کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ ہم انقلاب کے شارٹ کٹ کی تلاش میں کتنی ہی ٹکریں مار لیں، ہم اسے نہیں پا سکتے۔ منفی اور تخریبی انقلابات کے بہت سے شارٹ کٹ ہوا کرتے ہیں مگر تعمیری انقلاب کے لئے ایک مدت درکار ہوتی ہے۔ کسی بھی عمارت کو چند سیکنڈ میں بم مار کر تباہ کیا جا سکتا ہے مگر اس کی تعمیر کے لئے کئی مہینے بلکہ کئی سال درکار ہوا کرتے ہیں۔ یہی قانون پوری کائنات میں قابل عمل ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمیں اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم ایسا کر سکتے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ زیادہ اہم ہے کہ ہم دوسروں کے حقوق ادا کرنے والے بن جائیں۔ اس مقصد کے لئے ہمیں اپنی شخصیت کو Rights-oriented کی بجائے Duty-oriented بنانا ہوگا۔ ہماری رائے میں، ایک مثبت انقلاب کے لئے ہمیں دو میدانوں میں جدوجہد کرنا ہوگی:

      ہمیں اپنے لوگوں کے اخلاقی کردار، سیرت اور شخصیت کی تعمیر کرنا ہوگی۔

      ہمیں جہالت اور غربت کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔

اگر ہم صرف ایک شخص کے کردار اور شخصیت کو تعمیر کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور اسے علم حاصل کرنے اور غربت کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے درکار وسائل فراہم کر دیں تو کم از کم ایک خاندان کی حد تک ہم انقلاب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یقین کیجیے کہ یہ معمولی کامیابی نہیں ہے۔ اس کا اصل اجر ہمیں اللہ تعالی کے حضور ایک ناقابل یقین جنت کی صورت میں ملے گا۔ اس دنیا میں بھی ایک خاندان کی زندگی میں مثبت انقلاب برپا کرنا کوئی گھٹیا درجے کا کام نہیں ہے۔ یہ ایک عظیم، عظیم اور عظیم کامیابی ہے۔

اگر پورے ملک کا انقلاب ہمارے بس میں نہیں تو چلیے ایک خاندان کا انقلاب تو ہمارے بس میں ہے۔ تو چلیے اللہ کا نام لے کر ہمت باندھتے ہیں!!! مبشر نذیر

پیسہ کمانا اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اس وقت ہمارے معاشرے کے ایک عام آدمی کی زندگی کا نصب العین بن چکا ہے۔ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جتنا زیادہ پیسہ پاس ہوگا اتنا ہی دنیا و آخرت کی بھلائی کا سبب بن جاتا ہے۔ سر دست میں دنیا کی بھلائی پر تو کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا البتہ انسان کی آخرت پر پیسہ جس طرح اثر ڈالتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آج اس پر کچھ گفتگو کر لوں۔اس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ قارئین کی ایک بڑی تعداد خوشی یا مجبوری سے دولتمند بننے کی اس ریس میں ضرور شامل ہے یا ہونا چاہتی ہے، جو اس وقت معاشرے میں لگی ہوئی ہے۔

 

دوسرے لوگ اپنی شخصیت کی تعمیر کے لئے آپ کے منتظر ہیں۔ آپ کے سوالات، تاثرات اور مثبت تنقید اس تحریر کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ ای میل بھیجیے۔

mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ہمارے منفی طرز فکر کی پانچ وجوہات بیان کیجیے۔

      کسی ایک فرد کی مثبت شخصیت کی تعمیر ایک بہت بڑا انقلاب ہے! اگر آپ اس بات سے متفق ہیں تو مثبت شخصیت کی تعمیر کے نفسیاتی، سماجی، اخلاقی اور سیاسی پہلوؤں کو بیان کیجیے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے