بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کامیاب زندگی

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ہمارے ہاں ایک کامیاب زندگی کا ذکر جیسے ہی آتا ہے تو ذہن فوراً مال دار لوگوں کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک طرف غربت بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف امراء کی تعداد میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دولت کی نمائش گاڑیوں، گھروں، لباس، زیورات، فرنیچر اور دیگر اسباب زندگی کی شکل میں اس طرح ہورہی ہے کہ لگتا ہے کہ ملک میں دولت کے خزانے امنڈ رہے ہیں۔

پیسہ کمانا اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اس وقت ہمارے معاشرے کے ایک عام آدمی کی زندگی کا نصب العین بن چکا ہے۔ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جتنا زیادہ پیسہ پاس ہوگا اتنا ہی دنیا و آخرت کی بھلائی کا سبب بن جاتا ہے۔ سر دست میں دنیا کی بھلائی پر تو کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا البتہ انسان کی آخرت پر پیسہ جس طرح اثر ڈالتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آج اس پر کچھ گفتگو کر لوں۔اس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ قارئین کی ایک بڑی تعداد خوشی یا مجبوری سے دولتمند بننے کی اس ریس میں ضرور شامل ہے یا ہونا چاہتی ہے، جو اس وقت معاشرے میں لگی ہوئی ہے۔

مایوسی سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ مایوسی کن وجوہات کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہے؟ مایوس انسان کو کیا کرنا چاہیے؟ مثبت زندگی گزارنے کا طریقہ کیا ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

دولتمند کے مسائل

آخرت کے اعتبار سے ایک دولتمند آدمی کا اصل مسئلہ وہ ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اس طرح بیان کیا ہے۔

اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہی (یعنی جنت) میں داخل ہو۔(کتاب متی)

سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا مطلب یہ نہیں کہ دولتمند جنت میں جا نہیں سکتا۔ وہ صرف یہ بتارہے ہیں کہ اس بات کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ امکانات کیسے کم ہوتے ہیں۔

دولتمندی کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ جس آدمی کے پاس زیادہ پیسے ہوتے ہیں وہ فوراً تکاثر کی اس دوڑ میں شریک ہوجاتا ہے، جس کا نتیجہ قرآن نے سورہ تکاثر میں غفلت بیان کیا ہے۔تکاثر قرآن کے مطابق لوگوں کی وہ حالت ہے جس میں وہ مال و اسباب میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ لگانا شروع کردیتے ہیں۔

انسان کارل مارکس کا وہ معاشی حیوان بن جاتا ہے جس کی ساری زندگی پیسہ کمانے اور پھر پیسہ خرچ کرنے کے نت نئے طریقے دریافت کرنے میں گزرجاتی ہے۔اس کا معاملہ ضروریات اور ذوق جمال کی تسکین تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی کا مطمع نظر یہ ہوجاتا ہے میرے پاس ہر وہ چیز ہوجو دوسرے شخص کے پاس ہے۔ یوں اسٹیٹس بلند کرنے کی وہ مخلوط میراتھن سوسائٹی میں شروع ہوجاتی ہے جس کے خلاف نہ کوئی آواز اٹھاتا ہے اور نہ یہ کبھی ختم ہوتی ہے۔

مال و دولت، اسٹیٹس، شاندار گھر، نئے ماڈل کی چمکتی دمکتی گاڑیاں، بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا اور ان جیسی دیگر ان گنت چیزیں انسان کو بڑی اچھی لگتی ہیں۔مگر غفلت ان کا لازمی نتیجہ ہے۔اس غفلت کے بعد آدمی کے لیے ممکن نہیں رہتا کہ وہ جنت کی حسین ترین بستی میں اپنے لیے کوئی جگہ بناسکے۔اس لیے کہ اس کی ساری توجہ تو دنیا کے Competition میں لگ گئی ۔جس کے بعد اس کے دل سے جنت کی خواہش ہی نکل جاتی ہے۔ اور جس دل سے جنت کی خواہش نکل جائے، وہ کبھی جنت میں نہیں جاسکتا۔

غفلت کے بعد دولت کا دوسرا بڑا مسئلہ تکبر ہے۔ پیسہ کی قوت خرید بہت زیادہ ہے۔ اس سے انسان وہ سب کچھ خرید لیتا ہے جس کی انسانی معاشرے میں قدر و قیمت ہوتی ہے۔اس کے لیے ہر چیز ممکن ہو جاتی ہے۔ اس لیے پیسے والا آدمی اکثر خود کو قادر مطلق سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ غرور اور تکبر کی شکل میں نکلتا ہے۔ تکبر وہ چیز ہے جو انسان کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی پیدا ہوجائے تو انسان کی نجات ممکن نہیں رہتی۔ ایک حدیث کے مطابق جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہ جائے گا (مسلم، رقم 91)۔ پھر یہی تکبر ہے جو انسان کو رب کے مقابلے میں سرکشی پر آمادہ کر دیتا ہے۔ جس کا سب سے کامل نمونہ شیطان ملعون ہے جو اپنے تکبر کی بنا پر اللہ کے مقابلے میں کھڑا ہوگیا تھا۔

دولت کا تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایک دولت مند آدمی اللہ کی رضا کے لیے تو پیسہ خرچ کرنے کی ہمت کر نہیں پاتا البتہ لوگوں کی واہ واہ کے لیے پیسہ خرچ کرنا اس کے لیے بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ریاکاری ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے شرک کی ایک قسم ہے۔ شرک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک ناقابل معافی جرم ہے۔

دولت کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کے اندر لالچ اور ہوس کو پیدا کرتی ہے۔دولت کی ریس میں آخری حد کوئی نہیں ہوتی۔ انسان زیادہ سے زیادہ کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ ایک حدیث کے الفاظ میں ابن آدم کو اگر ایک وادی کے برابر سونا دے دیا جائے تو وہ ایسی دو وادیوں کی خواہش کرے گا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ابن آدم کا پیٹ تو قبر کی مٹی ہی بھرسکتی ہے۔ (بخاری،رقم6075)۔

دولت کی یہ ہوس آگے بڑھتی ہے اور انسان حرام وحلال کی تمیز سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر اگلا قدم وہ ہوتا ہے جب انسان ظلم پر اترآتا ہے۔ وہ بندوں کا حق غصب کرتا اور رب کو ناراض کرکے سونے چاندی کے ڈھیر جمع کرتا ہے۔جتنا اس کا زر بڑھتا ہے اتنا ہی وہ بخل میں آگے بڑھتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ قبر میں پہنچ جاتا ہے جہاںاس کی قسمت میں ابد تک رونا اور چلانا ہی رہتا ہے۔رہا اس کا مال تو وہ اس کے وارثوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔

دولت کا اگلا مسئلہ یہ ہے کہ یہ انسان کو اسراف و تبذیر پر ابھارتی ہے۔ انسان کی جیب میں پیسہ ہو تو وہ ہر دستیاب چیز خریدنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جسے اپنانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کے بھائی قرار دیا ہے(بنی اسرائیل27:17)۔ پھر یہیں سے حرام کا وہ دروازہ کھلتا ہے جس میں دولت خرچ کرکے انسان رب کی ناراضی مول لیتا ہے۔کون نہیں جانتا کہ جوا، سٹہ، بدکاری، شراب نوشی وغیرہ کی منزلیں دولتمندی کی راہ پر چلنے والے کے لیے آسانی سے کھل جاتی ہیں۔

دولتمندی کا ایک اور عظیم نقصان یہ ہے کہ دولت انسان کے لیے زندگی میں غیر ضروری آسانیاں اور تعیشات پیدا کردیتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں انسان کو اکثر ان کیفیات سے محروم کردیتی ہیں جو اسے سچا خدا پرست بناتی ہیں۔ انسان جب عجز، تکلیف، محرومی اور بے بسی کے تجربات سے گزرتا ہے تو اس کے لیے بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ اپنے عجز کے مقابلے میں رب کی عظمت کو دریافت کرسکے۔وہ اس کی قدرت کے مقابلے میں اپنی بے کسی کو جان سکے۔وہ اس کی عطا کے مقابلے میں اپنے محرومی کو جان سکے۔محرومی اور غم و الم انسان کے لیے رونا بہت آسان کردیتے ہیں۔ اور خدا کو اپنے سامنے بے کسی سے روتے بندے بے حد محبوب ہوتے ہیں۔ایک دولتمند آدمی کو کیفیات کے اس مقام پر آنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔

زیادہ ڈھلوان والی پہاڑی پر چڑھنے کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ رفتار کو آہستہ کر لیا جائے۔ شیکسپیئر

دولت مندوں کا مقام

دولت اپنی ذات میں کوئی بری یا بھلی شے نہیں ہے مگر اس میں وہ سارے خطرات موجود ہیں جن کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعاؤں میں جس طرح فقر وافلاس کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگی ہے اسی طرح دولتمندی کے فتنے سے بھی پناہ مانگی ہے۔

اللھم انی اعوذ بک من فتنۃ النار۔ ۔ ۔ و من شرفتنۃ الغنی و الفقر (بخاری رقم6016)

اے اللہ میں جہنم کی آگ کے فتنے ۔ ۔ ۔ اور امیری و غریبی کے فتنے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو شخص دولت کی آزمائش سے کامیابی سے گزر جائے اور دولتمندی کے باجود اعلیٰ اخلاقی رویے پر قائم رہتا ہے تو اس کے لیے اعلیٰ ترین درجات کے حصول کا دروازہ کھل جاتا ہے۔تنہا انفاق فی سبیل اللہ وہ عبادت ہے جو خالق و مخلوق دونوں کی نظر میں اسے معتبر بنانے کے لیے کافی ہے۔ غریبوں کی مدد کرنا، بے کسوں کی دعائیں لینا، بے آسرا لوگوں کا سہارا بننا اور سب سے بڑھ کر دین کا مددگار بننا انسان کو عظمت و بلندی کی انتہا پر پہنچادیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جو صحابہ کرام عشرہ مبشرہ کی صف میں شامل ہونے کا اعزار رکھتے ہیں اور جو لوگ خلافت راشدہ میں مسلمانوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز ہوئے ،ان میں سے بیشتر بہت دولت مند تھے۔

یہ کوئی نظری بحث نہیں، ہم سب کا عملی مسئلہ ہے۔اب آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں۔اگر دولتمند بننے کی خواہش ہے تو پھر دولت کے مندرجہ بالا پہلوؤں کو کبھی فراموش نہ کریں۔اوردوسری صورت یہ ہے کہ انسان سادہ زندگی اور قناعت کا راستہ اختیار کرے۔ وہ خواہش کے بجائے ضرورت تک خود کو محدود کردے۔یہ راستہ بظاہر مشکل مگر بڑے سکون کا ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

دوسروں سے اچھی چیزیں شیئر کرنا ایک نیکی ہے۔ اسے نظر انداز نہ کیجیے۔

ہم آپ کے سوالات، تاثرات اور مثبت تنقید کے منتظر ہیں۔ ای میل بھیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      دولت ایک امیر آدمی کی شخصیت پر جو منفی اثرات مرتب کرتی ہے، ان کی ایک فہرست تیار کیجیے۔ مصنف کے بیان کردہ اثرات میں تین مزید نکات کا اضافہ کیجیے۔

      ایک امیر آدمی کو آپ کیا مشورہ دیں گے کہ وہ ان منفی اثرات سے بچ سکے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے