بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

 

Download Printable Version

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ کی خصوصیت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ کو اپنا خاص راز دار بنایا تھا۔ آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ لوگ حضور سے خیر کی باتیں پوچھا کرتے ہیں اور میں ہمیشہ برائی اور فتنے کے بارے میں پوچھا کرتا تھا تاکہ اس سے محفوظ رہوں۔

امام بخاری و مسلم نے آپ سے ایک نہایت ہی اہم حدیث روایت کی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا، "ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ان میں سے ایک کو تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"دیانت داری لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتر چکی ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید نازل ہوا۔ پس لوگوں نے دیانت داری کو قرآن اور سنت سے پہچان لیا۔" اس کے بعد آپ نے ہمیں امانت کے اٹھ جانے کے متعلق بیان فرمایا: "آدمی سوئے گا اور دیانت داری اس کے دل سے قبض ہو جائے گی۔ اس کے بعد اس کا اثر ایک معمولی نشان کی طرح باقی رہ جائے گا۔ وہ پھر سوئے گا اور امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی۔ اس کا اثر اب (محض) ایک آبلے کی طرح باقی رہ جائے گا، جیسے تم ایک انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکاؤ تو اس پر آبلہ نمودار ہو جائے اور تم اسے ابھرا ہوا دیکھو مگر اس میں کوئی چیز نہیں ہو۔" اس کے بعد آپ نے ایک کنکری لی اور اسے پاؤں پر لڑھکا دیا اور مزید فرمایا:

"لوگ اس طرح ہو جائیں گے کہ آپس میں تجارت کرتے ہوں گے مگر ان میں کوئی امانت ادا کرنے کے قریب بھی نہ بھٹکے گا۔ نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ فلاں لوگوں میں ایک دیانت دار شخص رہتا ہے۔ اس کے بعد نوبت مزید یہاں تک پہنچ جائے گی کہ آدمی کو کہا جائے گا کہ یہ کتنا مضبوط، ہوشیار اور عقل مند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا۔"

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، "مجھ پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا کہ میں پرواہ نہ کرتا تھا کہ مجھ سے کس نے خرید و فروخت کی بشرطیکہ وہ مسلمان ہوتا۔ اس لیے کہ اس کا دین اسے میری چیز لوٹانے پر مجبور کر دے گا۔ اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا تو بھی مجھے پرواہ نہ ہوتی کہ (اگر اس نے اپنے دین کی تعلیمات پر عمل نہ کرتے ہوئے بددیانتی کی تو) حکومت کا کارندہ مجھے میری چیز واپس کروا دے گا۔ مگر آج کل تو میں صرف فلاں فلاں سے ہی خرید و فروخت کا معاملہ کرتا ہوں۔" (بخاری، مسلم)

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خلفاء راشدین اور ان کے بعد بنو امیہ کے دور کی طرف اشارہ فرمایا ہے جب مسلم معاشرے میں کرپشن عام ہونا شروع ہو چکی تھی۔ اس واقعے کو چودہ صدیاں گزر چکی ہیں اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ موجودہ دور میں حالات تیزی سے اس طرف جا رہے ہیں جس کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ دیانت دار لوگ اتنے کم ہوں گے کہ وہ محض دیانت داری کے باعث ہی مشہور ہو جایا کریں گے۔

قرآن اور بائبل کے دیس میں۔ ایک ایسا سفرنامہ جو کہ محض ایک سفرنامہ ہی نہیں بلکہ یہودی، عیسائی اور مسلم تاریخ کے مقدس مقامات کی تاریخ پر ایک دستاویز بھی ہے۔ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

موجودہ دور میں مسلم دنیا میں کرپشن کی صورتحال کیا ہے، اس کا اندازہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک حالیہ رپورٹ (2009)سے ہوتا ہے جو کہ ان ویب سائٹ http://www.transparency.org پر اس تحریر کے وقت موجود تھی اور اسے ہر سال اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے اور یہ رینکنگ ہر سال تبدیل ہوتی ہے۔

2009 کی اس رپورٹ کے مطابق دنیا کا سب سے زیادہ دیانت دار ملک ڈنمارک ہے جو گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے باعث اس وقت مسلم دنیا کا مبغوض ترین ملک بنا ہوا ہے۔ یہ ہمارے منہ پر طمانچہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت ملک دنیا میں سب سے زیادہ دیانت دار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد فن لینڈ کا نمبر ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ دیانت دار ایشیائی ملک سنگاپور ہے جو عالمی رینکنگ میں چوتھے نمبر پر ہے۔ امریکہ کا نمبر 20 جبکہ اسرائیل کا نمبر 30 ہے۔ دنیا کے بیس دیانت دار ممالک میں زیادہ تر مغربی ممالک ہی شامل ہیں۔ دنیا کے تیز ترین ترقی کرتے ہوئے ممالک چین اور بھارت دونوں 72 ویں نمبر پر ہیں۔

اچھے کام میں مشغولیت تین چیزوں سے بچاتی ہے: بوریت، غیر اخلاقی کام اور بے جا ضرورتیں۔ والٹیر

مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دیانت دار ملک قطر ہے جو کہ 32 ویں نمبر پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم دنیا کے دیانت دار ترین ملک کی نسبت 31 غیر مسلم ممالک زیادہ دیانت دار ہیں۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات 34 ویں نمبر پر اور ملائشیا 43 ویں نمبر پر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں ممالک معاشی طور پر مستحکم ہیں۔ قطر اور عرب امارات آبادی اور رقبے کے اعتبار سے مسلم دنیا میں کوئی خاص مقام نہیں رکھتے۔ ان دونوں ممالک کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ انہیں مسلم دنیا میں مغرب زدہ ممالک سمجھا جاتا ہے۔ ملائشیا وہ واحد مسلم ملک ہے جو کم کرپشن کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک مغرب زدہ نہیں ہے۔

مسلم دنیا میں اسلامی تشخص رکھنے والا سعودی عرب 79 ویں اور ایران 131 ویں نمبر پر ہے جبکہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور اسلام کا قلعہ کہلانے والا ملک پاکستان 138 ویں نمبر پر ہے۔ مسلم دنیا کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا کا نمبر 143 ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ کرپٹ ملک صومالیہ بھی ایک مسلم ملک ہی ہے جس کا نمبر 179 ہے۔ دنیا کے دس کرپٹ ترین ممالک میں سے پانچ ممالک مسلمان ہیں۔ یہ ممالک بالعموم وہی ہیں جو جنگ کی زد میں ہیں۔ ان میں افغانستان، عراق اور سوڈان شامل ہیں۔

ممکن ہے کہ بعض لوگ اس رینکنگ کو متعصبانہ قرار دیں۔ اس رینکنگ میں ایک دو یا چند درجوں کو تو تعصب سے اوپر نیچے کیا جا سکتا ہے لیکن پوری ترتیب کو بدل ڈالنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہے۔ مذکورہ ممالک میں ہمارے جن افراد کو رہنے کا اتفاق ہوا ہے وہ بھی بالعموم اسی رینکنگ کی تصدیق کرتے ہیں۔

اس کے باوجود عجیب بات ہے کہ ہم مسلمان یہ خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا کی امامت کا منصب مغربی اقوام کی بجائے ہمیں مل جائے۔ اگر ہم اپنی اس خواہش میں مخلص ہیں تو ہمیں امانت اور دیانت داری کے معاملے میں خود کو مغربی اقوام سے بہتر بنانا ہو گا۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو دنیا میں ہماری حالت اس سے بھی بدتر ہوتی چلی جائے گی جو کہ اس وقت ہے۔ کیا یہ ہمارے لئے باعث غیرت نہیں ہے کہ ہماری نسبت غیر مسلم ممالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تعلیمات پر زیادہ عمل کر رہے ہیں؟

بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے ہمیں پہلے اپنی حکومتوں کو دیانت دار بنانا ہوگا۔ جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی حکومتیں کرپٹ ہیں تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ طرز فکر درست نہیں۔ ہمیں خود دیانت دار بننے کے لئے حکومت کے دیانت دار بننے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں خود ہی اس بارش کا پہلا قطرہ بننا چاہیے۔ آئیے ہم دیانت داری کا آغاز اپنی ذات سے کریں۔ اپنے ذاتی لین دین میں تو دیانت دار بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تو آئیے، اسی سے اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اپنے دوستوں سے اچھی چیزیں شیئر کرنا آخرت میں آپ کے لئے باعث اجر ہوگا۔ اگر یہ تحریر آپ کی نظر میں اچھی ہے تو اسے دوسروں تک پہنچائیے۔

دیگر قارئین آپ کے خیالات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان تک اپنے خیالات پہنچانے کے لئے ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

 

غور فرمائیے!

      مسلم دنیا میں پھیلی ہوئی کرپشن کی اصل وجہ کیا ہے؟ اپنی رائے بیان کیجیے۔

      اپنے بچوں اور دوستوں کو کرپشن سے بچانے کے لئے حکمت عملی وضع کیجیے۔

Download Printable Version

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter