بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

غیبت

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

 

Download Printable Version

ارشاد باری تعالی ہے:

وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ۔ (حجرات 49:12)

اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو۔ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے تو مکروہ سمجھتے ہو۔ اور ڈرتے رہا کرو اللہ سے، بے شک اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

یہ آیت کریمہ اس پرسکون اور رحم دل معاشرہ میں شخصی عزت نفس، بزرگی اور آزادی کے ارد گرد ایک دیوار قائم کرتی ہے اور ساتھ ساتھ موثر انداز میں ہمیں یہ درس بھی دیتی ہے کہ ہم نے اپنے شعور اور ضمیر کو کیسے پاک کرنا ہے۔ بے شک لوگوں کی آزادی اور عزت نفس کی پامالی کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔۔۔۔

قرآن کریم نے غیبت سے منع کیا اور ہمارے سامنے ایک ایسی چیز کا تصور پیش کیا جس کے تصور سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے بھائی کا تصور پیش کیا جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔۔۔۔

غیبت کی تعریف

علامہ راغب اصفہانی [قرآن مجید کی ڈکشنری مرتب کرنے والے ایک بڑے عالم] المفردات میں غیبت کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ غیبت یہ ہے کہ ایک آدمی بلا ضرورت دوسرے شخص کا وہ عیب بیان کرے جو اس میں ہو۔ امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ آپ فرماتی ہیں۔

قلت لنبی صلی اللہ علیہ وسلم حسبک من صفیۃ کذا و کذا۔ قال عن مسدد، تعنی قصیرۃ، قال صلی اللہ علیہ وسلم، لقد قلت کلمۃ لو مزجت بماء البحر لمزحتہ۔ (ترمذی، کتاب البر و الصلۃ و الادب)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ صفیہ میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لئے کافی ہے۔ ابو داؤد نے مسدد سے روایت کیا کہ اس سے مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "تم نے ایسا کلمہ کہا کہ اگر تم دریا کے پانی میں ملاؤ تو اس کی حالت کو بدل دے۔"

اسلام اور نسلی و قومی امتیاز۔ اس تحریر میں مصنف نے نسلی امتیاز، معاشی تفاوت کی بنیاد پر برتے جانے والے امتیاز، اور مذہب، رنگ، علاقے اور زبان کی بنیاد پر امتیاز کا اسلامی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیا ہے۔

غیبت کے اسباب

غیبت کے بے شمار اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن میرے نزدیک پانچ قابل ذکر ہیں:

      غصے کی حالت میں ایک انسان دوسرے انسان کی غیبت کرتا ہے۔

      لوگوں کی دیکھا دیکھی اور دوستوں کی حمایت میں غیبت کی جاتی ہے۔

      انسان کو خطرہ ہو کہ کوئی دوسرا آدمی میری برائی بیان کرے گا، تو اس کو لوگوں کی نظروں سے گرانے کے لئے اس کی غیبت کی جاتی ہے۔

      کسی جرم میں دوسرے کو شامل کر لینا حالانکہ وہ شامل نہ تھا، یہ بھی غیبت کی ایک صورت ہے۔

      ارادہ فخر و مباہات بھی غیبت کا سبب بنتا ہے۔ جب دوسرے کے عیوب و نقائص بیان کرنے سے اپنی فضیلت ثابت ہوتی ہو۔۔۔۔

امام ترمذی نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:

یا رسول اللہ! ما النجاۃ؟ قال امسک علیک لسانک و لیسعک بیتک وابک علی خطبئتک۔

عرض کیا، "یا رسول اللہ! کامیابی کیا ہے؟" آپ نے ارشاد فرمایا، "اپنی زبان روک لو اور چاہیے کہ تمہارا گھر تم پر کشادہ ہو [یعنی اپنی زبان کو کنٹرول کرنے کے سبب تمہارے تعلقات اپنے گھر والوں سے اچھے ہو جائیں] اور اپنی غلطیوں پر رویا کرو۔"

غیبت سے بچنے کے طریقے

      انسان ذکر خدا میں مشغول رہے۔ نماز میں خشوع و خضوع کی کیفیت اپنائے۔

      قرآن و حدیث میں غیبت پر کی گئی وعید کا تصور کرے۔

      موت کا تصور ہر وقت ذہن میں موجود رہے۔

      معاشرتی سطح پر عزت نفس کے مجروح ہونے کا تصور بھی ذہن نشین رہے۔

      انسان اکثر اوقات دشمنوں کی غیبت کرتا ہے۔ اسی عادت کی بنا پر دوستوں کی غیبت بھی ہو جاتی ہے لہذا یہ تصور پیش نظر رہنا چاہیے کہ اگر میرے دوست کو میری غیبت کا علم ہو گیا تو دوستی کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔

      غیبت کرنے والا شخص اپنی نیکیاں بھی اس شخص کو دے دیتا ہے جس کی وہ غیبت کرتا ہے لہذا یہ تصور ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ روز قیامت میرے پاس کیا رہے گا۔

      سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ رب نے غیبت سے منع فرمایا اور رب کے احکام کو پس پشت ڈال کر کامیابی سے ہم کنار ہونا ممکن نہیں۔

جو لوگ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں، مجھے ان پر تو رشک نہیں آتا لیکن ان لوگوں سے میں ہمدردی ضرور محسوس کرتا ہوں جو میری نسبت کم تعلیم یافتہ ہیں۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ

غیبت کی اقسام

علماء کرام نے غیبت کی چار اقسام بیان کی ہیں:

      غیبت کرنا کفر ہے: وہ قسم جہاں غیبت کرنا کفر ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی غیبت کر رہا ہو تو جب اس سے کہا جائے کہ تو غیبت نہ کر تو وہ جواب میں کہے، یہ غیبت نہیں۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں۔ تو ایسے شخص نے اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال کیا اور ہر وہ شخص جو اللہ تعالی کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال قرار دے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ لہذا اس صورت میں غیبت کرنا کفر ہے۔

      غیبت کرنا منافقت ہے: دوسری وہ قسم جہاں غیبت کرنا منافقت ہے، وہ یہ ہے کہ انسان ایسے شخص کی غیبت کر رہا ہو جس کے بارے میں اس کی ذاتی رائے یہ ہو کہ وہ نیک ہے تو اس صورت میں غیبت کرنا منافقت ہے۔

      غیبت کرنا معصیت ہے: تیسری وہ قسم جہاں غیبت کرنا معصیت ہے کہ انسان کا یہ جانتے ہوئے کہ غیبت کرنا معصیت ہے پھر بھی غیبت کر رہا ہو اور جس شخص کی غیبت کر رہا ہو اس کا نام بھی لے رہا ہو تو اس صورت میں غیبت کرنا معصیت ہے۔ وہ گناہگار ہے۔ اس کے لئے توبہ ضروری ہے۔

      غیبت کرنا جائز ہے: چوتھی وہ قسم جہاں غیبت کرنا نہ صرف جائز بلکہ ثواب کا باعث بھی ہے، وہ یہ ہے کہ فاسق معلن [یعنی اعلانیہ گناہ کرنے والا] کے افعال و کردار کا ذکر، بدعتی کے کارناموں کا تذکرہ کرنا جائز ہے۔ اس میں ثواب ہے اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فاجر کے برے افعال کا تذکرہ کرو تاکہ لوگ اس سے دور رہیں۔۔۔۔

غیبت کا سننا حرام ہے

جو شخص غیبت سن رہا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ غیبت کرنے والے کے قول کو رد کرے اور کہنے والے کا انکار کرے۔ اور اگر وہ انکار نہیں کر سکتا یا یہ کہ غیبت کرنے والا اس کی بات کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر اگر ممکن ہو تو اس محفل کو چھوڑ دے۔ جس طرح غیبت کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ تو نے فلاں شخص کی غیبت کیوں کی، اسی طرح غیبت سننے والے سے بھی پوچھا جائے گا کہ تو نے فلاں شخص کی غیبت کیوں سنی۔

اگر غیبت کو سننے والا شخص بھی صحت مند اور طاقتور ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ غیبت کرنے والے کو منع کرے اور اگر اتنی ہمت و جرأت نہیں ہے تو دل میں اس کے کہنے کو برا جانے۔۔۔۔ بعض اوقات بظاہر انسان کسی کو غیبت سے روک رہا ہوتا ہے مگر دلی طور پر وہ چاہتا ہے کہ غیبت ہوتی رہے۔ ایسا شخص منافق اور گناہگار ہے۔

اگر کوئی شخص ہے جو نہ غیبت کرنے والے کو روک سکتا ہے اور نہ ہی محفل کو چھوڑ سکتا ہے تو پھر وہ غیبت کو توجہ سے نہ سنے بلکہ دل و زبان سے اللہ کا ذکر شروع کر دے۔ اس طریقہ پر عمل کے باوجود اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑ جائے تو اس کا مواخذہ نہ ہو گا۔۔۔۔

غیبت کی جائز صورتیں

      ظلم کی شکایت کرنا غیبت نہیں۔۔۔

      برائی کو روکنے کے لئے مدد طلب کرنا غیبت نہیں۔

      [اہل علم سے] فتوی طلب کرنے کے لئے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت نہیں۔۔۔ مگر احتیاط اور افضلیت اسی میں ہے کہ وہ فتوی طلب کرتے وقت لوگوں کے نام نہ لے۔

      [اعلانیہ] برائی کرنے والوں کی برائی کا اظہار کرنا غیبت نہیں [جیسے حکمران کی برائی۔]

      مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے غیبت کرنا جائز ہے۔

(مصنف: جسٹس محمد کرم شاہ الازہری، بشکریہ www.zia-ul-ummat.com)

[غیبت کی جو تفصیلات اس تحریر میں بیان کی گئی ہیں، انہیں دوسروں میں تلاش کرنا شروع نہیں کر دینا چاہیے۔ ہمیں صرف اپنی شخصیت کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ہم میں یہ علامات موجود ہیں یا نہیں؟]

دیگر قارئین آپ کے خیالات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان تک اپنے خیالات پہنچانے کے لئے ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

 

غور فرمائیے!

      مصنف نے غیبت کی جو وجوہات بیان کی ہیں، ان میں دو مزید وجوہات کا اضافہ کیجیے۔

      دفتر میں ایک شخص کے باس کو دوسروں کی غیبت کرنے کا بہت شوق ہے۔ وہ ہر وقت اپنے ماتحت کو بلا کر اسے غیبت سننے پر مجبور کرتا ہے۔ آپ اس ماتحت کو کیا مشورہ دیں گے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے