بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

عذر اور اعتراف

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس واقعے کی جو تفصیلات قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں بیان ہوئی ہیں ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو زمین پر خلیفہ بنایا۔ پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو سجدہ کریں۔ فرشتوں نے سجدہ کیا۔ مگر اس موقع پر موجود ایک جن نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہ ابلیس تھا جو بعد میں شیطان کے نام سے مشہور ہوا۔

جب اللہ تعالیٰ نے شیطان سے پوچھا کہ کس چیز نے تجھے میرا حکم ماننے سے روکا تو اس نے ایک خوبصورت عذر پیش کردیا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خود اسے ایک برتر حیثیت میں پیدا کیا ہے۔ یعنی اس کی پیدائش آگ سے ہوئی جبکہ جس ہستی کے سامنے اسے سجدے کا حکم دیا گیا ہے، اس کی پیدائش ایک کم تر مادے یعنی مٹی سے کی گئی ہے۔ چنانچہ ایک طرف تو اسے برتر بنایا گیا اور دوسری طرف اسے ایک کم تر مخلوق کے سامنے جھکنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ اس لیے خرابی اس کے انکار میں نہیں بلکہ اس حکم میں ہے جس میں بظاہر ایک غلط مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ شیطان کا مقدمہ تھا جو بظاہربہت مضبوط اور مدلل تھا۔ مگروہ کسی اور کے سامنے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے موجود تھا، جو دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کی اصل حالت کو بیان کر دیا کہ تو دراصل تکبر کا شکار ہوچکا ہے۔ اور اس تکبر نے تجھے اس طرح اندھا کیا ہے کہ تو میرے سامنے بغاوت پر تیار ہوگیا ہے۔ اس لیے اب تجھے راندہ درگاہ کیا جاتا ہے۔

شیطان اس موقع پر بھی سرکشی سے باز نہ آیا۔ اس نے اپنی گمراہی کا الزام یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ پر ڈالنے کی کوشش کی کہ جس طرح تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں آدم اور اس کی اولاد کو گمراہ کروں گا۔ اس طرح یہ ثابت ہوجائے گا کہ وہ اس عزت کے مستحق نہ تھے جو انہیں دی گئی ہے۔ بس تو مجھے قیامت کے دن تک کی مہلت دے دے۔ اللہ تعالیٰ شیطان سے سخت ناراض تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی تاکہ اس کی بدی اس طرح واضح ہوجائے کہ خدا کی رحمت جیسی بلند صفت بھی اس کے کام نہ آ سکے۔

 

قرآن اور بائبل کے دیس میں۔ ایک ایسا سفرنامہ جو کہ ان مقامات کے سفر اور تاریخ پر مشتمل ہے جن کا تعلق اللہ تعالی کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے ہے۔ ان میں مکہ، مدینہ، طائف، تبوک، مدائن صالح، پیٹرا، بحیرہ مردار، کوہ طور اور قاہرہ شامل ہیں۔ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

 

دوسری طرف حضرت آدم کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیگم کے ہمراہ ایک باغ میں قیام کریں۔ البتہ ایک خاص درخت سے دور رہیں۔ اور انہیں یہ بھی بتادیا کہ یہ ابلیس ان کا دشمن ہے لہٰذا وہ اس کے دھوکے میں نہ آئیں۔ حضرت آدم و حوا کچھ عرصہ تو اللہ کے حکم کے پابند رہے، مگر آہستہ آہستہ شیطان نے وسوسہ انگیزی شروع کردی۔ اس نے ان دونوں کو قسم کھا کر یہ یقین دلادیا کہ وہ اس درخت کا پھل کھالیں تو انہیں ہر طرح سے فائدہ ہوگا۔ وہ دونوں اس کی باتوں میں آگئے اور اس درخت کا پھل کھا بیٹھے۔ مگر اس کے نتیجے میں فوراً وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں سے محروم ہوگئے۔

یوں بظاہر شیطان اپنے اس چیلنج میں کامیاب ہوگیا کہ وہ یہ ثابت کر کے رہے گا کہ آدم اس مقام کے مستحق نہیں ہیں جو انہیں دیا گیا ہے۔ مگر آدم و حوا کا کیس شیطان والا نہیں تھا۔ انہوں نے اس کا پہلا ثبوت یہ دیا کہ جیسے ہی انہیں احساس ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم نہیں رہ سکے، دونوں رب کی بارگاہ میں معافی کے خواستگار ہوگئے۔

اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ کیا میں نے تمھیں منع نہیں کیا تھا۔ یہ دوسرا موقع تھا جب حضرت آدم نے شیطان سے مختلف ہونے کا ثبوت دیا۔ انہوں نے شیطان کی طرح اپنے عمل کی کوئی تاویل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ وہ دونوں یہ کہہ سکتے تھے کہ ہمیں شیطان نے دھوکا دیا ہے۔ مگر انہوں نے کوئی عذر پیش نہ کیا اور یک طرفہ طور پر ساری غلطی قبول کرلی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔

 

اگر آپ کے ذہن میں اس تحریر سے متعلق کوئی سوال ہو، تو اسے خود تک محدود نہ رکھیے۔ پوچھ لیجیے۔ ممکن ہے کہ اس سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

 

آج بھی ابن آدم اور ابن شیطان میں ایک ہی بنیادی فرق ہوتا ہے۔ آدم کے بیٹے اعتراف کی نفسیات میں جیتے ہیں جبکہ شیطان کے پیروکار عذر کی نفسیات میں۔ پہلوں سے جب کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ کسی توجہ دلانے سے قبل ہی غلطی مان لیتے ہیں۔ دوسروں سے جب کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ فوراً کوئی تاویل سوچتے ہیں۔ پہلوں سے کوئی بھول ہوتی ہے تو اپنے اس عذر کو بھی استعمال کرنے میں جھجکتے ہیں جو وہ بجا طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ دوسرے اپنے ہر جرم کا الزام دوسروں پر ڈال کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔

ان دو گروہوں کا رویہ اگر اپنے اپنے پیش رو جیسا ہے تو ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رویہ بھی وہی ہے۔ ابن آدم کی ہر بھول اور ہر غلطی معاف کردی جاتی ہے۔ جبکہ شیطان کا رویہ اختیار کرنے والے انسانوں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں۔ پہلوں کو جنت کی بادشاہی میں اعلیٰ مقام دیا جائے گا۔ دوسروں کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنادیا جائے گا۔

 

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

 

نوٹ: اسلام میں بعض دیگر مذاہب کے برعکس، اس کی اجازت نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے گناہ یا غلطی کا اعتراف کسی مذہبی راہنما کے سامنے کرے۔ اسلام میں اعتراف صرف اور صرف خدائے بزرگ و برتر کے سامنے ہی ہوا کرتا ہے۔ اگر اس گناہ کا تعلق حقوق اللہ سے ہے تو اللہ تعالی کے سامنے ہی اعتراف کر کے اس سے توبہ کی جائے گی۔

اگر اس گناہ کا تعلق اللہ کے بندوں، یعنی انسانوں، جانوروں اور دیگر مخلوقات کے حقوق سے ہے، تو اعتراف تو اللہ تعالی کے سامنے ہی کیا جائے گا مگر معافی اللہ تعالی کے علاوہ، اگر ممکن ہو تو اس شخص سے بھی مانگی جائے گی جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور کئے گئے ظلم و زیادتی کی ہر ممکن تلافی بھی کی جائے گی۔ مبشر نذیر

ممکن ہے کہ اس معاملے میں آپ کے تجربات دوسرے قارئین کے لئے اہم ہوں ۔ اپنے تجربات دوسرے قارئین تک پہنچانے کے لئے ای میل کیجیے۔

mubashirnazir100@gmail.com

 

غور فرمائیے!

      بعض لوگ اپنی غلطیوں کا اعتراف کیوں نہیں کرتے۔ کم از کم تین وجوہات بیان کیجیے۔

      فرض کر لیجیے کہ ایک شخص نے ماضی میں کسی دوسرے کا کوئی حق غصب کیا تھا۔ اب وہ اس کی تلافی کرنا چاہتا ہے ۔ اس کے لئے آپ اسے کیا مشورہ دیں گے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے