بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسانوں کے متعلق جو منصوبہ بنایا ہے اور اس حوالے سے جو مطالبات انسانوں سے مطلوب ہیں، ان کی طرف انسانوں کی رہنمائی کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ (الیل 12:92)۔

جس نے کسی خاتون پر بری نظر ڈالی، وہ اپنے دل میں اس سے بدکاری کر چکا۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

اس ہدایت کی ایک سطح وہ ہے جس کے لیے فطری ہدایت موزوں ہے کیونکہ یہ ہدایت ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے۔ اس فطری ہدایت کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان خالق اور مخلوق کے بنیادی حقوق جان لے اور ان کے معاملے میں درست رویہ اختیار کرلے۔ قرآن نے اس فطری ہدایت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ توحید کا تصور روز ازل ہی سے انسانی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے۔ (اعراف 7:172)

اسی طرح ہر نفس انسانی میں یہ بات ودیعت کردی گئی ہے کہ کن چیزوں کو خیر سمجھ کر اسے اختیار کرنا ہے اور کون سے امور کو شر ہونے کی بنا پر ترک کرنا ہے۔ (الشمس91:2-7 ) اسی ہدایت کا نتیجہ ہے کہ ہر زمانے کے انسان تمام تر انحرافات کے باجود ایک برتر ہستی کا اعتراف کرتے اور کسی نہ کسی اخلاقیات کی پیروی ضرور کرتے ہیں۔

لیکن فطرت کی یہ پکار چونکہ خاموش ہوتی ہے ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک زیادہ محکم اور واضح اہتمام بھی کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بعض انسانوں کو منصب نبوت پر فائز کر کے ان پر وحی نازل فرماتے ہیں اور یہ انبیا اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانیت تک پہنچاتے ہیں۔ اس ہدایت میں نہ صرف اللہ تعالیٰ کے مطالبات صراحت کے ساتھ بیان کردیے جاتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کردیا جاتا ہے کہ ایک روز سب لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس جمع کیے جائیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ دیکھیں گے کہ لوگوں نے کیسے اعمال کیے۔ جو اچھے اعمال والے ہوں گے ان کو جنت کی عزت اور فردوس کی بادشاہت سے نوازا جائے گا اور برے اعمال والوں کا ٹھکانہ جہنم کی ذلت اور عذاب کی شکل میں ہوگا۔

موجودہ دور کی بین الاقوامی سیاست میں کیا عوامل کار فرما ہیں؟ عصر حاضر کی اسلامی تحریک کو امریکی دانشور کس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں؟ اسلام اور مغرب کے مابین موجودہ تصادم کی حرکیات کیا ہیں؟ اسلامی جماعتیں کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟ ان سوالات کا جواب مشہور امریکی مصنف جان ایل ایسپوزیٹو نے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے؟ یہ مضمون ان کی کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے۔ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

اس سلسلے کا آخری اہتمام رسالت کا سلسلہ ہے۔ ہر رسول ایک نبی بھی ہوتا ہے جس میں وہ ٹھیک وہی پیغام بندوں تک پہنچاتا ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ البتہ رسول نبی سے ایک قدم آگے بڑھ کر خدا کی دعوت کی سچائی اس طرح لوگوں پر واضح کر دیتا ہے کہ اس کی حقانیت میں کوئی شک وشبہ نہیں رہ جاتا ۔ وہ اس طرح کہ رسول کی دعوت کو نہ ماننے کے نتائج اسی دنیا میں ظاہر ہوجاتے ہیں۔ یعنی جن اقوام نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی، وہ دنیا ہی میں تباہ کردی گئیں۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ ان اقوام کا تذکرہ ہے۔ ان میں قوم نوح، عاد، ثمود، قوم شعیب، قوم لوط اور آل فرعون وغیرہ کا نام بہت نمایاں ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ سلم کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے آخری درجہ میں اپنی ہدایت کے سچا ہونے کا ثبوت پیش کردیا۔ آپ نبی ہونے کے ساتھ رسول بھی تھے اور اس حیثیت میں آپ کی قوم کے ساتھ وہی ہوا جو دیگر رسولوں کی اقوام کے ساتھ ہوا تھا۔ مگر آپ چونکہ خاتم الانبیا و المرسلین بھی تھے اس لیے آپ کے ذریعے سے رونما ہونے والے اس واقعہ کو آپ کی اپنی لائی ہوئی کتاب یعنی قرآن اور تایخ کے صفحات دونوں میں قیامت تک کے لیے رقم کردیاگیا۔

آپ انسانی تاریخ کی واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نبی اور رسول کے طور پر پیش کیا اور تاریخی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ حضور نے دنیا کے سامنے توحید و آخرت کی دعوت پیش کی اور اس دنیا سے رخصت ہونے سے قبل جزیرہ نما عرب میں عملاً توحید کو غالب اور ایک قیامت صغریٰ قائم کرکے یہ بتادیا کہ آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ آپ کے ذریعے سے توحید اس طرح غالب ہوئی کہ عرب میں توحید کے سوا کوئی دین باقی نہ رہا اورقیامت کا ایک نمونہ اس طرح قائم ہوا کہ آپ کے ماننے والے حکمران بن گئے اور منکرین کے پاس موت اور ذلت کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔ یہ بات مسلمانوں کا عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ یہ تاریخی واقعہ آپ کی رسالت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

ختم نبوت کے بعد اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم آپ کی سچائی کے ثبوت کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یہی اجتماعی طور پر ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      رسولوں کی مخاطب قوموں کو آخرت کے علاوہ اس دنیا میں بھی سزا کیوں دی جاتی ہے؟

      منصب رسالت کے حوالے سے ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے