بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ۔ (الانبیاء 21:107)

اے رسول ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔

اگر کوئی شخص یہ دیکھنا چاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ انسان کے لئے کس طرح رحمت بنی تو اس بیان کے لئے ایک تقریر کیا، سینکڑوں تقریریں اور سینکڑوں کتابیں بھی ناکافی ہیں۔ انسان رحمت کے ان پہلوؤں کا شمار نہیں کر سکتا۔ اس لئے میں آپ کے سامنے اس رحمت کے صرف ایک پہلو کے بیان پر اکتفا کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے انسانی سماج کے لئے وہ اصول پیش کئے ہیں جن کی بنیاد پر انسانوں کی ایک برادری بن سکتی ہے اور انہی اصولوں پر ایک عالمی حکومت (World State) بھی معرض وجود میں آ سکتی ہے اور انسانوں کے درمیان وہ تقسیم بھی ختم ہو سکتی ہے جو ہمیشہ سے ظلم کا باعث بنی رہی ہے۔۔۔۔

اگر آپ ہوا میں قلعے تعمیر کر چکے ہیں، تو یہ ایسا کام ہے جسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن حقیقی بنیادیں ہوا میں نہیں بلکہ زمین پر رکھی جاتی ہیں۔ ہنری ڈیوڈ

دنیا میں جتنی بھی تہذیبیں گزری ہیں، انہوں نے جو بھی اصول پیش کئے ہیں، وہ انسانوں کو جوڑنے والے نہیں ہیں بلکہ پھاڑنے والے اور انہیں درندہ بنانے والے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ سب سے قدیم آریہ تہذیب کو لے لیجیے۔ وہ جہاں بھی گئے اپنے ساتھ نسلی برتری کا تصور لے کر گئے۔ [ایران و ہندوستان میں] آریہ تہذیب نے واضح طور انسان کو مختلف طبقوں میں تقسیم کیا اور یہ تقسیم انسانی صفات کی بنیاد پر نہ تھی بلکہ پیدائش کی بنیاد پر تھی اور اس میں انسانی کوشش کو قطعاً کوئی دخل نہ تھا۔ کوشش سے کوئی شودر برہمن نہ بن سکتا تھا اور نہ کوئی ذات دوسری ذات میں منتقل ہو سکتی تھی۔

اسی اصول کو ہٹلر نے اختیار کیا تھا۔ اس نے یہ دعوی کیا تھا کہ جرمن نسل سب سے برتر و فائق ہے۔ نسلی برتری کا یہی تصور یہودی ذہنیت میں بھی رچا بسا ہوا ہے۔ ان کے قانون کے مطابق جو پیدائشی اسرائیلی نہیں، وہ اسرائیلیوں کے برابر نہیں ہے۔۔۔۔ اسی طرح یونانیوں کے اندر بھی ایک نسلی غرور پایا جاتا ہے۔۔۔ یہی چیز آپ کو مغربی ذہنیت میں پیوست دکھائی دیتی ہے۔۔۔ جنوبی افریقہ اور روڈیشیا میں یہی ظلم آج بھی انسان انسان کے ساتھ کر رہا ہے۔۔۔۔

دین دار طبقے کے لئے معاش اور روزگار کے مسائل۔ ایک مذہبی آدمی خواہ وہ جدید تعلیم یافتہ ہو یا مدارس کا تعلیم یافتہ، اسے اپنی عملی زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس تحریر میں مصنف نے ان مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے حل کی تجاویز پیش کی ہیں۔

اسی قبیل سے علاقائی قومیت (Territorial Nationalism) کا ایک نشہ بھی ہے۔ دنیا کی دو بڑی جنگیں اسی تعصب کی بنیاد پر چھڑیں۔۔۔۔ اور یہی کیفیت خود عرب میں بھی تھی۔ قبائلی عصبیت ان لوگوں کے رگ و ریشہ میں رچی بسی ہوئی تھی۔ ہر قبیلہ اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے میں برتر و فائق سمجھتا تھا۔ دوسرے قبیلے کا کوئی شخص کتنا ہی نیک کیوں نہ ہوتا، وہ ایک قبیلے کے نزدیک اتنی قدر نہیں رکھتا تھا جتنا کہ ان کے نزدیک ان کا اپنا ایک برا آدمی رکھتا تھا۔۔۔۔

جس سرزمین میں انسانوں کے درمیان امتیاز نسل، قبیلے اور رنگ کی بنا پر ہوتا تھا وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پکار انسان کی حیثیت سے بلند کی۔ ایک عرب نیشنلسٹ کی حیثیت سے نہیں اور نہ عرب یا ایشیا کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے کی تھی۔ آپ نے پکار کر فرمایا:

اے انسانو! میں تم سب کی طرف مبعوث ہوا ہوں۔

اور جو بات پیش کی وہ یہ کہ:

اے انسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا، اور تم کو قبیلوں اور گروہوں میں اس لئے بانٹا ہے کہ تم کو باہم تعارف ہو۔ اللہ کے نزدیک برتر اور عزت والا وہ ہے جو اس سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔

آپ نے فرمایا کہ تمام انسان اصل میں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اور اس حیثیت سے بھائی بھائی ہیں۔ ان کے درمیان کوئی فرق رنگ، نسل اور وطن کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فلسفی نہیں تھے کہ محض ایک فلسفہ پیش کر دیا۔ آپ نے اس بنیاد پر ایک امت بنائی اور اسے بتایا کہ جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس [یعنی تمہیں درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر (اللہ اور آخرت کی) گواہی قائم کر دو۔ امت وسط کا] مفہوم یہی ہے کہ مسلمان امت عادل ہے۔

اب یہ امت عادل بنتی کس چیز پر ہے؟ یہ کسی قبیلے پر نہیں بنتی، کسی نسل یا وطن پر نہیں بنتی، یہ بنتی ہے تو ایک کلمے پر یعنی اللہ اور اس کے رسول کا حکم تسلیم کر لو تو جہاں بھی پیدا ہوئے ہو، جو بھی رنگ ہے، بھائی بھائی ہو۔ اس برادری میں جو بھی شامل ہو جاتا ہے اس کے حقوق سب کے ساتھ برابر ہیں۔ کسی سید اور شیخ میں کوئٰ فرق نہیں اور نہ عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت ہے۔۔۔۔

اس امت میں بلال حبشی بھی تھے، سلمان فارسی بھی اور صہیب رومی بھی [رضی اللہ عنہم]۔ یہی وہ چیز تھی جس نے ساری دنیا کو اسلام کے قدموں میں لا ڈالا۔ خلافت راشدہ کے عہد مبارک میں ملک پر ملک فتح ہوتا چلا گیا۔ اس لئے نہیں کہ مسلمان کی تلوار سخت تھی بلکہ اس لئے کہ وہ جس اصول کو لے کر نکلے تھے اس کے سامنے کوئی گردن جھکے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔ ایران میں ویسا ہی اونچ نیچ کا فرق تھا جیسا کہ عرب جاہلیت میں۔ جب ایرانیوں نے مسلمانوں کو ایک صف میں کھڑے دیکھا تو ان کے دل خود بخود مسخر ہو گئے۔۔۔۔

مسلمان جب بھی اس اصول سے ہٹے، مار کھائی۔ اسپین پر مسلمانوں کی آٹھ سو برس حکومت رہی۔ جب مسلمان وہاں سے نکلے تو اس کی وجہ تھی، قبائلی عصبیت کی بناء پر باہمی چپقلش۔۔۔۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی طاقت کیوں ٹوٹی، ان میں وہی جاہلیت کی عصبیتیں ابھر آئی تھیں۔ کوئی اپنے مغل ہونے پر ناز کرتا تھا تو کوئی پٹھان ہونے پر۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پہلے مرہٹوں سے پٹے، پھر سکھوں سے پٹے اور آخر میں چھ ہزار میل دور سے ایک غیر قوم آ کر ان پر حاکم بن گئی۔ اسی [پچھلی] صدی میں ترکی عظیم الشان سلطنت ختم ہو گئی۔۔۔۔

آپ سیرت پر کانفرنسیں ضرور کریں، ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مبارک کوئی کام نہیں ہے لیکن یہ محض ذکر اور Lip Service ہو کر نہ رہ جائے۔ اس پر عمل کریں گے تو اس رحمت سے آپ کو حصہ ملے گا جو صرف پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقدر ہے۔

(مصنف: سید ابو الاعلی مودودی، تفہیمات حصہ 4 سے انتخاب)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رحمت کے کن پہلوؤں کی طرف مصنف نے توجہ دلائی ہے؟

      رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عدل کا کیا فلسفہ بیان فرمایا اور اس کے نتائج کیا نکلے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے