|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||||
Personality
Development Program
Contribute
to humanity by develop a God-oriented personality!!! |
تعمیر
شخصیت
پروگرام
ایک
خدا پرست شخصیت
کی تعمیر کر
کے انسانیت کی
خدمت کیجیے!!! |
||||
اردو
اور عربی
تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق فانٹ
یہاں سے ڈاؤن
لوڈ کیجیے
|
|||||
میلا
سووچ کا
احتساب
|
|||||
|
یوگوسلاویہ
ایک کثیر نسلی
وفاقی ریاست
تھی جس میں
سربیا، بوسنیا
ہرزوگونیا،
کروشیا، سلوینیا
اور
کوسوواکے
علاقے شامل
تھے۔ایک
زمانے میں یوگو
سلاویہ کے
مارشل ٹیٹو کی
شہرت دنیا
بھر میں تھی۔
کچھ ان کی قد
آور شخصیت
اور کچھ سوویت
یونین کے زیر
اثر کمیونزم
نے، سرد جنگ
کے زمانے میں یوگوسلاویہ
کے تمام تر
نسلی اور
لسانی
اختلافات کو
دبا رکھا تھا۔
سوویت یونین
کے زوال کے
بعد سربیا کی
مرکزی ریاست
سے علیحدگی کی
تحریکیں
شروع ہوئیں۔
سلو
بودان میلا
سووچ یوگوسلاویہ1989ء
میں سربیا کا
صدر منتخب
ہوا۔ کروشیا،
بوسنیا اور
کوسووا کے
لوگوں نے جب
علمِ بغاوت
بلند کیا تو میلا
سووچ نے طاقت
کا وحشیانہ
استعمال
کرکے ان کو
دبانے کی
کوشش کی ۔جس
کے نتیجے میں
دو لاکھ
افراد ہلاک
ہوگئے اور
اَن گنت لوگ بے
گھر ہوئے۔ وہ 13
برس تک مسند
اقتدار پر
فائز رہا۔
آخر کار 2001میں اسے
اقتدار
چھوڑنا پڑا۔ سن 2002 ء میں
ہیگ میں قائم
جنگی جرائم
سے متعلق
اقوام متحدہ
کے بین
الاقوامی ٹریبونل
میں اس کے
خلاف قتل عام
اور نسل کشی
کے 66 سے زائد
مقدمات قائم
کیے گئے۔وہ ہیگ
میں نظر بند
ان مقدمات کا
سامنا کررہا
تھاکہ 11مارچ
2006ء کو وہ اپنے
سیل میں مردہ
پایا گیا۔
عدالت کے ایک
ترجمان کے
مطابق اس کی
موت طبعی تھی
اور وہ ہارٹ
اٹیک سے مرا
تھا۔ میلا
سووچ کی موت
پر دو ردعمل
سامنے آئے۔ ایک
اس کے عزیزوں
کا موقف کہ میلا
سووچ کی موت
اس دباؤ کا نتیجہ
ہے جس کا
سامنا وہ
عدالتی
کارروائی کے
دوران میں
کررہا تھا۔
دوسری طرف
بلقان کے خطے
میں اس کے کیے
ہوئے قتل عام
کے متاثرین
اور ان کے
لواحقین کا
کہنا یہ تھا
کہ ’’بلقان کا
قصائی‘‘
احتساب کا
سامنا کیے بغیر
ہی دنیا سے
رخصت ہوگیا۔ بوسنیا
اور کوسووا
کا سانحہ کوئی
بہت پرانی
بات نہیں ہے۔
بوسنیا کی
جنگ 1992ء سے 1995ء تک
اور کوسووا کی
1999ء میں ہوئی ۔
ان سے قبل 1991ء میں
کروشیا کی
جنگ ہوئی تھی۔
بہت سے لوگوں
کو وحشت اور
درندگی کے وہ
واقعات یاد
ہوں گے جو اس
بے رحم انسان
کی زیر نگرانی
پیش آئے۔جان،
مال اور آبرو
کی بربادی کے یہ
واقعات جب
ذہن میں آتے ہیں
اور پھر یہ حقیقت
سامنے آتی ہے کہ
ان کا ذمہ دار
شخص 64سال کی
عمر میں ایک
طبعی زندگی
گزار کر دنیا
سے رخصت ہوگیا
تو حزن و یاس کی
ایک لہر دل و
دماغ کا
احاطہ کرلیتی
ہے۔اس
صورتحال پر
ہر حساس
انسان تڑپ
اٹھتا ہے۔
اصل بدلہ توآخرت
کا ہے تاہم
ہمارا سوال یہ
ہے کہ فرض کرلیجیے
میلاسووچ کا
احتساب ہو بھی
جاتا تودو
لاکھ افراد
کے اس قاتل کو
دنیا کی کوئی
عدالت زیادہ
سے زیادہ کیا
سزا دے سکتی
تھی، سزائے
موت؟ مگر ایک
دفعہ موت دے دینا
دو لاکھ
افراد کی
جانوں، ان
گنت معصوم
خواتین کی
عصمتوں، بیوہ
خواتین، یتیم
بچوں کی آہوں
اور بے خانما
لوگوں کی
بربادی کا
کوئی بدل تو
نہیں ہوسکتا
تھا۔ یہی
وہ لمحہ ہے جب
اسلام کے
تصورِ آخرت کی
انسانوں میں
فطری طلب اور
اس کی معقولیت
پوری طرح
سامنے آتی ہے۔
اس دنیا میں
گناہ گاروں
اور مجرموں کی
اکثریت
قانون کے
شکنجے میں
کبھی نہیں
پھنستی۔ یہ
لوگ عیش و
آرام کی زندگی
گزارکر اس دنیا
سے رخصت
ہوجاتے ہیں۔حتیٰ
کے میلاسووچ
جیسا شخص جس
نے انسانی
جان مال اور
آبرو کے خلاف
بدترین
جرائم کا
ارتکاب کیا،
وہ بلا
احتساب اس دنیا
سے رخصت
ہوجاتا ہے۔
پھر یہ بھی حقیقت
ہے کہ جتنا
کچھ انصاف اس
دنیا میں
ملتا ہے وہ
عدلِ کامل نہیں
ہوتا۔ دنیا کی
ہر عدالت کا
انصاف جزوی
ہوتا ہے۔ ایک
قاتل جس نے ایک
بے گناہ کا
قتل کیا
ہو،اس جرم میں
دنیاکی
عدالت سے
سزائے موت پا
لیتا ہے۔ مگریہ
عدالت ایک بیوہ
کی بیوگی اور یتیموں
کی بربادی کے
جرم پر کیا
سزا دے سکتی
ہے؟۔ ۔ ۔ باپ کی
محبت اور
شوہر کی
رفاقت کا بدل
کیا دے سکتی
ہے؟ ایسے
میں اسلام کا
تصورِ آخرت
ہے جو بتاتا
ہے کہ اس دنیا
میں خود کو
شتر بے مہار
سمجھنے والا
انسان دراصل
ایک عظیم ہستی
کی گرفت میں
ہے جو اس کے
لمحے لمحے کا
حساب رکھتی
ہے۔ وہ اعمال
ہی سے نہیں،
لوگوں کی نیتوں
اور ان کے
اعمال کے
اثرات تک سے
واقف ہے۔
اللہ کی
عدالت جب قیامت
کے دن فیصلہ
سنائے گی تو
جرم کی سنگینی،
اس کی نیت،
جرم کے اثرات
،ہر چیز کو پیش
نظر رکھ کر
اپنا فیصلہ
سنائے گی۔ اسی
طرح جو لوگ
تمام تر
مشکلات کے
باوجود نیکی
کا راستہ اختیار
کرتے ہیں، رب
کی رضا کے لیے
تنہائی میں
بھی گناہ سے
بچتے ہیں،
جنت کی خواہش
میں اپنے نفس
پر قابو
رکھتے ہیں،
اپنے مال کو
رب کی رضا کے لیے
خرچ کرتے ہیں،
کسی صلے اور
انعام کی
پرواہ کیے بغیر
اللہ اور
بندوں کے
حقوق پورے
کرتے ہیں، ان
کا اجر ان کے
رب کے ہاں کبھی
ضائع نہیں
جاسکتا۔ ہوسکتا
ہے کہ دنیا ان
کا اعتراف نہ
کرے، ان کی
تحسین نہ کرے۔
ہوسکتا ہے
انہیں تنگی کی
زندگی گزرنی
پڑے، اپنی
خواہشات کو
محدود کرنا
پڑے۔ مگر کل قیامت
کے دن جب ان کا
معاملہ رب کی
عدالت میں پیش
ہوگا تو وہ ان
کی نیت، ان کے
عمل، ان کے
اخلاص اور ان
کے اعمال کے اثرات،
ہر ہر چیز کا
بدلہ دے گا۔
اور اس طرح دے
گا کہ وہ نہال
ہوجائیں گے۔ (مصنف: ریحان
احمد یوسفی)
غور فرمائیے! · ہم اکثر دیکھتے
ہیں کہ دنیا میں
بڑے بڑے
مجرموں کو یا
تو سزا نہیں
ملتی اور اگر
ملتی بھی ہے
تو ان کے
جرائم کی
نسبت بہت ہی
کم۔ اس سے ہم کیا
نتیجہ اخذ کر
سکتے ہیں؟ · کیا آخرت
کی جزا و سزا
کا عقیدہ
انسان کے دل کی
آواز نہیں
ہے؟ اپنے
جوابات بذریعہ
ای میل اردو یا
انگریزی میں
ارسال فرمائیے
تاکہ انہیں
اس ویب پیج پر
شائع کیا جا
سکے۔ |
|||||
|
یونٹ 1: اللہ اور
رسول کے ساتھ
تعلق تعمیر
شخصیت
پروگرام کا
تعارف | اللہ کے
نام سے شروع،
جو بڑا
مہربان ہے،
جس کی شفقت
ابدی ہے | تیری
مانند کون
ہے؟ |
توحید
خالص: اول | توحید
خالص: دوم |
خدا،
انسان اور
سائنس: حصہ
اول |
خدا،
انسان اور
سائنس حصہ
دوم | خدا،
انسان اور
سائنس حصہ
سوم |
اصلی
مومن | نماز
اور گناہ |
رمضان
کا مہینہ:
حاصل کیا
کرنا ہے؟ | اللہ کا
ذکر اور اطمینان
قلب |
حج
و عمرہ کا اصل
مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی
آزمائش |
اور
زمین اپنے رب
کے نور سے چمک
اٹھے گی! | کیا
آخرت کا عقیدہ
اپنے اندر
معقولیت
رکھتا ہے؟ | جنت
کا مستحق کون
ہے؟ | کیا
آپ تیار ہیں؟ |
میلا
سووچ کا
احتساب |
ڈریم
کروز | موبائل
فون |
خزانے
کا نقشہ | دین کا
بنیادی
مقدمہ: بعث و
نشر |
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی محبت | منصب
رسالت سے
متعلق چار بنیادی
غلط فہمیاں | لو لاک یا
رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ
للعالمین:
رحمت محمدی
کا ایک پہلو | حضور کی
سچائی اور
ہماری ذمہ
داری |
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کا ادب | دین میں
تحریف اور
بدعت کے
اسباب یونٹ 2: منفی شخصیت
سے نجات سطحی
زندگی |
کامیاب
زندگی |
یہ
کیسی بری
قناعت ہے! | مسئلہ
شفاعت |
نجات
کا دارومدار
کسی گروہ سے
تعلق پر نہیں
ہے | کردار
نہ کہ موروثی
تعلق | اختلاف
رائے کی صورت
میں ہمارا رویہ |
اسلام
اور نفسیاتی
و فکری آزادی |
مسلم
دنیا میں ذہنی،
نفسیاتی اور
فکری غلامی
کا ارتقاء |
مذہبی
برین واشنگ
اور ذہنی
غلامی
| نفسیاتی،
فکری اور ذہنی
غلامی کا
سدباب کیسے کیا
جا سکتا ہے؟ |
دین
اور عقل |
دنیا
کے ہوشیار |
تنقید |
ریاکاری
اور مذہبی
لوگ | دوغلا
رویہ | اصول
پسندی
| بنی
اسرائیل کے
مذہبی
راہنماؤں کا
کردار
| فارم
اور اسپرٹ | دو
چہرے، ایک رویہ | عیسائی
اور مسلم تاریخ
میں حیرت انگیز
مشابہت |
شیخ
الاسلام |
کام یا
نام | ہماری
مذہبیت |
نافرمانی
کی دو بنیادیں |
ہماری
دینی فکر کی
غلطی اور
کرنے کا کام |
ٹرانسپیرنسی
انٹرنیشنل کی
رپورٹ اور ایک
حدیث |
آرنلڈ
شیوازنگر کا
سبق |
آج
کے بے ایمان | نئی
بوتل اور
پرانی شراب | جدید
نسل |
بے
وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی
اور تجسس | لکھ لیا
کرو |
عذر یا
اعتراف |
کبر
و غرور اور
علماء |
دھوکے
میں مبتلا
افراد کی
اقسام |
برائی
کی جڑ |
تکبر
اور بہادری میں
فرق |
اپنی
خامی |
مسلمان
وہ ہے |
تمسخر | منیٰ کا
سانحہ: دنیاکو
کیا پیغام دے
گیا؟ |
عافیت
کا راستہ | انتہا
پسندی اور
اعتدال پسندی
کا فرق |
کیا
رہبانیت
انتہا پسندی
ہے؟ |
ایف
آئی آر |
لیجیے
انقلاب آ گیا | 18
اکتوبر کے
سبق |
مسجد
قرطبہ اور
مسجد اقصی | جادو | وجود
زن کے مصنوعی
رنگ | فحش
سائٹس اور
ہمارے
نوجوان |
سیکس
کے بارے میں
متضاد رویے | ہم جنس
پرستی |
عفت
و عصمت |
مغرب
کی نقالی کا
انجام |
جذبہ
حسد اور جدید
امتحانی طریق
کار |
ساس
اور بہو کا
مسئلہ |
یہ
خوش اخلاقی | کسل مندی
اور سستی پر
قابو کیسے پایا
جائے؟ |
کیا
آپ اپنے بیوی
بچوں کو اپنے
ہاتھوں قتل
کر رہے ہیں؟ یونٹ 3: مثبت شخصیت
کی تعمیر نیکی
کیا ہے؟ | پہاڑی
کا وعظ
| شیطانی
قوتوں کا
مقابلہ کیسے
کیا جائے؟ | ذکر،
شکر، صبر اور
نماز |
تعمیر
شخصیت کا
قرآنی لائحہ
عمل |
نظام
تربیت کا
انتخاب |
مسجد
کا ماحول | خود آگہی
اور SWOT Analysis
| اپنی
کوشش سے | الحمد
للہ رب
العالمین | لکھ کر
سوچنے والے | اعتراف | کامیابی
کیا ہے؟ ایک
کامیاب
انسان کی کیا
خصوصیات ہیں؟ | صحیح
سبق |
زہریلا
نشہ |
میں
کیا کروں؟ | اپنے آپ
کو پہچانیے | غربت کا
خاتمہ کس طرح
ہوتا ہے؟ | نور
جہاں اور
ارجمند بانو | سڑک بند
ہے |
مثبت
طرز عمل ہی
زندگی کی
علامت ہے! |
مزاج
کی اہمیت | اور
تالہ کھل گیا؟ | اپنا
چراغ جلا لیں | دو قسم کی
مکھیاں | پازیٹو
کرکٹ |
نرم
دل محبت
و نفرت |
فرشتے،
جانور اور
انسان |
غصے
کو کیسے
کنٹرول کیا
جائے |
اعتبار
پیدا کیجیے! |
بڑی
بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا
مطالعہ
معروضی طریقے
پر کیجیے | روایتی
ذہن | کامیابی
کے راز |
تخلیقی
صلاحیتیں | اسی
خرچ سے
| خوبصورتی
اور زیب و زینت | بخل و
اسراف |
احساس
برتری و
احساس کمتری | قانون کا
احترام |
امن
اور اقتصادی
ترقی |
موجودہ
دور میں جہاد
کیسے کیا
جائے؟ |
فیصلہ
تیرے ہاتھوں
میں ہے |
لوز
لوز سچویشن Loose
Loose Situation
| یہی
بہتر ہے |
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی علم
سے محبت | وحی
اور عقل کا
باہمی تعلق
(حصہ اول) |
وحی
اور عقل کا
باہمی تعلق
(حصہ دوم) |
انسان
اور حیوان | واقفیت
کی کمی
| صحافت
اور فکری
راہنمائی |
نئی
طاقت جاگ اٹھی |
انسان
اور جانور کا
فرق |
Idiot
Box یونٹ 4: انسانوں
سے تعلق انسانی
حقوق: اسلام
اور مغرب کا
تقابلی
جائزہ
| اسلام
اور غیر مسلم
اقوام |
غیر
مسلموں کے
ساتھ ہمارا
رویہ |
ہماری
دلچسپی |
ایک
پاکستانی | بنی
اسرائیل سے
اللہ کا عہد | غلطی
کرنے والے کے
ساتھ کیا
سلوک کرنا
چاہیے؟ |
دوسروں
سے غلطی کی
توقع رکھیے! | سب کا
فائدہ |
حضرت
ایوب علیہ
الصلوۃ
والسلام کی
معیت کا شرف | مہربانی
کی مہک |
دہی
کے 1,000,000 ڈبے | عظمت
والدین کا
قرآنی تصور | تخلیق
کے عمل کے
دوران والدین
کا رویہ | شیر
خوار بچے کی
تربیت کیسے کی
جائے؟ |
گفتگو
کرنے والے
بچے کی تربیت
کیسے کی
جائے؟ |
بچوں
کو نماز کی
عادت کیسے
ڈالی جائے؟ | بچوں میں
شرم و حیا کیسے
پیدا کی
جائے؟ | برائی میں
مبتلا بچوں
سے کیسا رویہ
رکھا جائے؟ | لڑکے
اور لڑکی کی
تربیت کا فرق | اپنی
اولاد کے
معاملے میں
عدل و احسان
سے کام لیجیے! | جوان
ہوتے بچوں کی
سیرت و کردار
کی تعمیر | شادی اور
عورت |
خاندانی
جھگڑے یونٹ 5: ہماری
ذمہ داری اور
لائحہ عمل ہزار
ارب ڈالر | مغربی
معاشرت کی
فکری بنیادیں
اور ہمارا
کردار |
مغرب
کی ثقافتی یلغار
اور ہمارا
کردار |
زمانے
کے خلاف |
مصر
اور اسپین | ہجری سال
کے طلوع ہوتے
سورج کا سوال | جڑ کا
کام |
اسلام
کا نفاذ یا
نفوذ
| غیر
مسلموں کے
ساتھ مثبت
مکالمہ | اورنگ
زیب عالمگیر
کا مسئلہ | دعوت
دین کا ماڈل | مذہبی
علماء کی
زبان |
زیڈان
کی ٹکر | ون
ڈش کا سبق | اصل
مسئلہ قرآن
سے دوری ہے |
|||||