بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

اگر ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہماری اس زندگی میں کئی خلا موجود ہیں۔ ہماری یہ زندگی بڑی عجیب سی ہے۔ اس زندگی میں کسی کو مکمل اطمینان (Absolute Satisfaction) حاصل نہیں۔ افریقہ کے کسی قحط زدہ ملک کے کسی غریب سے غریب شخص سے لے کر امریکہ کے متمول ترین شخص تک کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اسے زندگی میں کبھی کوئی تکلیف پیش نہیں آئی اور اس کی ہر خواہش پوری ہوئی ہے۔ یہاں وسائل محدود اور خواہشات لامحدود ہیں۔ یہاں سب سے بڑی تکلیف موت کی ہے جو انسان سے اس کے تمام وسائل کو چھین لیتی ہے۔ موت کے وقت غریب و امیر کا فرق مٹ جاتا ہے اور ہر انسان ایک ہی مقام پر جا کھڑا ہوتا ہے۔

عقل مند انسان کبھی اپنی تکلیف کا رونا نہیں روتا بلکہ اس کے تدارک میں مصروف ہو جاتا ہے۔ شیکسپیئر

سب سے بڑا مسئلہ اس زندگی میں انصاف کا کامل صورت میں موجود نہ ہونا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نالائق افراد بعض اوقات اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ کئی قابل اور ذہین ترین افراد محض جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔ عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا۔ بڑے بڑے مجرم بسا اوقات چھوڑ دیے جاتے ہیں اور بے گناہ مارے جاتے ہیں۔ کسی طور سے بھی یہ زندگی کوئی آئیڈیل نہیں ہے۔

ایک آئیڈیل زندگی کی خواہش ہر انسان کے لاشعور میں موجود ہے۔ ایک ایسی زندگی جہاں کوئی تکلیف نہ ہو حتی کہ موت کا خوف بھی زندگی کی آسائشوں سے محروم کرنے کے لئے موجود نہ ہو۔ ارسطو سے لے کر کارل مارکس تک بڑے بڑے فلسفیوں نے ایسے Eutopia تخلیق کئے ہیں لیکن ان کے آئیڈیل شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔ اس زندگی کے مسائل کو اگر مختصرا بیان کیا جائے تو یہ دو چیزوں پر مبنی ہے ایک ماضی کے پچھتاوے اور دوسرے مستقبل کے اندیشے۔

انسان کی آئیڈیل زندگی کی یہ خواہش یہ تقاضا کرتی ہے کہ ایسی زندگی ہونی چاہیے لیکن کیا ایسی زندگی واقعتہً موجود ہے، یہ انسان نہیں جان سکتا۔ اس کا جواب تو اس کا خالق ہی دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے بہت تفصیل سے بیان کردیا ہے کہ ایسی ابدی زندگی موجود ہے اور وہ جنت کی زندگی ہے لیکن اس میں داخلہ اسی کو ملے گا جس نے اپنی دنیا کی زندگی اللہ کا بندہ بن کر گزاری ہوگی۔ یہی آخرت کا عقیدہ ہے جو تمام الہامی مذاہب میں موجود ہے۔

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟ اس تحریر میں مصنف نے 40 سے زائد شخصی اوصاف کا جائزہ لے کر شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی تعمیر کا لائحہ عمل بیان کیا ہے۔ ان خواتین و حضرات کے لئے مفید ہے جو اپنی شخصیت کی تعمیر سے دلچسپی رکھتے ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے اس بات کو محض اپنی کتابوں میں بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسی آخرت اور جزا سزا کے تصور کو عملی طور پر دنیا میں بطور نمونہ (Sample) برپا کرکے بھی دکھا دیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے چند اقوام کا انتخاب کیا اور انہیں اپنے رسولوں کے ذریعے خبردار کیا کہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزارو ورنہ تم پر اسی دنیا میں اس کا عذاب آئے گا۔ جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کی بات مان لی، ان پر اللہ تعالیٰ نے اس دنیامیں سرفرازعطا کی اور انہیں اس دنیا میں سپر پاور کا درجہ عطا کیا۔ ان اقوام میں سیدنا موسیٰ، سلیمان اور عیسیٰ اور محمد علیہم الصلوۃ السلام کے پیروکار شامل ہیں۔ اس کے برعکس جن اقوام نے انکار کی روش اختیار کی، ان کو دنیا میں سزا دی گئی۔ ان کی مثال سیدنا نوح، ہود، صالح، شعیب علیہم الصلوۃ السلام کی اقوام ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آخرت کے تصور کو بیان کرنے کے لئے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کو آخرت کے تصور کا زندہ نمونہ بنا دیا ہے۔ اولاد ابراہیم کی دو شاخوں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے ساتھ بحیثیت قوم دنیا میں وہ معاملہ کیا گیا جو وہ سب کے ساتھ آخرت میں بحیثیت فرد کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے بنی اسرائیل کا انتخاب کیا ۔ جب تک بنی اسرائیل اس کے احکام پر چلتے رہے وہ دنیا کی سب سے بڑی قوت بن کر رہے۔ تمام اقوام ان کے زیر نگیں رہیں۔ جب انہوں نے برائی کی راہ اختیار کی ان کو دنیا میں بھرپور سزا ملی۔ ان پر ایسے حملہ آور مسلط کئے گئے جنہوں نے ان کے مردوں کا قتل عام کیا اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا ڈالا۔

یہی معاملہ بنی اسماعیل کے ساتھ ہوا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور محض پندرہ بیس سال کے عرصے میں انہیں بلوچستان سے لے کر مراکش تک کے علاقے کی سلطنت عطا کی گئی۔ لیکن جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو ان پر تاتاریوں، صلیبیوں اور پھر مغربی اقوام کو مسلط کر دیا گیا اور انہیں غلامی کی سزا دی گئی۔ کئی مرتبہ ان پر ایک دوسرے کی تلواروں کے ذریعے قتل عام کی سزا مسلط کی گئی۔

اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کی تاریخ کو بھی مذہبی اور غیر مذہبی دونوں ذرائع سے محفوظ کردیا ہے۔ جو چاہے ان اقوام کی تاریخ سے یہ سمجھ لے کہ جزا و سزا کا یہ معاملہ اس کے ساتھ بھی ہونے والا ہے اور جو چاہے اس سے منہ موڑ کر آخری فیصلے کا انتظار کرے۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      انسان کے لاشعور میں آخرت کی زندگی کی طلب کس طرح سے رکھی گئی ہے؟

      اولاد ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی تاریخ کس طریقے سے آخرت کی جزا و سزا کا ثبوت ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے