بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

نماز اور گناہ

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری نماز ہمیں گناہ سے نہیں روکتی ۔ حالانکہ قرآن پاک کی سورہ عنکبوت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ بے شک نماز فحش اور منکر کاموں سے روکتی ہے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جسے تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

قرآن کریم نے گناہوں کی تین نمایاں اقسام بیان کی ہیں۔

      فحاشی، عریانی اور جنسی بے راہروی پر مبنی گناہ

      حق تلفی کی نوعیت کے وہ گناہ جنھیں سب انسان برا سمجھتے ہیں

      خدا کی سرکشی اور بغاوت کی نوعیت کے گناہ

ایک شخص انہی تین بنیادوں پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے گناہ کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ نماز ان تمام اقسام کے گناہوں سے انسان کو بچاتی ہے۔ تاہم سورہ عنکبوت کی آیت میں صرف فحش اور منکر یعنی پہلی اور دوسری قسم کے گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا شخص جیسے ہی نماز میں رب کے حضور سر جھکاتا ہے وہ تیسری قسم کے گناہ یعنی رب سے سرکشی اور بغاوت سے دور ہوجاتا ہے۔اس لیے اس طرح کے جرائم کو اس آیت میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔

اس کے بعد پہلی اور دوسری قسم کے گناہ رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ نماز ان دونوں اقسام کے گناہوں یعنی فحش اور منکر سے روکتی ہے۔اب رہی یہ بات کہ ہماری نماز ہمیں ان دونوں اقسام کے گناہوں سے نہیں روک پاتی تو اس کے لیے پوری آیت کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس آیت کا ابتدائی حصہ تو ہم نے اوپر نقل کردیا ہے باقی حصہ اس طرح ہے جو عام طور پر بیان نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر توجہ کی جاتی ہے۔ حالانکہ یہیں وہ بات بیان ہوئی ہے جو اہم ہے۔ فرمایا:

بے شک نماز فحش اور منکر کاموں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

یہ ہے وہ پوری بات جو اللہ تعالیٰ نے کہی ہے۔ مطلب اس بات کا یہ ہے کہ نماز اصل میں اللہ کی یاد کا نام ہے۔ یہ انسانوں میں رہتے ہوئے خدا میں جینے کا نام ہے۔ یہ غیب میں رہتے ہوئے خدا کی عظمت کو تسلیم کرلینے کا نام ہے۔ یہ خدا کی پکڑ میں آنے سے پہلے خود کو رب کے حوالے کردینے کا نام ہے۔

(جسمانی و ذہنی) غلامی ایک بہت بڑی لعنت ہے۔ غلامی زبان سے وہ کچھ کہلوا دیتی ہے جو انسان کہنا نہیں چاہتا۔ علامہ اقبال

اللہ تعالیٰ کی یاد کی یہ کیفیت، یہ احساس بہت بڑی چیز ہے۔ اتنی بڑی کہ انسان ہر لمحہ خود کو رب کی نگرانی میں پاتا ہے اور پھر اس کا کوئی قدم خدا کی نافرمانی میں نہیں اٹھ سکتا۔ اس کا نفس تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی لگام اس کے اندر سے اٹھنے والے حیوانی جذبوں کے حوالے کردے، مگر خدا کی یاد اسے آتی ہے اور اس کے نفس کے پاؤں میں زنجیریں ڈال دیتی ہے۔ اس کے جبلی تقاضے سر اٹھاتے ہیں اور اس کے جذبات کو بے قابو اور قلب و نظر کو بے ایمان بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر خدا کی یہی یاد آتی ہے اور ہر بہکی نظر اور امنڈتے جذبے کو حدود آشنا بنادیتی ہے۔

اس کے مفادات اسے حلال و حرام سے بے نیاز ہونے کی تلقین کرتے ہیں، اس کی خواہشات اسے اخلاقی تقاضوں کی پاسداری سے روکتی ہیں، اس کے تعصبات اسے حق کی پیروی سے باز رکھنا چاہتے ہیں، بیوی بچوں کی محبت اسے حدود پامال کرنے پر اکساتی ہے، دنیا کی محبت اسے عارضی فائدوں کے پیچھے بھگاتی ہے، مال و مقام کی محبت اسے ظلم و عصیان پر آمادہ کرتی ہے مگر ہر ہر موقع پر یہ زندہ نماز، یہ خدا کی یاد والی نماز ایک چٹان بن کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں۔ کسی مرحلے پر اگر وہ جذبات سے مغلوب اور حالات سے مجبور ہو بھی جائے تو کبھی اس کا معاملہ ایک سرکش انسان کا نہیں بنتا بلکہ اگلی نماز میں اسے احساس ہوجاتا ہے کہ خدا زندہ اور اس پر نگران ہے۔ چنانچہ وہ رب کی طرف پلٹتا اور توبہ کرتا ہے۔

اس طرح نماز زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو گناہوں سے دور رکھتی ہے۔کیونکہ نماز جب ٹھیک طرح پڑھی جاتی ہے تو انسان کو ہمیشہ خدا یاد رہتا ہے اور یاد آ جاتا ہے۔ یہی وہ یاد ہے جو انسان کو گناہ سے بچاتی ہے نہ کہ بے روح قیام و سجود۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      نماز کس طرح فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے؟

      ایک شخص جو توجہ کے ساتھ نماز کی پابندی کرتا ہے، اس کی شخصیت پر نماز کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے