بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

خدا، انسان اور سائنس: حصہ دوم

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

خدا کی ذات کا ثبوت

قرآن نے خدا کے ہونے کے ثبوت کے لیے براہِ راست خارجی دنیا کی صرف ایک دلیل پیش کی ہے۔ جو کہ سورۂ النور (24:40-53) میں بیان ہوئی ہے۔ ان آیات کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اس کائنات کی ایک ہی توجیہ ممکن ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کو کائنات کا خالق مان لیا جائے۔

اللہ کو نکال دینے کے بعد کائنات کی کوئی عقلی تو کیا غیر عقلی توجیہ بھی ممکن نہیں ہے۔ جس طرح ایک اندھیرے کمرے میں جب تک روشنی نہیں ہے آپ تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے۔ جیسے ہی روشنی ہوگی ہر چیز اپنی جگہ ٹھکانے پر نظر آنے لگے گی۔ اسی طرح خدا کی دی ہوئی ہدایت کی روشنی کے بعد کائنات میں ہر چیز ( میں اسکی تفصیل قرآن کے علم الانسان کے عنوان سے آگے بیان کررہا ہوں ) اپنی درست جگہ پر نظر آئے گی اور اسکے بغیر آپ کائنات کے بارے میں بلا یقین متضاد باتیں کہتے رہیں گے۔ تاریکی پر تاریکی۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خدا کے سوا اس کائنات کی کسی دوسری توجیہ کا نہ ہونا آخری حد تک ثابت کرتا ہے کہ اگر کائنات کے ہونے کو ہم مانتے ہیں تو ہمیں خدا کو بھی ماننا ہوگا اور اگر نہیں مانتے تو اسکا مطلب ہے کہ ہم کائنات کے وجود کے منکر ہیں۔

الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات۔ موجودہ دور میں الحاد کو پھیلانے کے لئے کیا کوششیں کی گئی ہیں اور ان کے نتائج کیا نکلے ہیں؟ الحاد کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند کیسے باندھا جائے؟ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ اس بنا پر خدا کو نہیں مانتے کہ وہ سائنسی طور پر ایک تسلیم شدہ حقیقت نہیں ہے، وہ ایک دوسری ہستی کو ماننے پر مجبور ہیں جو سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے اور نہ اس کے دائرہ میں آتا ہے۔ یہ خود حضرتِ انسان کا اپنا شعوری وجود ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے شعوری یا روحانی وجود کو سائنس کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے نہ اس کے قوانین کا اس پر اطلاق ہوتا ہے۔ اوپر میں دکھا چکا ہوں کہ انسان اپنی زندگی کا نقشہ بھی سائنس کی روشنی میں نہیں بناتا۔ اس کے باوجود انسان کے شعوری وجود کو نہ صرف مانا جاتا ہے بلکہ اسکے مطالعہ کے لیے علم النفسیات کے نام سے ایک پورا علم وجود میں آگیا ہے۔

خدا کو کس نے بنایا

اتفاق کی بات ہے کہ نیویارک میں اپنی بہن کے گھر بیٹھا جب میں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو میری بیچ والی بھانجی ماہ رخ نے، جو پرائمری اسکول کی طالبہ ہے، اچانک مجھ سے سوال کیا کہ اللہ میاں کو کس نے بنایا۔ شاید خدا کو یہ منظور تھا کہ اس مقام پر عقلِ عام کی روشنی میں بھی یہ ثابت ہوجائے کہ خدا کے بارے میں یہ سوال ہی اصلاً غلط ہے اس لیے اس نے اس معصوم بچی کے دل میں اسی وقت یہ سوال ڈالا۔ میں اس سے مذکورہ بالا بحث نہیں کرسکتا تھا کیونکہ یہ اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ میں نے اس سے کہا کہ A B C D سناؤ۔ اس نے سنائی تو میں نے اس سے پوچھا کہ Aسے پہلے کیا آتا ہے۔ اس نے کہا کہ A سے پہلے تو کچھ بھی نہیں آتا۔ اس پر میں نے کہا کہ جس طرح Aسے پہلے کچھ نہیں اسی طرح اللہ میاں سے پہلے بھی کچھ نہیں تھا۔ جب اللہ میاں سے پہلے کچھ نہیں تھا تو انہیں کسی نے پیدا بھی نہیں کیا۔ یہ بات باآسانی اسکی سمجھ میں آگئی۔

جو اپنی زمین میں کاشت کاری کرتا ہے، کثرت سے اشیائے خور و نوش حاصل کرتا ہے جبکہ جو شخص خیالی پلاؤ پکاتا رہتا ہے، محتاج رہتا ہے۔ (بائبل، امثال)

ارتقا کا نظریہ

خدا کے سوا کائنات کی کسی دوسری توجیہ کی غیر موجودگی میں، انکارِ خدا کے لیے، منکرینِ مذہب کے پاس صرف ارتقا کا نظریہ بچا ہے۔ جس کو وہ انکارِ خدا کی اساس سمجھتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایک لمحے کے لیے اگر ہم ارتقا کے نظریے کو بالکل درست مان بھی لیں تب بھی یہ انکارِ خدا کی بنیاد کیسے بن سکتا ہے۔

مذہب کا دعویٰ یہ ہے کہ مخلوقات کو خدا نے بنایا۔ اس نے خدا کے طریقۂ تخلیق کو بیان نہیں کیا۔ اس ضمن میں قرآن نے صرف ایک بات کہی ہے۔ وہ یہ کہ ا للہ نے آدم علیہ السلام کوخصوصی تخلیق سے پیدا کیا۔ سورہ اٰلِ عمران آیت 59 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے۔ اس نے اسے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر فرمایا ہوجا تو ہو گیا۔ کیا کوئی یہ ثابت کرسکتا ہے کہ خدا کی یہ بات غلط ہے اور جس آدم علیہ السلام سے یہ انسانیت وجود میں آئی وہ مٹی سے پیدا نہیں ہوئے۔

انسانوں کو جانوروں کی ایک ترقی یافتہ شکل ثابت کرنے کے لیے جو کچھ کہا اور پیش کیا جاتا ہے وہ اپنی خواہش کا اظہار تو ہوسکتا ہے حقائق سے اسکا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض اندازے اور قیاسات ہیں۔ جن پر مشرق اور مغرب دونوں جگہ بہت تنقید ہوچکی ہے۔ یہ لوگ تو انسان کے حیوانی وجود کے بارے میں بھی یہ ثابت نہیں کرسکے کہ یہ حیوانوں سے ترقی پا کر وجود پذیر ہوا ہے۔ کجا کہ وہ انسان کے اس شعوری اور روحانی وجود کے بارے میں کوئی دعویٰ کرسکیں جس کے قریب تو کیا دور تک بھی کوئی جانور نہیں پہنچ سکا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      نظریہ ارتقاء میں کیا خامیاں پائی جاتی ہیں؟

      خدا کے منکرین اس کا انکار کیوں کرتے ہیں؟ کیا ان کے پاس کوئی ٹھوس علمی دلیل موجود ہے یا پھر ان کے انکار کی وجہ کچھ اور ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے