بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

توحید خالص: حصہ دوم

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

اس تحریر کے پہلے حصے میں ہم نے ان چار معاملات کا ذکر کیا تھا جن میں مسلمانوں کے ہاں شرکیہ رسوم و آداب در آئے ہیں:

      اللہ تعالی کی بجائے کسی اور سے عبد و معبود کا تعلق

      ختم نبوت کی عملی تردید

      دیومالا کی تخلیق

      مراسم عبودیت کی تخلیق

ان کی تفصیل یہ ہے۔

قرآن اور بائبل کے دیس میں۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے متعلق مقامات کا سفرنامہ۔ اس سفر نامے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے متعلق مقامات مکہ، مدینہ، طائف، بدر اور تبوک کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ قوم کے ثمود کے پہاڑوں میں تراشے گئے گھر، نبطی قوم کے تاریخی آثار، قوم لوط اور قوم شعیب علیہما الصلوۃ والسلام کے علاقے، بنی اسرائیل کی تاریخ اور سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے منسوب مقامات کی تاریخ اس سفرنامے کا حصہ ہے۔ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

اللہ تعالی کی بجائے کسی اور سے عبد و معبود کا تعلق

ہمارے ہاں اللہ تعالی سے محبت، اس سے تعلق، اس کے آگے گڑگڑانا، اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہنا اور اسی سے مدد مانگنے کا سلسلہ اب اس قدر مضبوط نہیں رہا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ بعض لوگ اللہ تعالی کی محبت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس کی بجائے ان کی توجہ کا سارا رخ کچھ اور ہستیوں کی محبت کی جانب ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اور صالحین سے محبت یقینی طور پر ضروری ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی کی محبت کو سرے سے نظر انداز کر دیا جائے۔

اللہ تعالی کے آگے رونے، گڑگڑانے اور اپنے گناہوں کی معافی چاہنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن بعض لوگ اس سلسلے کو دیگر ہستیوں کے ساتھ بھی شروع کر چکے ہیں۔ اللہ تعالی سے مدد مانگنے کے ساتھ ساتھ بعض دیگر ہستیوں کو خدا کا برگزیدہ مان کر ان میں مافوق الفطرت قوتیں تسلیم کر لی جاتی ہیں اور پھر ان سے مدد مانگنے اور دعا کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل درست ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر دم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مافوق الفطرت طریقے سے مدد مانگا کرتے لیکن حدیث میں ایسا کچھ بھی ہمیں دستیاب نہیں ہے۔

بسا اوقات یہ تصور عام کیا جاتا ہے کہ جیسے بادشاہوں سے عرض و معروض کرنے کے لئے اس کے مصاحبین اور عہدے داروں کے ذریعے سفارش کروائی جاتی ہے، ویسے ہی اللہ تعالی کے حضور بھی ایسا ہی کرنا چاہیے اور براہ راست اللہ تعالی سے مانگنے کی بجائے اس کے نیک بندوں سے مانگنا چاہیے۔ یہ مثال بالکل ہی غلط ہے۔ بادشاہ تو محض ایک معمولی سا انسان ہی ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک ہی وقت بھی سینکڑوں لوگوں کی فریاد سن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں عہدے دار مقرر کئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی کو تو معاذ اللہ یہ کمزوری لاحق نہیں ہے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ بیک وقت اپنی تمام مخلوق کی فریاد سن سکے۔

اگر اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور سے یہ معاملہ کرنا دین اسلام کا حصہ ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خود اس کی تلقین فرمایا کرتے، لیکن ایسی ایک بھی حدیث ہمیں دستیاب نہیں ہے۔

مراسم عبودیت کی تخلیق

جس طرح کسی بھی مذہب میں اللہ تعالی یا کسی جھوٹے معبود کی عبادت کرنے کے کچھ مراسم و آداب مقرر ہیں، بالکل اسی طرح ہمارے ہاں اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ تعلق عبودیت کے رسوم و آداب کی پوری شریعت تخلیق کر دی گئی ہے۔ بزرگوں کے مزار پر جانے اور ان سے تعلق قائم کرنے کے آداب، تذکرے کی محافل کے آداب، ان کی خدمت میں نذر و نیاز اور قربانی پیش کرنے کے آداب غرض ایک پوری شریعت ہے، جو خدائی شریعت کے بالکل متوازی (Parallel) تخلیق کر لی گئی ہے۔

دیومالا (Mythology) کی تخلیق

ہمارے ہاں بھی دیومالائی داستانوں کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے جس میں اللہ تعالی کے نیک بندوں کے ساتھ عجیب و غریب اور محیر العقول واقعات منسوب کئے گئے ہیں۔ اگر اس دیومالا کا تقابلی جائزہ یونان اور ہندوستان کی دیومالائی داستانوں سے کیا جائے تو دونوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دیومالا کی تخلیق ایک ہی طرز کے انسانوں نے کی ہے۔

اللہ تعالی کے کسی نیک بندے سے کبھی کوئی محیر العقول واقعہ سرزد ہو سکتا ہے جسے دینی لٹریچر میں کرامت کہا جاتا ہے۔ لیکن ایسا تبھی ہوتا ہے جب اللہ چاہے، بندے کے بس کی بات یہ نہیں ہوتی کہ وہ بٹن دبا کر کوئی کرامت دکھا دے لیکن ایسے واقعات تخلیق کیے جاتے ہیں جن میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ بندے اللہ تعالی کی قدرت میں شریک ہیں۔

جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اسے زیادہ دولت ملے اور اس کی عمر طویل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم (بخاری)

ختم نبوت کی عملی تردید

اللہ تعالی نے انسانوں کی ہدایت کے لئے وحی اپنے مخصوص بندوں پر نازل کی ہے، جنہیں انبیاء کرام کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خاص سلسلہ تھا جو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے۔

اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے 'الہام' کا تصور تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ وحی کا دوسرا ہی نام ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے وحی اور الہام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وحی وہ پیغام ہے جو اللہ تعالی اپنے نبیوں پر نازل کرتا ہے اور الہام وہ پیغام ہے جو غیر نبی نیک بندوں پر نازل کرتا ہے۔ پیروی دونوں کی کرنا لازم ہے۔

ظاہر ہے کہ اس نظریے کو تسلیم کر لینے کے بعد ختم نبوت کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ نبوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکی ہے، پھر بھی اللہ تعالی کے پیغامات تو اس کے نیک بندوں پر نازل ہو رہے ہیں اور اس نیک بندے کے پیروکار پر ان نیک بندوں کی اطاعت بھی اسی طرح واجب ہے جیسا کہ انبیاء کرام کی ہوا کرتی ہے۔ یہی وہ مرض ہے جس کی طرف قرآن مجید میں سابقہ امتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ (توبہ 9:31)

انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کو چھوڑ کر اپنا رب بنا لیا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا:

حدثنا الحسين بن يزيد الكوفي حدثنا عبد السلام بن حرب عن غطيف بن أعين عن مصعب بن سعد عن عدي بن حاتم قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وفي عنقي صليب من ذهب فقال يا عدي اطرح عنك هذا الوثن وسمعته يقرأ في سورة براءة { اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله } قال أما إنهم لم يكونوا يعبدونهم ولكنهم كانوا إذا أحلوا لهم شيئا استحلوه وإذا حرموا عليهم شيئا حرموه. (ترمذی؛ کتاب التفسیر؛ حدیث 3095)

سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آیا تومیرے گلے میں سونے کی ایک صلیب لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا، "اے عدی! اس بت کو اتار دو۔" میں نے آپ کو سورۃ توبہ کی یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا، "ان (اہل کتاب نے) اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور صوفیاء کو اس کا شریک بنا لیا تھا۔" اور فرمایا، "یہ لوگ ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے مگر جب وہ کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو اسے حلال سمجھنے لگتے اور جب حرام قرار دیتے تو اسے حرام سمجھنے لگتے۔"

یہی وہ ذہنی غلامی تھی جس کے نتیجے میں علماء و مشائخ کو خدا کے پیغمبر کا اور پیغمبر کو خود خدا کا درجہ دے دیا گیا۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام شرکیہ تصورات اور افعال سے بچتے ہوئے توحید خالص کو اختیار کریں کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں نجات کا دارومدار توحید خالص پر ہے۔ یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے اور یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کرام کی۔ یہی وہ دین ہے جس پر حضور کے صحابہ اور امت کے صالحین نے عمل کیا ہے۔

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      ہمارے ہاں بعض لوگوں نے بزرگان دین کو کس طرح رسول کا درجہ دے دیا ہے۔ عملی زندگی سے مثالیں پیش کیجیے۔

      بعض لوگ اللہ کے نیک بندوں کو خدا کا درجہ دے کر ان کے ساتھ کیا معاملات کرتے ہیں، عملی مثالوں سے واضح کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

cool hit counter