بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بعث و نشر

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

اس دنیا میں جو چیز بھی پیدا ہوئی ہے، بالعموم زوجین کی صورت میں پیدا ہوئی ہے۔ تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو ہر شے درحقیقت ایک ہی وجود ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ مرد و عورت کیا ہیں؟ ایک ہی وجود کے دو حصے ہیں جن کے بارے میں ہر عاقل بادنی تامل اس حقیقت کو مانتا ہے کہ ان کا اتمام ایک دوسرے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مرد کی نفسیات، اس کی جسمانی ساخت، اس کے جذبات و احساسات، غرض یہ کہ اس کی پوری شخصیت صاف بتاتی ہے کہ وہ ایک ہستی ناتمام ہے، جس کی تکمیل اگر ہو سکتی ہے تو عورت ہی سے ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ عورت کا بھی ہے۔ وہ بھی ایک نامکمل وجود ہے جس کا اتمام مرد ہی سے ہوتا ہے۔

علوم الحدیث کیا ہیں؟ ان میں کن مباحث کی تعلیم دی جاتی ہے؟ صحیح و ضعیف حدیث میں کیا فرق ہے؟ صحیح اور من گھڑت احادیث میں فرق کیسے کیا جاتا ہے؟ اس کی تفصیل کے لئے "علوم الحدیث: ایک تعارف" کا مطالعہ فرمائیے۔

یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنی غایت کو پہنچتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک کو مان کر دوسرے کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ اس دنیا میں اگر مرد ہے تو عورت بھی لامحالہ ہونی چاہیے اور عورت ہے تو مرد کا وجود بھی ضروری ہے۔ یہ وہ خاموش حقیقت ہے جس کا بیان اس عالم میں ہر چیز کو جوڑوں کی صورت میں پیدا کر کے اس کے وجود پر ثبت کر دیا گیا ہے۔ یہاں اب کوئی عاقل پانی کو مان کر پیاس کو مان کر پانی کا انکار نہیں کر سکتا۔

لیکن یہ بات کی یہیں تک رہتی ہے؟ اس کی روشنی میں ذرا اپنی اس دنیا کا جائزہ لیجیے۔ ہم میں سے ہر شخص کی خواہش ہے کہ وہ ابد تک زندہ رہے۔ موت اس زمین پر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کو حل کر لینے سے پوری طرح مایوس ہو جانے کے بعد ہی ہم نے اسے قبول کیا ہے۔ روز و شب میں تلخی نہ ہو اور زمانہ ہمیں بڑھاپے کی ارذل حالتوں تک نہ پہنچائے تو ہم میں سے کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہم یہاں ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتے۔

ہماری خواہش ہے کہ ہمارے وجود کی رسائی وہاں تک ہو، جہاں تک اب ہمارے خیال کی پہنچ ہے۔ ہم آسمان کی وسعتوں، زمین کی پہنائیوں اور خود اپنے وجود کے باطن میں اتر جانا چاہتے ہیں۔ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہم نے آفتاب کو آغوش میں لینے اور ذروں کا دل چیرنے کی کوشش کی ہے۔ ہماری اس جدوجہد کی داستان اب تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ان پچھلی تین صدیوں میں بہت سے کامیابیاں ہمیں حاصل ہوئی ہیں، لیکن اس جدوجہد ہی نے یہ حقیقت بھی ہم پر واضح کر دی ہے کہ ہمارے خیال کی وسعت اور ہمارے وجود کی صلاحیت میں کوئی نسبت قائم ہی نہیں کی جا سکتی۔

اس دنیا میں جو زندگی ہم گزارتے ہیں، وہ کیا ہے؟ اس کو اگر دو لفظوں میں بیان کیجیے تو ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے اندیشوں کا ایک المیہ ہے جو ہم میں سے ہر شخص صفحہ عالم پر رقم کرتا اور پھر مٹی میں دفن ہو جاتا ہے۔ "اے کاش، یہ ہو جاتا" اور "کہیں ایسا نہ ہو جائے" ، ہماری داستان حیات یہاں سے شروع ہوتی اور یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن ہماری تمناؤں کی دنیا بھی کیا یہی ہے؟ اس عالم میں ہر شخص اس سوال کا جواب یقیناً نفی میں دے گا۔ ہم میں سے کوئی شخص اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ ہماری تمناؤں کی دنیا اگر ہو سکتی ہے تو وہی ہو سکتی ہے، جس میں ماضی کا کوئی پچھتاوا ہو اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔

ہماری آرزو ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ عدل پر قائم رہے۔ یہ وہ چیز ہے جسے حاصل کرنے کے لئے ہم نے سب سے زیادہ جدوجہد کی ہے۔ ہم نے اس کے لئے اپنی آزادی سے دست برداری اختیار کی؛ ایک نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کی پابندی قبول کی؛ اپنے اوپر اپنے جیسے انسانوں کو حکومت کرنے کا حق دیا؛ اس کے لئے بارہا جان و مال کی قربانی پیش کی، لیکن یہ نعمت عظمی اپنی آخری صورت میں کیا اس دنیا میں ہمیں کبھی حاصل بھی ہو سکی؟ وہ شخص جس نے چودہ سو سال پہلے حجاز کی سرزمین پر اعلان کیا کہ: "دجلہ کے کنارے بھوکوں مرنے والے کتے کی ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہوتی ہے۔" اور جس نے زمین کو بھونچال سے کانپتے دیکھا تو اس کی پیٹھ پر درہ لگایا اور کہا: "میری حکومت میں کانپ رہی ہو، کیا میں نے تم پر عدل نہیں کیا؟"

اس میں شبہ نہیں کہ ایک ایک انسان کی حیثیت سے جو کچھ کر سکتا تھا، کر گیا۔ لیکن وہ کتے جو دجلہ کے کنارے بھوکوں مر گئے اور اس کو ان کی خبر ہی نہیں ہوئی اور وہ مجرم جو اس کی گرفت میں آ ہی نہیں سکے، اور وہ جو گرفت میں آئے، مگر ان کے جرم کی قرار واقعی سزا نہیں دینا کسی طرح ممکن نہیں ہوا، ان کے لئے یہ دنیا کہاں جائے؟

ہزاروں عورتوں کو بیوہ اور لاکھوں بچوں کو یتیم کر دینے والے کتنے وحشی ہیں جو بڑے اطمینان کے ساتھ موت کی آغوش میں چلے گئے اور دنیا کی کوئی عدالت انہیں سزا دینا تو ایک طرف اپنے سامنے پکڑ لانے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔

بیماریوں میں سب سے بری بیماری دل کی بیماری ہے اور دل کی بیماریوں میں سب سے بری بیماری دل آزاری ہے۔ بو علی سینا

اس دنیا کے یہ خلا ہیں جن سے یہ حقیقت بالبداہت ثابت ہوتی ہے کہ یہ بھی ہر لحظہ اپنے جوڑے کی تلاش میں ہے۔ اس حقیقت کا انکار کوئی شخص اگر کرتا ہے تو وہ درحقیقت عورت کے لئے مرد اور پیاس کے لئے پانی کی ضرورت کا انکار کرتا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز اسی لئے جوڑے جوڑے پیدا کی گئی ہے کہ آدم کے بیٹے اس حقیقت کو سمجھیں کہ خود اس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہیے جس کے ساتھ مل کر اس کے سارے خلا بھر جائیں اور یہ اپنی غایت کو پہنچ جائے:

اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم (اس حقیقت کی) یاد دہانی حاصل کرو (کہ اس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہیے۔) (الذاریات 51:49)

قرآن کے نزدیک اس دنیا کا وہ جوڑا آخرت ہے۔ یہ دنیا اس کو مان لینے ہی سے اپنے اتمام کو پہنچتی ہے۔ اسے نہ مانیے تو پھر یہ رام کی لیلا اور نیرو کی تماشاہ گاہ تو ہو سکتی ہے، اسے کسی صاحب حکمت خداوند کی تخلیق نہیں مانا جا سکتا:

کیا تم نے یہی سمجھا کہ ہم نے تم کو یونہی بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔ (المومنون 23:115)

(مصنف: جاوید احمد غامدی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ،

اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      انسان کے شعور میں وہ کیا چیز ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے اور ہم اس کے سامنے جواب دہ ہیں؟

      لوگ چند روزہ زندگی کے لئے آخرت کی اصل اور لامحدود زندگی کو تباہ کیوں کر دیتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

Download Printable Version

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے