بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

جنت کا مستحق

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

Download Printable Version

آج گفتگو کا آغاز میں اپنے ایک پرانے تجربے سے کرتا ہوں۔عرصہ ہوا کہ میں نے اپنے جاننے والے لوگوں سے چند سوالات کیے۔ سوالات یہ تھے کہ زندگی میں کتنی دفعہ آپ نے جنت اور اس کی نعمتوں کے بارے میں سوچا ہے۔جس طرح دنیا اور اس کی چیزوں کی خواہش کی ہے کبھی ایسے جنت کی نعمتوں کی سچی طلب بھی پیدا ہوئی ہے۔ رٹی رٹائی کچھ دعاؤں یا مسجد میں کی جانے والی اجتماعی دعاؤں پر آمین کہنے کا ذکر نہیں ہے، جنت کی وسعت نے جو آسمان و زمین کے برابر ہے، کبھی دل و دماغ میں کوئی ارتعاش، کوئی تھرل (Thrill) پیدا کیا۔

اس کی خواہش نے کبھی دل میں کوئی امنگ پیدا کی۔ اس کی محرومی کے اندیشے نے کبھی رلایا۔ اس کے ملنے کی امید نے کبھی ہنسایا۔اس کے محلات نے تصورات میں کوئی جگہ پائی۔ اس کے باغوں میں خیالوں میں کبھی چہل قدمی کی۔ اس کی آبشاروں کی جھنکار نے سماعت کے دروازے پر کبھی دستک دی۔اس کی پررونق محفلوں، پرجوش خادموں، پرکار حوروں، پرفضا نظاروں، پرکیف بہاروں نے احساسات کی وادی میں کوئی پھول کھلائے، جذبات کے سرد صحرا میں زندگی کی کوئی حرارت پیدا کی۔ جنت جو عقائد کی لسٹ میں کہیں خاموش پڑی ہے کبھی زندگی کے معمولات میں اس کی طلب در آئی۔

مجھے جو جواب ملا وہ حیرت انگیز تھا۔ یعنی صد فیصد لوگوں کا جواب نفی میں تھا۔ یہ زمانہ طالب علمی تھا اس لیے لوگوں کے جواب پر بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے بڑے تاسف کے ساتھ کہا کہ جنت کا حقدار وہ ہے جو قربانی کے درجے میں اس کے لیے کوشش کرے، ہم تو خواہش کے درجے میں بھی اس کے طلبگار نہیں ۔مگر اب سوچتا ہوں کہ دنیا اتنی حسین اور اس کے مسائل اتنے سنگین ہیں کہ کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ چھپی ہوئی جنت کی کھوج کرے اور فردوس نامعلوم کی خاطر دنیا کے نقد سودے میں گھاٹا اٹھائے۔

دولت کے معاملے میں اپنے سے بہتر کی طرف مت دیکھو بلکہ اپنے سے کمتر کو مدنظر رکھو۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

آج کے انسان کا المیہ

دور جدید کے انسان کے لیے جنت کا حصول جتنا آسان ہوچکا ہے وہ شاید پہلے کبھی نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی قربانیوں کے نتیجے میں وہ دور ختم ہوگیا ہے جب ایمان لانے پر انسان کو بدترین تکالیف اٹھانی پڑتی تھیں۔آج ہر شخص کے مذہبی معتقدات اور اعمال و رسوم کا احترام کیا جاتا ہے اور اسے پورا کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ نیز دورِ جدید کی سائنسی ترقی، بالخصوص بیسویں صدی کے سائنسی دریافتوں نے مذہبی عقائد کو پہلی دفعہ خالص علمی بنیادوں پر قابل فہم بنادیا ہے۔

اسلام جو ہمیشہ سے دینِ فطرت ہے دور جدید میں دینِ سائنس بھی بن چکا ہے۔ سائنس سے واقف ایک جدید انسان کے لیے آج مذہبِ اسلام کو ماننا توہمات کو ماننا نہیں بلکہ ممکنات کو ماننے کے مترادف ہے۔

دوسری طرف موجودہ دور میں جنت کا تصور جتنا آسان ہوگیا ہے جو پہلے کبھی نہ تھا۔ زمانہ قدیم میں جو نعمتیں صرف بادشاہوں اور نوابوں کو دستیاب تھیں، وہ آج کے ایک عام آدمی کی دسترس میں بھی ہیں۔ بلکہ جو سہولیات زمانہ قدیم میں حکمرانوں کے لیے بھی ناقابل تصور تھیں وہ آج ہر کس و ناکس کی پہنچ میں ہیں۔اس بات کو کچھ مثالوں سے سمجھیے۔

زمانہ قدیم میں حج کرنے والے لوگ جب ہندوستان سے حجاز جاتے تھے تو یہ مہینوں کا سفر ہوتا تھا جو آج محض چند گھنٹوں کا سفر بن چکا ہے۔ اسی طرح دور جدید میں ائیر کنڈیشنر کی ایجاد نے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ شدید گرمیوں میں ٹھنڈ کا مزا اٹھایا جاسکے۔ میڈیا کی ایجاد نے انسان کے تخیل کی دنیا کی اس طرح آبیاری کی ہے کہ جنت اور یہاں تک کہ جہنم بھی، بڑی حد تک انسان کے احاطۂ تصور میں آچکی ہے۔

تاہم جدید انسان کا المیہ یہ ہوا کہ اس نے نہ صرف مذہبی آزادی کے اس دور سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ دورِ جدید کی ان نعمتوں کو جنت کا تعارف سمجھنے کے بجائے انہیں اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا ہے۔ انسان ہر نعمت کو اسی دنیا میں حاصل کرنا چاہتا ہے اور ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حتیٰ کہ جنت کی قیمت پر بھی۔

کرپشن، ظلم، رشوت، ملاوٹ اور اس طرح کے دیگر رویے جن میں سے ہر ایک انسان کو رب کی فردوس سے محروم کر دے گا، لوگ اس لیے اختیار کرلیتے ہیں کہ ان سے دنیا کی جنت ملتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس صورتحال کے جہاں اور دیگر کئی اسباب ہیں وہیں اہل مذہب اپنے آپ کو اس صورتحال سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ مذہبی لوگ جن کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کو خدا کی جنت کی طرف بلائیں مگر انہوں نے لوگوں کو دین کے نام پر ان چیزوں میں الجھا دیا ہے جو قرآن کے نزدیک نان ایشو ہیں۔

مایوسی سے نجات کیسے؟ یہ تحریر ان افراد کے لئے مفید ہے جو کسی بھی قسم کی مایوسی کا شکار ہوں۔ مصنف نے اس تحریر میں مایوسی کی اقسام اور ان کی وجوہات کا تجزیہ کیا ہے۔ آخر میں مایوسی کو دور کرنے کی چند تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

قرآن کی دعوت

آج کے زیادہ تر مذہبی لوگوں کا اصل مسئلہ فرقہ واریت ہے۔اس کے ساتھ دین کی دعوت ان کے نزدیک چند ظاہری اعمال کو بلا سوچے سمجھے اختیار کر لینے کا نام ہے۔ تاہم دورِ جدید کا سب سے بڑا مذہبی المیہ یہ ہے کہ جو لوگ اس امت میں قرآن کی دعوت لے کر اٹھے ان کے نزدیک قرآن کی اصل دعوت دنیا میں دینِ حق کا غلبہ تھا۔ یہ موقع نہیں کہ اس غلط اجتہاد کی تفصیل بیان کی جائے مگر اس ذہن کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن کا اصل پیغام یعنی قیامت کے دن رب کے حضور پیشی کے لیے تیاری، دیندار لوگوں کی ترجیحات میں بہت پیچھے رہ گیا۔

قرآن کو آپ خالی الذہن ہو کر پڑھیے تو آپ پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوگا کہ ہمارے مذہبی لوگوں کے نزدیک جو چیزیں بنیادی مسئلہ ہیں، قرآن کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔قرآن کے نزدیک اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان جہنم کی آگ سے بچ جائے اور جنت میں اپنے رب کی رحمتوں کا حق دار بن جائے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور تمام رسول توحید و آخرت کی بنیادی دعوت لے کر آتے ہیں اور انہی حقائق کو منوانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتے ہیں۔ جو لوگ یہ دعوت مان لیتے ہیں اللہ کے نبی ان کو ایمان و اخلاق اور شریعت کی وہ تعلیم دیتے ہیں جو ان کے جسمانی، روحانی، اخلاقی اور عقلی وجود کو ہر طرح کی آلودگی سے پاک کر کے انہیں جنت کی پاکیزہ بستی میں بسنے کے قابل بنا دیتی ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

ہوسکتا ہے کہ آپ کے سوالات اور تاثرات دوسرے قارئین کے لئے اہم ہوں۔ اپنے سوالات اور تاثرات کے لئے ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      انسان آخرت کی اصل زندگی کو نظر انداز کر کے اس دنیا کی عارضی زندگی کو ہی اپنا مطمح نظر کیوں بنا لیتا ہے؟ تین وجوہات بیان کیجیے۔

      جنت میں داخلے کی بنیادی شرط قرآن مجید نے کیا بیان کی ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

Download Printable Version

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

cool hit counter