|
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے لوگوں کو
اپنی ذاتی
غلامی میں
کیوں رکھا؟
بہت سے
مغربی
مفکرین یہ
اعتراض کرتے
ہیں کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے بہت سے افراد
کو اپنا ذاتی
غلام بنا کر
رکھا۔ کیا اس
سے یہ ثابت
نہیں ہوتا کہ
اسلام غلامی
کو باقی رکھنا
چاہتا تھا۔
ان
کی یہ بات ایک
ادھورا سچ
ہے۔ پورا سچ
یہ ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم کی
ملکیت میں
غلام آئے اور اس
کے بعد آپ نے
ان سب غلاموں
کو آزاد کر
دیا۔ یہ بحث
تفصیل سے باب 7
میں موجود
ہے۔ یہاں ہم
ایک حدیث
دوبارہ نقل کر
دیتے ہیں۔
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے برادر نسبتی
عمرو بن حارث
جو ام
المومنین
جویریہ بنت
حارث رضی
اللہ عنہما
کے بھائی
ہیں، کہتے
ہیں: رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے اپنی وفات
کے وقت درھم،
دینار،
غلام، لونڈی
اور کوئی چیز
نہ چھوڑی
تھی۔ ہاں ایک
سفید خچر،
کچھ اسلحہ
(تلواریں
وغیرہ) اور
کچھ زمین چھوڑی
تھی جسے آپ
صدقہ کر گئے
تھے۔
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے بذات خود
جن غلاموں کو
آزادی دی،
ابن جوزی نے
رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم کی سیرت
کی جو کتاب
لکھی ہے، اس
میں انہوں نے 41 مردوں اور 12 خواتین
کے نام
گنوائے ہیں۔ ایک
روایت کے
مطابق صرف
مرض الموت
میں آپ نے چالیس
غلاموں کو
خرید کر آزاد
کیا۔ یہ آپ ہی
کی قائم کردہ
مثال تھی جس
کے نتیجے میں
بے شمار
غلاموں کو
آزادی نصیب
ہوئی۔
|