|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
اسلام میں
ذہنی و جسمانی
کے انسداد کی
تاریخ کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 8MB) حصہ
پنجم: غلامی
اور دور جدید |
||
|
باب
17: غلامی کے
خاتمے کی
عالمی تحریک تیرہویں
صدی عیسوی سے
لے کر انیسویں
صدی تک کا یورپ
تضادات کا
مجموعہ رہا
ہے۔ ایک طرف یہاں
چرچ کی جانب
سے انکوئزیشن
کے ادارے نے
لوگوں کو نفسیاتی
غلامی پر
مجبور کیا
اور دوسری
طرف اس کے رد
عمل میں آزادی
فکر کی ایک عظیم
تحریک نے جنم
لیا۔ ایک طرف یورپی
اقوام ایشیا،
امریکہ اور
افریقہ کے
عوام کو غلام
بنا کر ان کے
وسائل لوٹتی
رہیں اور
دوسری طرف
خود یورپ میں
غلاموں کی
آزادی کی تحریک
پیدا ہوئی۔ ایک
طرف جنوبی یورپ
کے ممالک جیسے
اٹلی اور اسپین
میں مذہبی
انتہا پسندی
کی سی کیفیت
رہی اور دوسری
طرف مغربی یورپ
کے ممالک جیسے
فرانس اور
برطانیہ میں
پروٹسٹنٹ
ازم،
انلائٹنمنٹ،
اور آزادی فکر
کی تحریکیں
پنپتی رہیں۔
اس باب میں ہم یورپ
سے آغاز کرتے
ہوئے دنیا
بھر میں غلامی
کے خاتمے کی
تحریک کا
جائزہ لیں گے۔ یورپ میں
آزادی فکر کی
تحریک کا
آغاز سترہویں
صدی عیسوی کے
ابتدائی
سالوں میں
ہوا۔ انکوئزیشن
کی عدالت نے
جب جیارڈانو
برونو کو 1600ء موت کی سزا
سنائی تو اس
کے نتیجے میں
پورے یورپ میں
ایک فطری
ردعمل پیدا
ہوا۔ برونو
کا جرم یہ تھا
کہ مذہب اور
کائنات سے
متعلق ان کے
عقائد چرچ کے
عقائد سے
مختلف تھے۔
الزامات
ثابت ہونے کے
بعد برونو سے
توبہ کرنے کے
لئے کہا گیا
جس سے انہوں
نے انکار کر دیا۔
اس پر انکوئزیشن
کی عدالت نے
برونو کو موت
کی سزا دے دی۔ برونو
اور دیگر
فلسفیوں کو دی
جانے والی
سزاؤں کا نتیجہ
یہ نکلا کہ
پورے یورپ میں
چرچ کے خلاف
ردعمل کی تحریک
پیدا ہوتی چلی
گئی۔ اس تحریک
کی رفتار
شروع میں کافی
سست تھی۔
سترہویں صدی
کے اختتام تک
"آزاد مفکر (Free Thinker)"
کی اصطلاح
برطانیہ میں
وجود میں آ چکی
تھی۔ 1697ء میں
ولیم مولینکس
اور 1713ء میں
انتھونی
کولنس کی
آزاد فکر سے
متعلق تحریریں
یورپ میں
مقبولیت اختیار
کرنے لگیں۔
فرانس میں یہ
تحریک کچھ
عرصہ بعد
مضبوط ہوئی
اور اس پر پہلی
باقاعدہ تحریر
1765ء میں
منظر عام پر
آئی۔ اس دور
کے مشہور
فلسفی ایمانویل
کانٹ لکھتے ہیں: For enlightenment of this kind,
all that is needed is freedom. And the freedom in question is the most
innocuous form of all freedom to make public use of one's reason in all matters.
But I hear on all sides the cry: Don't argue! The officer says: Don't argue,
get on parade! The tax-official: Don't argue, pay! The clergyman: Don't
argue, believe! (Only one ruler in the world says: Argue as much as you like
and about whatever you like, but obey!). (Immanuel Kant; What is
Enlightenment?) اس قسم کی
روشن خیالی
کے لئے سب سے زیادہ
ضرورت آزادی
کی ہے۔ زیر
بحث آزادی،
ہر قسم کی
آزادیوں کی
سب سے بے ضرر
قسم ہے اور وہ یہ
ہے کہ ہر
معاملے میں
انسانی عقل
کو کھلے عام
استعمال کیا
جائے۔ لیکن میں
ہر طرف سے یہی
پکار سنتا
ہوں، "بحث نہیں
کرو۔" (فوجی)
آفیسر کہتا
ہے، "بحث نہیں
کرو، پریڈ پر
چلو۔" ٹیکس
وصول کرنے
والا کہتا
ہے، "بحث نہیں
کرو، ٹیکس
ادا کرو۔"
مذہبی
راہنما کہتا
ہے، "بحث نہیں
کرو، (میری
بات پر) ایمان
لاؤ۔" دنیا میں
صرف ایک
حکمران ایسا
ہے جو کہتا
ہے، "جتنی
چاہے بحث کرو
اور جس موضوع
پر چاہو بحث
کرو لیکن میری
اطاعت
بہرحال کرو۔" انگلینڈ
کی نسبت
فرانس کی تحریک
میں الحاد یعنی
خدا کے انکار
کا پہلو زیادہ
نمایاں تھا۔ یہ خیالات
یورپ بھر میں
پھیلتے چلے
گئے۔ انیسویں
صدی کے پہلے
نصف میں یہ
تحریک جرمنی
میں کافی مضبوط
ہو چکی تھی۔ 1848ء میں
جرمن انقلاب
کے بعد آزاد
مفکرین جن میں
دہریے اور
ملحدین بھی
شامل تھے کی
بڑی تعداد
جرمنی سے
ہجرت کر کے
امریکہ کے
علاقے ٹیکساس
میں آ کر آباد
ہو گئی جس کے
نتیجے میں اس
تحریک کے
اثرات امریکہ
تک بھی پہنچے۔ یورپ میں
آزادی فکر کی
تحریک کا ایک
بڑا نتیجہ
انقلاب
فرانس کی
صورت میں
نکلا جس کے نتیجے
میں یہاں
بادشاہت کا
خاتمہ اور
جمہوریت کا
ارتقا ہوا۔
اس عامل نے بھی
غلامی کے
خاتمے میں
اہم کردار
ادا کیا۔ اٹھارہویں
اور انیسویں
صدیوں میں یورپ
کی معیشت میں
ایک بڑی تبدیلی
وقوع پذیر
ہوئی جس نے
غلامی کے
خاتمے میں
اہم کردار
ادا کیا۔ یہ
تبدیلی صنعتی
انقلاب (Industrial Revolution)
کہلاتی ہے۔
اس سے پہلے یورپ
کی معیشت بھی
ایک زرعی معیشت
تھی جسے
چلانے کے لئے
جاگیردارانہ
نظام اپنے
تمام تر ظلم و
ستم کے ساتھ موجود
تھا۔ زیادہ
تر یورپی
ممالک میں کھیت
کسی فیوڈل
لارڈ کی جاگیر
ہوا کرتے تھے
اور ان کھیتوں
پر کام کرنے
والے لوگ اس
لارڈ کے غلام یا
نیم غلام ہوا
کرتے تھے۔ صنعتی
انقلاب کے
بعد یورپ اور
اس کی کالونی
امریکہ میں
بڑے پیمانے
پر صنتعیں
لگانے کا عمل
شروع ہوا۔ ان
صنعتوں میں
بڑی تعداد میں
کارکنوں کی
ضرورت پڑی۔ یہ
کارکن زرعی
فارموں میں
بطور غلام
موجود تھے۔ یہی
وجہ ہے کہ
سرمایہ
داروں نے ان
کارکنوں کے
حصول کے لئے
غلامی کے
خاتمے کی تحریک
کا بالعموم
ساتھ دیا۔
بسا اوقات ایسا
بھی ہوا کہ
سرمایہ
داروں نے
فرار ہونے
والے غلاموں
کو اپنی فیکٹریوں
میں پناہ دی۔ سرمایہ
دار ایسا
غلاموں کی
محبت میں نہیں
بلکہ اپنے
فائدے کے لئے
کر رہے تھے۔ اس
دور میں زرعی
سیکٹر کے لئے
مشینوں کی ایجاد
کے بعد غلام
رکھنے کی
لاگت، مشین
سے زیادہ
پڑنے لگی جس
نے غلامی کے
خاتمے میں
اہم کردار
ادا کیا۔ اس کی
وجہ یہ تھی کہ
غلام کے
مقابلے میں
آزاد ورکر کی
پیداواری
صلاحیت زیادہ
تھی کیونکہ
غلام کے
مقابلے میں
آزاد ورکر،
دولت کمانے
کے لئے زیادہ
متحرک (Motivated) ہوا
کرتا تھا۔ ایوسے
ڈومر (d. 1970CE) نے
اپنی تحریر The Causes of Slavery & Serfdom: A Hypothesis غلامی
کے خاتمے کی یہی
وجوہات بیان
کی ہیں۔ سرمایہ
داری کے فروغ
نے ایک اور
قسم کی غلامی
کو جنم دیا۔
مزدور کو
اگرچہ ایک
جگہ کام چھوڑ
کر دوسری جگہ
جانے کی
اجازت تھی لیکن
اس کےباوجود
اس کی حالت
زرعی غلام سے
بھی بدتر ہوتی
چلی گئی۔
کھلے کھیتوں
میں اپنی مرضی
کے اوقات میں
کام کرنے کی
نسبت بند فیکٹری
میں غیر صحت
مند ماحول میں
طویل اوقات
کے لئے کام
کرنا نہایت
تکلیف دہ عمل
تھا۔ اس وقت
کے صنعتی
مزدوروں کی
حالت زار کا
اندازہ کارل
مارکس کی
کتاب "داس کیپیٹیل"
سے لگایا جا
سکتا ہے۔ ان
مزدوروں کی
حالت زار کو
بہتر بنانے
کے لئے
سوشلسٹ تحریک
کا آغاز ہوا۔
اس تحریک نے
سرمایہ
دارانہ نظام
کے اندر رہتے
ہوئے یقیناً یہ
بڑی کامیابی
حاصل کی کہ
مزدوروں کو میڈیکل،
چھٹی، اچھی
تنخواہیں
اور دیگر
سہولیات
فراہم کر دی
گئیں البتہ
جہاں یہ تحریک
کامیاب ہوئی
وہاں اس نے ایک
اور قسم کی
بدترین غلامی
کو جنم دیا۔ کمیونسٹ
تحریک کو جب
روس اور چین میں
اقتدار ملا
تو انہوں نے
غلامی کی ایک
بدترین شکل
کو جنم دیا جس
میں پوری پوری
اقوام کو کمیونسٹ
پارٹی کا
غلام بنا لیا
گیا۔ اس غلامی
میں انسانوں
کو جن حقوق سے
محروم کیا گیا
اس کا خلاصہ یہ
ہے: · انسانوں
کو ذاتی جائیداد
رکھنے کے حق
سے محروم کر دیا
گیا۔ ہر شخص کی
ملکیت میں جو
پراپرٹی تھی،
اسے حکومت کی
تحویل میں دے
دیا گیا۔ · صرف
اور صرف ایک سیاسی
جماعت، کمیونسٹ
پارٹی کے قیام
کی اجازت دی
گئی۔ کسی شخص
کو یہ حق حاصل
نہ تھا کہ وہ
کسی دوسری سیاسی
جماعت یا نظریے
کی بنیاد رکھ
سکے۔ · سرکاری
نظریے اور
اقدامات پر
تنقید کرنے
کا حق چھین لیا
گیا اور آزادی
اظہار کا
خاتمہ کر دیا
گیا۔ · لوگوں
کی جان، مال
اور عزت کے
خلاف کاروائی
کرنے کا حق
سوویت انٹیلی
جنس ایجنسی (KGB) کو
دے دیا گیا۔ · جوزف
اسٹالن کے
دور میں کثیر
تعداد میں ان
لوگوں کو قتل
کر دیا گیا جن
کے بارے میں یہ
شبہ موجود
تھا کہ وہ کمیونزم
نظام سے ذرا
سا بھی
اختلاف
رکھتے ہیں۔
اسٹالن کے
دور میں جن
افراد کا موت
کی سزا دی گئی،
ان کا اندازہ 8,000,000 سے لے کر
50,000,000
تک لگایا گیا
ہے۔ درست
اندازہ
لگانا اس وجہ
سے ممکن نہیں
ہے کہ سوویت
حکومت کے ریکارڈز
تک کسی کو
رسائی حاصل
نہ تھی۔ · بسا
اوقات پوری
پوری کمیونٹی
کو چند افراد
کے جرائم کی
سزا دی گئی۔
ان میں جرمن، یونانی،
تاتار اور چیچنی
کیمونٹیز
شامل ہیں۔ · آزادی
اظہار پر ہر
طرح کی پابندیاں
عائد کی گئیں
اور سینسر شپ
کو سختی سے
نافذ کیا گیا۔ · عوام
الناس پر
اکٹھا ہو کر
اجتماع کرنے یا
کوئی تنظیم
بنانے پر
مکمل پابندی
عائد کر دی گئی۔ · مذہب
پر پابندی
عائد کر کے ہر
مذہب سے تعلق
رکھنے والے
افراد کو بری
طرح کچل دیا گیا۔
ان میں عیسائی،
مسلمان، یہودی
اور دیگر
مذاہب سے
تعلق رکھنے
والے افراد
شامل تھے۔ · حکومت
کی اجازت کے
بغیر کسی شخص
کو ملک سے باہر
جانے کی
اجازت نہ تھی۔
بعض شہروں کو
"بند شہر"
قرار دے کر ان
میں داخلے کو
ممنوع قرار
دے دیا گیا۔ · کمیونسٹ
چین میں روس کی
نسبت
صورتحال کچھ
بہتر تھی اور
لوگوں پر روس
کی نسبت کم
پابندیاں
عائد کی گئیں۔
مذہب کی
اجازت دے دی
گئی لیکن اس
پر بہت سی دیگر
پابندیاں عائد
کر دی گئیں۔ سیاسی
آزادی کو تقریباً
ختم کر دیا گیا۔
ہر خاندان پر
پابندی عائد
کر دی گئی کہ
وہ ایک سے
زائد بچہ پیدا
نہیں کر سکتے۔
آزادی اظہار
کی اجازت
پورے کمیونسٹ
دور میں
موجود نہیں
رہی۔ · کمیونسٹ
غلامی کا
اندازہ اس
بات سے لگایا
جا سکتا ہے کہ
اس نظام کی جو باقیات
ابھی تک کیوبا
میں موجود ہیں،
ان میں
انسانوں پر
اس قدر جبر
روا رکھا گیا
ہے کہ اپریل 2008ء تک یہاں
کے عوام کو
کمپیوٹر
رکھنے کی
اجازت حاصل
نہ تھی۔ مجموعی
طور پر کہا جا
سکتا ہے کہ کمیونسٹ
تحریک نے
سرمایہ
دارانہ
ممالک میں
مزدوروں کو
بہت سے حقوق
دلا کر انہیں
غلامی سے بڑی
حد تک آزاد کر
دیا ہے لیکن
کمیونسٹ
ممالک میں اس
تحریک نے تاریخ
کی بدترین
غلامی کو جنم
دیا۔ جدید
مغربی دنیا میں
غلامی کے
خاتمے کی تحریک آزادی
فکر کی تحریک
کے نتیجے میں
مختلف
معاشروں میں
چرچ کی گرفت
ڈھیلی پڑتی
چلی گئی اور
"آزادی فکر"
اور "آزادی
اظہار رائے"
بڑی اقدار کے
طور پر ابھریں۔
جب "فکر کی
آزادی"
معاشرے کی ایک
بڑی قدر بن
جائے تو اس کے
نتیجے میں
خود بخود
"جسم کی آزادی"
کا بھی ایک
مثبت قدر
بننا بعید از
قیاس نہیں ہے۔
ان عوامل کے
نتیجے میں یورپ
اور امریکہ میں
غلاموں کی
آزادی کی تحریک
شروع ہوئی جس
کے واقعات کو
ہم برطانوی
محقق، بریکن
کیری کی "سلیوری
ٹائم لائن"
کے حوالے سے بیان
کریں گے۔ اس
کے علاوہ
ہمارے
ماخذوں میں
افریقہ آن
لائن اور
پبلک
براڈکاسٹنگ
سروس شامل ہیں۔
ان اداروں کے
لنک یہ ہیں: · بریکن
کیری: http://www.brycchancarey.com/slavery/chrono1.htm · افریقہ
آن لائن: http://www.africanaonline.com/slavery_timeline.htm · پبلک
براڈکاسٹنگ
سروس: http://www.pbs.org/wnet/slavery/timeline/index.html دنیا بھر
میں غلامی کے
خاتمے کی
ٹائم لائن
کچھ یوں ہے: · 1335ء میں
اسکنڈے نیویا
کے ممالک میں
غلامی کو غیر
قانونی قرار
دے دیا گیا۔
اس کے باوجود یہاں
کئی صدیوں تک
غلامی موجود
رہی ہے۔ · 1400ء میں یورپ
کے باقی حصوں
میں میں روایتی
غلامی اور نیم
غلامی موجود
تھی۔ · 1441ء میں افریقی
غلاموں کی
تجارت کا
آغاز ہوا۔ · 1492ء میں سقوط
غرناطہ کے
بعد یہودیوں
اور
مسلمانوں کی
کثیر تعداد
کو غلام بنا لیا
گیا۔ · 1492ء ہی میں
کولمبس نے
امریکہ دریافت
کیا۔ · 1510ء میں افریقی
غلاموں کو نئی
دنیا یعنی
شمالی و جنوبی
امریکہ بھیجنے
کا عمل شروع
ہوا۔ · 1522ء میں غلاموں
کی پہلی
بغاوت وقوع
پذیر ہوئی۔ · 1571ء میں فرانس
کے ایک شہر
بورڈیاکس میں
مقامی پارلیمنٹ
نے شہر میں
موجود تمام سیاہ
فام اور مسلمان
غلاموں کو
آزاد کرنے کا
حکم جاری کیا۔ · 1600ء میں اسپین
کے بادشاہ
فلپ سوئم نے
ہسپانوی
کالونیوں میں
ریڈ انڈین
غلاموں کے
استعمال کو
ختم کرنے کا
حکم دیا۔ · 1604ء اور اس کے
بعد کے سالوں
میں شیکسپئر
کے غلامی سے
متعلق
ڈراموں نے غیر
معمولی
مقبولیت
حاصل کی۔ · 1652ء میں “Religious Society of Friends” کا قیام
عمل میں لایا
گیا۔ یہ لوگ
عرف عام میں
کویکر (Quakers)
کہلاتے تھے۔
اس کے بانی کا
نام جارج
فاکس ہے۔ یہ
مذہبی عیسائیوں
کا ایک گروہ
تھا جو
موجودہ مذہبی
فرقوں سے
مطمئن نہ تھے۔
اگرچہ
ابتدائی ایام
میں اس تحریک
کو مذہبی جبر
کا سامنا
کرنا پڑا لیکن
جلد ہی یہ تحریک
پورے یورپ
اور امریکہ میں
پھیلتی چلی
گئی۔ اس تحریک
نے بعد میں
غلامی کے
خاتمے میں
اہم ترین
کردار ادا کیا۔ · 1671ء میں جارج
فاکس اور ان
کے ساتھی ولیم
ایڈمنڈسن نے
بارباڈوس کا
دورہ کیا۔ یہاں
انہوں نے کھیتوں
میں کام کرنے والے
غلاموں کے
مالکان سے
مطالبہ کیا
کہ وہ اپنے
غلاموں سے
انسانی سلوک
کریں اور انہیں
نرمی سے عیسائیت
کی تبلیغ کریں۔
اس تنبیہ کے
نتیجے میں ایک
بڑا جھگڑا پیدا
ہوا۔ · 1676ء میں جارج
فاکس نے اپنی
کتاب شائع کی
جس میں انہوں
نے غلاموں سے
انسانی سلوک
کرنے کی ترغیب
دی۔ یہ کتاب یورپ
اور امریکہ میں
بہت مقبول
ہوئی۔ اس کے
بعد غلامی کے
خلاف بہت سے
حلقوں کی
جانب سے کتب
تواتر سے
منظر عام پر
آنے لگیں۔ · 1705ء میں فرار ہو
جانے والے
غلاموں کو نیویارک
کی ریاست نے
موت کی سزا دینے
کا قانون بنایا۔
اس کے بعد
مختلف ریاستوں
میں غلاموں
سے متعلق
قوانین سخت
ہوتے چلے گئے
اور ان سے بہت
سے حقوق چھین
لئے گئے۔ ان
قوانین میں
غلاموں کو ایک
بے جان جائیداد
قرار دیا گیا۔ · 1712ء میں
پنسلوانیا
نے غلاموں کی
امپورٹ پر
پابندی عائد
کر دی۔ اسی
سال غلاموں کی
بغاوت بھی
ہوئی جس میں
انیس باغیوں
کو موت کی سزا
دے دی گئی۔ · 1723ء میں ورجینیا
میں غلاموں
کو آزادی دینے
پر پابندی
عائد کر دی گئی۔ · 1723ء ہی میں روس
میں غلامی کے
خاتمے کا
اعلان کیا گیا۔ · 1730-1750ء کے درمیانی
عرصے میں امریکہ
میں غلاموں کی
تعداد آزاد
افراد کی
نسبت زیادہ
ہو گئی۔ · 1739ء میں جنوبی کیرولینا
میں غلاموں کی
ایک اور بڑی
بغاوت ہوئی
جس میں 40 سیاہ
فام اور 20 سفید
فام افراد
مارے گئے۔ · 1758ء میں کویکرز
نے اپنے
ممبرز پر یہ
پابندی عائد
کر دی کہ وہ
غلام نہیں
رکھ سکیں گے۔ · 1775ء میں امریکہ
میں غلامی کے
خاتمے کی پہلی
سوسائٹی کا قیام
عمل میں آیا۔ · 1776ء میں امریکہ،
برطانوی
غلامی سے
آزاد ہو گیا۔ · 1783ء کے بعد
برطانیہ میں
غلامی کے
خاتمے کی تحریک
زور پکڑتی گئی۔
اگلے دو
عشروں میں کویکر
اور دیگر تحریکوں
نے غلامی پر
پابندی عائد
کرنے کی
زبردست مہم
چلائی۔ · 1784ء میں امریکہ
میں غلامی کے
خاتمے کے حامیوں
کی پیش کردہ
تجویز کو
مسترد کر دیا
گیا کہ 1800ء کے بعد غلامی
کو مکمل ختم
کر دیا جائے۔
اس کے بعد کے
عرصے میں
مختلف ریاستوں
میں کچھ
قانون بنائے
گئے جن میں
کچھ غلاموں
کے حق میں اور
کچھ ان کے
خلاف تھے۔ · 1791ء میں فرانس میں
غلامی کے
خاتمے کا
قانون بنایا
گیا لیکن 1802ء میں اسے
منسوخ کر کے دوبارہ
غلامی کی
اجازت دے دی
گئی۔ · 1793ء میں امریکہ
میں ایک
قانون منظور
ہوا جس کے تحت
فرار ہو جانے
والے غلاموں
کو پکڑنے کی
کوششوں میں
ڈالی جانے
والی
رکاوٹوں کو
خلاف قانون
قرار دے دیا گیا۔ · 1800-1850ء کے درمیانی
عرصے میں امریکہ
میں غلاموں کی
بہت سی بغاوتیں
ہوئیں۔
غلاموں کے
فرار میں
اضافہ ہوا۔
ان میں سے بہت
سے غلام کینیڈا
میں جا کر چھپ
گئے اور کینیڈا
کی حکومت نے
انہیں پکڑ کر
واپس کرنے سے
انکار کر دیا۔
اس عرصے میں
مختلف ریاستوں
میں قانون
سازی کا عمل
جاری رہا جن میں
کچھ قوانین
غلاموں کے حق
میں اور کچھ
ان کے خلاف تھے۔
بعض ریاستوں
میں غلاموں
کو آزادی دینے
کی اجازت دے دی
گئی۔ اسی
دوران مختلف
ریاستوں میں
"اینٹی غلامی"
سوسائٹیوں
کا قیام عمل میں
لایا جاتا
رہا۔ بعض ریاستوں
میں غلامی پر
پابندی عائد
کی جانے لگی۔ · 1807ء میں برطانیہ
میں غلاموں کی
تجارت پر
پابندی عائد
کر دی گئی۔ اس
کے بعد
غلاموں کو
لانے والے
بحری جہازوں
کے کپتانوں
پر سو پاؤنڈ فی
غلام جرمانہ
عائد کیا
جانے لگا۔ · 1807ء ہی میں جرمنی
میں غلامی پر
پابندی لگا دی
گئی۔ · 1808ء میں امریکہ
میں افریقہ
سے غلاموں کی
امپورٹ پر
پابندی عائد
کر دی گئی
البتہ ان کی
اسمگلنگ اس
کے بعد بھی
جاری رہی۔ · 1807-35ء کے عرصے
میں برازیل
کے علاقے باھیہ
میں مسلمان
افریقی
غلاموں نے ایک
بڑی بغاوت پیدا
کی۔ انہوں نے
اسے جہاد
قرار دیا۔ اس
میں غلاموں
کے ساتھ ساتھ
آزاد مسلمان
بھی شریک
ہوئے۔ یہ
بغاوت کامیاب
نہ ہو سکی۔ اس
کی تفصیلات
محمد شریف بن
فرید نے اپنی
کتاب “Bahia Slave Revolt” میں بیان
کی ہیں۔ · 1819ء میں ورجینیا
کی ریاست نے
غلام یا
آزاد، سیاہ
فام افراد کو
تعلیم دینے
پر پابندی
عائد کر دی۔
اسی اثنا میں
بعض دیگر ریاستوں
جیسے جارجیا
وغیرہ میں
غلاموں کی
تجارت پر
پابندی عائد
کر دی گئی۔ · 1833ء میں برطانیہ
میں غلامی کو
خلاف قانون
قرار دے دیا گیا۔
اس قانون کا
اطلاق
برطانوی
کالونیوں
بشمول
ہندوستان،
پر بھی ہوتا
تھا لیکن
وہاں غلامی
کا سلسلہ اس
کے بعد بھی
جاری رہا۔ · 1835ء میں امریکہ
میں غلامی کے
خاتمے سے
متعلق لٹریچر
شائع کرنے پر
پابندی عائد
کر دی گئی۔ · 1849-50ء میں امریکہ
میں غلاموں میں
فرار ہو کر ان
ریاستوں میں
جانے کا
رجحان رہا
جہاں غلامی
پر پابندی
عائد کر دی گئی
تھی۔ · 1850ء ہی میں
فرانس میں
غلامی پر
دوبارہ
پابندی عائد
کر دی گئی لیکن
افریقہ میں
فرانسیسی نو
آبادیوں میں
غلامی اس کے
بعد بھی جاری
رہی۔ · 1852ء میں امریکہ
میں غلاموں کی
حالت زار سے
متعلق ایک
ناول شائع
ہوا جس کی تین
لاکھ کاپیاں
بہت کم عرصے میں
فروخت ہو گئیں۔ · 1857ء میں امریکی
سپریم کورٹ
نے فیصلہ دیا
کہ سیاہ فام
امریکی شہری
نہیں ہو سکتے
اور کانگریس
کو غلامی کے
خلاف قانون
سازی کا کوئی
حق حاصل نہیں
ہے۔ · 1860ء کے عشرے میں
امریکہ کی
خانہ جنگی
شروع ہو گئی۔
ٹیکساس نے
غلاموں کو
آزادی دینے
کو خلاف
قانون قرار
دے دیا۔ خانہ
جنگی میں بعض
افواج نے
غلاموں کو
بطور فوجی
قبول کرنے سے
انکار کر دیا
لیکن بعض
افواج نے انہیں
اپنا حصہ بنا
لیا۔ ابرہام
لنکن امریکہ
کے صدر منتخب
ہوئے اور
انہوں نے
غلامی کے
خاتمے کا
منصوبہ پیش کیا۔
· 1861ء میں روس میں
مزارعوں کی
آزادی کی
اصلاح کو
نافذ کیا گیا۔ · 1865ء میں امریکی
آئین میں تیرہویں
ترمیم کے ذریعے
غلامی کے
خاتمے کا
مکمل اعلان
کر دیا گیا۔
اس قانون کا
اثر نہ صرف
امریکہ میں
ہوا بلکہ اس
نے آنے والے
وقت میں دنیا
کے بہت سے
حصوں میں بھی
غلامی کے
خاتمے میں
اہم کردار
ادا کیا۔
افسوس
ابرہام لنکن
کے جانشین
موجودہ دور میں
دیگر اقوام
کے وسائل پر
قبضہ کرنے کے
انہیں غلام
بنانے نکل
کھڑے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالی
کے عروج و
زوال کے
قانون کے تحت
بعید نہیں کہ
اس جرم کی
پاداش میں اگلے
چند عشروں میں
انہیں سپر
پاور کی حیثیت
سے معزول کر دیا
جائے۔ · 1888ء میں برازیل
میں غلامی کے
مکمل خاتمے
کا اعلان کر دیا
گیا۔ اس سے
پہلے 1871ء میں
یہ اعلان کیا
گیا تھا کہ اب
سے غلاموں کے
جو بچے بھی پیدا
ہوں گے وہ
آزاد ہوں گے۔ · 1910ء میں چین میں
غلامی کو خلاف
قانون قرار
دے دیا گیا لیکن
اس کے بیس سال
بعد بھی غلام
بچوں کی بڑی
تعداد چین میں
موجود تھی۔ · 1948ء میں اقوام
متحدہ کے
چارٹر کے تحت
غلامی کی ہر
حالت کو
ممنوع قرار دیا
گیا۔ ان تفصیلات
کا جائزہ لیا
جائے تو یہ
معلوم ہوتا
ہے کہ غلامی
کے ادارے کا
خاتمہ کوئی
آسان عمل نہ
تھا۔ غلامی
کے خاتمے کی
تحریک کو یورپ
اور امریکا میں
بھی زبردست
مزاحمت کا
سامنا کرنا
پڑا ہے۔ اس کے
بعد جا کر کہیں
غلامی کا
قانون کی حد
تک خاتمہ
ممکن ہو سکا
ہے۔ جہاں تک غیر
قانونی غلامی
اور نیم غلامی
کا تعلق ہے تو یہ
دنیا میں اب
بھی موجود ہے۔
موجودہ
مغربی
معاشروں میں
غلاموں کی اب
چھٹی ساتویں
نسل موجود ہے
لیکن آج تک وہ
اپنے
معاشروں میں
جذب نہیں ہو
سکے۔ ایک افریقی
امریکی
مصنفہ ڈاکٹر
روزی ملیگن
لکھتی ہیں: The implications an the
after-effects of slavery, did a lot of damage to both the minds and the economy
of colored people even years after slavery. Racism still flourishes in
society. Unfortunately, it is one of those predicaments Blacks have to face
in their economic struggle….. Things have changed and times are different,
but many Blacks today are suffering from the after-effects of the struggle
for justice..... Our outcry of racism has
emotionally crippled us as we continue to suffer from a self-imposed
inferiority complex, complacency, and impotence of action. Everybody knows we
must develop a strong economic base through networking and being dedicated to
successful strategies in business. We must get rid of this slave mentality to
free our minds from cognitive blindness, and mental paralysis. These are
serious diseases causing lack of progress for Black people. (Dr. Rosie Milligan, Solutions to Black Predicaments:
Changing the Mindset of People in Mental Slavery!) غلامی کے
بعد کے اثرات
نے رنگ دار
نسل کے لوگوں
کے ذہنوں اور
معاش کو غلامی
کے بہت عرصے
بعد بھی تباہ
کئے رکھا ہے۔
معاشرے میں
اب بھی نسل
پرستی موجود
ہے۔ بدقسمتی
سے یہ ان
نحوستوں میں
سے ایک ہے جن
کا سامنا ایک
سیاہ فام کو
اپنی معاشی
جدوجہد میں
کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔
چیزیں بدل چکی
ہیں اور وقت
مختلف ہے لیکن
بہت سے سیاہ
فام آج بھی
انصاف کے
حصول کی
جدوجہد کے
بعد کے نتائج
کو بھگت رہے ہیں۔۔۔ نسل پرستی
کی پکار نے ہمیں
جذباتی طور
پر مفلوج کر
کے رکھ دیا ہے
اور ہم مسلسل
خود پر مسلط
احساس کمتری،
احساس محرومی
اندرونی
کمزوری کا
شکار ہیں۔ ہر
شخص یہ جانتا
ہے کہ ہمیں
تعلقات
بڑھانے کے ذریعے
اور کاروبار
میں کامیاب
حکمت عملی
اختیار کرنے
کے ذریعے اپنی
معاشی بنیاد
کو مضبوط
بنانا ہے۔ ہمیں
غلامانہ ذہنیت
سے نجات حاصل
کرنا ہو گی
تاکہ ہمارے
دماغ نفسیاتی
اندھے پن اور
ذہنی جمود سے
آزاد ہو سکیں۔
یہ وہ سنگین بیماریاں
ہیں جو سیاہ
فام افراد کی
ترقی کی راہ میں
رکاوٹ ہیں۔ جدید
مسلم دنیا میں
غلامی کے
خاتمے کی تحریک جدید
مسلم دنیا میں
غلامی کے
خاتمے کے لئے
چند عوامل نے
اہم کردار
ادا کیا۔ ان
عوامل میں سب
سے اہم اور فیصلہ
کن عامل یہ
تھا کہ مغرب میں
غلاموں کی
آزادی کی تحریک
کا اثر یورپی
اقوام کی
نوآبادیات
پر بھی پڑا۔ 1844ء میں
برطانوی
حکومت نے
برصغیر میں
غلامی کے
خاتمے کا ایکٹ
نافذ کیا۔ یہی
کام مصر میں
انہوں نے 1896ء میں کیا۔ جن
ممالک میں ان
کی نوآبادیات
قائم نہیں تھیں
وہاں انہوں
نے متعلقہ
حکومتوں پر
دباؤ ڈال کر
انہیں اس بات
کے لئے مجبور
کیا کہ وہ
غلامی کو غیر
قانونی قرار
دے دیں۔ غلامی
کے خاتمے میں
اگرچہ مغربی
دباؤ نے اہم
ترین اور فیصلہ
کن کردار ادا
کیا مگر یہ
بات درست نہیں
ہے کہ اس میں
مسلم
معاشروں کے
اندر کوئی
اندرونی
دباؤ موجود
نہ رہا تھا۔
انیسویں صدی
کی مسلم فکر میں
غلامی سے
متعلق سوچ
گہری تبدیلیاں
رونما ہوئیں۔
ان میں سے بعض
کی طرف بی بی سی
کے مقالہ
نگار نے بھی
اشارہ کیا ہے۔
ان تبدیلیوں
کی تفصیل یہ
ہے: · غلاموں
کی اٹلانٹک
تجارت کے
خاتمے نے بعض
مسلم مفکرین
میں غیرت پیدا
کی کہ غیر
مسلم تو اپنے
غلاموں کو
آزاد کر رہے ہیں
جبکہ مسلمان
اپنے دین کی
تعلیمات کے
باوجود انہیں
بدستور غلامی
بنائے رکھے
ہوئے ہیں۔ · بعض
مفکرین نے
انسانی
مساوات کے
اسلامی تصور
کو وہی اہمیت
دینا شروع کر
دی جسے ایک
عرصے سے
مسلمانوں کے
ذہین لوگ
بھلا چکے تھے۔
اس کا لازمی
نتیجہ یہ تھا
کہ مسلمانوں
میں غلامی کے
ایک غیر
انسانی
ادارہ ہونے
کا تصور پیدا
ہوا۔ · جب
تک مسلمان
دوسروں کو
غلام بناتے
رہے، انہیں یہ
اندازہ نہ
ہوا کہ غلامی
کتنی بری چیز
ہے لیکن جب یورپی
اقوام نے آ کر
انہیں غلام
بنایا، تب
انہیں اس کی
شناعت کا
اندازہ ہوا۔
مسلمانوں کے
قوم پرست
مفکرین نے یورپی
اقوام کے
کالونیل ازم
کی غلامی سے
نجات حاصل
کرنے کی تحریک
شروع کی۔ ان
کے نزدیک
مسلم ممالک میں
غلامی، اینٹی
کالونیل ازم
کی تحریک کے
خلاف تھی۔ اس
تصور کی بائی
پراڈکٹ کے
طور پر اینٹی
غلامی تحریک
بھی پیدا ہوئی۔ · مسلمانوں
کے جدیدیت
پسند مفکرین
نے محسوس کیا
کہ غلامی،
دور جدید سے
مطابقت نہیں
رکھتی۔ ان میں
سے جو لوگ
مغربی اقوام
کے مقلد بنے،
انہوں نے
مغربی اقوام
کی تقلید میں
غلامی کے
خاتمے پر زور دینا
شروع کیا۔ · یورپی
اقوام کے
صنعتی
انقلاب کے
اثرات مسلم
دنیا تک
پہنچنا شروع
ہوئے جن کے نتیجے
میں مسلم
معاشروں میں
بھی وقت کے
ساتھ ساتھ وہی
معاشی اور
معاشرتی تبدیلیاں
رونما ہونا
شروع ہو گئیں
جن کی سرمایہ
دارانہ نظام
کو ضرورت تھی۔
لوگ دیہات کو
چھوڑ کر
شہروں کا رخ
کرنے لگے۔
زرعی
مزدوروں کی
جگہ صنعتی
مزدوروں کی
ضرورت پیدا
ہوئی جس کے نتیجے
میں جاگیردارانہ
نظام کا زوال
شروع ہوا۔ اس
عامل نے بھی
غلامی کے
خاتمے میں
اہم کردار
ادا کیا۔ مسلم دنیا
میں غلامی کے
خاتمے کی
ٹائم لائن کی
تفصیلات یہ ہیں: · 1810ء کے عشرے
میں افریقہ
کے وسطی
علاقوں
بالخصوص
نائجر اور
نائجیریا میں
"سکوٹو
خلافت" قائم
ہوئی۔ یہ
خلافت
غلاموں کی
بغاوت کے نتیجے
میں قائم ہوئی
اور انہوں نے
اسلامی شریعت
کو اپنا منبع
قرار دیا۔ اس
کے لیڈر
عثمان ڈان
فوڈیو تھے۔
اس خلافت نے
غلاموں کو
امریکہ ایکسپورٹ
کرنے سے
روکنے میں
اہم کردار
ادا کیا۔ اس ریاست
میں افریقی
غلاموں کی
صورتحال میں
کافی بہتری پیدا
ہوئی مگر
غلاموں کی
تجارت کا
مکمل خاتمہ
نہ کیا جا سکا۔
بعد میں یہ
خلافت
برطانوی
افواج کا
مقابلہ نہ کر
سکتے ہوئے
ختم ہو گئی۔ · 1844ء میں
برطانوی
حکومت نے
برصغیر پاک و
ہند میں غلامی
کے خاتمے کا
قانون پاس کیا۔ ·
1846ء میں تیونس
پہلا مسلم
ملک تھا جہاں
غلامی کا
خاتمہ کر کے
اس پر پابندی
عائد کر دی گئی۔ ·
1847ء میں
سلطنت عثمانیہ
کے ایک حکم کے
تحت خلیج
فارس میں
غلاموں کی
تجارت کو
ممنوع قرار
دے دیا گیا۔ ·
1857ء میں افریقی
غلاموں کی
تجارت کو
ممنوع قرار
دے دیا گیا۔ ·
1864ء میں
جارجیا اور
آذر بائیجان
کے علاقوں سے
بچوں کو غلام
بنا کر لانے
پر پابندی
عائد کر دی گئی۔ ·
1867ء میں
سلطنت عثمانیہ
نے روس میں
موجود
غلاموں کو
اپنی آزادی
خریدنے میں
مالی امداد
فراہم کرنے
کا اعلان کیا۔ ·
1876ء میں
سلطنت عثمانیہ
میں بھی غلامی
کو ممنوع
قرار دے دیا گیا
لیکن عملی
طور پر غلامی
سلطنت کے
مختلف
علاقوں میں
موجود رہی۔ 1908ء تک
استنبول میں
غلام بیچے
جاتے رہے۔ ·
1880-87ء کے
دوران سلطنت
عثمانیہ نے
برطانیہ سے
متعدد
معاہدے کئے
جن کی رو سے
غلاموں کی
تجارت کو تدریجاً
ختم کیا جانا
تھا۔ ·
1923-24ء میں
عراق اور
افغانستان میں
غلامی کو
خلاف قانون
قرار دیا گیا۔
اس کے کچھ
عرصے بعد ایران
میں بھی غلامی
ممنوع قرار
پائی۔ سوڈان
میں بھی غلامی
کو ختم کرنے
کا قانون بنایا
گیا لیکن عملی
طور پر اسے
ختم کرنا آج
تک ممکن نہیں
ہو سکا۔ ·
1952-1970ء درمیانی
عرصے میں خلیج
کی عرب ریاستوں
میں غلامی کے
خاتمے کا
اعلان کر دیا
گیا۔ ·
1990ء میں
قاہرہ میں
مسلم ممالک
کے وزراء
خارجہ کی ایک
کانفرنس میں
متفقہ طور پر
غلامی کو غیر
قانونی اور غیر
اسلامی قرار
دے دیا گیا۔ ·
2003ء میں نائیجر
میں غلام
رکھنے کو جرم
قرار دیا گیا۔
اس سے پہلے
اگرچہ یہاں
فرانسیسی
قانون کے تحت
سرکاری طور
پر غلامی کے
خاتمے کا
اعلان کر دیا
گیا تھا لیکن
عملی طور پر
غلامی موجود
تھی۔ ·
2007ء میں موریطانیہ
نے بھی غلام
رکھنے کو جرم
قرار دیا۔ یہ
غلامی کے
خلاف اقدام
کرنے والا
آخری ملک تھا۔ یہ درست
ہے کہ مسلم
معاشروں میں
غلامی کے حالیہ
خاتمے میں فیصلہ
کن کردار
مغربی اثر نے
ادا کیا ہے لیکن
یہ کہنا درست
نہیں کہ مسلم
معاشرے میں
غلامی کے
خلاف کوئی
تحریک سرے سے
موجود ہی نہ
رہی تھی۔
کلارنس
اسمتھ اس پر
تبصرہ کرتے
ہوئے لکھتے ہیں: Opposition to slavery did not
begin as a result of Western influence, as is so often assumed, for the
Druzes abolished slavery in the eleventh century. However, they were such a
heterodox Isma'ili sect as to have little or no impact on the wider
community. They were in any case confined to the mountains of Greater Syria. More striking, albeit less
radical, were notable reforms in the 'gunpowder empires' that arose from the
sixteenth century. At best, in the case of Akbar, Mughal emperor of India
from 1556 to 1605, there was a possibility that slavery might have withered
away, if his reforms had been continued. At worst, the questioning of forms
of enslavement and slave use, from Timbuktu to Sulawesi, became part of a
tradition that later reformers could draw upon. The emergence of fully-fledged
Islamic abolitionism from the 1870s was no mere response to Western pressure.
Reformers of various kinds
returned to the original texts of the faith, especially the Qur'an, as
part of a broader movement of revival and renewal. Rather to their surprise,
they discovered that the foundations for slavery in holy writ were extremely
shaky, not to say non-existent. The Qur'an nowhere explicitly allowed the
making of any new slaves by anybody save the Prophet himself, and called
repeatedly for the manumission of existing slaves. The Hadith literature was
scarcely more supportive of slavery, and many reformers queried the
authenticity of some of these traditions. The entire edifice of slavery,
accounting for a third of the compendium of holy law most used in Inner and The reformers split into four
broad groups. In more rural and remote areas, some ulama, usually with a Sufi
background, evolved a quasi-abolitionist stance. In its most extreme form, as
enunciated by Ahmad b. Khalid al-Nasiri of Salé in Morocco, no wars since the
times of the companions of the Prophet could be dignified with the epithet of
holy, and thus no slaves had been taken legitimately after those early years.
As unbroken servile descent from the slaves of that time could not be proven,
all slaves should be freed. Musa Kamara later spread such notions in West
Africa. An even more radical version of
liberation emerged from millenarian Mahdist movements. One, based in what are
today Gradualist modernists were
often more urban and middle class, and less likely to be drawn from the ranks
of the ulama. They became more numerous and influential as the twentieth
century progressed. They were particularly inspired by Sayyid Amir 'Ali, a
Shi'i lay reformer from Bengal, and Muhammad 'Abduh, grand mufti of Egypt.
They argued that the Prophet
personally opposed slavery. However, he risked losing his following
had he explicitly banned the institution. Since the infidel had adopted
abolition, the time was now ripe for the command of God and the desire of his
messenger to be fulfilled. Radical modernists, in
contrast, held that the Prophet had openly prohibited the making of new
slaves, and ordered the freeing of existing ones. Subsequent generations of
Muslims had therefore sinned grievously by failing to heed his commands.
Indeed, this might have been one of the reasons for which the infidel had
become so powerful relative to the believers. The early torchbearers of this
strand of abolitionism were Sayyid Ahmad Khan and Maulvi Chiragh Ali, in
India, and Musa Jarulla Bigi, in Russian Tatarstan. The Lahori branch of the
Ahmadiyya took a similar position, but its 'heretical' status limited its
influence…. Emancipatory legislation was
pushed through by a combination of Western colonial governments, puppet
Islamic rulers, and secularist Muslim politicians, but there was a wide gulf
between the law and social reality. As with narcotics, it was one thing to
proclaim an international campaign, and quite another thing to enforce it.
Ultimately, an Islamic dynamic of renewal and reform spawned varieties of
abolition, which turned the shadow of legislation into a lived reality. Where
this failed to happen, slavery persisted, typically in the Sahelian belt from
(مسلم
معاشروں میں)
غلامی کی
مخالفت، عام
خیال کے
برعکس، مغربی
اثرات کا نتیجہ
نہیں ہے۔ (شام
و لبنان کے)
دروز فرقے نے
گیارہویں صدی
میں اپنے
اندر غلامی
کا خاتمہ کر لیا
تھا۔ اگرچہ یہ
لوگ، عام
مسلمانوں سے
ہٹا ہوا ایک
اسماعلی
فرقہ ہیں اس
وجہ سے ان کا
اثر وسیع کمیونٹی
میں نہ پھیل
سکا۔ یہی وجہ
ہے کہ ان کا
اثر عظیم تر
شام (یعنی
موجودہ شام،
اردن، فلسطین
اور لبنان پر
مشتمل علاقہ)
کے پہاڑوں ہی
میں محدود
رہا ہے۔ بارود
استعمال
کرنے والی
سلطنتوں میں
سولہویں صدی
میں جو
اصلاحات کی
گئی ہیں، وہ
اگرچہ زیادہ
فرق نہیں پیدا
کر سکیں لیکن
چونکا دینے
والی ضرور ہیں۔
ان اصلاحات میں
سب سے بہتر
معاملہ انڈیا
کے مغل
شہنشاہ اکبر (1556-1605CE) کا ہے۔
یہ ممکن تھا
کہ اگر اس کی
اصلاحات کا
تسلسل جاری
رہتا تو اس کے
دور میں غلامی
کا خاتمہ ہو
جاتا۔ ان
اصلاحات کا
کم سے کم پہلو یہ
ہے کہ
مسلمانوں کے
ہاں ٹمبکٹو
(نائیجر) سے لے
کر سولاوسی
(انڈونیشیا)
تک کے مصلحین
میں یہ روایت
موجود رہی ہے
کہ انہوں نے
غلاموں کے
استعمال اور
غلام بنائے
جانے کی
شکلوں پر
اعتراض کر کے
ان کی طرف
توجہ دلائی
ہے۔ مسلمانوں
کے ہاں غلامی
کے خاتمے کی
جو تحریک 1870 کے
عشرے سے شروع
ہوئی، یہ صرف
اور صرف مغربی
دباؤ کا نتیجہ
نہ تھی۔
مختلف قسم کے
مصلحین نے
تجدید و
اصلاح کی تحریک
کے حصے کے طور
پر مذہب کے
اصل مآخذ
بالخصوص قرآن
کی طرف رجوع کیا۔
وہ یہ دیکھ کر
حیران رہ گئے
کہ مقدس
ماخذوں میں
غلامی کی بنیادیں
اگر غائب نہیں
تو بہرحال
بہت کمزور ہیں۔
قرآن نے کہیں یہ
اجازت نہیں دی
کہ پیغمبر کے
سوا کوئی اور
نئے غلام بنا
سکتا ہے۔ اس
نے بار بار
پہلے سے
موجود
غلاموں کو
آزاد کرنے کی
ترغیب دی ہے۔ حدیث کے
لٹریچر میں
غلامی کی حمایت
میں بہت کم
مواد ملتا ہے
اور ان روایات
کے مستند
ہونے پر بہت
سے مصلحین نے
اعتراض کیا
ہے۔ غلامی کی
پوری عمارت
جو فقہ کے
تہائی حصے کے
قوانین پر
کھڑی ہے اور
جس کا
استعمال وسطی
اور جنوبی ایشیا
میں کیا جاتا
رہا ہے، محض
اجتہاد اور قیاس
کی بنیاد پر
کھڑی کی گئی
ہے۔ مصلحین
کو چار
گروہوں میں
تقسیم کیا جا
سکتا ہے۔
(پہلا گروہ) دیہی
اور دور دراز
علاقوں میں،
صوفیانہ بیک
گراؤنڈ سے
تعلق رکھنے
والے کچھ
علماء کا ہے جن
میں غلامی کے
خاتمے کا
نقطہ نظر
ارتقاء پذیر
ہوا۔ اس کی سب
سے شدید شکل
وہ ہے جو
مراکش کے
احمد بن خالد
النصیری نے بیان
کی ہے کہ
چونکہ رسول
اللہ کے
صحابہ سے لے
کر آج تک کی کسی
جنگ کو مقدس
جہاد کا نام
نہیں دیا جا
سکتا، اس وجہ
سے ان جنگوں میں
جن لوگوں کو
غلام بنایا گیا،
وہ قانونی
طور پر غلام
نہیں ہیں۔
چونکہ عہد
رسالت سے لے
کر آج تک کے
غلاموں کے درمیان
کوئی نسلی
زنجیر موجود
نہیں ہے اس
وجہ سے تمام
غلاموں کو
آزاد کر دینا
چاہیے۔ مغربی
افریقہ میں
بعد میں موسی
کمارا نے یہی
نظریات پیش
کئے۔ (دوسرا
گروہ) ہزار
سال کے بعد
مہدی کی آمد
پر یقین
رکھنے والی
تحریکوں کا
ہے جن میں غیر
روایتی نظریات
پیدا ہوئے۔
ان میں سے ایک
تحریک جو 1900 کے
عشرے میں نائیجیریا
اور نائیجر میں
موجود رہی
ہے، اس نے
غلامی کی بنیاد
اور اقسام کو
ختم کر دینے
کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اس
مطالبے کو قیامت
سے پہلے زمین
کو عدل سے بھر
دینے کے عمل
کا حصہ قرار دیا۔
دیگر مہدوی
تحریکوں میں
اگرچہ یہ بات
واضح طور پر
نہیں کہی گئی
لیکن ان میں
بھی غلاموں
کو آزادی دینے
کا پوٹینشل
موجود تھا۔ (تیسرا
گروہ) تدریجی
اصلاح کے حامی
متجددین کا
ہے۔ یہ
اکثر اوقات
شہری اور
متوسط طبقے
سے تعلق رکھنے
والے لوگ تھے
اور (روایتی)
علماء کے
طبقے سے کم ہی
تعلق رکھتے
تھے۔ بیسویں
صدی کے ساتھ
ساتھ ان کی
تعداد میں
اضافہ ہوتا
چلا گیا اور
ان کا اثر
بڑھتا گیا۔ یہ
لوگ خاص طور
پر بنگال سے
تعلق رکھنے
والے شیعہ
مصلح سید امیر
علی اور مصر
کے مفتی اعظم
محمد عبدہ کے
خیالات سے
متاثر ہوئے۔
انہوں نے
دلائل پیش
کئے کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے ذاتی
طور پر غلامی
کی مخالفت کی
ہے۔ اگر آپ کو
لوگوں کے
اسلام چھوڑ
جانے کا خطرہ
نہ ہوتا تو آپ
اس پر واضح
الفاظ میں
پابندی عائد
فرما دیتے۔
اب چونکہ غیر
مسلموں نے
غلاموں کو
آزادی دینے
کا راستہ اختیار
کر لیا ہے، اس
وجہ سے اب وہ
وقت ہے کہ خدا
کے حکم کو زندہ
کیا جائے اور
اس کے پیغمبر
کی منشاء کو
پورا کیا
جائے۔ (چوتھا
گروہ) شدت
پسند متجددین
کا ہے۔ انہوں
نے یہ موقف
اختیار کیا
کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے واضح طور
پر نئے غلام
بنانے کو
حرام قرار دیا
ہے اور پہلے
سے موجود
غلاموں کو
آزاد کرنے کا
حکم دیا ہے۔
مسلمانوں کی
بعد کی نسلوں
نے آپ کے
احکام کی
خلاف ورزی کر
کے ایک عظیم
گناہ کیا ہے۔
درحقیقت یہی
وہ وجہ ہے کہ غیر
مسلم، اہل ایمان
کی نسبت زیادہ
طاقتور ہو
گئے ہیں۔ اس
نقطہ نظر کے ذریعے
غلامی کے
خاتمے کے
علمبردار
انڈیا میں
سرسید احمد
خان اور مولوی
چراغ علی تھے
جبکہ روسی
تاتارستان میں
یہ نقطہ نظر
موسی جار
اللہ بیگ نے پیش
کیا۔ احمدیوں
کی لاہوری
جماعت نے بھی یہی
نقطہ نظر اختیار
کیا لیکن اس
کے "مرتد"
ہونے کے درجے
نے اس کے اثر و
رسوخ کو محدود
کر دیا۔۔۔۔ (مسلم
ممالک میں
غلاموں کی)
آزادی سے
متعلق قانون
سازی کے پیچھے
مغرب کی
کالونیل
حکومتوں،
کٹھ پتلی
مسلم
حکمرانوں
اور سیکولر
مسلم سیاستدانوں
کا ہاتھ تھا لیکن
قانون اور
سماجی حقیقت
کے درمیان ایک
وسیع خلیج
برقرار رہی۔ یہ
بالکل منشیات
ہی کی طرز کا
معاملہ ہے کہ
ایک چیز اس کے
خلاف بین
الاقوامی
مہم ہے اور
دوسری چیز اس
پر حقیقی عمل
درآمد
کروانا ہے۔
مسلمانوں کی
تجدید و احیائے
دین کی
کوششوں کے نتیجے
میں غلاموں کی
آزادی کی
مختلف شکلیں
وجود میں آئیں
جس کے نتیجے میں
قانون سازی
کے اثرات
زندہ معاشرے
میں رونما
ہوئے۔ جہاں ایسا
نہ ہو سکا،
وہاں (باوجود
قانون سازی
کے) غلامی
موجود رہی
(اور کافی
عرصے میں جا
کر ختم ہوئی۔)
مثال کے طور
پر افریقہ کی
سواحلی پٹی
جس میں موریطانیہ،
سوڈان، جزیرہ
نما عرب، ایران،
پاکستان اور
افغانستان
شامل ہیں۔ دور جدید
کے مسلم
معاشروں کو
ہم بنیادی
طور پر دو
حصوں میں تقسیم
کر سکتے ہیں۔
ایک تو قدیم
عربی مدارس
کے تعلیم یافتہ
حضرات اور
دوسرے دنیاوی
تعلیم پانے
والے جدید
تعلیم یافتہ
حضرات۔
کلارنس
اسمتھ نے
مسلم
معاشروں میں
غلامی کے
خلاف تحریک
چلانے والے
جن چار
گروہوں کا
ذکر کیا ہے،
ان کے نقطہ
ہائے نظر میں
استدلال کی
کچھ کمزوریاں
موجود تھیں۔
اس وجہ سے ان
کا اثر صرف
دوسرے طبقے
پر رونما ہوا۔
پہلے طبقے پر
ان تحریکوں
کا شروع میں
تو کوئی خاص
اثر نہیں ہوا۔
ان متجددین
کو بالعموم
کافر، ملحد،
مرتد اور
گمراہ ہی
قرار دیا گیا۔
اب
سے سو برس
پہلے کے روایتی
علماء کے لئے
غلاموں کی
موجودگی کوئی
مسئلہ ہی نہ
تھی۔ جب ان
تحریکوں کے
ذریعے انہیں
اس طرف توجہ
دلائی گئی تب
انہیں علم
ہوا کہ "ارے!!!
انسانوں کو
حقوق دلوانا
اور غلاموں کی
آزادی کی
جدوجہد بھی
کرنے کا کوئی
کام ہے۔" اس
کے بعد روایتی
علماء کے
طبقے میں سے
بھی ایسے اہل
علم پیدا
ہوئے ہیں
جنہوں نے
غلامی کے
ادارے کو ختم
کرنے کی حمایت
کی اور اس ضمن
میں اسلام کا
نقطہ نظر
واضح کرنے کی
کوشش کی۔ ایسے
اہل علم کی
تعداد
بہرحال بہت
کم ہے۔ عہد
رسالت اور جدید
مغربی
معاشروں میں
غلاموں کی
آزادی کی تحریک کا
تقابلی
جائزہ اگر ہم
مغربی معاشروں
میں موجود
غلاموں کی
آزادی کی تحریک
کا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
اور آپ کے
صحابہ کے عہد
میں موجود
غلامی کی
آزادی کی تحریک
سے تقابل کریں
تو یہ نکات
سامنے آتے ہیں: ·
مغربی
معاشروں میں
غلاموں کی
آزادی کی
جدوجہد کو ایک
طویل مزاحمت
کا سامنا
کرنا پڑا ہے۔
اس مزاحمت کے
پیچھے اس
طبقے کا ہاتھ
تھا جس کا کام
ہی غلام
بنانا، انہیں
بیچنا اور ان
سے خدمت لینا
تھا۔ عہد
رسالت و
صحابہ میں حیرت
انگیز طور پر
غلاموں کی
آزادی کی تحریک
کو کسی
مزاحمت کا
سامنا نہیں
کرنا پڑا۔ اس
بات کا
اندازہ اس سے
لگایا جا
سکتا ہے کہ
صحابہ کرام
کے آخری دور میں
خانہ جنگیوں
کی بھرمار ہے
لیکن ان میں
سے ایک خانہ
جنگی بھی
غلامی کی حمایت
یا مخالفت میں
نہیں ہے۔ ·
مغربی
معاشروں نے
بالعموم
غلاموں کو
آزادی دینے
کے لئے بنیادی
طور پر قانون
کی طاقت کو
استعمال کیا۔
عہد رسالت و
خلفاء راشدین
میں غلاموں
کو آزادی دینے
کے لئے مذہب کی
طاقت کو
استعمال کیا
گیا۔ قانون کی
طاقت اس
معاملے میں ایک
مددگار کے
طور پر تو
موجود تھی لیکن
اس سلسلے میں
حکومتی قوت
کا استعمال
کرنے کی عملی
ضرورت بہت ہی
کم پیش آئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ
ان کے ہاں
آزاد کردہ
غلاموں اور
ان کے سابقہ
آقاؤں کے مابین
محبت کا تعلق
پایا جاتا ہے
وہ مغربی
معاشروں میں
آزاد کردہ
غلاموں اور
ان کے آقاؤں کی
نسلوں میں ڈیڑھ
سو برس کے بعد
بھی استوار
نہیں ہو سکا۔ ·
غلاموں کی
آزادی کی
مغربی تحریک
میں ایک بڑا
کردار اس
عامل کا ہے کہ یورپی
معاشرے صنعتی
انقلاب کے نتیجے
میں جاگیردارانہ
سے سرمایہ
دارانہ نظام
کی طرف منتقل
ہوئے ہیں۔
سرمایہ
داروں کو وسیع
تعداد میں
صنعتی
کارکنوں کی
ضرورت تھی جن
پر جاگیردارانہ
نظام قبضہ
کئے ہوئے بیٹھا
تھا۔ عہد
رسالت و
صحابہ کے
معاشی نظام کی
ایسی کوئی
تبدیلی
رونما نہ ہوئی
تھی جس کے نتیجے
میں معاشی
عوامل غلامی
کے خاتمے میں
اپنا کردار
ادا کرتے۔ زیادہ
سے زیادہ یہ
کہا جا سکتا
ہے کہ گلہ بانی
کرنے والے
عرب بدو عراق
اور شام کی
زرخیز زمینوں
میں کھیتی
باڑی کرنے
لگے تھے لیکن
اس سے غلامی
کے ادارے پر
کوئی فرق نہیں
پڑا۔ ·
غلاموں کی
آزادی کی
مغربی تحریک
قانونی
اعتبار سے دنیا
بھر میں
غلاموں کو
قانونی آزادی
دینے میں کامیاب
ہو گئی ہے لیکن
یہ تحریک نیم
غلامی کو ابھی
تک مغربی
معاشروں میں
بھی ختم کرنے
میں مکمل طور
پر کامیاب نہیں
ہو سکی ہے۔
پست طبقوں کے
اسٹیٹس کو
بلند کرنے میں
اگرچہ معاش کی
حد تک مغربی
اقوام کو کسی
حد تک کامیابی
حاصل ہوئی ہے
لیکن معاشرتی
درجہ بلند
کرنے میں
قانون سازی
کے ساتھ ساتھ
معاشرے کی
سطح پر ابھی
بہت سا کام
کرنا باقی ہے۔
عہد رسالت و
صحابہ میں
غلاموں کو نہ
صرف قانونی
آزادی ملی
بلکہ انہیں
اپنا معاشی و
معاشرتی اسٹیٹس
بلند کرنے میں
بھی ایسی کامیابی
نصیب ہوئی جس
کے نتیجے میں یہ
لوگ صحابہ و
تابعین کے جلیل
القدر اہل
علم میں شمار
ہوئے۔ ·
غلاموں کی
آزادی کی
موجودہ تحریک
کا مثبت پہلو یہ
ہے کہ اس کے
خلاف اس وقت
دنیا میں کوئی
بڑی کاؤنٹر
ابالیشن
موومنٹ
موجود نہیں
ہے جس کی وجہ
سے امید کی جا
سکتی ہے کہ کم
از کم یہ تحریک
اب رول بیک نہیں
ہو گی اور دنیا
میں غلامی کے
ادارے کو
دوبارہ شروع
نہیں کیا
جائے گا۔ عہد
رسالت و
صحابہ کی تحریک
کے نتیجے میں
جب غلاموں کی
تعداد میں غیر
معمولی کمی
واقع ہو گئی
تو مسلم دنیا
میں غلاموں میں
اضافے کی ایک
کاؤنٹر ابالیشن
تحریک پیدا
ہوئی جس کے نتیجے
میں غلاموں
کو امپورٹ کر
کے لایا جانے
لگا۔ یہ مسلم
معاشرے کا ایک
منفی پہلو
رہا ہے۔ مغربی
اور مسلم
معاشروں میں
غلامی کے
خاتمے کی تحریک
کا تقابلی
جائزہ اگر
غلاموں کی
آزادی کی اس
مغربی تحریک
کا ان کے ہم
عصر مسلم
معاشروں سے
تقابل کیا
جائے تو ایک
مختلف
صورتحال
سامنے آتی ہے۔ ·
اہل مغرب
کے ہاں
غلاموں کی
حالت زار بہت
ہی خراب تھی۔
ان پر ظلم و
ستم نے ایک
طرف ان
غلاموں کو
فرار اور
بغاوت پر
مجبور کیا
اور دوسری
طرف معاشرے
کے اجتماعی
ضمیر میں اس
ظلم اور جبر
کے خلاف ایک
عظیم تحریک پیدا
کی۔ مسلم
معاشروں میں
چونکہ
غلاموں پر
بہت زیادہ
ظلم و ستم نہیں
کیا گیا اور
کچھ استثنائی
امور کو چھوڑ
کر عمومی طور
پر مسلمانوں
نے غلاموں سے
حسن سلوک سے
متعلق اپنے دین
کی تعلیمات
پر عمل کیا
ہے، اس وجہ سے یہاں
نہ تو غلاموں
کو فرار اور
بغاوت پر
مجبور ہونا
پڑا ہے اور نہ
ہی معاشرے کے
اجتماعی ضمیر
میں کوئی بڑی
تحریک پیدا
ہو سکی ہے۔ اس
کے علاوہ
مسلم دنیا میں
مکاتبت کا
ادارہ بھی
موجود رہا ہے۔
جو غلام آزادی
حاصل کرنا
چاہتا، اس کے
لئے اپنی
آزادی کو خود
خریدنے کا
راستہ کھلا
رہا ہے۔ ·
اہل مغرب
کے ہاں تین صدیوں
کی انکوئزیشن
اور مذہبی
جبر کے رد عمل
میں "آزادی
فکر" کی ایک غیر
معمولی تحریک
پچھلی چار صدیوں
سے موجود ہے۔
مسلم
معاشروں میں
ان صدیوں میں
بالعموم اسٹیٹس
کو برقرار
رکھنے،
اجتہاد کا
دروازہ بند
کئے رکھنے
اور دینی اور
دنیاوی ہر میدان
میں تقلید کی
روش اختیار
کئے رکھنے کا
رجحان غالب
رہا ہے۔ اگر
اس رجحان کے
خلاف کسی نے
چلنے کی کوشش
کی بھی ہے تو
اسے معاشرے میں
قبول عام
حاصل نہیں ہو
سکا ہے۔ یہی
وجہ ہے یہاں
اس قسم کی کوئی
تحریک بڑے پیمانے
پر نہیں پھیل
سکی۔ مسلم
معاشروں میں مذہبی
جبر کو بھی
بالعموم
قانونی شکل
نہیں دی گئی
بلکہ اسے
معاشرتی سطح
پر رکھا گیا
ہے۔ اس وجہ سے
اس کے ردعمل میں
آزادی فکر کی
کوئی تحریک پیدا
نہیں ہو سکی۔ ·
اہل مغرب
صنعتی
انقلاب کے نتیجے
میں جاگیردارانہ
نظام کا
خاتمہ کرنے میں
کامیاب ہو
گئے جس کے نتیجے
میں غلامی
اور نیم غلامی
کو ختم کرنے کی
ایک بڑی
معاشرتی
ضرورت پیدا
ہو گئی لیکن
مسلم دنیا میں
جاگیردارانہ
نظام کی قوت
اب بھی کافی
حد تک باقی ہے
اور نیم غلامی
کے خاتمے میں یہ
ایک بڑی
رکاوٹ ہے۔ ·
اہل مغرب
نے بڑی حد تک
معاشی
اعتبار سے
سابقہ اور نیم
غلاموں کی
حالت کو بہتر
بنا لیا ہے۔
مسلم معاشرے
ان سے اس
معاملے میں
بہت پیچھے ہیں۔ ·
اہل مغرب
کے ہاں نسل
پرستی اب بھی
ایک خوفناک
درجے میں
موجود ہے لیکن
مسلم دنیا میں
نسل پرستی کے
اثرات بہت ہی
کم ہیں۔ یہی
وجہ ہے کہ
سابقہ
غلاموں کی
اولادیں
مغربی دنیا میں
اب بھی نسل
پرستی کا
شکار ہیں
جبکہ مسلم دنیا
میں سابقہ
غلاموں کی
اولاد کو شاید
ہی یہ معلوم
ہو گا کہ ان کے
آبا و اجداد
کبھی غلام
ہوا کرتے تھے۔ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی جائے؟ / مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||