بہت
سے لوگہمارے دینی
حلقوں پر تنقید
کرتے ہیں لیکن
اس حقیقت سے
انکار ممکن
نہیں کہ یہ
ہمارے مولوی
ہی ہیں جنہوں
نے صدیوں سے دین
اور دینی
شعائر کو
زندہ رکھا
ہوا ہے۔ سخت
گرمی میں
دوپہر کے وقت
جب کوئی کڑکتی
دھوپ میں نکلنا
پسند نہیں
کرتا، یہ
مولوی ہی ہے
جو مسجد سے
اذان کی آواز
بلند کر کے
خدا کی طرف
بلاتا ہے۔ شدید
سردی میں جب
کسی کا دل
لحاف سے
نکلنے کو نہیں
چاہتا، مولوی
ہی اپنے رب کی
تکبیر بلند
کرتا ہے۔
مدارس میں
قال اللہ و
قال الرسول کی
صدائیں اسی
کے دم سے قائم
ہیں۔ انسان کی
پیدائش سے لے
کر اس کی شادی
اور شادی سے
لے کر اس کی
موت تک اس کا
واسطہ اسی
مولوی سے
پڑتا ہے۔
اس سب
کے باوجود
ہمارے ہاں
لفظ مولوی کو
ایک گالی بنا
دیا گیا ہے۔
کوئی یہ پسند
نہیں کرتا کہ
اس کی اولاد
مولوی بنے۔
اس میں
معاشرے
اورحکومت کا
قصور جو ہے سو
ہے، کچھ قصور
مولوی کا
اپنا بھی ہے۔اس کا
سب سے بڑا
قصور یہ ہے کہ
اس نے بدلتے
ہوئے وقت کے
ساتھ ساتھ
خود کو اپ ڈیٹ
نہیں کیا۔ اس
کی زبان، اس
کے مسائل ، اس
کا گیٹ اپ، اس
کا رہن سہن،
اس کی بول چال
، اس کی چال
ڈھال، اس کی
تعلیم و تعلم
سب کا سب وہ ہے
جسے دنیا صدیوں
پہلے چھوڑ کر
آگے بڑھ چکی
ہے۔ تقلید
جامد کے خول
نے اسے وقت کے
تقاضوں کے
مطابق خود کو
تبدیل نہیں
ہونے دیا جس
کے باعث اب اس
کی دعوت،
موجودہ دنیا
میں غیر
متعلق
(Irrelevant)ہوگئی
ہے۔
ہم یہ
نہیں کہتے کہ
وقت کے ساتھ
ساتھ دین کے
احکام میں بھی
تبدیلی کی
جائے۔ جو شریعت
رسول اللہصلی
اللہ علیہ
وسلم نے
دی ہے وہ کامل
ہے، اس میں کسی
تبدیلی کا
مسلمان سوچ
بھی نہیں
سکتا لیکن
جہاں اللہ کے
رسول صلی
اللہ علیہ
وسلمنے
کوئی حدود
قائم نہیں کیں،
وہاں تبدیلی
پیدا کرنے میں
کیا حرج ہے۔آج کے
دور میں دین کی
سب سے بڑی
خدمت یہ ہے کہ
اس کی دعوت دینے
والوں کی
زبان،
مسائل، گیٹ
اپ، رہن سہن،
بول چال، چال
ڈھال اور تعلیم
و تعلّم کو
دور حاضر سے
ہم آہنگ کیا
جائے تاکہ ان
کی دعوت دور
جدید کے
انسان تک
پہنچ سکے۔