امام غزالی
پانچویں صدی
کے بہت بڑے
عالم گزرے ہیں۔
انہوں نے تزکیہ
نفس کے نقطہ
نظر سے انسانی
نفسیات کا
گہرا مطالعہ
کیا۔ اپنی
کتاب ’’کیمیائے
سعادت‘‘ میں
انہوں نے
فرشتے،
جانور اور
انسان کا
تقابلی
جائزہ پیش کیا
ہے:
فرشتے،
جانور اور
انسان اللہ
تعالیٰ کی
مخلوق ہیں۔فرشتوں
کو اللہ تعالیٰ
نے عقل دی ہے
اور وہ ہر وقت
اللہ تعالیٰ
کے دربار میں
حاضر رہتے ہیں
۔ اس بنا پر ان
کی عقل ہمیشہ
غالب رہتی ہے
اور وہ کبھی
اللہ تعالیٰ
کی نافرمانی
نہیں کرتے۔ان کی
زندگی کا ایک
ایک لمحہ
اللہ تعالیٰ
کے احکامات کی
تکمیل میں
گزرتا ہے۔وہ ہمیشہ
اس کے بندے بن
کر رہتے ہیں
اور اس کی
خلاف ورزی نہیں
کرتے۔
جانوروں
کو اللہ تعالیٰ
نے عقل نہیں دی
بلکہ
خواہشات سے
نوازا ہے۔ ان
کی پوری زندگی
خوراک کی
تلاش، جنسی
تسکین اور دیگر
جبلی تقاضوں
کو پورا کرتے
ہوئے گزر جاتی
ہے۔ ان کے ہاں
کوئی اخلاقی
اصول نہیں
ہوتا اورMight is Rightکے
اصول کے تحت
بڑی مچھلی
چھوٹی کو کھا
جاتی ہے۔جانوروں کی
زندگی کا
مقصد بھوک
مٹانے، جنسی
خواہش کی تکمیل
اور نیند پوری
کرنے کے اور
کچھ نہیں
ہوتا۔
ان
دونوں کے
مقابلے میں
انسان کو
اللہ تعالیٰ
نے خواہشوںاور عقل
دونوں سے
نوازا ہے۔
انسان کا
ڈائرکٹ تعلق
اللہ تعالیٰ
سے نہیں جس کی
وجہ سے وہ ہر
دم نیکی کرنے
کے لئے تازہ
دم ہو۔ اسے یہ
اختیار دیا گیا
ہے کہ وہ چاہے
تو عقل کو
خواہشات پر
حاکم بنا لے
اور چاہے تو
خواہشات کا
غلام بن کر
زندگی بسر
کرے۔یہ
حقیقت ہے کہ
اگر انسان
عقل کو
خواہشات پر
غالب کرلے تو
اللہ تعالیٰ
کے ہاں اس کا
مقام فرشتوں
سے بھی بلند
ہو جاتا ہے
اور اگر اس کی
خواہشات ،
عقل پر
حکمرانی
کرنے لگیں تو
اس کا درجہ
جانوروں سے
بھی بدتر ہو
جاتا ہے۔
جانور تو
اللہ کی سزا
سے بچ جائیں گے
لیکن انسان
اس سے بچ نہیں
سکتا۔ اللہ
تعالیٰ کی جیسی
جنت انسانوں
کو میسر ہوگی
ویسی فرشتوں
کو نہ ہو سکے گی۔
ہمیں اپنا
جائزہ لینا
چاہیئے کہ
ہماری زندگی
کیسی گزر رہی
ہے۔