انسان کی
شخصیت کے دو
پہلو ہیں۔ ایک
اس کا ظاہر
اور دوسرا اس
کا باطن۔
انسان کا
ظاہر وہ ہے جو
دوسرے لوگوں
کو واضح طور
پر نظر آتا ہے۔
اس میں اس کی
ظاہری شباہت
اور رویے
شامل ہیں۔
باطن میں
انسان کی
عقل، علم،
جذبات،
احساسات اور
رجحانات
شامل ہیں۔
عام طور پر
انسانوں کا
ظاہر ان کے
باطن ہی کا
عکس ہوتا ہے
البتہ بعض
افراد عارضی
طور پر اپنے
باطن پر پردہ
ڈالنے میں
کامیاب ہو ہی
جاتے ہیں۔
انسان
کی بعض باطنی
صفات مستقل
نوعیت کی ہوتی
ہیں جبکہ کچھ
کیفیات عارضی
نوعیت کی ۔
انسان کی
مستقل صفات
وہ ہوتی ہیں
جو ایک طویل
عرصے میں
ارتقاء پذیر
ہوتی ہیں اور
ان میں تبدیلیاں
بہت آہستہ
آہستہ آتی ہیں۔
یہ صفات
انسان کی پوری
عمر اس کے
ساتھ رہتی ہیں۔
مثلاً انسان
کی علمی و عقلی
سطح ایک طویل
عرصے میں ہی
بلند ہوتی ہے
اور اس میں
تبدیلی کی
رفتار کو
سالوں میں
ناپا جاتا ہے۔
اس کے برعکس
انسان کی خوشی
یا غمی ایک
عارضی کیفیت
ہے جو ہر تھوڑی
دیر کے بعد
بدل جاتی ہے۔ یہ
ممکن ہے کہ ایک
شخص پانچ بجے
خوش ہو لیکن
ساڑھے پانچ
بجے کسی وجہ
سے غمگین ہو گیا
ہو۔
غصہ،
خوشی، غمی،
جنسی خواہش،
انتقام،
محبت، نفرت
سب ہی
انسانوں میں
پائی جاتی ہیں
لیکن ان کے
اظہار کے وقت
جو لوگ خود پر
قابو رکھتے ہیں،
وہی زندگی میں
کامیاب
افراد سمجھے
جاتے ہیں۔ اس
کے برعکس جن
افراد کو ان
پر کنٹرول نہیں
ہوتا وہ زندگی
بھر ناکامیوں
کا سامنا
کرنے پر
مجبور ہوتے ہیں۔
ایک شخص اگر
بات بات پر
بھڑک اٹھتا
ہو تو سب لوگ
اس کی شخصیت
کے تصور میں
اس کا غصہ ور
ہونا بھی
شامل کر دیتے
ہیں۔ جذبات
کا شخصیت کا
حصہ بن جانا
انسان کی
کمزور شخصیت
کی علامت ہے۔
اگر آپ اپنی شخصیت
کو مضبوط
بنانا چاہتے
ہیں تو اپنے
جذبات کو
کنٹرول کرنا
سیکھئے۔