ہمیں
کراچی اور
لاہور کی ٹریفک
سے روزانہ ہی
واسطہ پڑتا
ہے۔ سرخ سگنل
سب ہی کو بہت
برا لگتا ہے۔
بہت سے لوگ اس
کی پرواہ کئے
بغیر آگے نکل
جاتے ہیں اور
بعض اوقات کسی
دوسرے سے
ٹکرا کر اپنے
اور اس کے
نقصان کا باعث
بنتے ہیں۔ لین
کی پابندی
کرنا بہت
مشکل ہوتا ہے
اور ٹریفک بے
ترتیبی سے
پھنس پھنس کر
چلتی ہے۔
کچھ
عرصہ قبل
مجھے لاہور
اسلام آباد
موٹر وے پر
ڈرائیونگکا
اتفاق ہوا۔
سمجھ ہی نہیں
آرہی تھی کہ کیا
میں پاکستان
کے کسی روڈ پر
ڈرائیو کر
رہا ہوں۔ ہر
گاڑی اپنی
اپنی لین ہی میں
سفر کر رہی ہے۔
اوور ٹیکنگ
کے وقت انڈی کیٹر
کا درست
استعمال
ہوتا ہے۔ حد
رفتار کی
پابندی کی
جارہی ہے۔
اگر کسی کی
گاڑی حد
رفتار سے ذرا
سی بھی بڑھتی
ہے وہ فورا ایکسیلیریٹر
سے پاؤں ہٹٓا کر
رفتار 120 پر لے
آتا ہے۔
ہم ہمیشہ
اپنی قوم کی
بے ترتیبی
اور لا قانونیت
کا رونا روتے
ہیں۔ اسی قوم
کے وہی ڈرائیور
جو شہروں میں
لاقانونیت
کا مظاہرہ
کرتے ہیں،
موٹر وے پر
جاکر ایک دم
قانون پسند
ہو جاتے ہیں۔ یہ
سارا فرق صرف
تعلیم و تربیت
کا ہے۔ میرے
دوست عاصم،
جو کہ موٹر وے
پولیس میں ہیں،
بتاتے ہیں کہ
انہوں نے
شروع میں ایک
عرصے تک موٹر
وے پر سفر
کرنے والوں کی
تربیت کی اور
انہیں صحیح
ڈرائیونگ کے
اصولوں سے
آگاہ کیا۔ اس
کے بعد انہوں
نے چالان
کرنا شروع
کئے۔ اب فرق
سب کے سامنے
ہے۔
پچھلے
دو سو سال سے
ہماری لیڈر
شپ قوم کو
قانون کی
خلاف ورزی
اور احتجاجی
ذہنیت کی تربیت
کر رہی ہے۔
ہماری قوم میں
بہت پوٹینشل
ہے۔ اگر اس کی
درست تربیت کی
جائے تو یہ
پوری طرح
منظم اور سلیقہ
شعار قوم بن
سکتی ہے۔