|
غیر مسلموں
کے ساتھ
ہمارا رویہ
ایسے
غیر مسلم
جنہوں نے کبھی
اسلام کے
بارے میں
مخاصمانہ رویہ
نہیں رکھا،
ان کے بارے میں
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: لا ینھکم
اللّٰہ عن
الذین لم یقاتلوکم
فی الدین ولم یخرجوکم
من دیارکم ان
تبروھم و
تقسطوا الیھم
۔ ان اللّٰہ یحب
المقسطین۔
(الممتحنہ 60:8) ’’جن
لوگوں نے
تمہارے ساتھ
دین کے
معاملے میں
کوئی لڑائی
نہیں کی اور
نہ ہی تمہیں
جلاوطن کیا ،
ان کے ساتھ
اچھا سلوک
کرنے اور
منصفانہ رویہ
اختیار کرنے
سے اللہ تمہیں
منع نہیں
کرتا بلکہ
اللہ تو
انصاف کرنے
والوں کو پسند
کرتا ہے۔ ‘‘
نہ
جانے کیوں
ہمارے بعض
مسلمان بھائی
غیر مسلموں
سے اچھا رویہ
نہیں رکھتے
اور ان سے کسی
قسم کے لین دین
اور تعلق کو
ممنوع
سمجھتے ہیں۔
کہیں اس کی
وجہ ان کا نسلی
غرور تو نہیں؟
اللہ تعالیٰ
نے بحیثیت
مجموعی ہمیں
اپنے دین کی
دعوت ان
لوگوں تک
پہنچانے کا
مکلف کیا ہے
اور ہمیں ان
سے حسن سلوک
کا حکم دیا ہے
تاکہ دنیا میں
دوسری اقوام
کے ساتھ پر
امن طریقے سے
رہا جا سکے۔
اس کا نتیجہ یہ
بھی نکل سکتا
ہے کہ وہ
ہمارے اخلاق
اور کردار سے
متاثر ہو کر
اسلام کی طرف
مائل ہوں۔
دراصل
صدیوں سے
ہماری سوچ ،
دعوتی سوچ نہیں
رہی۔ ان کی
نفسیات ، رد
عمل
اور نفرت کی
نفسیات بن چکی
ہے۔ وہ
غیر مسلموں
کو اس نظر سے دیکھتے
ہیں کہ یہی وہ
اقوام ہیں
جنہوں نے ہمیں
دنیا کے
اقتدار سے
محروم کیا،
اس لئے یہ
ہمارے دشمن ہیں۔ اس کے
برعکس ہمارے
اسلاف کی فکر ۔’’دعوتی
اپروچ‘‘ پر مبنی
تھی۔ یہ محض مسلمان
تاجر ہی تو
تھے، جن کے
اخلاق اور
کردار سے
متاثر ہو کر انڈونیشیا،
ملائشیا،
فلپائن،
برما، سری
لنکا اور
جنوبی
ہندوستان کے
لاکھوں غیر
مسلم حلقہ
بگوش اسلام
ہوئے۔ تاتاریوں
نے بھی
مسلمانوں سے
اقتدار چھینا
تھا لیکن
مسلمانوں کی
لیڈر شپ نے
انہیں رد عمل
اور نفرت کی
نفسیات سے
ہٹا کر دعوت کی
نفسیات کی
طرف مائل کیا
جس کے نتیجے میں
محض چند دہائیوں
میں کعبے کو
صنم خانے سے
پاسباں مل
گئے۔
رد عمل
اور نفرت کی
سوچ ایک منفی
طرز فکر ہے
جبکہ دعوتی
اپروچ ایک
مثبت طرز فکر۔
دنیا میں کبھی
بھی منفی طرز
فکر کو کامیابی
حاصل نہیں ہوئی۔ مثبت
طرز فکر ہی دنیا
و آخرت میں
کامیابی کی
ضمانت ہے۔
محمد
مبشر نذیر
August 2003
|