|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی رواداری
، امن اور
محبت سے
وابستہ |
|||
اسلام نے
غلامی کو ایک
دم ختم کیوں
نہ کیا؟
سوال: اسلام
نے غلامی کو بیک
وقت ختم کرنے
کی بجائے تدریجی
طریقہ کیوں
اختیار کیا؟
کیا ایسا
ممکن نہ تھا
کہ حضور نبی
کریم
صلی اللہ علیہ
و سلم تمام
غلاموں کو بیک
وقت
آزاد کردیتے
اور دنیا سے اس
لعنت کا
خاتمہ ہو
جاتا؟ جواب:
انقلابی تبدیلیوں
کی یہ خصوصیت
ہے کہ وہ جہاں
ایک برائی کو
ختم کرتی ہیں
وہاں دسیوں
نئی برائیوں
کو جنم دیتی ہیں۔
اسی وجہ سے
اسلام نے
برائیوں کے
خاتمے کے لئے
بالعموم
’’انقلاب ‘‘(Revolution) کی بجائے
’’تدریجی
اصلاح ‘‘ (Evolution) کا طریقہ اختیار
کیا۔ حضور نبی
کریم صلی
اللہ علیہ و
سلم کے زمانے
میں غلاموں کی
حیثیت بالکل
آج کے زمانے
کے ملازمین کی
تھی جن پر پوری
معیشت کا
دارومدار
تھا۔
غلامی کے
خاتمے کی
حکمت عملی کو
سمجھنے کے
لئے اگر درج ذیل
مثال پر غور کیا
جائے تو بات
کو سمجھنا
بہت آسان
ہوگا۔ موجودہ
دور میں بہت
سے مالک (Employers) اپنے
ملازمین(Employees) کا
استحصال
کرتے ہیں۔ ان سے
طویل اوقات
تک
بلامعاوضہ
کام کرواتے ہیں،
کم سے کم
تنخواہ دینے
کی کوشش کرتے
ہیں، بسا
اوقات ان کی
تنخواہیں
روک لیتے ہیں،
خواتین
ملازموں کو
بہت مرتبہ
جنسی طور پر
ہراساں کیا
جاتا ہے۔ ان
حالات میں آپ
ایک مصلح ہیں
اور یہ چاہتے
ہیں کہ دنیا
سے ملازمت کا
خاتمہ
ہوجائے اور
تمام لوگ آزادانہ
اپنا
کاروبار
کرنے کے قابل (Self
Employed) ہوجائیں۔ آپ
نہ صرف ایک
مصلح ہیں
بلکہ آپ کے
پاس دنیا کے
وسیع و عریض
خطے کا اقتدار
بھی موجود ہے
اور آپ اپنے
مقصد کے حصول
کے لئے بہت کچھ
کرسکتے ہیں۔ ان
حالات میں آپ
کا پہلا قدم کیا
ہوگا؟ کیا آپ یہ
قانون بنا دیں
گے کہ آج سے
تمام ملازمین
فارغ ہیں اور
آج کے بعد کسی
کے لئے دوسرے
کو ملازم
رکھنا ایک
قابل تعزیر
جرم ہے ؟ اگر
آپ ایسا قانون
بنائیں گے تو
اس کے نتیجے میں
کروڑوں بے
روزگار وجود
پذیر ہوں گے ۔ یہ
بے روزگار یقینا
روٹی ، کپڑے
اور مکان کے
حصول کے لئے
چوری ، ڈاکہ
زنی ، بھیک
اور جسم فروشی
کا راستہ اختیار
کریں گے۔ جس کے
نتیجے میں
پورے معاشرے
کا نظام تلپٹ
ہوجائے گا
اور ایک برائی
کو ختم کرنے کی
انقلابی
کوشش کے نتیجے
میں ایک ہزار
برائیاں پیدا
ہوجائیں گی۔ یہ
بات بالکل
واضح ہے کہ
ملازمت کے
مسئلے کو حل کرنے
کے لئے تدریجی
اصلاح کا طریقہ
ہی کارآمد ہے۔
اس طریقے کے
مطابق مالک و
ملازم کے
تعلق کی
بجائے کوئی نیا
تعلق پیدا کیا
جائے گا۔
لوگوں میں یہ
شعور پیدا کیا
جائے گا وہ
اپنے
کاروبار کو
ترجیح دیں۔
انہیں
کاروبار
کرنے کی تربیت
دی جائے گی۔
جو لوگ اس میں
آگے بڑھیں ،
انہیں بلا
سود قرضے دیے
جائیں گے اور
تدریجاً
تمام لوگوں
کو 8 گھنٹے کی
غلامی سے
نجات دلا کر
مکمل آزاد کیا
جائے گا۔
(واضح رہے کہ
کارل مارکس
اس مسئلے کا ایک
حل ’’کمیونزم ‘‘ پیش
کرچکے ہیں
اور دنیا کے ایک
بڑے حصے نے اس
کا تجربہ
کرنے کی کوشش
بھی کی ہے جو
ناکام رہا۔) عین
ممکن ہے کہ اس
سارے عمل میں
صدیاں لگ جائیں۔ ایک
ہزار سال کے
بعد، جب دنیا
اس مسئلے کو
حل کرچکی ہو
تو ان میں سے
بہت سے لوگ اس
مصلح پر تنقید
کریں اور یہ
کہیں کہ
انہوں نے ایسا
کیوں نہیں کیا،
ویسا کیوں کیا
مگر اس دور کے
انصاف پسند یہ
ضرور کہیں گے
کہ اس عظیم
مصلح نے اس
مسئلے کے حل
کے لئے
ابتدائی
اقدامات
ضرور کئے تھے۔ اب
اسی مثال کو
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و
سلم اور آپ کے
صحابہ رضی اللہ
عنہم پر
منطبق کیجئے۔
اسلام غلامی
کا آغاز کرنے
والا نہیں
تھا۔ غلامی
اسے ورثے میں
ملی تھی۔ اسلام
کو اس مسئلے
سے نمٹنا تھا۔ عرب میں
بلامبالغہ
ہزاروں غلام
موجود تھے۔
جب فتوحات کے
نتیجے میں ایران
، شام
اورمصر کی
مملکتیں
مسلمانوں کے
پاس آئیں تو
ان غلاموں کی
تعداد
کروڑوں میں
تھی۔ اگر ان
سب غلاموں کو
ایک ہی دن میں
آزاد کر دیا
جاتا تو نتیجہ
اس کے سوا کچھ
نہ نکلتا کہ
کروڑوں کی
تعداد میں
طوائفیں،
ڈاکو، چور،
بھکاری وجود
میں آتیں جنہیں
سنبھالنا شاید
کسی کے بس کی
بات نہ ہوتی۔ اسلام نے
اس مسئلے کو
حل کرنے کے
لئے جو
اقدامات کئے
وہ یہ تھے۔ ·
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ و
سلم نے صحابہ
کو غلاموں کے
ساتھ عمدہ
برتاؤ کرنے کی
تربیت دی۔
انہیں یہ حکم
دیا کہ جو تم
خود کھاؤ وہی
انہیں
کھلاؤ، جو
خود پہنو، وہی
انہیں پہناؤ
اور ان کے کام
میں ان کی مدد
کرو ۔ غلاموں
کو اپنا بھائی
سمجھو،
ان کا خیال
رکھو اور ان
پر ظلم نہ کرو۔
اسی تربیت کا
نتیجہ یہ
نکلا کہ
صحابہ اپنے
غلاموں سے
اچھا برتاؤ
کرنے لگے۔
احادیث میں ایسی
بہت سی مثالیں
موجود ہیں۔ سیدنا
ابوذر غفاری
رضی اللہ عنہ
اور ان کے
غلام کو دیکھ
کر یہ
پہچاننا
مشکل تھا کہ
آقا کون ہے
اور غلام کون
ہے۔ سیدہ
اسماء رضی
اللہ عنہا
اپنے غلاموں
سے بیٹوں کا
سا سلوک کرتیں۔ ·
حضور
صلی اللہ علیہ
و سلم نے
صحابہ کو حکم
دیا کہ اپنے
غلاموں اور
لونڈیوں کو
اعلیٰ اخلاقی
تربیت دیں
اور انہیں
آزاد کردیں۔ لونڈیوں
کو آزاد کرنے
کے بعد ان سے
شادی کرنے کو
ایسا کام
قراردیا جس
پر اللہ تعالیٰ
کے حضور
دوہرے اجر کی
نوید ہے۔ بعد کے
دور میں ہمیں
ایسے بہت سے
غلاموں یا
آزاد کردہ
غلاموں کا
ذکر ملتا ہے
جو علمی
اعتبار سے جلیل
القدر علماء
صحابہ کے ہم
پلہ تھے۔ ایک
مثال سیدنا
سالم رضی
اللہ عنہ تھے
جن کا شمار ابی
بن کعب، عبد
اللہ بن مسعود
اور معاذ بن
جبل رضی اللہ
عنہم جیسے جلیل
القدر صحابہ
میں ہوتا ہے۔ ·
مثال
قائم کرنے کے
لئے حضور صلی
اللہ علیہ و
سلم نے اپنے
تمام غلام
آزاد کئے یہاں
تک کہ اپنی
وفات کے وقت
آپ کے پاس کوئی
غلام نہ تھا۔ آپ کے
جلیل القدر
صحابہ کا بھی یہی
عمل تھا۔ سیدنا
ابوبکر رضی
اللہ عنہ نے
اپنی دولت سے
ایسے غلام خرید
کر آزاد کئے
جن پر ان کے
مالک اسلام
لانے کے باعث
ظلم کرتے تھے۔ صحابہ
کی تاریخ میں
ایسے بہت سے
غلاموں کا
ذکر ملتا ہے
جو آزاد
کئے گئے تھے۔
ان کے حالات
پر کئی کتابیں
بھی لکھی گئیں
جو کتب
الموالی
کہلاتی ہیں۔ ·
دور
جاہلیت میں
آزاد کردہ
غلاموں کو بھی
کوئی معاشرتی
مقام حاصل نہ
تھا۔ حضور نبی
کریم صلی
اللہ علیہ و
سلم نے انہیں
ان کے سابقہ
مالکوں کا ہم
پلہ قراد دیا۔ ·
ایسے
غلام جو آزادی
کے طالب تھے،
ان کی آزادی
کے لئے قرآن
نے مکاتبت کا
دروازہ
کھولا۔ اس کے
مطابق جو
غلام آزادی
کا طالب تھا،
وہ اپنے مالک
کو اپنی مارکیٹ
ویلیو کے
مطابق قسطوں
میں رقم ادا
کرکے آزاد ہو
سکتا تھا۔ صحابہ
کرام ایسے
غلاموں کی
مالی مدد
کرتے جو
مکاتبت کے ذریعے
آزاد ہونا
چاہتے تھے۔ سیدہ
عائشہ رضی
اللہ عنہا نے
ایک لونڈی بریرہ
رضی اللہ
عنہا کے مالک
کو رقم ادا
کرکے انہیں
آزاد کروایا
تھا۔ قرآن نے
حکومتی
خزانے میں سے
ایسے غلاموں
کی مالی
امداد کا حکم
دیا ہے۔ ·
جنگی
قیدیوں کو
غلام بنایا
جاتا تھا۔
قرآن نے جنگی
قیدیوں کے
بارے میں یہ
حکم دیا کہ یا
تو انہیں
بلامعاوضہ
آزاد کردیا
جائے یا پھر
ان سے جنگی
تاوان وصول
کرکے آزاد کیا
جائے۔
اس بحث سے یہ
بات واضح ہے
کہ اسلام نے
غلامی کو ختم
کرنے کے لئے یا
کم ازکم
غلاموں کی
حالت کو بہتر
بنانے کے لئے
ایسے
اقدامات کئے
جن کا تصور بھی
اس دور میں
محال تھا۔ محمد
مبشر نذیر July 2006 |
||||
|
سفر
نامے روانگی
برائے سعودی
عرب جدہ
مکہ جبل
نور اور غار
حرا مکہ کے دیگر
تاریخی
مقامات سفر
حج سفر ہجرت مدینہ مدینہ
کے تاریخی
مقامات بدر احد خندق طائف جازان،
ابہا اور
فیفا
دمام،
الخبر اور
بحرین کاز وے خیبر،
مدائن صالح
اور تبوک روانگی
برائے اردن پیٹرا جنگ
موتہ اور ڈیڈ
سی مادبہ، جبل
نیبو اور
بپتسمہ سائٹ عقبہ مصر
کا بحری سفر جزیرہ
نما سینا قاہرہ اسکندریہ مصر
سے سعودی عرب
براستہ اردن
مذہبی
معاملات کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص دیباچہ مقدمہ حصہ
اول: تعارف باب 1:
تعارف باب 2:
البیان باب 3:
اسلامی
قانون کا علم حصہ
دوم: کتاب
اللہ باب 4:
قرآن کی زبان
باب 5:
خاص اور عام باب 6: ناسخ و
منسوخ
احکامات حصہ سوم: سنت
باب 7: اللہ
اور اس کے
رسول کے
احکامات کو
قبول کرنے کی
ذمہ داری باب 8:
اللہ اور اس
کے رسول کی
بیان کردہ
ممانعتیں باب 9:
روایات باب 10:
خبر واحد حصہ چہارم:
اجماع،
قیاس،
اجتہاد اور
اختلاف رائے
باب 11:
اجماع باب 12:
قیاس باب13
:
اجتہاد باب 14:
اختلاف رائے ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ | دین کا
مطالعہ
معروضی
طریقے پر
کیجیے | رہبانیت | دوہرے
معیارات | فارم
اور اسپرٹ | دین میں
اضافے | گنیش
جی کا جلوس | صوفیاء
کی دعوتی
حکمت عملی | عقل
اور عشق | اسلام نے
غلامی کو ایک
دم ختم کیوں
نہ کیا؟ | سورہ
توبہ کے شروع
میں بسم اللہ
کیوں نہیں ہے
؟ | کیا
رسولوں پر
ایمان ضروری
ہے؟
| مکہ
اور مدینہ حرم
کیوں کہلاتے
ہیں؟ | مرد
کا وراثت میں
حصہ دوگنا
کیوں ہے؟ | متشابہات
کیا ہیں؟ | عقائد
و نظریات الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات الحاد کی
تعریف یورپ
میں الحاد کی
تحریک مسلم
معاشروں میں
الحاد کا
فروغ
مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
الحاد کے
اثرات کائنات:
خدا کی ایک
نشانی | Quranic Concept of Human Life Cycle | A Dialogue with Atheism | کیا
عقل کے ذریعے
خدا کی پہچان
ممکن ہے؟ | کیا آخرت
کا عقیدہ
معقولیت
رکھتا ہے؟ | خدا کے
جسم سے کیا
مراد ہے؟ | خدا
نظر کیوں
نہیں آتا؟ | تقدیر کا
مسئلہ؟ بعض
لوگ خدا کے
منکر کیوں
ہیں؟ | محمد
رسول اللہ کی رسالت
کا ثبوت کیا
ہے؟ | Empirical Evidence of God’s Accountability | معاشرتی
معاملات اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز | دین دار
افراد کے لئے
معاش اور
روزگار کے
مسائل | موٹر وے
کی ٹریفک | جنریشن
گیپ | ساس اور
بہو کا مسئلہ | ہماری
شخصیت اپنی
شخصیت اور کردار
کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ مایوسی کی تعریف مایوسی
کی اقسام مایوسی
کی وجوہات مایوسی
دور کرنے کے
لئے چند
تجاویز
بزرگوں
کی کرامات یا
ان کا کردار سبز یا
نیلا | مشکل
پسندی | اختلاف
رائے کی صورت
میں ہمارا
رویہ | سیکس کے
بارے میں
متضاد رویے | تکبر کے
اسٹائل | انسان کا
اپنی شخصیت
پر کنٹرول | علماء
کی زبان | جذبہ حسد
اور جدید
امتحانی
طریقہ | فرشتے،
جانور اور
انسان | شیطانی
قوتوں کا
مقابلہ کیسے
کیا جائے؟ | اسلام
اور دور جدید اسلام
اور دور حاضر
میں وقوع
پذیر ہونے
والی تبدیلیاں دیباچہ معاشرے
میں تبدیلی
کا عمل انسانی
نفسیات اور
طرز فکر میں تبدیلی معاشرتی
اور ثقافتی
تبدیلی سیاسی
تبدیلی معاشی
اور تکنیکی
تبدیلی دور
جدید کی
تبدیلیاں
اور ہمارا رد
عمل دور
جدید میں دعوت
دین کا طریق
کار دعوت دین کی
اہمیت داعی
اور اس کی
صفات
دعوت دین
کی منصوبہ
بندی دعوتی
پیغام کی
تیاری اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا
حقیقت | مسلم
دنیا میں
علمی و
تحقیقی
رجحانات | دور
جدید کی سازش | ہم
اسلام نافذ
کیوں نہ کر
سکے؟ | امت
مسلمہ زوال پذیر
کیوں ہے؟ | اقوام
عالم کو مسلمانوں
سے ہمدردی
کیوں نہیں؟ | مذہب
کی دعوت کے
لئے کرنے کا
سب سے بڑا
کام؟ | مولوی
اور دور جدید |
||||
|
The content of this website is copyright protected ©
Mubashir Nazir. All rights expressly reserved. The material can be
republished with permission of the author. |