|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری ،
امن اور محبت
سے وابستہ |
|||
کیااسلام
اور جمہوریت
دو متضاد
نقطہ ہائے
نظر ہیں؟
سوال:
موجودہ دور میں
بعض مسلم
علماء جمہوریت
کے قائل اور
بعض اس کے
مخالف ہیں۔
بعض علماء
اسے اسلام کا
دشمن قرار دیتے
ہیں اور بعض
اسے اسلام کے
مطابق قرار
دے کر اس کے تحت
الیکشن میں
حصہ بھی لیتے
ہیں۔ آپ کی اس
بارے میں کیا
رائے ہے؟ جواب:
ہماری رائے میں
جدید جمہوری
نظام بہت سے
اعتبار سے دین
اسلام کی تعلیمات
سے مطابقت
رکھتا ہے
البتہ اس کے
بعض پہلوؤں میں
اسلام سے
مطابقت پیدا
کرنا ضروری
ہے۔ جمہوریت
کا بنیادی
تقاضا یہ ہے
کہ مملکت کا
نظام باہمی
مشورے سے چلایا
جائے اور کسی
ایک فرد یا
خاندان کی
مرضی کو عوام
پر مسلط نہ کیا
جائے۔ ہر شخص
کو اپنی رائے
کے اظہار کی
مکمل آزادی
ہو۔ جمہوریت
کے یہ پہلو
اسلام کے عین
مطابق ہیں۔ اسلام
اپنے ماننے
والوں سے یہ
تقاضا کرتا
ہے کہ ان کے
امور باہمی
مشورے سے
چلائے جانے
چاہئیں۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: و
امرھم شوری بینھم۔
(الشوری 42:38)۔۔۔ ’’ان کے
معاملات
باہمی مشورے
سے چلتے ہیں۔‘‘
اس کا مطلب یہ
نہیں کہ
حکمران
جب چاہے کسی
معاملے میں
اپنے ساتھیوں
سے مشورہ لے
لے اور چاہے
تو اسے مانے یا
نہ مانے بلکہ
اس آیت میں یہ
بتایا گیا کہ
تمام فیصلے
کرنے کا عمل (Decision Making) باہمی
مشورے
ہی سے ہونا
چاہئے۔
اسلام کسی
شخص پر کوئی
عقیدہ
زبردستی
مسلط نہیں
کرتا بلکہ وہ
ہر انسان کو یہ
آزادی دیتا
ہے کہ وہ اپنے
ضمیر کے
مطابق کوئی
بھی عقیدہ
اختیار
کرسکتا ہے
اور اس کا
اظہار بھی
کرسکتا ہے۔ اللہ
تعالیٰ کی دی
ہوئی ہدایت
کو اختیار
کرنا یا نہ
کرنا بھی اس
کا اختیار ہے۔
اس دنیا میں
اسے اس پر
مجبور نہیں کیا
جاسکتا۔ چنانچہ
قرآن مجید میں
ہے: لا
اکراہ فی الدین۔
قد تبین
الرشد من الغی۔
(البقرۃ 2:256) ’’دین میں کوئی
جبر نہیں۔
ہدایت کو
گمراہی سے
واضح کردیا گیا
ہے۔‘‘ ان دونوں
معاملات میں
جمہوریت
اسلام سے پوری
طرح ہم آہنگ
ہے۔
افسوس کا
مقام یہ ہے کہ
ہم قرآن کو
مانتے ہوئے
بھی دین کے ان
دو احکام (شوری
اور آزادی
فکر) پر عمل پیرا
نہیں جبکہ
مغربی جمہوریت
کے حامی ان پر
ان کی پوری
روح کے ساتھ
عمل کرتے نظر
آتے ہیں۔
ہمارے بعض
مسلم ممالک میں
آزادی فکر پر
پابندی ہے
جبکہ غیر
مسلم مغربی
ممالک میں مسلمان
پوری آزادی
کے ساتھ اپنے
دین پر عمل
کرسکتا ہے۔ جمہوریت کے
بعض پہلو
اسلامی نقطہ
نظرسے قابل
قبول نہیں۔
ان میں حاکمیت
جمہور (Sovereignty of Masses) کا نظریہ
ہے جس کے
مطابق اکثریت
قادر مطلق ہے
اور وہ جو بھی
فیصلہ کرلے
اسے نافذ کردیتے
کا اختیار
رکھتی ہے۔
اسلام
اس پر یہ شرط
عائد کرتا ہے
کہ
جمہور کا فیصلہ
اللہ تعالیٰ
کی شریعت کے
مطابق ہونا
چاہئے۔ اگر یہ
فیصلہ اللہ
تعالیٰ کے
احکامات کی
خلاف ورزی میں
ہے تو اسے
نافذ نہیں کیا
جائے گا۔ ہمارے جمہوری
نظام میں جس
طرح اربوں
روپے خرچ
کرکے لوگ
حکومت تک پہنچتے
ہیں اور پھر
ان اربوں
روپوں کو بمع
سود سرکاری
خزانے سے
وصول کرتے ہیں،
اخلاقی و دینی
اعتبار سے کسی
طرح قابل
قبول نہیں
ہوسکتا۔ ان امور
کی اصلاح کئے
بغیر مسلم
معاشرے میں
جمہوریت کو
پوری طرح
رائج نہیں کیا
جاسکتا۔ محمد
مبشر نذیر December 2005 |
||||
|
سفر
نامے روانگی
برائے سعودی
عرب جدہ
مکہ جبل
نور اور غار
حرا مکہ کے دیگر
تاریخی
مقامات سفر
حج سفر ہجرت مدینہ مدینہ
کے تاریخی
مقامات بدر احد خندق طائف جازان،
ابہا اور
فیفا
دمام،
الخبر اور
بحرین کاز وے خیبر،
مدائن صالح
اور تبوک روانگی
برائے اردن پیٹرا جنگ
موتہ اور ڈیڈ سی مادبہ،
جبل نیبو اور
بپتسمہ سائٹ عقبہ مصر
کا بحری سفر جزیرہ
نما سینا قاہرہ اسکندریہ مصر
سے سعودی عرب
براستہ اردن
مذہبی
معاملات کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص دیباچہ مقدمہ حصہ
اول: تعارف باب 1:
تعارف باب 2:
البیان باب 3:
اسلامی
قانون کا علم حصہ
دوم: کتاب
اللہ باب 4:
قرآن کی زبان
باب 5:
خاص اور عام باب 6:
ناسخ و منسوخ
احکامات حصہ سوم: سنت
باب 7:
اللہ اور اس
کے رسول کے
احکامات کو
قبول کرنے کی
ذمہ داری باب 8:
اللہ اور اس
کے رسول کی
بیان کردہ
ممانعتیں باب 9:
روایات باب 10:
خبر واحد حصہ چہارم:
اجماع،
قیاس،
اجتہاد اور
اختلاف رائے
باب 11:
اجماع باب 12:
قیاس باب13
:
اجتہاد باب 14:
اختلاف رائے ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے جائزہ | دین کا
مطالعہ
معروضی
طریقے پر
کیجیے | رہبانیت | دوہرے
معیارات | فارم
اور اسپرٹ | دین میں
اضافے | گنیش
جی کا جلوس | صوفیاء
کی دعوتی حکمت
عملی | عقل
اور عشق | اسلام نے غلامی
کو ایک دم ختم
کیوں نہ کیا؟ | سورہ
توبہ کے شروع
میں بسم اللہ
کیوں نہیں ہے
؟ | کیا
رسولوں پر
ایمان ضروری
ہے؟
| مکہ
اور مدینہ حرم
کیوں کہلاتے
ہیں؟ | مرد
کا وراثت میں
حصہ دوگنا
کیوں ہے؟ | متشابہات
کیا ہیں؟ | عقائد
و نظریات الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات الحاد کی
تعریف یورپ
میں الحاد کی
تحریک مسلم
معاشروں میں
الحاد کا
فروغ
مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
الحاد کے
اثرات کائنات:
خدا کی ایک
نشانی | Quranic Concept of Human Life Cycle | A Dialogue with Atheism | کیا
عقل کے ذریعے
خدا کی پہچان
ممکن ہے؟ | کیا آخرت
کا عقیدہ
معقولیت
رکھتا ہے؟ | خدا کے
جسم سے کیا
مراد ہے؟ | خدا
نظر کیوں
نہیں آتا؟ | تقدیر کا
مسئلہ؟ بعض
لوگ خدا کے
منکر کیوں
ہیں؟ | محمد
رسول اللہ کی رسالت
کا ثبوت کیا
ہے؟ | Empirical Evidence of God’s Accountability | معاشرتی
معاملات اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز | دین دار
افراد کے لئے
معاش اور
روزگار کے
مسائل | موٹر وے
کی ٹریفک | جنریشن
گیپ | ساس اور
بہو کا مسئلہ | ہماری
شخصیت اپنی
شخصیت اور کردار
کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ مایوسی کی تعریف مایوسی
کی اقسام مایوسی
کی وجوہات مایوسی
دور کرنے کے
لئے چند
تجاویز
بزرگوں
کی کرامات یا
ان کا کردار سبز یا
نیلا | مشکل
پسندی | اختلاف
رائے کی صورت
میں ہمارا
رویہ | سیکس کے
بارے میں
متضاد رویے | تکبر کے
اسٹائل | انسان کا
اپنی شخصیت
پر کنٹرول | علماء
کی زبان | جذبہ حسد
اور جدید
امتحانی
طریقہ | فرشتے،
جانور اور
انسان | شیطانی
قوتوں کا
مقابلہ کیسے
کیا جائے؟ | اسلام
اور دور جدید اسلام
اور دور حاضر
میں وقوع
پذیر ہونے
والی تبدیلیاں دیباچہ معاشرے
میں تبدیلی
کا عمل انسانی
نفسیات اور
طرز فکر میں تبدیلی معاشرتی
اور ثقافتی
تبدیلی سیاسی
تبدیلی معاشی
اور تکنیکی
تبدیلی دور
جدید کی
تبدیلیاں
اور ہمارا رد
عمل دور
جدید میں دعوت
دین کا طریق
کار دعوت دین کی
اہمیت داعی
اور اس کی
صفات
دعوت دین
کی منصوبہ
بندی
دعوتی
پیغام کی
تیاری اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا
حقیقت | مسلم
دنیا میں
علمی و
تحقیقی
رجحانات | دور
جدید کی سازش | ہم
اسلام نافذ
کیوں نہ کر
سکے؟ | امت
مسلمہ زوال پذیر
کیوں ہے؟ | اقوام
عالم کو مسلمانوں
سے ہمدردی
کیوں نہیں؟ | مذہب
کی دعوت کے
لئے کرنے کا
سب سے بڑا
کام؟ | مولوی
اور دور جدید |
||||
|
The content of this website is copyright protected ©
Mubashir Nazir. All rights expressly reserved. The material can be
republished with permission of the author. |