|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات
ذہنی صحت کی
ضمانت ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
کیااسلام
اور جمہوریت
دو متضاد
نقطہ ہائے
نظر ہیں؟ Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
سوال:
موجودہ دور میں
بعض مسلم
علماء جمہوریت
کے قائل اور
بعض اس کے
مخالف ہیں۔
بعض علماء
اسے اسلام کا
دشمن قرار دیتے
ہیں اور بعض
اسے اسلام کے
مطابق قرار
دے کر اس کے تحت
الیکشن میں
حصہ بھی لیتے
ہیں۔ آپ کی اس
بارے میں کیا
رائے ہے؟ جواب:
ہماری رائے میں
جدید جمہوری
نظام بہت سے
اعتبار سے دین
اسلام کی تعلیمات
سے مطابقت
رکھتا ہے
البتہ اس کے
بعض پہلوؤں میں
اسلام سے
مطابقت پیدا
کرنا ضروری
ہے۔ جمہوریت
کا بنیادی
تقاضا یہ ہے
کہ مملکت کا
نظام باہمی
مشورے سے چلایا
جائے اور کسی
ایک فرد یا
خاندان کی
مرضی کو عوام
پر مسلط نہ کیا
جائے۔ ہر شخص
کو اپنی رائے
کے اظہار کی
مکمل آزادی
ہو۔ جمہوریت
کے یہ پہلو
اسلام کے عین
مطابق ہیں۔ اسلام
اپنے ماننے
والوں سے یہ
تقاضا کرتا
ہے کہ ان کے
امور باہمی
مشورے سے
چلائے جانے
چاہئیں۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: وَأَمْرُهُمْ
شُورَى
بَيْنَهُمْ۔ (الشوری
42:38)۔۔۔ ’’ان کے
معاملات
باہمی مشورے
سے چلتے ہیں۔‘‘
اس کا مطلب یہ
نہیں کہ
حکمران
جب چاہے کسی
معاملے میں
اپنے ساتھیوں
سے مشورہ لے
لے اور چاہے
تو اسے مانے یا
نہ مانے بلکہ
اس آیت میں یہ
بتایا گیا کہ
تمام فیصلے
کرنے کا عمل (Decision Making) باہمی
مشورے
ہی سے ہونا
چاہئے۔ اسلام کسی
شخص پر کوئی
عقیدہ
زبردستی
مسلط نہیں
کرتا بلکہ وہ
ہر انسان کو یہ
آزادی دیتا
ہے کہ وہ اپنے
ضمیر کے
مطابق کوئی
بھی عقیدہ
اختیار
کرسکتا ہے
اور اس کا
اظہار بھی
کرسکتا ہے۔ اللہ
تعالیٰ کی دی
ہوئی ہدایت
کو اختیار
کرنا یا نہ
کرنا بھی اس
کا اختیار ہے۔
اس دنیا میں
اسے اس پر
مجبور نہیں کیا
جاسکتا۔ چنانچہ
قرآن مجید میں
ہے: لا
إِكْرَاهَ
فِي
الدِّينِ
قَدْ
تَبَيَّنَ الرُّشْدُ
مِنْ
الغَيِّ۔ (البقرۃ
2:256) ’’دین میں کوئی
جبر نہیں۔
ہدایت کو
گمراہی سے
واضح کردیا گیا
ہے۔‘‘ ان دونوں
معاملات میں
جمہوریت
اسلام سے پوری
طرح ہم آہنگ
ہے۔
افسوس کا
مقام یہ ہے کہ
ہم قرآن کو
مانتے ہوئے
بھی دین کے ان
دو احکام (شوری
اور آزادی
فکر) پر عمل پیرا
نہیں جبکہ
مغربی جمہوریت
کے حامی ان پر
ان کی پوری
روح کے ساتھ
عمل کرتے نظر
آتے ہیں۔
ہمارے بعض
مسلم ممالک میں
آزادی فکر پر
پابندی ہے
جبکہ غیر مسلم
مغربی ممالک
میں
مسلمان پوری
آزادی کے
ساتھ اپنے دین
پر عمل
کرسکتا ہے۔ جمہوریت
کے بعض پہلو
اسلامی نقطہ
نظرسے قابل
قبول نہیں۔
ان میں حاکمیت
جمہور (Sovereignty of Masses) کا نظریہ
ہے جس کے
مطابق اکثریت
قادر مطلق ہے
اور وہ جو بھی
فیصلہ کرلے
اسے نافذ کردیتے
کا اختیار
رکھتی ہے۔
اسلام
اس پر یہ شرط
عائد کرتا ہے
کہ
جمہور کا فیصلہ
اللہ تعالیٰ
کی شریعت کے
مطابق ہونا
چاہئے۔ اگر یہ
فیصلہ اللہ
تعالیٰ کے
احکامات کی
خلاف ورزی میں
ہے تو اسے
نافذ نہیں کیا
جائے گا لیکن
عملا ً ایسا
اس وقت ہی
ممکن ہو
سکتا ہے جب
معاشرے کی
اکثریت کی دینی
تربیت کر کے
انہیں دین کے
معاملے میں
حساس بنا دیا
جائے۔ ہمارے
جمہوری نظام
میں جس طرح
اربوں روپے
خرچ کرکے لوگ
حکومت تک پہنچتے
ہیں اور پھر
ان اربوں
روپوں کو بمع
سود سرکاری
خزانے سے
وصول کرتے ہیں،
اخلاقی و دینی
اعتبار سے کسی
طرح قابل
قبول نہیں
ہوسکتا۔ ان امور
کی اصلاح کئے
بغیر مسلم
معاشرے میں
جمہوریت کے
فوائد حاصل
نہیں کیے جا
سکتے ہیں۔ محمد
مبشر نذیر December
2005 |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد جدید
کے مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||