|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات
ذہنی صحت کی
ضمانت ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
امت
مسلمہ زوال
پذیر کیوں
ہے؟
Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
سوال:
دور جدید میں
ہم دیکھتے ہیں
کہ غیرمسلم
اقوام
مادی
اعتبار سے
اپنے عروج پر
ہیں۔ اس کے
برعکس امت
مسلمہ زوال
کا شکار ہے۔ ایک
دور تھا جب ہم
نے سپر پاور کی
حیثیت سے دنیا
کے بڑے حصے پر
حکومت کی ہے ۔
کیا وجہ ہے کہ
ہم زوال کا
شکار ہو گئے
اور غیر مسلم
مغربی اور ایشیائی
اقوام ترقی کرگئیں
اور اب وہ سپر
پاور کی حیثیت
سے ہم پر
حکومت کر رہی
ہیں؟ جواب: قوموں
کے عروج و
زوال سے
متعلق اللہ
تعالیٰ کا ایک
قانون ہے جو
مسلم و غیر
مسلم تمام
اقوام پر یکساں
لاگو ہوتا ہے۔
اس قانون کے
مطابق اللہ
تعالیٰ نے ہمیشہ
ایسی اقوام
کو عروج بخشا
ہے جن میں یہ دو
خصوصیات پائی
جاتی ہوں: • علمی
اعتبار سے وہ
اپنی ہم عصر
اقوام سے
ممتاز ہوں۔ سائنس
اور ٹیکنالوجی
میں کوئی ان
کا ہم پلہ نہ
ہو۔ ان کا سیاسی،
اقتصادی ،
سماجی نظام
دوسروں سے
بہتر ہو اور
دوسری اقوام
کے مقابلے میں
وہ بہتر
وسائل اور
توانائی کے
ذرائع کو
کنٹرول کر
سکتی ہوں اور
ان کا
استعمال بھی
دوسروں سے
بہتر طریقے
سے کر سکتی
ہوں۔ • اخلاقی
اعتبار سے وہ
دوسری اقوام
سے بہتر درجے
پر فائز ہوں۔ ان
اخلاقیات میں
بالخصوص
سچائی، دیانت
داری،ملک و
ملت کے لئے
قربانی کا
جذبہ،
کام کرنے کا
اعلیٰ معیار (High
Standards in Work Ethics) ، وفاداری،
ملکی اور بین
الاقوامی
معاہدوں کا
احترام، اپنی
قوم کے اچھے
افراد کے لئے
احترام وغیرہ
شامل ہیں۔ جب
تک امت مسلمہ
ان دونوں معیارات
پر اپنے
زمانے کی دیگر
اقوام کے
مقابلے میں
نسبتا بہتر
مقام پر
موجود رہی،
دنیا میں اسی
کا سکہ چلتا
رہا۔
عالمی
تجارت اور دنیا کے
سیاسی
معاملات اسی
کی مرضی سے
چلتے رہے، لیکن
جب امت مسلمہ
ان دونوں معیارات
میں اپنی
معاصر اقوام
سے پیچھے رہ
گئی اور دنیا
کا اقتدار
دوسری اقوام
کو منتقل ہوا۔ اب بھی
اگر ہم چاہتے
ہیں کہ امت
مسلمہ کا
عروج واپس
آجائے تو اس
کے لئے
مسلمانوں کو
علمی اور
اخلاقی
اعتبار سے
بہتر بنانا
ہوگا ورنہ
ہمارا ہر خواب
محض ایک سراب
بن کر رہ جائے
گا۔ محمد
مبشر نذیر December 2005 (Derived from
www.understanding-islam.org) |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے جائزہ
/ الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی جائے؟ / مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||