|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری ،
امن اور محبت
سے وابستہ |
|||
کیا آخرت کا
عقیدہ اپنے
اندر معقولیت
رکھتا ہے؟
سوال:
اسلام کا ایک
بنیادی عقیدہ
آخرت ہے۔ اس
کے مطابق اس
زندگی کے بعد
بھی ایک زندگی
ہے۔ کیا اس عقیدے
کی کوئی عقلی
و منطقی توجیہ
کی جاسکتی ہے۔؟
جواب: اگر ہم
اپنی زندگی
کا جائزہ لیں
تو معلوم
ہوگا کہ ہماری
اس زندگی میں
کئی خلا
موجود ہیں۔
ہماری یہ
زندگی بڑی عجیب
سی ہے۔ اس
زندگی میں کسی
کو مکمل اطمینان (Absolute Satisfaction)
حاصل
نہیں۔ افریقہ
کے کسی قحط
زدہ ملک کے کسی
غریب سے غریب
شخص سے لے کر
امریکہ کے
متمول ترین
شخص تک کوئی
انسان یہ دعویٰ
نہیں کرسکتا
کہ اسے زندگی
میں کبھی کوئی
تکلیف پیش نہیں
آئی اور اس کی
ہر خواہش پوری
ہوئی ہے۔ یہاں
وسائل محدود
اور خواہشات
لامحدود ہیں۔
یہاں سب سے بڑی
تکلیف موت کی
ہے جو انسان
سے اس کے تمام
وسائل کو چھین
لیتی ہے۔ موت
کے وقت غریب و
امیر کا فرق
مٹ جاتا ہے
اور ہر انسان
ایک ہی مقام
پر جا کھڑا
ہوتا ہے۔
سب سے
بڑا مسئلہ اس
زندگی میں
انصاف کا
کامل صورت میں
موجود نہ
ہونا ہے۔ ہم دیکھتے
ہیں کہ بہت سے
نالائق
افراد بعض
اوقات اعلیٰ
عہدوں پر
فائز ہو جاتے
ہیں جبکہ کئی
قابل اور ذہین
ترین افراد
محض جوتیاں
چٹخاتے
پھرتے ہیں۔
عدالتوں میں
انصاف نہیں
ملتا۔ بڑے
بڑے مجرم بسا
اوقات چھوڑ دیے
جاتے ہیں اور
بے گناہ مارے
جاتے ہیں۔ کسی
طور سے بھی یہ
زندگی کوئی
آئیڈیل نہیں
ہے۔
ایک
آئیڈیل زندگی
کی خواہش ہر
انسان کے
لاشعور میں
موجود ہے۔ ایک
ایسی زندگی
جہاں کوئی
تکلیف نہ ہو
حتی کہ موت کا
خوف بھی زندگی
کی آسائشوں
سے محروم
کرنے کے لئے
موجود نہ ہو۔
ارسطو سے لے
کر کارل
مارکس تک بڑے
بڑے فلسفیوں
نے ایسے Eutopia تخلیق
کئے ہیں لیکن
ان کے آئیڈیل
شرمندہ تعبیر
نہ ہوسکے۔ اس زندگی
کے مسائل کو
اگر مختصرا بیان
کیا جائے تو یہ
دو چیزوں پر
مبنی ہے ایک
ماضی کے
پچھتاوے اور
دوسرے
مستقبل کے
اندیشے۔
انسان
کی آئیڈیل
زندگی کی یہ
خواہش یہ
تقاضا کرتی
ہے کہ ایسی
زندگی ہونی
چاہیے لیکن کیا
ایسی زندگی
واقعتہً
موجود ہے، یہ
انسان نہیں
جان سکتا۔ اس
کا جواب تو اس
کا خالق ہی دے
سکتا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے
اپنی کتابوں
اور رسولوں
کے ذریعے بہت
تفصیل سے بیان
کردیا ہے کہ ایسی
ابدی زندگی
موجود ہے اور
وہ جنت کی
زندگی ہے لیکن
اس میں داخلہ
اسی کو ملے گا
جس نے اپنی دنیا
کی زندگی اللہ کا
بندہ بن کر
گزاری ہوگی۔ یہی
آخرت کا عقیدہ
ہے جو تمام
الہامی
مذاہب میں
موجود ہے۔
اللہ
تعالیٰ نے اس
بات کو محض
اپنی کتابوں
میں بیان
کرنے پر
اکتفا نہیں کیا
بلکہ اسی
آخرت اور جزا
سزا کے تصور
کو عملی طور
پر دنیا میں
بطور نمونہ (Sample)برپا
کرکے بھی
دکھا دیا ہے۔
اس مقصد کے
لئے اس نے چند
اقوام کا
انتخاب کیا
اور انہیں
اپنے رسولوں
کے ذریعے
خبردار کیا
کہ اپنی زندگی
کو اللہ تعالیٰ
کے احکامات
کے مطابق
گزارو ورنہ
تم پر اسی دنیا
میں اس کا
عذاب آئے گا۔ جن
اقوام نے
اللہ تعالیٰ
کی بات مان لی،
ان پر اللہ
تعالیٰ نے اس
دنیامیں
سرفرازعطا کی
اور انہیں اس
دنیا میں سپر
پاور کا درجہ
عطا کیا۔ ان
اقوام میں سیدنا
موسیٰ، سلیمان
اور عیسیٰ
اور محمد علیہم
الصلوۃ
السلام
کے پیروکار
شامل ہیں۔ اس
کے برعکس جن
اقوام نے
انکار کی روش
اختیار کی،
ان کو دنیا میں
سزا دی گئی۔ ان کی
مثال سیدنا
نوح، ہود،
صالح، شعیب
علیہم الصلوۃ
السلام کی
اقوام ہیں۔
اللہ
تعالیٰ نے
آخرت کے تصور
کو بیان کرنے
کے لئے اسی پر
بس نہیں کی
بلکہ اس نے
حضرت ابراہیم
علیہ الصلوۃ
والسلام کی
اولاد کو
آخرت کے تصور
کا زندہ
نمونہ بنا دیا
ہے۔ اولاد
ابراہیم کی
دو شاخوں بنی
اسرائیل اور
بنی اسماعیل
کے ساتھ بحیثیت
قوم دنیا میں
وہ معاملہ کیا
گیا جو وہ سب
کے ساتھ آخرت
میں بحیثیت
فرد کیا جائے
گا۔ اللہ
تعالیٰ نے
پہلے بنی
اسرائیل کا
انتخاب کیا ۔
جب تک بنی
اسرائیل اس
کے احکام پر
چلتے رہے وہ دنیا
کی سب سے بڑی
قوت بن کر رہے۔
تمام اقوام
ان کے زیر نگیں
رہیں۔ جب
انہوں نے
برائی کی راہ
اختیار کی ان
کو دنیا میں
بھرپور سزا
ملی۔ ان پر ایسے
حملہ آور
مسلط کئے گئے
جنہوں نے ان
کے مردوں کا
قتل عام کیا
اور عورتوں
اور بچوں کو
غلام بنا
ڈالا۔ یہی
معاملہ بنی
اسماعیل کے
ساتھ ہوا۔ جب
انہوں نے
اللہ تعالیٰ
کے رسول محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کا
ساتھ دیا اور
محض پندرہ بیس
سال کے عرصے میں انہیں
بلوچستان سے
لے کر مراکش
تک کے علاقے کی
سلطنت عطا کی
گئی۔ لیکن جب
انہوں نے
اللہ تعالیٰ
کی نافرمانی
کی تو ان پر
تاتاریوں،
صلیبیوں اور
پھر مغربی
اقوام کو
مسلط کر دیا گیا اور
انہیں غلامی
کی سزا دی گئی۔
کئی مرتبہ ان
پر ایک دوسرے
کی تلواروں
کے ذریعے قتل
عام کی سزا
مسلط کی گئی۔
اللہ
تعالیٰ نے ان
اقوام کی تاریخ
کو بھی مذہبی
اور غیر مذہبی
دونوں ذرائع
سے محفوظ کردیا
ہے۔ جو
چاہے ان
اقوام کی تاریخ
سے یہ سمجھ لے
کہ جزا و سزا
کا یہ معاملہ
اس کے ساتھ بھی
ہونے والا ہے
اور جو چاہے
اس سے منہ موڑ
کر آخری فیصلے
کا انتظار
کرے۔
محمد
مبشر نذیر
April 2006
|
||||
|
سفر
نامے روانگی
برائے سعودی
عرب جدہ
مکہ جبل
نور اور غار
حرا مکہ کے دیگر
تاریخی
مقامات سفر
حج سفر ہجرت مدینہ مدینہ
کے تاریخی
مقامات بدر احد خندق طائف جازان،
ابہا اور
فیفا
دمام،
الخبر اور
بحرین کاز وے خیبر،
مدائن صالح
اور تبوک روانگی
برائے اردن پیٹرا جنگ
موتہ اور ڈیڈ
سی مادبہ، جبل
نیبو اور
بپتسمہ سائٹ عقبہ مصر
کا بحری سفر جزیرہ
نما سینا قاہرہ اسکندریہ مصر
سے سعودی عرب
براستہ اردن
مذہبی
معاملات کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص دیباچہ مقدمہ حصہ
اول: تعارف باب 1:
تعارف باب 2:
البیان باب 3:
اسلامی
قانون کا علم حصہ
دوم: کتاب
اللہ باب 4:
قرآن کی زبان
باب 5:
خاص اور عام باب 6:
ناسخ و منسوخ
احکامات حصہ سوم: سنت
باب 7:
اللہ اور اس
کے رسول کے
احکامات کو
قبول کرنے کی
ذمہ داری باب 8:
اللہ اور اس
کے رسول کی
بیان کردہ
ممانعتیں باب 9:
روایات باب 10:
خبر واحد حصہ چہارم:
اجماع،
قیاس،
اجتہاد اور
اختلاف رائے
باب 11:
اجماع باب 12:
قیاس باب13
:
اجتہاد باب 14:
اختلاف رائے ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ | دین کا
مطالعہ
معروضی
طریقے پر
کیجیے | رہبانیت | دوہرے
معیارات | فارم
اور اسپرٹ | دین میں
اضافے | گنیش جی
کا جلوس | صوفیاء
کی دعوتی
حکمت عملی | عقل
اور عشق | اسلام نے
غلامی کو ایک
دم ختم کیوں
نہ کیا؟ | سورہ
توبہ کے شروع
میں بسم اللہ
کیوں نہیں ہے
؟ | کیا
رسولوں پر
ایمان ضروری
ہے؟
| مکہ
اور مدینہ حرم
کیوں کہلاتے
ہیں؟ | مرد
کا وراثت میں
حصہ دوگنا
کیوں ہے؟ | متشابہات
کیا ہیں؟ | عقائد
و نظریات الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات الحاد کی
تعریف یورپ
میں الحاد کی
تحریک مسلم
معاشروں میں
الحاد کا فروغ مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
الحاد کے
اثرات کائنات:
خدا کی ایک
نشانی | Quranic Concept of Human Life Cycle | A Dialogue with Atheism | کیا
عقل کے ذریعے
خدا کی پہچان
ممکن ہے؟ | کیا آخرت
کا عقیدہ
معقولیت
رکھتا ہے؟ | خدا کے
جسم سے کیا
مراد ہے؟ | خدا
نظر کیوں
نہیں آتا؟ | تقدیر کا
مسئلہ؟ بعض
لوگ خدا کے
منکر کیوں
ہیں؟ | محمد
رسول اللہ کی رسالت
کا ثبوت کیا
ہے؟ | Empirical Evidence of God’s Accountability | معاشرتی
معاملات اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز | دین دار
افراد کے لئے
معاش اور
روزگار کے
مسائل | موٹر وے
کی ٹریفک | جنریشن
گیپ | ساس اور
بہو کا مسئلہ | ہماری
شخصیت اپنی
شخصیت اور کردار
کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ مایوسی کی تعریف مایوسی
کی اقسام مایوسی
کی وجوہات مایوسی
دور کرنے کے
لئے چند
تجاویز
بزرگوں
کی کرامات یا
ان کا کردار سبز یا
نیلا | مشکل
پسندی | اختلاف
رائے کی صورت
میں ہمارا
رویہ | سیکس کے
بارے میں
متضاد رویے | تکبر کے
اسٹائل | انسان کا
اپنی شخصیت
پر کنٹرول | علماء
کی زبان | جذبہ حسد
اور جدید
امتحانی
طریقہ | فرشتے،
جانور اور
انسان | شیطانی
قوتوں کا
مقابلہ کیسے
کیا جائے؟ | اسلام
اور دور جدید اسلام
اور دور حاضر
میں وقوع
پذیر ہونے
والی تبدیلیاں دیباچہ معاشرے
میں تبدیلی
کا عمل انسانی
نفسیات اور
طرز فکر میں تبدیلی معاشرتی
اور ثقافتی
تبدیلی سیاسی
تبدیلی معاشی
اور تکنیکی
تبدیلی دور
جدید کی
تبدیلیاں
اور ہمارا رد
عمل دور
جدید میں دعوت
دین کا طریق
کار دعوت دین کی
اہمیت داعی
اور اس کی
صفات
دعوت دین
کی منصوبہ
بندی دعوتی
پیغام کی
تیاری اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا
حقیقت | مسلم
دنیا میں
علمی و
تحقیقی
رجحانات | دور
جدید کی سازش | ہم
اسلام نافذ
کیوں نہ کر
سکے؟ | امت
مسلمہ زوال پذیر
کیوں ہے؟ | اقوام
عالم کو مسلمانوں
سے ہمدردی
کیوں نہیں؟ | مذہب
کی دعوت کے
لئے کرنے کا
سب سے بڑا
کام؟ | مولوی
اور دور جدید |
||||
|
The content of this website is copyright protected ©
Mubashir Nazir. All rights expressly reserved. The material can be
republished with permission of the author. |