بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

(اردو ترجمہ و تلخیص)

 

کتاب کو  ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے (سائز 6MB)

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باب 13:  اجتہاد

سائل: آپ نے جو کچھ بیان کیا، اس کے علاوہ اجتہاد کرنے کے جواز میں کیا آپ کے پاس اور کوئی دلیل موجود ہے؟

شافعی: جی ہاں۔ ہم اللہ تعالی کے اس ارشاد سے استدلال کرتے ہیں:

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۔

تم جہاں سے بھی نکلو، اپنا منہ مسجد الحرام کی سمت پھیر دو اور جہاں کہیں بھی تم ہو، اپنا منہ اسی کی طرف کر لو۔ (البقرہ2:150 )

سائل: لفظ "شَطرَ" سے کیا مراد ہے؟

شافعی: آپ اسے شاعر کے اس شعر میں دیکھ سکتے ہیں:

إن العسيبَ بها داءٌ مُخامِرُها                            فشَطْرَها بَصَرُ العَينين مَسجُورُ

"جب مصیبت کی گھڑی آ پہنچی تو ان کی آنکھیں اس کی "طرف" دیکھتی رہ گئیں۔"

جو شخص مسجد الحرام کی طرف رخ (کر کے نماز ادا) کرنا چاہتا ہے اور اس کا ملک مسجد الحرام سے دور ہے تو اسے دلائل کے ذریعے قبلے کا صحیح رخ متعین کرنے کے لئے اجتہاد کرنا چاہیے۔ جو شخص بھی قبلے کی طرف رخ کرنے کا مکلف ہو، اور وہ یہ نہ جانتا ہو کہ وہ صحیح سمت میں رخ کر رہا ہے یا غلط سمت میں تو وہ ان دلائل کی بنیاد پر رخ متعین کر سکتا ہے جو اس کے علم میں ہیں (جیسے ستارے یا قطب نما وغیرہ)۔ اس طرح دوسرا اپنے علم کے مطابق دلائل سے یہ رخ متعین کر سکتا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ دونوں میں رخ کے تعین کے بارے میں اختلاف رائے ہو جائے۔

سائل: اگر اس معاملے میں، میں آپ سے اتفاق کر لوں تو مجھے دیگر معاملات میں بھی آپ سے اتفاق کرنا پڑے گا۔

شافعی: آپ جو رائے بھی رکھنا چاہیں، رکھ سکتے ہیں۔

سائل: میری رائے یہ ہے کہ یہ (اختلاف رائے) درست نہیں ہے۔

شافعی: فرض کر لیجیے کہ آپ اور میں اس سڑک کے بارے میں جانتے ہیں (کہ یہ کہاں جا رہی ہے۔) میں سمجھتا ہوں کہ قبلہ اسی سڑک کے رخ پر ہے اور آپ اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اس صورت میں کون کس کی رائے کی پیروی کرے گا؟

سائل: اس صورت میں کسی پر لازم نہیں ہے کہ وہ دوسرے کی پیروی کرے۔

شافعی: تو پھر ہر ایک کو کیا کرنا چاہیے؟

سائل: اگر میں یہ کہوں کہ جب تک قبلے کا بالکل درست تعین نہ ہو جائے، ان دونوں پر نماز کی ادائیگی ضروری نہیں ہے۔ وہ دونوں کبھی بھی کسی غائب چیز کا بالکل درست تعین تو کرنے سے رہے۔ اب یا تو ان سے نماز کی ذمہ داری ہٹا لی جائے یا پھر قبلے کے تعین کی۔ اس صورت میں وہ جس طرف چاہے منہ کر کے نماز ادا کریں۔ میں ان دونوں میں سے کسی رائے کا قائل نہیں ہوں۔ میں جس رائے کو درست سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص اپنی رائے کے مطابق نماز ادا کرے اور وہ دوسرے کی رائے پر عمل کرنے کا مکلف نہیں ہے۔ یا پھر میں یہ رائے رکھ سکتا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک صحیح تعین کر لینے کی صورت میں تو ظاہری اور مخفی دونوں قسم کی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا پابند ہو گا لیکن غلطی کی صورت میں وہ مخفی معلومات کا پابند نہ ہو گا البتہ ظاہری معلومات کا پابند رہے گا۔

شافعی: جو آپ نے فرمایا، یہی آپ کے نقطہ نظر کے خلاف دلیل ہے۔ آپ نے ظاہری اور مخفی معلومات میں فرق کیا ہے۔ اسی بات پر آپ نے ہماری بات کا انکار کیا تھا اور یہ فرمایا تھا، "اگر وہ اختلاف کریں گے تو ان میں سے ایک تو بہرحال غلطی پر ہو گا۔"

سائل: صحیح۔

شافعی: آپ نے یہ جانتے ہوئے کہ ان میں سے ایک غلطی پر ہو گا، پھر بھی آپ نے انہیں نماز پڑھنے کی اجازت دی۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ دونوں ہی غلطی پر ہوں۔ میں اصرار کرتا ہوں کہ یہی بات گواہیوں اور قیاس کے معاملے میں بھی درست ہے (کہ فیصلہ ظاہری معلومات کی بنیاد پر ہو گا۔)

سائل: میری رائے یہ ہے کہ اس غلطی سے بچنا تو بہرحال ناممکن ہے۔ وہ جان بوجھ کر غلطی تو نہیں کر رہے۔

شافعی: اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

‏لا تقتلوا الصيد وأنتم حُرُمٌ، ومن قتله منكم متعمداً، فجزاءٌ مثلُ ما قتل من النَّعَم، يحكمُ به ذوا عدل منكم هدياً بالغَ الكعبة ۔

احرام کی حالت میں شکار مت کرو۔ اور اگر جان بوجھ کر کوئی ایسا کر بیٹھے تو جو جانور اس نے مارا ہے، اسی کے ہم پلہ جانور اسے مویشیوں میں سے قربان کرنا ہو گا جس کا فیصلہ تم میں سے دو اچھے کردار والے آدمی کریں گے اور یہ نذر کعبہ تک پہنچائی جائے گی۔ (المائدہ 5:95)

ان کے معاملے میں "ہم پلہ جانور" قربان کرنے کا حکم ہے۔ ہم پلہ ہونے کا فیصلہ دو اچھے کردار کے افراد کو کرنا ہے۔ جب (حالت احرام میں) شکار کر کے کھانے کو حرام قرار دیا گیا تو لازم ہے کہ کفارہ ایسے مویشی سے ادا کیا جائے جو شکار کئے گئے جانور سے جسمانی طور پر مشابہت رکھتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض افراد نے اس سے متعلق فیصلے کئے۔ انہوں نے لومڑی کو مارنے کے بدلے دنبہ، ہرن کے بدلے بکری، خرگوش کے بدلے ایک سال سے کم عمر بکری کا بچہ، اور گلہری کے بدلے چار ماہ سے کم عمر کا بکری کا بچہ قربان کرنے کا حکم دیا تھا۔

          فقہی علوم کے ذخیرے سے پتہ چلتا ہے کہ ان صحابہ نے جانور کو ہم پلہ، جسم کی بنیاد پر قرار دیا ہے نہ کہ قیمت کی بنیاد پر۔ اگر وہ قیمت کی بنیاد پر فیصلہ کرتے تو احکام میں فرق واقع ہو جاتا کیونکہ زمانے اور ممالک کے لحاظ سے قیمتیں بدلتی رہتی ہیں جبکہ احکام کو ایک جیسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ گلہری اور چار ماہ کا بکری کا بچہ جسم میں بھی ایک جیسے تو نہیں، البتہ قریب ترین ضرور ہیں۔ اس لئے اس کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح ہرن اور بکری میں ایک دوسرے کی مماثلت کے لحاظ سے فیصلہ کیا گیا البتہ ان کا فرق گلہری اور چار ماہ کے بکری کے بچے کی نسبت کم ہے۔

          جسمانی مماثلت کا معاملہ چوپاؤں کے شکار میں ہے، پرندوں کے شکار میں نہیں۔ یہ کفارہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق دیا جائے گا اور وہ یہ ہے کہ: شکار کو دیکھا جائے گا اور جو مویشی بھی جسمانی طور پر اس کے قریب ترین ہو، اسے کفارے کے طور پر قربان کیا جائے گا۔ اگر ان کے سائز میں کچھ فرق ہو تو قریب ترین مویشی کو قربان کیا جائے گا جیسا کہ لومڑی بکری سے کچھ بڑی ہوتی ہے، اس لئے اس کے بدلے کفارے کو بڑھا کر دنبہ قربان کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح گلہری ایک سال کی بکری سے چھوٹی ہوتی ہے تو اس کے بدلے کفارے کو کم کر کے چار ماہ کی بکری کو قربان کرنے کا فیصلہ دیا گیا۔

          جہاں تک پرندوں کا تعلق ہے، ان کی مختلف خلقت کی وجہ سے ان کے مثل کوئی مویشی نہیں ہو سکتا۔ حدیث اور قیاس کی بنیاد پر ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اگر انسان کسی ایسے پرندے کو مار ڈالے جسے کھانا اس کے لئے جائز نہ ہو تو اس کی قیمت مالک کو ادا کرنا ضروری ہے۔ اہل علم کا اس معاملے میں اتفاق ہے کہ قیمت ادا کرنے میں قیمت کا تعین اسی جگہ اور وقت کے اعتبار سے کیا جائے گا، جہاں اور جب اس پرندے کو مارا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف زمانوں اور شہروں میں قیمتیں مختلف ہوتی ہیں۔ ایک شہر میں کوئی پرندہ ایک درہم کا بک سکتا ہے اور دوسرے شہر میں اس کی قیمت ایک درہم سے کم بھی ہو سکتی ہے۔

          اسی طرح ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اچھے کردار والے افراد ہی کی گواہی قبول کریں۔ اس سے یہ حکم بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جو اچھے کردار کا نہ ہو، اس کی گواہی قبول نہ کی جائے۔ کسی کی شکل سے یا اس کی باتوں سے تو یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اچھے کردار کا ہے یا نہیں، سچائی کی علامتیں تو اس کے عمل اور کردار میں ہوا کرتی ہیں۔ جب کسی شخص کا مجموعی طور پر کردار اچھا ہو تو اس کی گواہی کو قبول کیا جائے گا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ بعض امور میں اس میں کوئی کمی پائی جاتی ہو کیونکہ کوئی شخص بھی گناہوں سے مکمل طور پر پاک تو نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کے اچھے اور برے اعمال دونوں موجود ہوں تو پھر اجتہاد کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے جس سے اس کے اچھے یا برے کردار کا مالک ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ اس معاملے میں اجتہاد کرنے والوں میں اختلاف رائے بھی ہو سکتا ہے۔

          اگر ایک آدمی کے اچھے اعمال ظاہر ہیں تو ہم اس کی گواہی کو قبول کریں گے۔ اگر کوئی دوسرا جج ہو اور وہ اس کے پوشیدہ گناہوں (یا جرائم) سے آگاہ ہے تو وہ اس کی شہادت کو رد بھی کر سکتا ہے۔ ایک ہی معاملے میں ایک جج نے گواہی قبول کر لی اور دوسرے نے نہ کی۔ یہ اختلاف رائے کی ایک مثال ہے لیکن ہر ایک نے اپنی ذمہ داری احسن انداز میں پوری کر دی ہے۔

سائل: کیا آپ اجتہاد کے جواز میں کوئی حدیث بیان فرمائیں گے؟

شافعی: جی ہاں۔

عبدالعزیز نے یزید بن عبداللہ بن الھاد سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے عمرو بن عاص کے آزاد کردہ غلام ابو قیس سے اور انہوں نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا: "جب کوئی جج صحیح فیصلہ کرے تو اس کے لئے دو اجر ہیں۔ اور جب وہ (صحیح فیصلہ کرنے کی) کوشش کرے لیکن غلطی کر دے تو اس کے لئے ایک اجر ہے۔" (مسلم)

یہ حدیث عبدالعزیز نے ابن الھاد سے، انہوں نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے، انہوں نے ابو سلمۃ سے اور انہوں نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے۔

سائل: یہ تو ایک منفرد روایت ہے۔ اسے بعض اہل علم مسترد کر سکتے ہیں اور وہ اس کے مستند ہونے کا آپ سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔

شافعی: کیا آپ اور میں اسے ثابت کر سکتے ہیں؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: جو اس روایت کو مسترد کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے اس کے ثبوت میں کیا دلائل پیش کئے ہیں۔ ان کا اعتراض روایت کے کس حصے پر ہے؟

سائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کیا صحیح اور غلط اجتہاد کا فرق بیان فرمایا ہے جیسا کہ آپ بیان کرتے ہیں؟

شافعی: اسی میں تو آپ کے نقطہ نظر کے خلاف دلیل ہے۔

سائل: وہ کیسے؟

شافعی: جب نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ ذکر فرمایا کہ ان میں سے ایک جج کا اجر دوسرے کی نسبت زیادہ ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ ثواب اس کے لئے تو نہیں ہوتا جو کوشش ہی نہ کرے یا پھر جان بوجھ کر غلطی کرے۔ جس جج نے اجتہاد میں غلطی کی، اس نے اگر ظاہری معلومات کی بنیاد پر اجتہاد کیا تھا جیسا کہ حکم دیا گیا ہے، تو جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، اس کی غلطی قابل معافی ہے۔ البتہ غلطی سے کسی کو سزا دے دینا قابل معافی نہیں ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس شخص کو بھی غلطی پر ثواب ملے جس نے (صحیح معلومات حاصل کرنے کی) کوشش ہی نہیں کی۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے جو میں نے بیان کی کہ فیصلہ کرنے میں اجتہاد ظاہری معلومات کی بنیاد پر کیا جائے گا نہ کہ مخفی معلومات کی بنیاد پر۔

سائل: اگر اس کو اسی طرح لے لیا جائے جیسا کہ آپ کی رائے ہے تو پھر "غلط" اور "صحیح" کا کیا مطلب ہے؟

شافعی: یہ اسی طرح ہے جیسا کہ قبلے کی طرف رخ کرنے سے متعلق میں بیان کر چکا ہوں۔ جو شخص کعبے کو دیکھ رہا ہے، وہ تو اس کا بالکل صحیح رخ متعین کر لے گا لیکن جس کی نظروں سے کعبہ اوجھل ہے، وہ خواہ قریب ہو یا دور، اس کا رخ متعین کرنے کی کوشش کرے گا۔ کوئی اس رخ کو بالکل درست متعین کر لے گا اور کوئی اس میں غلطی کر بیٹھے گا کیونکہ رخ متعین کرنا ایسا کام ہے جس میں صحیح یا غلط ہونے کا امکان ہے۔ جب آپ (کسی کی رائے کے) "صحیح" یا "غلط" ہونے کی بات کریں گے تو آپ یہی کہیں گے کہ "فلاں درست رائے تک پہنچ گیا اور اس نے کوئی غلطی نہیں کی اور فلاں نے غلطی کر دی اگرچہ اس نے درست رائے معلوم کرنے کی کوشش کی۔"

سائل: یہ اسی طرح ہے۔ کیا آپ اجتہاد کے صحیح ہونے سے کوئی اور مطلب بھی مراد لیتے ہیں؟

شافعی: جی ہاں۔ ہر شخص پر یہی لازم ہے کہ وہ اسی معاملے میں اجتہاد کرے جو اس کے علم میں نہ ہو۔ جب اس نے یہ کوشش کر لی تو اس نے وہ کر دیا جس کا وہ مکلف تھا۔ وہ صحیح رائے تک پہنچنے کا فیصلہ ظاہری معلومات کی بنیاد پر کرے گا کیونکہ مخفی امور کو تو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ قبلے کے تعین کی مثال میں اختلاف کرنے والے غلطی پر ہیں اگر وہ قبلے کو آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اختلاف کریں۔ لیکن اگر کسی اور جگہ پر وہ اجتہاد کر رہے ہیں (اور مختلف معلومات کے سبب اختلاف کر بیٹھیں) تو وہ (اس اختلاف کے باوجود) درست ہیں (کیونکہ انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی۔) یہی بات گواہوں کی مثال پر بھی صادق آتی ہے۔

سائل: کیا آپ کوئی اور مثال دیں گے؟

شافعی: میں نہیں سمجھتا کہ اس سے زیادہ کوئی مضبوط مثال اور ہو گی۔

سائل: پھر بھی کوئی اور مثال دے دیجیے۔

شافعی: اللہ تعالی نے ہمیں دو، تین یا چار خواتین سے نکاح کر کے یا لونڈیوں سے ملکیت کے تعلق میں ازدواجی تعلقات کو جائز قرار دیا ہے اور اس نے ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے شادی کو حرام قرار دیا ہے۔

سائل: بالکل۔

شافعی: اگر ایک شخص نے لونڈی خریدی اور (حیض آنے کے بعد یہ متعین ہو گیا کہ) اسے حمل نہیں ہے تو کیا اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا جائز ہو گا؟

سائل: جی ہاں۔

شافعی: اس نے ازدواجی تعلقات قائم کیے اور پھر اسے پتہ چلا کہ وہ تو درحقیقت اس کی بہن تھی۔ اب آپ کیا کہیں گے؟

سائل: جب تک اسے یہ علم نہ تھا، وہ خاتون اس کے لئے حلال تھی، جب اسے پتہ چل گیا تو اب وہ اس کے لئے حرام ہو گئی ہے۔

شافعی: اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ہی عورت سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا اس شخص کے لئے حلال بھی ہے اور حرام بھی ہے اور اس کا قصور وار نہ تو مرد کو ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی عورت کو۔

سائل: مخفی معلومات کے مطابق تو وہ خاتون شروع سے آخر تک اس کی بہن تھی لیکن ظاہری معلومات کی روشنی میں وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال تھی جب تک اسے اس کا علم نہ تھا۔ جیسے ہی اسے پتہ چل گیا تو وہ اس پر حرام ہو گئی۔ دوسرے اہل علم کہہ سکتے ہیں کہ اگرچہ (بہن سے ازدواجی تعلقات قائم کر کے) اس نے (نادانستگی میں) ایک گناہ کا کام کر لیا لیکن اس گناہ پر سزا نہیں دی جائے گی۔

شافعی: وہ جو بھی رائے رکھتے ہوں، (یہ بات تو طے ہے کہ) انہوں نے ظاہری اور پوشیدہ معلومات میں بہرحال فرق کیا ہے۔ ایسا شخص جس نے ظاہری معلومات کی بنیاد پر اجتہاد کیا، اگرچہ اس نے ان کے نزدیک غلطی بھی کی، پھر بھی وہ اسے قابل سزا قرار نہیں دیتے۔ جان بوجھ کر غلطی کرنے والے کے معاملے میں وہ سزا کو معاف نہیں کرتے۔

سائل: بالکل صحیح۔

شافعی: یہی مثال اس شخص کے بارے میں بھی دی جا سکتی ہے جس نے کسی ایسی خاتون سے لا علمی میں نکاح کر لیا یا پھر چوتھی بیوی کی وفات سے پہلے لاعلمی میں (یہ سمجھ کر پانچویں سے شادی کر لی کہ چار بیویوں میں سے کوئی فوت ہو گئی ہے جبکہ وہ زندہ تھی۔) ایسی اور بھی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

سائل: جی ہاں۔ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اجتہاد کسی ایسی چیز کے بارے میں دلائل سے کیا جائے گا جو معلوم نہیں ہے۔ اجتہاد کی کوشش میں اختلاف رائے ہونا ممکن ہے۔ (اب یہ بھی بتا دیجیے کہ) اجتہاد کیا کیسے جائے گا؟

شافعی: اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو عقل دے کر ان پر احسان کیا ہے جس کی بنیاد پر وہ مختلف آراء میں فرق کر سکتے ہیں۔ اس نے ان کی راہنمائی واضح آیات اور دیگر دلائل کے ذریعے کی ہے۔

سائل: اس کی کوئی مثال بیان کر دیجیے۔

شافعی: اللہ تعالی نے بیت الحرام کو مقرر کیا ہے اور لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر یہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہو تو عین اس کی سمت میں رخ کر کے (نماز ادا کریں) اور اگر ان کی آنکھوں نے اوجھل ہو تو اس کی سمت کا تعین کرنے کی کوشش کریں۔ اس نے ان کے لئے آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، سمندر، پہاڑ اور ہواؤں کو تخلیق کیا ہے۔ اس کا ارشاد ہے:

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۔

وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ (الانعام 6:97)

وَعَلامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ۔

اس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامات رکھ دیں اور ستاروں کے ذریعے بھی وہ راستہ معلوم کرتے ہیں۔ (النحل 16:16)

اللہ تعالی نے انہیں بتایا کہ وہ ستاروں اور دیگر علامات کی مدد سے راستہ معلوم کریں اور ان علامات کے ذریعے اس کی عطا کردہ مدد سے قبلے کی سمت کو متعین کریں۔ جو لوگ کعبہ کو دیکھ رہے ہوں، وہ تو دیکھ کر نماز پڑھ لیں اور جو نہ دیکھ سکتے ہوں تو وہ اس کا تعین ان لوگوں سے پوچھ کر کر لیں جو کعبہ کو دیکھ رہے ہوں (یا اس کی سمت کو جانتے ہوں) یا پھر ان علامات کے ذریعے قبلے کے تعین کی کوشش کریں جن سے راستہ معلوم کیا جاتا ہے خواہ وہ کوئی پہاڑ ہو جس سے سمت پہچانی جائے یا ستارے ہوں جن سے شمال و جنوب کا پتہ چل جائے یا سورج ہو جس کے طلوع و غروب کی سمتیں معلوم و معروف ہیں۔ (ان علامات سے) رات کو نماز پڑھنے والا بھی سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ اسی طرح سمندر اور دریا بھی علامتیں ہیں (جن سے سمت کا تعین ہو سکتا ہے۔)

          انسانوں کو اس بات کا مکلف کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی تخلیق کردہ عقل کے ذریعے اس فرض کو ادا کریں جو قبلے کی سمت کے تعین کے سلسلے میں ان پر عائد کیا گیا ہے۔ اگر وہ اللہ کی مدد  اور توفیق کے بعد، اپنے علم و عقل کے دلائل کے ذریعے یہ کوشش کریں گے تو وہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوں گے۔ اللہ تعالی نے مسجد الحرام کی طرف منہ کر کے نماز کی ادائیگی کی ذمہ داری کو واضح کر دیا ہے۔ یہ ذمہ داری اس سمت کی طرف منہ کر کے ادا ہو جاتی ہے۔ عین کعبے کی طرف (ایک ڈگری کے فرق کے بغیر) منہ کرنے کا مطالبہ بہرحال نہیں کیا گیا۔ اگر بالکل درست سمت کا تعین کرنا ممکن نہ ہو جیسا کہ کعبے کو آنکھوں سے دیکھنے والے کر سکتے ہیں تو یہ جائز نہیں کہ انسان بغیر کسی دلیل (اور قبلے کے تعین کی کوشش) کے جدھر جی چاہے منہ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دے۔

استحسان

سائل: (آپ نے جو کچھ فرمایا) مجھے اس سے اتفاق ہے۔ (ہاں ایک بات ہے اور وہ یہ کہ) اجتہاد تو صرف کسی مخصوص معاملے میں ہو گا۔ یہ معاملہ کوئی مخصوص نوعیت کا معاملہ ہی ہونا چاہیے جس کا تعین دلائل یا کسی اور مخصوص چیز سے مشابہت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ استحسان کسی شخص کے لئے اس وقت کرنا جائز نہیں جب یہ کتاب و سنت سے حاصل کردہ معلومات کے خلاف ہو۔ استحسان کے ذریعے ایک مجتھد ان معلومات کے معانی تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جیسا کہ اگر بیت اللہ نظروں سے اوجھل ہو تو ایک شخص اس کی سمت کو جاننے کی کوشش کرتا ہے یا قیاس کے ذریعے اسے متعین کرتا ہے۔ کسی کے لئے سوائے اجتہاد کے اور کسی ذریعے سے کوئی بات کہنا درست نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ نے بیان فرمایا کہ اجتہاد حق بات تک پہنچنے کی کوشش کا نام ہے۔ کیا آپ اسے درست سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص کہے، "قیاس کے بغیر استحسان کرو۔"

شافعی: میرے نزدیک یہ بات کسی کے لئے درست نہیں۔ صرف اہل علم ہی (دینی معاملات میں) کوئی رائے دے سکتے ہیں۔ یہ عام لوگوں کے لئے درست نہیں۔ اہل علم بھی کوئی بات (کتاب و سنت سے حاصل کردہ) معلومات کی بنیاد پر ہی کہتے ہیں۔ اگر انہیں (کتاب و سنت کی) معلومات نہ مل سکیں تو وہ ان کے کسی حکم پر قیاس کریں گے۔

          اگر قیاس کو ترک کرنا درست ہو تو اہل علم سے ہٹ کر کوئی بھی صاحب عقل استحسان کے ذریعے کسی معاملے میں ایسی بات کہہ سکتا ہے جس میں (کتاب و سنت کا) کوئی حکم نہ ہو۔ بغیر (کتاب و سنت کے) حکم کے اور بغیر قیاس کے (دینی معاملات میں) کوئی بات کہہ دینا قیاس کے اصولوں کے مطابق جائز نہیں۔ یہ بات میں کتاب اللہ اور سنت رسول کے ابواب میں بیان کر چکا ہوں۔

نوٹ: استحسان دو نقطہ ہائے نظر میں سے ایک کو پسند کرنے کا نام ہے۔ امام شافعی علیہ الرحمۃ کے نزدیک عام آدمی کے لئے یہ ایک غلط طرز عمل ہے۔ دو نقطہ ہائے نظر میں سے ایک کو ترجیح دینا اہل علم اور ماہرین کا کام ہے۔ عام شخص کو ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس معاملے میں ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔

سائل: جہاں تک کتاب و سنت کا تعلق ہے تو وہ تو اجتہاد کے حق میں ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خود اجتہاد کا حکم دیا۔ اجتہاد کسی (نامعلوم) حکم کو معلوم کرنے کا نام ہے اور نامعلوم حکم کو صرف دلائل کے ذریعے ہی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہ دلائل قیاس ہی کے ذریعے قائم کئے جا سکتے ہیں۔ کیا آپ وضاحت فرمائیں گے کہ قیاس اور اس کے دلائل سے کیا مراد ہے؟

شافعی: کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ اگر ایک شخص (غلطی سے) دوسرے کے غلام کو زخمی کر دے تو (چونکہ اس نے دوسرے کا نقصان کیا ہے اس وجہ سے) اہل علم یہ فیصلہ دیتے ہیں کہ ایک ایسا (تیسرا) شخص مقرر کیا جائے جو نقصان کا تعین کرے خواہ زخمی ہونے والا غلام مرد ہو یا عورت۔ وہ شخص مارکیٹ کے ریٹ کے مطابق نقصان کی قیمت کا تعین کرے گا۔ جس شخص کو مقرر کیا جائے گا وہ وہی ہو گا جو مارکیٹ کے معاملات سے باخبر ہو گا۔

          کسی ایسے اچھے کردار والے صاحب علم سے، جو مارکیٹ کے معاملات کو نہ جانتا ہو، یہ بات نہیں پوچھی جائے گی کہ اس غلام یا کنیز کی قیمت کیا تھی؟ یا اس غلام کی روزانہ اجرت کیا تھی؟ اگر وہ مارکیٹ کے ریٹ سے بے خبری ہی میں قیمت کا تعین کر دے تو یہ اندازہ غلط ہو گا۔

          جب ان معمولی معاملات میں جس میں مال کی قیمت بہت کم ہے اور غلطی کا ہو جانا معمول کی بات ہے، (اتنی احتیاط کی ضرورت ہے کہ کسی مارکیٹ کا علم رکھنے والے کو متعین کیا جائے تو پھر) اللہ کے حلال و حرام کا معاملہ تو اس سے بڑھ کر ہے کہ اس میں غلط اندازوں یا (بغیر علم کے) استحسان کی بنیاد پر کچھ کہا جائے۔ (ایسا) استحسان تو ذہنی تعیش کا نام ہے۔

اجتہاد و قیاس کا طریق کار

ایسے معاملات میں صرف ایسے عالم کو اپنی رائے پیش کرنی چاہیے جو (کتاب و سنت کے) احکام سے اچھی طرح واقف ہو اور ان احکام سے مشابہت تلاش کرنے میں عقل سے کام لینا جانتا ہو۔ ایسے عالم کو صرف علم کی بنیاد پر ہی بات کرنی چاہیے۔ علم (کتاب و سنت کے) کسی حکم سے پرصحیح دلائل قائم کرتے ہوئے قیاس کرنے کی بنیاد پر حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک صاحب علم کو یا تو (کتاب و سنت کے) احکام کی پیروی کرنی چاہیے یا پھر ان پر قیاس کرنا چاہیے۔ یہ ایسا ہی معاملہ ہے کہ بیت اللہ کو آنکھوں سے دیکھ کر اس کی طرف رخ کیا جائے یا پھر دلائل کے ذریعے اس کی سمت کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے۔

          اگر (دینی علوم کا) ایک عالم بغیر (قرآن و سنت کے) کسی حکم کے یا قیاس کے (دین سے متعلق) کوئی بات کہے تو اس کا گناہ اس شخص کی بات سے زیادہ ہو گا جو کہ عالم نہیں ہے اگر اس غیر عالم کو بھی دینی امور میں گفتگو کی اجازت دی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے کے بعد اللہ تعالی نے کسی کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ دینی علم کے بارے میں کوئی رائے پیش کرے سوائے اس کے کہ وہ علم کی بنیاد پر ہو اور علم کی بنیاد کتاب، سنت، اجماع اور جیسا کہ میں نے عرض کیا، ان کے کسی حکم پر قیاس ہے۔

          اس شخص کے سوا کسی اور کو قیاس نہیں کرنا چاہیے جو قیاس کی بنیادوں سے پوری طرح واقف ہے۔ قیاس کی بنیاد کتاب اللہ کے احکام، اس کے فرائض، اس میں سکھائے گئے آداب، اس کے ناسخ و منسوخ احکام، اس کے عمومی اور خصوصی احکام، اور اس کی دی ہوئی ہدایات ہیں۔ کتاب اللہ کے کسی حکم کی اگر تاویل و توجیہ کی ضرورت ہو تو ایسا سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اگر سنت نہ ملے تو مسلمانوں کے اجماع کی روشنی میں ورنہ قیاس کے ذریعے۔

          کوئی شخص قیاس کرنے کا اہل اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ وہ سنت، اسلاف کے نقطہ ہائے نظر، لوگوں کے اجماع، ان کے اختلاف، اور عربی زبان سے پوری طرح واقف نہ ہو۔ قیاس کرنے والے کو صحیح العقل ہونا چاہیے اور ایسا اس وقت ہو گا جب وہ بظاہر مشابہ امور میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ ثبوت کے بغیر جلد بازی میں رائے قائم کرنے والا نہ ہو۔ وہ اپنے سے مختلف آراء کے سننے سے دور بھاگنے والا نہ ہو، کیونکہ مختلف آراء سننے سے انسان اپنی (رائے میں) غلطی سے آگاہ ہوتا ہے اور اگر اس کی رائے صحیح ہو تو (مختلف رائے اور اس کے کمزور دلائل کو جاننے سے) انسان کی رائے میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ اس معاملے میں انسان کو آخری درجے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے ذہن میں انصاف سے کام لیتے ہوئے (ہر قسم کے تعصب سے بچنا چاہیے۔) اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنا نقطہ نظر کس بنیاد پر قائم کر رہا ہے اور دوسری رائے کو وہ کس بنیاد پر ترک کر رہا ہے۔

           انسان کا جھکاؤ ایک رائے کی طرف زیادہ نہیں ہونا چاہیے یہاں تک کہ اسے یہ علم نہ ہو جائے کہ وہ جو رائے اختیار کرنے جا رہا ہے وہ کس وجہ سے دوسری رائے (جسے وہ ترک کر رہا ہے) سے زیادہ مضبوط ہے۔ جو شخص پوری عقل رکھتا ہو لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ علم نہ رکھتا ہو، اس کے لئے قیاس کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو نہیں جانتا جس کے بارے میں وہ قیاس کرنے چلا ہے۔ یہ معاملہ اسی طرح ہے کہ ایک صاحب عقل قانونی امور کے ماہر شخص کو بھی اشیاء کی قیمتوں کے بارے میں رائے نہیں دینی چاہیے اگر وہ مارکیٹ (کی قیمتوں) سے بے خبر ہو۔

          جیسا کہ میں نے عرض کیا اگر وہ کسی بات کو سمجھے بغیر محض یادداشت کے سہارے محفوظ کئے ہوئے ہے تو اسے بھی قیاس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ معانی سے واقف نہیں ہے۔ اگر ایسا شخص جس کی یادداشت اچھی ہے لیکن اس کی عقل میں کمی ہے یا وہ عربی زبان سے اچھی طرح واقف نہیں تو اس کے لئے قیاس کا استعمال بھی درست نہیں کیونکہ وہ ان آلات (Tools) (یعنی عقل اور عربی زبان) کو صحیح طرح استعمال نہیں کر سکتا جن کی قیاس میں ضرورت پڑتی ہے۔

          ہمارا نقطہ نظر یہ نہیں ہے کہ انسان کبھی قیاس نہ کرے اور صرف (اپنے سے پہلے اہل علم) کی پیروی ہی کرتا رہے۔ اللہ تعالی بہتر جانتا ہے۔

سائل: کیا آپ (قرآن و سنت سے) کچھ مثالیں دیں گے جن پر آپ قیاس کرتے ہیں اور (یہ بیان فرمائیں گے کہ) آپ قیاس کیسے کرتے ہیں؟

شافعی: اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ہر حکم میں اس بات کی دلیل ملتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دیگر احکام سے ہم کوئی بات اخذ کر لیں جو اس سے معانی میں مشابہ ہو۔ اگر کوئی ایسا معاملہ ہے جس میں کوئی صریح حکم نہ ملے تو پھر اس سے مشابہ کسی حکم کی بنیاد پر احکام اخذ کئے جاتے ہیں۔

          قیاس کی کئی اقسام ہیں اور ان سب پر لفظ "قیاس" کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان میں فرق ان میں سے کسی ایک، دو یا چند صورتوں کے منبع و مصدر کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض دوسروں کی نسبت زیادہ واضح ہیں۔

          ان میں سے سب سے زیادہ مضبوط قیاس یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی چھوٹی چیز حرام قرار دیا۔ (اس پر قیاس کرتے ہوئے) کوئی ایسی چیز جو بڑی ہو لیکن اس (حرام) چھوٹی چیز سے مشابہت رکھتی ہو، اسے بھی حرام قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی چھوٹی چیز (کے حلال ہونے کے باعث) اسے اچھا قرار دیا گیا ہے تو جو چیز اس کی نسبت بڑی  ہے (اور وہ قلیل سے مشابہ ہے) تو اسے زیادہ اچھا قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی بڑی چیز جائز ہے تو اس سے چھوٹی چیز کا حلال ہونا تو زیادہ مضبوط دلائل سے ثابت ہو گا۔

سائل: برائے کرم ان میں سے ہر ایک کی کچھ مثالیں دیجیے تا کہ اس کے معنی کی وضاحت ہو سکے۔

شافعی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے:

اللہ تعالی نے مومن کے مال اور جان کو حرام قرار دیا ہے۔ اور اس بات کو بھی حرام قرار دیا ہے کہ مومن کے بارے میں اچھے گمان کے علاوہ کوئی اور (برا گمان) رکھا جائے۔

جب کسی شخص کےبارے میں بدگمانی کو حرام قرار دیا گیا تو بدگمانی سے بڑی ہر (منفی) چیز زیادہ حرام ہو گی جیسا کہ کسی پر تہمت لگانا۔ کسی کے بارے میں یہ برائی جیسے جیسے بڑھتی جائے گی، اس کی حرمت بھی بڑھتی جائے گی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

فمَن يعملْ مثقالَ ذَرَّةٍ خيراً يَرَهُ، ومَن يعملْ مثقالَ ذرَّة شراً يَرَهُ۔

جس نے ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ایک ذرے کے برابر بھی برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا (یعنی اس کا بدلہ پا لے گا۔) (الزلزال 99:7-8)

 کوئی نیکی ایک ذرے سے جتنی زیادہ بڑی ہے تو وہ اتنی ہی قابل تعریف ہے اور جو برائی ایک ذرے سے جتنی زیادہ بڑی ہے وہ اتنی ہی زیادہ قابل تعریف ہے۔

          اسی طرح ہمارے لئے یہ جائز قرار دیا گیا ہے کہ (دوران جنگ) ہم لڑنے والے کفار جن سے ہمارا معاہدہ نہ ہو، انہیں قتل کریں اور ان کا مال لے لیں۔ اس بات کی زیادہ اجازت ہونی چاہیے کہ ہم انہیں قتل کرنے سے کم نقصان پہنچائیں (یعنی زخمی کر کے چھوڑ دیں) یا پھر (پورے مال کی بجائے) تھوڑا مال ان سے چھین لیں۔

          بعض اہل علم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ ان احکامات کے لئے "قیاس" کا لفظ بولنے کو درست نہیں سمجھتے بلکہ وہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالی کے مقرر کردہ حلال و حرام، اس کی تعریف یا مذمت کے معنی میں یہ سب چیزیں داخل ہیں۔ یہ سب بعینہ وہی حکم ہے نہ کہ اس پر قیاس۔

          جو مثالیں میں نے (اوپر) بیان کیں، وہی معاملہ دوسرے احکام کا بھی ہے۔ جو چیز کسی حلال سے مشابہ ہو، وہ حلال ہے اور جو چیز کسی حرام سے مشابہت رکھتی ہے وہ حرام ہے۔ ان اہل علم کے نقطہ نظر کے مطابق لفظ "قیاس" کا اطلاق اسی چیز پر کیا جاتا ہے جس کے بارے میں مشابہت پائی جاتی ہو اور مشابہت اس صورت میں پائی جاتی ہے جب وہ احکام ایک دوسرے سے مختلف تو ہوں لیکن (کسی مشترک خصوصیت کی بنیاد پر) ایک حکم پر دوسرے کو قیاس کر لیا جائے۔ بعض دوسرے اہل علم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جو حکم بھی کتاب و سنت میں صراحت سے بیان نہیں کیا گیا بلکہ ان سے اخذ کیا گیا ہے، وہ قیاس ہے۔

سائل: آپ نے جو مثالیں بیان فرمائیں، ان کے علاوہ مزید مثالیں بیان فرمائیے جن سے قیاس کی مختلف اقسام اور اسباب واضح ہو جائیں۔ ایسی مثالیں دیجیے گا جو عام لوگ سمجھ سکیں۔

شافعی: ان شاء اللہ (ایسی مثالیں ہی دوں گا۔)

پہلی مثال

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

والوالداتُ يُرْضِعْنَ أولادَهُنَّ حَولين كاملين لمن أرادَ أن يتمَّ الرَّضاعةَ وعلى المولودِ له رزقُهنَّ وكِسوتهُنَّ بالمعروف۔

جو یہ ارادہ کرے کہ (بچے کو) پوری مدت تک دودھ پلایا جائے تو مائیں اپنے بچے کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ اس صورت میں باپ کو دستور کے مطابق انہیں روٹی اور کپڑا دینا ہو گا۔ (البقرہ 2:233)

وإن أردتم أن تَسترضعوا أولادَكم، فلا جُناحَ عليكم إذا سَلَّمتم ما آتيتم بالمعروف۔

اگر تمہارا ارادہ اپنی اولاد کو (ماں کے علاوہ) کسی اور عورت سے دودھ پلانے کا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ تم اس کا جو معاوضہ طے کرو، اسے دستور کے مطابق ادا کرو۔ (البقرہ 2:233)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ھند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کو اپنے خاوند ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مال سے اتنی رقم بغیر اجازت لے لینے کی اجازت دی جو دستور کے مطابق انہیں اور ان کی اولاد کے لئے کافی ہو۔

          اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کو دودھ پلوانے اور بچپن کے دیگر اخراجات کی ذمہ داری باپ پر عائد کی گئی ہے۔ چونکہ باپ پر اپنی اولاد (کی کفالت) کی ذمہ داری ہے اس وجہ سے اسے یہ اس وقت تک کرنا چاہیے جب تک کہ اولاد اس قابل نہ ہو جائے کہ وہ اپنی کفالت خود کر سکے۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جب باپ (معذوری یا بڑھاپے کے باعث) ایسی حالت کو پہنچ جائے کہ وہ نہ تو کما سکتا ہو اور نہ ہی اس کے پاس مال ہو تو اس کے روٹی کپڑے (اور دیگر ضروریات) کا خیال رکھنا اس کی اولاد کی ذمہ داری ہے۔

          بچہ باپ سے پیدا ہوتا ہے اور باپ اپنی اولاد کے حقوق میں کوئی کمی نہیں آنے دیتا بالکل اسی طرح اولاد کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے والد سے اس رشتے کے باعث اس کے حقوق میں کوئی کمی نہ آنے دے۔ یہی معاملہ دادا اور اس سے اوپر کے رشتوں (پڑ دادا وغیرہ) میں اور پوتے اور اس سے نیچے کے رشتوں (پڑپوتے وغیرہ) میں ہے۔ (اسی پر قیاس کرتے ہوئے) میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر محتاج کی ذمہ داری اس شخص پر ہے جو کھاتا کماتا ہو اور مالی طور پر مضبوط ہو۔

دوسری مثال

          ایک شخص نے دوسرے شخص کو ایک غلام بھیجا جس (کی صلاحیتوں میں) کوئی خرابی تھی اور اسے دھوکے سے چھپایا گیا۔ یہ خرابی اس وقت ظاہر ہوئی جب اس غلام کو کام پر لگایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس مقدمے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ اس غلام کو پہلے مالک کو واپس کر دیا جائے (اور اس کی پوری قیمت خریدنے والے کو دی جائے)۔ اس نے جو کچھ کما کر دیا وہ خریدنے والے مالک کو دے دیا جائے کیونکہ اس دوران وہی غلام کی ہر چیز کا ذمہ دار تھا۔

          اسی پر استدلال کرتے ہوئے ہم یہ اخذ کرتے ہیں کہ جب (غلام سے) فائدہ اٹھانے کو تجارت میں شامل نہیں کیا گیا اور اسے قیمت کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ جس وقت خریدنے والا غلام سے فائدہ اٹھا رہا تھا، اگر وہ غلام اس وقت فوت ہو جاتا تو یہ نقصان خریدنے والے کا ہوتا (کیونکہ فائدے کی صورت میں فائدہ اسی نے اٹھایا۔) یہ اس وجہ سے ہوتا کہ (غلام جب تک اس کی ملکیت میں تھا) تو وہ اسی کی ذمہ داری اور ملکیت تھا۔

          (اس پر قیاس کرتے ہوئے) ہماری رائے یہ ہے کہ یہی معاملہ کھجور کے پھل، مویشی کے دودھ، اون اور بچوں میں ہو گا۔ اس معاملے میں ہمارے بعض ساتھیوں اور دیگر اہل علم کی رائے ہم سے مختلف ہے۔ ان میں سے بعض کی رائے یہ ہے کہ اگر اس (غلام یا لونڈی) میں بعد میں کوئی عیب سامنے آئے تو اس کی خدمات اور ان کے ذریعے کمائی ہوئی آمدنی، اور ازدواجی تعلقات کے حقوق کے علاوہ سب کچھ خریدنے والے کو دیا جائے گا اور اس غلام کو بیچنے والے کو واپس کر دیا جائے گا۔ یہی معاملہ کھجور کے پھل، مویشی کے دودھ اور اون میں نہ ہو گا کیونکہ مویشی، درخت اور ان کے پھل یہ سب کے سب "غلام" کی صنف میں داخل نہیں ہیں۔

نوٹ: اس حکم میں اصل وجہ یا علت "دھوکا" ہے۔ ایک شخص نے دوسرے کو دھوکے سے ایسی گائے بیچ دی جس میں کوئی عیب تھا۔ عیب معلوم ہونے پر وہ گائے پہلے مالک کو واپس کر دی جائے گی اور اس کی قیمت خریدار کو واپس کی جائے گی۔ جتنا عرصہ وہ گائے خریدار کے پاس رہی، اس دوران حاصل ہونے والا دودھ خریدار ہی کا ہو گا کیونکہ وہی اس عرصے میں گائے کے چارے وغیرہ کا بندوبست کرتا رہا ہے۔ چونکہ بیچنے والے نے خریدار کو دھوکا دیا تھا، اس وجہ سے یہ اس کی سزا ہے کہ وہ اس عرصے میں گائے کے فوائد کا حقدار نہ ہو گا۔

میرا یہ رائے رکھنے والے کچھ حضرات سے مکالمہ ہوا (جس کی تفصیل یہ ہے:)

شافعی: کیا آپ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ اگرچہ غلام کی خدمات کے ذریعے کمائی گئی آمدنی بذات خود اس غلام کے وجود سے پیدا نہیں ہوا اور درخت کا پھل اسی کا حصہ ہے۔کیا ان تمام معاملات میں یہ بات مشترک نہیں ہے کہ یہ سب کچھ خریدنے والے کی ملکیت میں آنے کے بعد وقوع پذیر ہوا ہے لیکن انہیں تجارت میں (بیچنے والے کے دھوکے کے باعث) شامل نہیں کیا گیا۔

دوسرا عالم: جی ہاں۔ لیکن ان میں فرق اس بنیاد پر کیا جانا چاہیے کہ کھجور کے درخت کا پھل بذات خود اسی کے وجود میں سے پیدا ہوا۔ یہی معاملہ مویشیوں کے بچوں کا ہے۔ جبکہ غلام نے جو کچھ کمایا وہ بذات خود اس کے وجود سے پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ اس کی ملازمت کے نتیجے میں پیدا ہوا۔

شافعی: اگر کوئی شخص آپ کی دلیل پر اعتراض کرتے ہوئے یہ کہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ غلام سے حاصل کردہ آمدنی اس شخص کا ہو گا جو اس کے (اخراجات اور نقصان کا) ذمہ دار ہے۔ غلام سے آمدنی تو اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب کہ اسے کسی کام پر لگایا جائے اور اس طرح سے وہ اپنے مالک کی خدمت کرے۔ اس کی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مالک کا حق اس بنیاد پر ہے کہ وہ غلام کے (کھانے پینے، لباس، رہائش اور دیگر) تمام اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ اگر اس غلام کو (مالک کے لئے) کہیں سے کوئی تحفہ مل جائے تو یہ تحفہ تو اس نے کہیں سے نہیں کمایا۔ کیا یہ تحفہ (غلام کو واپس کئے جانے کے وقت) پہلے مالک کو واپس کیا جائے گا یا پھر موجودہ مالک کے پاس رہے گا؟

دوسرا عالم: نہیں یہ تو دوسرے مالک کا ہو گا جس کے لئے یہ تحفہ دیا گیا اور اس وقت غلام اس کی ملکیت میں تھا۔

شافعی: یہ اس کی خدمات سے حاصل شدہ آمدنی تو نہیں ہے بلکہ کسی اور قسم کا فائدہ ہے۔

دوسرا عالم: اگرچہ ایسا ہی ہے لیکن اس غلام کے وجود سے پیدا تو نہیں ہوا۔

شافعی: لیکن یہ اس کی خدمات سے حاصل شدہ آمدنی تو نہیں ہے بلکہ دوسری قسم کا فائدہ ہے۔

دوسرا عالم: اگرچہ یہ اور قسم کا فائدہ ہے لیکن یہ اس وقت اسے دیا گیا جب وہ خریدنے والے مالک کی ملکیت میں تھا۔

شافعی: یہی معاملہ پھل اور دیگر اشیاء کا ہے جو اس وقت پیدا ہوئیں جب وہ خریدنے والے مالک کی ملکیت میں تھیں۔ جب پھل کو درخت سے اتار لیا جائے تو وہ درخت کا حصہ تو نہیں رہتا۔ اس پھل کو درخت سے الگ بیچا بھی جا سکتا ہے اور یہی معاملہ درخت کا ہے جسے پھل الگ کر کے بھی بیچا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مویشیوں سے حاصل کردہ اشیاء (دودھ، اون وغیرہ) کا معاملہ ہے۔ اگر کھجور کے پھل وغیرہ کو واپس کرنا درست ہو تو پھر غلام سے حاصل کردہ فوائد کو بیچنے والے مالک کو لوٹانا زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ ان فوائد میں بھی وہی خصوصیات ہیں جو کھجور کے پھل میں ہیں۔

          ان سب کا معاملہ ایک سا ہی ہے کیونکہ یہ سب فوائد اس وقت وجود پذیر ہوئے ہیں جب خریدنے والا ان کا مالک تھا۔ اس کے علاوہ اور کوئی رائے درست نہیں ہو سکتی۔ خریدنے والا مالک غلام کی خدمات اور ان سے حاصل کردہ آمدنی کے علاوہ کسی اور چیز کا مالک نہیں ہو سکتا۔ وہ نہ تو اس چیز کا مالک ہو گا جو غلام کو تحفے میں ملی، نہ ہی اس چیز کا جو اسے کہیں پڑی ہوئی ملی، نہ ہی اس دفن شدہ خزانے کا جو اس غلام کو کہیں سے مل گیا، اور نہ ہی اس قسم کی کسی اور چیز کا۔

          یہ معاملہ کھجور کے پھل، مویشی کے دودھ وغیرہ کا نہیں ہو گا اگرچہ یہ اشیاء خدمات سے حاصل کردہ آمدنی نہیں ہیں۔

تیسری مثال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے      سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی، گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جو کا تبادلہ کرنے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ ان کی مقدار برابر برابر ہو اور انہیں موقع پر ہی ہاتھوں ہاتھ تبدیل کیا جائے۔

          لوگ جب ان کھانے پینے کی اشیاء کے ناپ کر تبادلے میں لالچ سے کام لیتے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اس سے دو معنی مراد لئے جا سکتے ہیں: ایک تو یہ کہ تبادلہ اس طرح کیا جائے کہ ایک چیز تو موقع پر ہی دوسرے کو دے دی جائے اور دوسری چیز کو بعد میں ادا کیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ہاتھوں ہاتھ تبادلے کے وقت ایک چیز زیادہ مقدار میں کر دی جائے۔ جو معنی بھی مراد لیا جائے یہ حرام ہے اور اس پر قیاس کیا جائے گا۔

          کھانے کی کوئی چیز جو وزن کر کے بیچی جاتی ہے اس میں کھانے اور پینے دونوں کا مفہوم شامل ہے کیونکہ پینا بھی کھانے میں داخل ہے۔ لوگ انہیں قوت، غذائیت یا دونوں کے حصول کے لئے کھاتے ہیں۔ میں عام طور پر دیکھتا ہوں کہ اگر مارکیٹ میں شہد، گھی، تیل، چینی وغیرہ جو کہ کھانے پینے کی چیزیں ہیں، کی کمی ہو جائے تو لوگ انہیں ناپ کر بیچنے کی بجائے تول کر بیچتے ہیں۔ (کسی پیمانے میں بھر کر) پیمائش کر کے بیچنے کی نسبت وزن کر کے بیچنا زیادہ درست طریقے سے پیمائش کرتا ہے۔

نوٹ: عہد رسالت میں (اور اب بھی) اشیاء کی پیمائش کے تین طریقے رائج تھے: کیل، وزن اور عدد۔ کیل کسی چیز کو پیمانے میں بھر کر ناپنے کو کہتے ہیں۔ وزن تولنے کو کہتے ہیں اور عدد گننے کو۔ مثال کے طور پر موجودہ دور میں دودھ کو کیل کے ذریعے، آٹے کو وزن کر کے اور انڈوں کو گن کر بیچا جاتا ہے۔

سائل: کیا وزن کر کے بیچنا اس وجہ سے پیمائش کر کے بیچنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ اسے سونے اور چاندی کا وزن کر کے ان کے بدلے بیچنے پر قیاس کیا جا رہا ہے؟

شافعی: آپ نے جو کچھ فرمایا، اس سے ہمیں اس وجہ سے اختلاف ہے کہ آپ (سونے چاندی کے) وزن کرنے پر (ان اشیاء کے) وزن کرنے کو قیاس کر رہے ہیں۔ قیاس اس وقت درست ہوتا ہے جب ایک ایسی چیز کو دوسری پر قیاس کیا جائے جن میں فیصلہ کرنے کی کوئی "مشترک" بنیاد پائی جائے۔ اگر آپ شہد اور گھی کو دینار (سونے کے سکے) اور درہم (چاندی کے سکے) پر قیاس کرتے ہوئے یہ مانتے ہیں کہ ایک چیز کی زیادتی کو اس وقت حرام کیا گیا ہے جب تبادلہ ایک ہی جنس کا کیا جا رہا ہو تو پھر اسے بھی درست مانئے کہ اگر (شہد اور گھی کو دینار و درہم کے بدلے بیچا جا رہا ہو اور) دینار و درہم کی ادائیگی فوراً کر دی جائے اور شہد اور گھی کی بعد میں (تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔)

سائل: میں اسے جائز سمجھتا ہوں کہ مسلمان اسے جائز سمجھتے ہیں۔

شافعی: مسلمانوں کا اسے جائز سمجھنا قیاس کی بنیاد پر نہیں ہے۔ اگر ایسا قیاس کی بنیاد پر ہوتا تو ایک چیز پر جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ دوسری پر بھی لگایا جاتا۔ کسی چیز کا تبادلہ صرف ہاتھوں ہاتھ ہی جائز ہے جیسا کہ درہم و دینار کا تبادلہ ہاتھوں ہاتھ ہی کیا جاتا ہے۔

سائل: اگر آپ (وزن کی بجائے کسی چیز کی) پیمائش کی بنیاد پر قیاس کرتے تو کیا تب بھی یہی فیصلہ کرتے؟

شافعی: جی ہاں، میں کسی بھی حالت میں اس چیز میں فرق نہ کرتا۔

سائل: کیا یہ جائز نہیں ہے کہ ایک کلوگرام گندم کا تبادلہ تین لیٹر تیل کے بدلے اس طرح کیا جائے کہ گندم تو ابھی ادا کر دی جائے لیکن تیل بعد میں؟

نوٹ: امام شافعی علیہ الرحمۃ اور فقہا کے ایک گروہ کا یہ نقطہ نظر ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کا ادھار تبادلہ جائز نہیں ہے کیونکہ اشیاء کی کوالٹی میں کمی بیشی کے باعث سود کا امکان ہے۔  اس نقطہ نظر سے دیگر اہل علم نے اختلاف کیا ہے۔ یہاں اصل الفاظ "مد" اور "رطل" کے استعمال ہوئے ہیں جو قدیم دور کے پیمانے تھے۔ میں نے ترجمے میں کلوگرام اور لیٹر کا لفظ محض سمجھانے کے لئے استعمال کیا ہے۔

شافعی: اس طرح کا تبادلہ درست نہیں۔ کھانے پینے کی کسی چیز کو ادھار بیچنا جائز نہیں ہے۔ کھانے پینے کی ایسی چیز جو ناپ کر بیچی جاتی ہے، اس کا حکم کھانے پینے کی اس چیز کی طرح ہے جو وزن کر کے بیچی جاتی ہو۔

سائل: دینار کے درہم کے بدلے تبادلے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

شافعی: ان کا (ادھار) تبادلہ بھی اپنی اصل میں ناجائز ہے۔ ان پر کھانے پینے کی کسی چیز کو قیاس نہ کیا جائے گا کیونکہ یہ ایک قسم کی اشیاء نہیں ہیں۔ کھانے پینے کی ایسی اشیاء جو ناپ کر بیچی جاتی ہوں (کا ادھار تبادلہ) بھی اپنی اصل میں ناجائز ہے۔ ان پر اسی چیز کو قیاس کیا جائے گا جو ناپ کر یا تول کر بیچی جاتی ہے کیونکہ وہ اسی کی قسم کی ہے۔

سائل: دینار کے درہم کے بدلے تبادلے میں (اور اس معاملے میں) کیا فرق ہے؟

شافعی: میں کسی ایسے عالم سے واقف نہیں ہوں جو درھم و دینار کے بدلے کھانے پینے کی اشیاء، خواہ وہ ناپ کر بیچی جاتی ہوں یا تول کر، کے ادھار تبادلے کو جائز نہ سمجھتا ہو۔ درہم و دینار کا باہمی ادھار جائز نہیں ہے۔ میں کسی ایسے عالم کو نہیں جانتا جو اس معاملے میں مجھ سے اختلاف رائے کرے کہ اگر مجھے کسی کان میں سے کچھ مال مل جائے اور میں اس میں سے (زکوۃ کا) حق ادا کر دوں، (اس کے بعد) اگر میرے پاس ایک سال تک (اس کان سے کمائے ہوئے مال میں سے) سونا چاندی اکٹھا رہے تو میں اس پر ہر سال زکوۃ ادا کرتا رہوں گا۔ (دوسری طرف) اگر میں زمین سے کوئی کھانے پینے کی چیز اگاؤں اور اس کی پیداوار پر دس فیصد (زکوۃ) ادا کر دوں، پھر وہ زمین میرے پاس پڑی رہے تو اس زمین پر زکوۃ عائد نہ کی جائے گی (کیونکہ زرعی زمین پر زکوۃ اس کی پیداوار میں سے ادا کی جاتی ہے۔)

          اگر میں کسی شخص کے مال کو نقصان پہنچا دوں تو اس کے نقصان کو میں درہم و دینار کے ذریعے ہی پورا کروں گا کیونکہ یہ کسی مسلمان کے مال و جائیداد کی قیمت معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ہاں دیت کے معاملے میں ایسا نہ ہو گا (کیونکہ اس زمانے کے قانون میں وہ اونٹوں کے ذریعے ادا کی جاتی ہے۔)

سائل: یہ بات درست ہے۔

شافعی: میں نے جتنی تفصیل سے بتایا، اشیاء میں اس سے بھی کم درجے کا فرق پایا جائے تو ان میں فرق کیا جاتا ہے۔ عام اہل علم اس نقطہ نظر کے حامل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آزاد مسلمان کو غلطی سے قتل کر دینے کے مقدمے میں سو اونٹ کے جرمانے کا فیصلہ فرمایا تھا جو قتل کرنے والے کے عاقلہ کو ادا کرنا تھا۔ یہ ادائیگی تین متعین سالوں میں برابر قسطوں میں ادا کی جانی تھی۔ اس فیصلے سے بہت سے مسائل قیاس کے ذریعے اخذ کئے گئے ہیں۔ میں ان میں سے بعض کا ذکر کروں گا جو مجھے یاد ہیں۔

نوٹ: دیت دور قدیم میں تھرڈ پارٹی انشورنس (Third Party Liability Insurance) کا نظام تھا۔ اگر کسی شخص کی غلطی سے کوئی مارا جاتا یا زخمی ہو جاتا تو قاتل کا قبیلہ مقتول کے ورثا کو اونٹوں کی شکل میں دیت ادا کرتا۔ چونکہ دیت کی ادائیگی ایک شخص کے لئے ناممکن تھی اس وجہ سے اس قانون کو پھیلا کر پورے قبیلے پر عائد کیا گیا۔ پورا قبیلہ تھوڑی تھوڑی رقم ملا کر دیت کی ادائیگی کر دیتا۔ دیت ادا کرنے والوں کو "عاقلہ" کہا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں چونکہ قبائل کا اس طرح سے وجود نہیں رہا، اس وجہ سے اہل علم نے ایک انشورنس کمپنی کی پالیسی خریدنے والے تمام افراد کو ایک دوسرے کا عاقلہ قرار دیا ہے۔ ہر پالیسی ہولڈر کچھ رقم انشورنس کمپنی کو ادا کرتا ہے اور اس طرح سے ایک بڑا فنڈ تشکیل دے دیا جاتا ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک شخص کی غلطی سے کسی کے جان و مال کو نقصان پہنچ جائے تو اس کی ادائیگی انشورنس فنڈ سے کی جاتی ہے۔

          امام شافعی علیہ الرحمۃ کے نزدیک قتل کی دیت (سو اونٹ) کے علاوہ بھی ہر قسم کے نقصان کی ذمہ داری عاقلہ پر ہو گی۔ دیگر اہل علم کے نزدیک عاقلہ کی ذمہ داری اس وقت ہو گی جب جرمانے کی رقم دیت کے ایک تہائی یا اس سے زیادہ ہو۔ اس سے کم رقم کی صورت میں غلطی کرنے والا شخص خود ادائیگی کا ذمہ دار ہو گا۔ یہاں امام شافعی نے اپنی اور دوسرے نقطہ نظر کے حامل ایک عالم کی بحث نقل کی ہے۔

          عام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ایک آزاد مسلمان جان بوجھ کر کسی پر حملہ کرے یا اس کی جائیداد کو نقصان پہنچائے تو اس کا ہرجانہ اس کے اپنے مال سے ادا کیا جائے گا۔ اگر اس نے غلطی سے ایسا کر دیا تھا تو پھر یہ ہرجانہ اس کے عاقلہ کی ذمہ داری ہے۔ اہل علم کا اس پر اتفاق رائے ہے کہ زخم لگنے یا اس سے بڑا نقصان پہنچنے کی صورت میں (قتل کی) دیت کا ایک تہائی یا اس سے زائد رقم ادا کرنا عاقلہ کی ذمہ داری ہے۔

          (اگر ہرجانہ) تیسرے حصے سے کم ہو تو پھر ان میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ہمارے بعض ساتھیوں کی رائے یہ ہے کہ ایسے زخم کی صورت میں جس میں ہڈی نظر آنے لگ جائے، دیت کے پانچ فیصد یا اس سے زائد ادا کیا جائے گا۔ اس سے کم زخم کی صورت میں عاقلہ کی کوئی ذمہ داری نہ ہو گی (بلکہ ہرجانہ وہ شخص خود ادا کرے گا۔)

          میں نے ان لوگوں سے کہا، "آپ پانچ فیصد کے معاملے میں تو عاقلہ کو ذمہ دار ٹھہرانے کے قائل ہیں، لیکن اس سے کم میں نہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ سنت پر قیاس ان دونوں میں سے کس وجہ سے کر رہے ہیں؟

سائل: وہ وجوہات کیا ہیں؟

شافعی: (ایک وجہ تو یہ ہے کہ) چونکہ ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا یہ فیصلہ موجود ہے کہ آپ نے پوری دیت کا ذمہ دار عاقلہ کو ٹھہرایا ہے اس وجہ سے ہم اس معاملے میں تو آپ کی پیروی کریں گے۔ جہاں تک پوری دیت سے کم کا تعلق ہے تو وہ نقصان پہنچانے والے کے مال سے ادا کی جائے گی۔ ہم اس کو دیت پر قیاس نہیں کریں گے۔ اپنی اصل میں یہ زیادہ مناسب ہے کہ دیت نقصان پہنچانے والے کے مال سے وصول کی جائے جیسا کہ جان بوجھ کر نقصان پہنچانے والوں کے مال سے ہرجانہ وصول کیا جاتا ہے۔

          جو شخص غلطی سے کسی کو قتل کر دے تو اللہ تعالی نے اس پر دیت کی ادائیگی اور ایک غلام آزاد کرنے کو لازم کیا ہے۔ غلام تو ظاہر ہے کہ اسی شخص کے مال سے ادا کیا جائے گا کیونکہ غلطی اسی کی تھی۔ ہاں دیت کو اس معاملے میں (اس کی ذمہ داری سے) نکال کر (عاقلہ پر عائد کر دینا) اس وجہ سے ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پیروی کر رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر میں یہ نقطہ نظر رکھتا ہوں کہ دیت کے علاوہ اور جو بھی ادائیگی ہو گی، وہ نقصان پہنچانے والے کے مال سے کی جائے گی کیونکہ جس نے غلطی کی، اسی سے ہرجانہ وصول کرنا چاہیے نہ کہ کسی اور سے۔

          سی طرح موزوں پر مسح کے بارے میں میری رائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مروی احادیث کی بنیاد پر ہے۔ میں اس معاملے میں قیاس نہیں کرتا۔     (دوسری وجہ یہ ہے کہ) اس معاملے میں ایک اور طرح سے بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔

سائل: وہ کیا ہے؟

شافعی:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے غلطی سے نقصان پہنچا دینے کی صورت میں یا جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی صورت میں جرمانے کی یہ ذمہ داری نقصان پہنچانے والے کی بجائے دوسرے لوگوں (یعنی عاقلہ) پر عائد فرمائی ہے۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ بھاری رقم ہوتی ہے۔ اس بنیاد پر میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر غلطی سے کوئی ایسا نقصان پہنچ جائے جس پر ہرجانہ دیت کی نسبت کم ہو تو اس کی ذمہ داری بھی عاقلہ پر ہو گی کیونکہ زیادہ کی نسبت کم کے معاملے میں ایسا کرنا تو اور زیادہ مناسب ہے۔ اسی طرح اور بھی جو معاملات اسے کے مثل ہوں، ان میں بھی ایسا کیا جائے گا۔

سائل: آپ کی یہ رائے تو درست ہے لیکن یہ موزوں پر مسح والی مثال کے مشابہ تو نہیں ہے۔

شافعی: یہ آپ کے نقطہ نظر کے بھی مطابق ہے۔ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر ہرجانہ دیت کی رقم کے ایک تہائی یا اس سے زیادہ ہو تو پھر اس کی ادائیگی عاقلہ کی ذمہ داری ہو گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے دیت کی ادائیگی پر ہی قیاس کرتے ہوئے دیت کی رقم سے کم جرمانے پر قیاس کیا ہے۔

سائل: بالکل درست۔

شافعی: ہمارے استاذ (امام مالک علیہ الرحمۃ) نے فرمایا، "سب سے بہتر رائے جو میں نے سنی ہے وہ یہ ہے کہ دیت کے ایک تہائی یا اس سے زائد (ہرجانہ) کی ادائیگی عاقلہ کے ذمے ہے۔" انہوں نے یہ فرمایا کہ ان کے نزدیک یہی رائے قابل قبول ہے۔ اس نقطہ نظر کے خلاف دو دلائل پیش کئے جا سکتے ہیں۔

سائل: وہ کیا ہیں؟

شافعی: آپ اور میں اس بات پر تو متفق ہیں کہ ہرجانہ اگر دیت کے ایک تہائی یا اس سے زائد ہو تو اس کی ادائیگی عاقلہ کے ذمے ہو گی۔ اگر اس سے کم ہو تو ہم دونوں کا اس میں اختلاف ہے۔ ایک تہائی کے بارے میں آپ کا اور میرا اتفاق رائے تو اس بات کی دلیل بن گیا ہے لیکن اس سے کم کے بارے میں کیا آپ کے پاس کوئی حدیث ہے؟ آپ کیا فرمائیں گے؟

سائل: میں یہ کہوں گا کہ اس معاملے میں آپ سے میرا اتفاق ایک اور دلیل کی بنیاد پر ہے۔ میرا اتفاق اس بات پر ہے کہ عاقلہ اگر زیادہ رقم ادا کر رہا ہے تو پھر کم رقم ادا کرنے میں اسے کیا حرج ہے۔ یہ ایک تہائی کی حد کی دلیل کیا ہے؟ اگر کوئی اور شخص یہ کہے کہ ہرجانہ نوے فیصد سے زیادہ ہو تب عاقلہ اسے ادا کرے گا اور اس سے کم عاقلہ ادا نہ کرے گا (بلکہ یہ نقصان پہنچانے والے شخص کی ذمہ داری ہو گی)۔

شافعی: (دیت کے) ایک تہائی حصے کی ادائیگی تو نقصان پہنچانے والے کے لئے بہت زیادہ ہے۔ اس وجہ سے اس کی ادائیگی اسے دوسروں کے ساتھ مل کر کرنی چاہیے۔ ہاں اگر یہ ادائیگی اس کے لئے مسئلہ نہ ہو تو پھر یہ ہرجانہ وہی ادا کرے۔

سائل:  کیا آپ اتفاق نہیں کریں گے کہ ایک شخص کے پاس اگر دو ہی درہم ہوں (یعنی وہ بہت غریب ہو) اور اس پر (دیت کے) ایک تہائی اور ایک درہم کا ہرجانہ ہی عائد کیا جائے تو اس کے پاس تو کوئی مال باقی نہ رہے گا۔ ہاں جو شخص بہت سے مال کا مالک ہو، اس کے لئے ایک تہائی کی ادائیگی بھی کوئی مسئلہ نہ ہو گی۔

شافعی: کیا آپ یہ نہیں دیکھتے کہ (امام مالک) کبھی یہ نہیں کہتے کہ "یہ ہمارا نقطہ نظر ہے" جب تک اس معاملے پر اہل مدینہ کا اتفاق رائے نہ ہو۔

سائل: ایسا معاملہ جس پر اہل مدینہ کا اتفاق رائے ہو، وہ تو ایک شخص کی بیان کردہ حدیث سے زیادہ مضبوط ہو گا۔ انہوں نے ایک کمزور خبر واحد کی بنیاد پر کس طرح ایک مضبوط اور لازمی حکم کو جس پر اہل علم کا اتفاق رائے تھا، چھوڑ دیا؟

شافعی: اگر آپ سے کوئی یہ کہے کہ اس حدیث کو تو کم لوگ بیان کرتے ہیں جب کہ اس پر اتفاق رائے کثیر لوگوں کا ہے تو کیا آپ اس سے یہ اخذ کریں گے کہ "اس معاملے میں تو اجماع ہے۔"

سائل: نہ تو میں اور نہ ہی کوئی اور عالم یہ کہے گا کہ اس معاملے میں اتفاق رائے ہے سوائے اس کے کہ آپ کسی عالم سے ملیں اور وہ اپنے سے پہلے لوگوں سے روایت کر کے اس بات کو آپ تک پہنچا دے۔ (اجماع تو اس قسم کے امور میں ہے جیسا کہ) ظہر کی نماز کی رکعتیں چار ہیں، یا شراب حرام ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں نے بہت سوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ "اس بات پر اجماع ہے" اور مجھے اہل مدینہ کے بہت سے عالم ملے ہیں جو اس کے بالکل متضاد بات کہہ رہے ہوں۔ اس کے علاوہ دوسرے شہروں کے اہل علم بھی کثرت سے ایسی باتوں سے اختلاف کرتے ہیں جن پر اجماع کا دعوی کیا جاتا ہے۔

شافعی: یہ بات تو پھر آپ کی اپنی اس رائے کے خلاف ہے کہ "ہڈی نظر آنے والے زخم سے کم زخم میں دیت نہیں ہے" اور "دیت کم از کم ایک تہائی ہو گی۔"

سائل: میری رائے اس بنیاد پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہڈی نظر آنے والے زخم سے کم زخم میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا۔

شافعی: اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ، "میں ہڈی نظر آنے والے زخم سے کم میں کوئی فیصلہ ہی نہیں کروں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا۔"

سائل: یہ بات تو غلط ہے۔ اگر آپ نے کسی معاملے میں فیصلہ نہیں فرمایا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زخم آ جانے پر کوئی ہرجانہ ہی نہ لیا جائے گا۔

شافعی: وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ہڈی نظر آنے والے زخم سے کم کے معاملے میں اگر عاقلہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے تو عاقلہ کو یہ ہرجانہ ادا کرنے سے منع بھی نہیں فرمایا ہے۔ اگر آپ نے ہڈی نظر آنے والے زخم کے بارے میں فیصلہ فرمایا اور اس سے چھوٹے زخم کے بارے میں فیصلہ نہیں فرمایا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عاقلہ کو ایسی صورت میں ذمہ دار ٹھہرایا ہی نہیں جا سکتا۔ اگر وہ (بڑا زخم آنے سے) زیادہ ہرجانہ ادا کرنے کے پابند ہیں تو (چھوٹا زخم آنے سے) کم ہرجانہ ادا کرنے کے پابند بھی کئے جا سکتے ہیں۔ اس معاملے میں آپ کی اور ہماری رائے میں اتفاق ہو گیا جب آپ نے ہمارے استاد کی رائے پر اعتراض کیا۔ اگر آپ کے نزدیک یہ جائز ہے تو ہمارے نزدیک بھی یہ جائز ہے۔

          اگر نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عاقلہ کو (ایک مقدمے میں جس میں غلطی سے ایک صاحب کو ایسا زخم لگ گیا تھا جس سے ہڈی نظر آنے لگ پڑی تھی) دیت کی پانچ فیصد رقم ادا کرنے کا حکم دیا تو کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ ہرجانہ یا تو پانچ فیصد ہو گا یا پھر پوری دیت کے برابر ہو گا اور ان کے درمیان کوئی رقم بطور ہرجانہ ادا نہ کی جا سکے گی۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر (عاقلہ کی بجائے) وہ ہرجانہ نقصان پہنچانے والا ادا کرے گا۔ یہ بات تو کسی کے نزدیک بھی درست نہیں۔ نہ ہی یہ رائے رکھنا درست ہے کہ ہر حال میں غلطی سے پہنچنے والے زخم پر جرمانے کی ادائیگی عاقلہ ہی کو کرنا ہے خواہ ہرجانہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔

          ہمارے بعض ساتھیوں کی رائے یہ ہے کہ اگر ایک آزاد شخص غلطی سے کسی غلام کو ایسا نقصان پہنچا دے جس سے اس کی جان چلی جائے یا پھر اس سے کم کوئی زخم آ جائے تو اس کا ہرجانہ اس شخص کے مال میں سے لیا جائے گا نہ کہ عاقلہ کے مال سے کیونکہ عاقلہ غلام کا نقصان کرنے کی صورت میں ذمہ دار نہیں ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ غلطی یہاں آزاد شخص کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آزاد شخص کی غلطی سے کسی کے بھی مر جانے یا زخمی ہونے کی صورت میں ہرجانہ اس کے عاقلہ پر عائد فرمایا تھا۔ اس وجہ سے غلام کے مارے جانے یا زخمی ہو جانے کی صورت میں بھی کفارہ عاقلہ ہی کو ادا کرنا ہو گا۔

          آپ کی رائے اس معاملے میں ہم سے متفق ہے کہ اگر غلام کی غلطی سے کوئی ہلاک یا زخمی ہو جائے تو اس کی ذمہ داری عاقلہ پر نہ ہو گی بلکہ وہ غلام خود ذمہ دار ہو گا نہ کہ اس کا مالک۔ اس معاملے میں آپ نے ہماری رائے کے مطابق نقطہ نظر رکھا اور سنت کی بنیاد پر ہماری دلیل کو قبول کیا۔

سائل: یہ بات درست ہے۔

شافعی: آپ کے اور ہمارے بعض ساتھیوں کی یہ رائے ہے کہ غلام کو پہنچنے والے زخم کا ہرجانہ اس کی قیمت کے برابر ہو گا جیسا کہ آزاد شخص کو پہنچنے والے زخم کا ہرجانہ اس کی دیت کے برابر ہو گا۔ اگر (حادثے میں) اس کی آنکھ ضائع ہو گئی تو یہ نقصان اس کی قیمت کا نصف ہو گا۔ اگر ایسا زخم لگ گیا جس سے ہڈی نظر آنے لگی تو اس کی قیمت کا پانچ فیصد ادا کیا جائے گا۔ آپ اس معاملے میں ہم سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ غلام کو پہنچنے والے زخم کا ہرجانہ وہ رقم ہو گی جتنی (اس زخم کے نتیجے میں) اس کی قیمت کم ہوئی ہے۔

سائل: پہلے تو میں آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ایک غلام کو آنے والے زخم کے بارے میں آپ کی رائے کی بنیاد کیا ہے۔ کیا کوئی خبر ہے یا آپ قیاس سے یہ بات اخذ کر رہے ہیں؟

شافعی: یہ خبر ہے جسے سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا گیا ہے۔

نوٹ: زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ غلام کی د®