|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||||||||
Religion & Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری،
امن اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|||||||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||||||||
|
کتاب
الرسالہ از
امام محمد بن
ادریس شافعی (اردو
ترجمہ و تلخیص) کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 6MB) |
||||||||
باب 9:
روایات
سائل:
ہمیں رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی کچھ
احادیث ایسی
ملتی ہیں جو
قرآن کے
احکام کے عین
مطابق ہوتی ہیں۔
کچھ ایسی
احادیث ملتی
ہیں جو قرآن
کے ظاہری
مفہوم کے
مطابق ہوتی ہیں
اور ان میں
اکثر وہی
ہوتا ہے جو
قرآن میں ہے۔
کچھ ایسی ہوتی
ہیں جو ایسے
احکام سے
متعلق ہوتی ہیں
جو قرآن میں
نہیں ہیں۔
کچھ ایسی روایتیں
ہوتی ہیں جو ایک
دوسرے سے (کسی
معاملے میں)
متفق ہوتی ہیں
اور کچھ ایسی
جو ایک دوسرے
کے متضاد
مفہوم پیش کر
رہی ہوتی ہیں۔
ان میں سے ایک
حدیث منسوخ
ہوتی ہے اور
دوسری اسے
منسوخ کرنے
والی (ناسخ)۔
بعض ایسی روایات
بھی ہوتی ہیں
جن میں ناسخ
اور منسوخ کا
پتہ چلانا
مشکل ہوتا
ہے۔ بعض
احادیث ہمیں
ایسی ملتی ہیں
جن میں رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے کسی
کام سے منع
فرمایا اور
(اہل علم) اس
کام کو "حرام"
قرار دیتے ہیں۔
کچھ اور احادیث
میں رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے کسی
کام سے منع
فرمایا ہوتا
ہے لیکن (اہل
علم) اس منع
کرنے کو لازم
نہیں بلکہ
اختیاری
معاملہ قرار
دیتے ہیں۔ ہم یہ
بھی دیکھتے ہیں
کہ آپ (یعنی
اہل علم) بسا
اوقات بعض
باہم متضاد
احادیث کو بھی
قبول کر لیتے
ہیں۔ آپ بعض
احادیث پر قیاس
بھی کر لیتے ہیں،
اور بعض کو
چھوڑ دیتے ہیں
(اور اس
معاملے میں
احادیث میں
امتیاز
برتتے ہیں)۔
اس فرق برتنے
کی دلیل کیا
ہے؟ آپ (علماء)
کے درمیان
بہت سے امور
پر اختلاف
رائے بھی
ہوتا ہے۔ آپ
کچھ احادیث
کو ان کے مثل
بلکہ بسا
اوقات ان سے
کمزور احادیث
کی بنیاد پر
چھوڑ بھی دیتے
ہیں۔ (ایسا کیوں
ہے؟) شافعی: اگر ایک
حکم قرآن مجید
میں بھی
موجود ہو تو
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
ہمیشہ اس کے
موافق ہی ہو گی
(اور کبھی
متضاد نہ ہو گی)۔
سنت قرآن کی
تبیین ہی ہے۔
تبیین اسی کو
کہتے ہیں کہ
کسی جملے کی
وضاحت کر دی
جائے۔ جب
کتاب اللہ کسی
معاملے میں
خاموش ہو اور
اس معاملے میں
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
سے کوئی حکم
مل جائے تو اس
کی پیروی
کرنا ہم پر
اللہ تعالی کی
طرف سے عمومی
نوعیت کا فرض
ہے۔ جہاں
تک حدیث میں
ناسخ و منسوخ
کا تعلق ہے تو یہ
معاملہ کتاب
اللہ میں
قرآن کے کسی
حکم کو دوسرے
حکم کے ذریعے
منسوخ کر دینے
کی طرح ہی ہے۔
بالکل اسی
طرح رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
بھی دوسری
سنت سے منسوخ
ہو سکتی ہے۔
جو بات میں نے
ابھی بیان کی
ہے اس کی کچھ
وضاحت میں اس
کتاب میں اور
مقامات پر بیان
بھی کر چکا
ہوں۔ ایسی
احادیث جن میں
متضاد احکام
ملتے ہیں اور
اس بات کی بھی
کوئی دلیل نہیں
ہوتی کہ ان میں
ایک حکم
منسوخ ہے اور
دوسرا ناسخ،
ایسی احادیث
میں درحقیقت
کوئی حقیقی
اختلاف نہیں
ہوتا۔ یہ
اصلاً ایک
دوسرے سے
متفق ہی ہوتی
ہیں (لیکن سمجھنے
والا بات کو
درست طور پر
سمجھ نہیں پا
رہا ہوتا۔) جیسا
کہ میں کتاب
اللہ اور سنت
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے بارے
میں اس سے
پہلے بیان کر
چکا ہوں کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم قوم اور
زبان کے
اعتبار سے
عرب تھے۔ آپ
کبھی ایک عام
بات کرتے جس
سے مراد عام
حکم ہی ہوتا
اور (عربی
زبان کے
قاعدے کے
مطابق) کبھی
عام الفاظ میں
ایک بات کرتے
لیکن اس سے
مراد کوئی
خاص (شخص،
گروہ یا
صورتحال) ہوتی۔
کبھی ایسا بھی
ہوتا کہ آپ سے
کسی چیز کے
متعلق سوال کیا
جاتا اور آپ
اس کے جواب میں
کچھ ارشاد
فرما دیتے۔
اس واقعہ کو
دوسروں کے
سامنے بیان
کرنے والا (یعنی
راوی) کبھی اس
بات کو تفصیل
سے بیان کر دیتا
اور کبھی
اختصار کے
ساتھ۔ اس طرح
سے بات کا
مطلب (سننے
والے کے لئے)
کسی حد تک تبدیل
ہو جاتا۔ ایسا
بھی ہو سکتا
ہے کہ حدیث بیان
کرنے والا
کوئی شخص
(حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم
کا) جواب تو بیان
کر دے لیکن
اسے سوال کا
علم ہی نہ ہو
جس سے اسے اصل
صورتحال کا
علم ہو سکے کہ یہ
جواب کس وجہ
سے دیا گیا ہے۔
یہ بھی ہو
سکتا ہے کہ ایک
صورتحال میں
آپ نے ایک حکم
جاری فرمایا
اور اس سے
بالکل مختلف
صورتحال میں
دوسرا حکم
جاری فرمایا۔
حدیث سننے
والے بعض لوگ
صورتحال کے
اس اختلاف سے
بے خبر تھے جن
میں یہ احکام
جاری کئے گئے
(اور وہ اسے
احکام کا
اختلاف سمجھ
بیٹھے۔) بعض
اوقات حضور
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے ایک سنت
قرآن کے حکم
کے عین مطابق
جاری فرمائی
اور اسے کسی
شخص نے یاد کر
لیا۔ کسی شخص
نے ایک سنت کو
اس سے مختلف
معنی میں لیا
اور دوسرے نے
اسے درست معنی
میں لیا کیونکہ
دونوں افراد
کی (ذہنی
استعداد اور)
حالات میں
فرق ہو سکتا
ہے۔ اب یہ
دونوں احادیث
جب بعد کے
لوگوں تک
پہنچیں تو
سننے والوں
کو اس میں
اختلاف
محسوس ہوا
حالانکہ
درحقیقت ان میں
کوئی اختلاف
نہ تھا۔ بعض
اوقات حضور
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے ایک (عربی
زبان کے عام
اسلوب میں)
عام جملے سے
کسی چیز کی
حرمت اور حلت
بیان فرمائی
(جبکہ یہ کسی
خاص صورتحال
سے متعلق تھا)۔
اس کے بعد آپ
نے اپنے عمل
سے یہ بتا دیا
کہ آپ کا
ارادہ کسی
حرام کو حلال یا
حلال کو حرام
کرنے کا نہیں
تھا (بلکہ آپ
کا ارشاد کسی
خاص صورتحال
سے متعلق تھا۔
حدیث سننے
والے نے صرف ایک
بات ہی سنی
اور غلط فہمی
میں مبتلا ہو
گیا کہ سنت میں
اختلاف پایا
جاتا ہے۔) اس
طرح کی (غلط
فہمی کی) مثالیں
کتاب اللہ کے
بارے میں بھی
موجود ہیں۔
ایسا
بھی ہو سکتا
ہے کہ حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے سنت
کے ایک حکم کو
دوسرے حکم سے
منسوخ فرما دیا۔
اب یہ تو نہیں
ہو سکتا کہ آپ
حکم کی اس تبدیلی
کی وضاحت نہ
فرمائیں۔ آپ
نے تو وضاحت
فرما دی لیکن
جس شخص نے آپ
کے یہ احکام
سنے اس نے ان میں
سے ایک کو یاد
کر لیا اور
دوسرے حکم کو
وہ آگے منتقل
نہ کر سکا۔ یہ
دوسرا حکم بھی
ضائع نہیں
ہوا بلکہ اب
بھی موجود ہے
اور جو چاہے
اسے حاصل کر
سکتا ہے۔ جو کچھ
میں نے سنت کے
بارے میں بیان
کیا ہے یہ اس
بنیاد پر ہے
کہ آپ یعنی
(رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم) نے خود
بھی اپنے
احکام کے مابین
فرق کیا ہے۔
احکام کے اس
فرق کے
معاملے میں
بھی ہم پر
لازم ہے کہ ہم
آپ کی اطاعت
کریں۔ کوئی
(عالم) بھی یہ
نہیں کہتا کہ
حضور نے اپنے
احکام میں
فرق کو ملحوظ
خاطر نہیں
رکھا۔ اگر
کوئی یہ بات
کہتا ہے کہ
"احکام میں
کوئی فرق نہیں
ہے" جبکہ یہ
فرق خود نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم نے
روا رکھا ہے،
تو وہ شخص ایسا
یا تو لاعلمی
کی بنیاد پر
کہتا ہے یا
پھر وہ شک
کرنے کے مرض میں
مبتلا ہے۔ یقیناً
اللہ تعالی کی
اطاعت (ہر
معاملے میں)
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی پیروی
ہی میں ممکن
ہے۔ جیسا
کہ میں پہلے بیان
کر چکا ہوں کہ
اگر ہمیں سنت
میں کوئی
اختلاف نظر
آئے تو ایسا یا
تو اس وجہ سے
ہو سکتا ہے کہ
اس بات کو
مکمل طور پر
محفوظ نہیں
رکھا گیا جس
کے نتیجے میں یہ
اختلاف پیدا
ہو گیا۔ اب جو
کچھ ہم تک نہیں
پہنچ سکا اسے
ہم کسی دوسری
روایت سے
معلوم کر
سکتے ہیں یا
پھر یہ
(اختلاف) محض
حدیث بیان
کرنے والے کے
وہم یا غلط
فہمی کا نتیجہ
ہے۔ ہمیں ایسی
کوئی بھی حدیث
نہیں ملی جس میں
بظاہر
اختلاف پایا
جاتا ہو اور
ہم اس اختلاف
کی وجہ نہ
جانتے ہوں۔
وجوہات میں
وہ تمام باتیں
شامل ہیں جو میں
اوپر بیان کر
چکا ہوں۔ اگر دو
احادیث میں
اختلاف پایا
جائے تو اسے
حل کرنے کا ایک
اور طریقہ ہے
اور وہ یہ ہے
کہ ہم اس حدیث
کو اختیار کر
لیں گے جو ان
دونوں میں سے
زیادہ مستند
ہے۔ ان میں سے
زیادہ مستند
وہی ہو گی جس
کے بارے میں
کوئی دلیل ہمیں
کتاب اللہ،
سنت نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم، یا
دوسرے شواہد
جو میں پہلے بیان
کر چکا ہوں سے
مل رہی ہے۔ ہم
اس حدیث کو
اختیار کریں
گے جو زیادہ
قوی ہے اور
دلائل سے زیادہ
مستند ثابت
ہوئی ہے۔ ہمیں
آج تک کوئی ایسی
دو حدیثیں نہیں
ملیں جن کے
اختلاف کو حل
نہ کیا جا سکے یا
اوپر بیان
کئے گئے
دلائل یعنی
کتاب اللہ،
سنت اور دیگر
دلائل سے
مناسبت کی بنیاد
پر کسی ایک کو ترجیح
نہ دی جا سکے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے جس چیز
سے منع فرما دیا
وہ حرام ہے۔
اگر ہمیں کوئی
ایسی دلیل مل
جائے جس سے یہ
معلوم ہو کہ
وہ حرام نہیں
ہے (بلکہ
ناپسندیدہ
کے درجے میں
ہے) تو پھر ہم
اسے اسی طرح
تسلیم کر لیں
گے۔ جہاں
تک رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
پر قیاس کرنے
کا تعلق ہے تو
اس کی دو
اقسام ہیں۔
ان میں سے ہر
قسم پھر
متعدد ذیلی
اقسام پر
مشتمل ہے۔ سائل:
وہ اقسام کیا
ہیں؟ شافعی: (پہلی قسم
تو یہ ہے کہ)
اللہ تعالی
نے اپنے
بندوں کو اپنی
کتاب اور
اپنے نبی کے
زبان کے ذریعے
اپنی عبادت و
اطاعت کا حکم
دیا ہے۔ اس کی
عبادت و
اطاعت کے اس
حکم کو چیلنج
نہیں کیا جا
سکتا۔ اللہ
تعالی نے جو
احکام اپنے
بندوں پر
لازم کئے ہیں،
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے اس کے
معنی کی
وضاحت فرما دی
ہے یا پھر یہ
وضاحت ہم تک
آپ سے منسوب
احادیث کے ذریعے
پہنچی ہے۔ اس
معاملے میں
کوئی بھی ایسا
حکم باقی نہیں
رہ گیا ہے جس کی
وضاحت نہ کی
گئی ہو۔ اہل
علم کے لئے
ضروری ہے کہ
وہ سنت کے
راستے کو اختیار
کریں اگر اس
کے معنی (قرآن
کے معنی کے)
مطابق ہوں۔
اس سے متعدد
اقسام مزید
نکلتی ہیں۔ دوسری
قسم یہ ہے کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے کسی چیز
کو عام طور پر
حلال قرار دیا
اور کسی خاص
(شخص، گروہ یا
صورتحال) کے
لئے اسے حرام
قرار دے دیا۔
ہم اسے عام
طور پر حلال ہی
سمجھیں گے
اور مخصوص
(فرد، گروہ وغیرہ)
کے لئے اسے
حرام ہی سمجھیں
گے۔ ہم اس
تھوڑے سے خاص
پر قیاس نہیں
کریں گے بلکہ
اکثریت کے
عام حکم پر قیاس
کرتے ہوئے (دیگر
صورتوں کے
لئے احکام
اخذ کریں گے) کیونکہ
اکثریت پر قیاس
کرنا اقلیت
پر قیاس کرنے
سے بہتر ہے۔ بالکل یہی
معاملہ اس کے
برعکس صورت میں
ہو گا کہ اگر
آپ نے ایک چیز
کو عام طور پر
حرام قرار دیا
اور اس میں کسی
خاص (شخص،
گروہ یا
صورتحال) کے
لئے اسے حلال
قرار دیا۔ اسی
طرح اگر اللہ
تعالی نے کوئی
حکم فرض قرار
دیا اور رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے اس میں
کسی خاص (فرد،
گروہ یا
صورتحال) کے
لئے تخفیف
فرما دی۔
جہاں تک قیاس
کا تعلق ہے تو
اسے صرف
قرآن، سنت
اور آثار (صحابہ)
سے حاصل کردہ
احکام پر ہی کیا
جا سکتا ہے۔
ہم
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی ثابت
شدہ مستند حدیث
کے خلاف رائے
قائم کریں،
مجھے امید ہے
کہ انشاء
اللہ ہمارے
معاملے میں
کبھی ایسا نہیں
ہو گا۔ ایسا
کرنے کا حق کسی
کو بھی حاصل
نہیں ہے۔ ہاں یہ
ضرور ہو سکتا
ہے کہ کسی شخص
کو ایک حدیث
کا علم ہی نہ
ہو یا یہ اس کے
ذہن ہی میں نہ
رہے یا وہ اسے
سمجھنے میں
غلطی کر بیٹھے
اور اس بنیاد
پر وہ اس حدیث
کے خلاف رائے
قائم کر لے لیکن
جان بوجھ کر
کوئی بھی ایسا
نہیں کرے گا۔ سائل: یہ
جو اقسام آپ
نے بیان
فرمائی ہیں،
ان میں سے ہر ایک
کی مثال بیان
کیجیے۔ کیا ہی
اچھا ہو کہ آپ
میرے ہر سوال
کے جواب میں
جامع اور
مختصر بات بیان
کر دیجیے جو میں
بھول نہ سکوں۔
سنت نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے ناسخ
و منسوخ سے
ابتدا فرمائیے
اور اس کی
مثالوں کو
قرآن کے ساتھ
بیان کیجیے
اگرچہ آپ کو
اپنی فرمائی
ہوئی بات کو
دوہرانا
پڑے۔ شافعی: اللہ تعالی
نے پہلے اپنے
رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم پر یہ
لازم کیا کہ
آپ بیت
المقدس (یروشلم)
کی طرف رخ کر
کے نماز ادا
کریں۔ اب بیت
المقدس قبلہ
بن گیا اور اس
زمانے میں جب
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے اس کی
جانب رخ فرمایا،
تو کسی کے لئے یہ
جائز نہ رہا
کہ وہ کسی اور
جانب منہ کر
کے نماز ادا
کرے۔ اس کے
بعد اللہ
تعالی نے بیت
المقدس کے
قبلہ بنائے
جانے کا حکم
منسوخ فرما دیا
اور اپنے
رسول اور عام
لوگوں کو حکم
دیا کہ وہ
کعبہ کو قبلہ
بنا لیں۔ جیسے
ہی کعبہ قبلہ
بنا، اب کسی
مسلمان کے
لئے یہ جائز
نہیں کہ وہ
سوائے خطرے کی
حالت کے، کسی
اور جانب منہ
کر کے نماز
ادا کرے۔ اب یہ
بھی جائز نہیں
کہ وہ کبھی
دوبارہ بیت
المقدس کی
جانب رخ کر کے
نماز ادا کر
سکے۔ بیت
المقدس کی
جانب رخ کرنے
کا یہ حکم
اپنے زمانے میں
حق تھا جب نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے اس کی طرف
رخ انور فرمایا۔
جب آپ نے (اللہ
کے حکم سے)
قبلے کو تبدیل
کر لیا تو اب قیامت
تک کے لئے حق یہی
ہے کہ مسجد
الحرام کی
جانب منہ کیا
جائے۔ بعینہ یہی
معاملہ کتاب
اللہ اور سنت
نبی کے دوسرے
منسوخ احکام
کا ہے۔ کتاب و
سنت کے اس
ناسخ و منسوخ
کی وضاحت اس
بات کی دلیل
ہے کہ اگر
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کوئی
سنت قائم
فرمائیں اور
اللہ تعالی
آپ کو اس کی
بجائے کسی
اور بات کا
حکم دے دے تو یہ
لازم ہے کہ آپ
اس دوسری سنت
کو لوگوں تک
پہنچائیں
تاکہ وہ
منسوخ حکم پر
ہی عمل کرتے
نہ رہ جائیں۔
کسی ایسے شخص
کو اس معاملے
میں کوئی غلط
فہمی نہیں
ہونی چاہیے
جو عربی زبان یا
کتاب و سنت کے
باہمی تعلق
سے نابلد ہے
کہ اگر رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کوئی
سنت جاری
فرمائیں اور
اس معاملے میں
قرآن میں کوئی
حکم آ جائے تو
کتاب اللہ،
سنت کو منسوخ
کر دیتی ہے (ایسا
ہرگز نہیں ہے۔) سائل:
کیا یہ ممکن
ہے کہ سنت،
کتاب اللہ کے
خلاف کوئی
حکم جاری کر
سکے؟ شافعی:
بالکل نہیں،
کیونکہ اللہ
جل ثناؤہ نے
اپنے بندوں
پر دو طرح سے
حجت قائم
فرمائی ہے۔ ایک
تو اللہ کی
کتاب ہے اور
دوسرے اس کے
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت۔
ان دونوں کی
بنیاد کتاب
اللہ ہی میں
ہے جس میں سنت
پر عمل کرنے
کا حکم دیا گیا
ہے۔ یہ ممکن ہی
نہیں ہے کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم ایک سنت
قائم فرما دیں
اور جب اسے
منسوخ کریں
تو اس کی ناسخ
سنت جاری ہی
نہ فرمائیں۔
ناسخ (منسوخ
کرنے والا)
حکم وہی ہو گا
جو دونوں میں
سے بعد والا
ہو گا۔ کتاب
اللہ کے اکثر
ناسخ احکام
کا علم ہمیں
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت ہی
سے ہوتا ہے۔ جب سنت
قرآن کے ناسخ
احکام کو بیان
کرتی ہے اور
ناسخ اور
منسوخ احکام
کے مابین فرق
کرتی ہے
تو یہ
ناممکن ہے کہ
کوئی سنت
قرآن سے
منسوخ ہو
جائے اور
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم ایسی
سنت جاری نہ
فرمائیں جو
پہلی سنت کو
منسوخ کر رہی
ہو۔ (یہ میں اس
لئے بیان کر
رہا ہوں کہ) جس
بندے پر اللہ
کی حجت پوری
ہو چکی ہے اسے
اس معاملے میں
کوئی شبہ باقی
نہ رہ جائے۔ سائل: اگر مجھے
قرآن کا کوئی
حکم اپنے
ظاہری الفاظ
میں عام ملے
اور اس کے
ساتھ کوئی
سنت بھی قرآن
کے اس حکم کی
وضاحت کرتی
ہوئی ملے لیکن
یہ سنت قرآن
کے ظاہری
الفاظ کے
خلاف ہو تو کیا
ہم یہ نہ سمجھ
لیں گے کہ یہ
سنت قرآن سے
منسوخ ہے؟ شافعی: یہ
کسی عالم کی
رائے نہیں
ہے۔ سائل:
ایسا کیوں
ہے؟ شافعی:
اللہ تعالی
نے اپنے نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
پر آپ کی جانب
کی جانے والی
وحی کی پیروی
لازم کی، آپ
کے راہ راست
پر ہونے کی
خود گواہی دی
اور لوگوں پر
آپ کی اطاعت
کو فرض کیا۔ جیسا
کہ میں پہلے
عرض کر چکا
ہوں کہ زبان میں
کئی معانی کا
احتمال ممکن
ہے۔ بعض
اوقات اللہ کی
کتاب میں کوئی
حکم بظاہر
عام لگتا ہے لیکن
یہ کسی خاص
(شخص، گروہ یا
صورتحال) کے
لئے ہوتا ہے
اسی طرح بعض
اوقات ایک
حکم بظاہر
خاص لگتا ہے لیکن
وہ عمومی حکم
ہوا کرتا ہے۔
اس کی وضاحت
سنت سے ہوتی
ہے۔ اللہ کی
کتاب کے ساتھ
سنت کا مقام یہی
ہے۔ سنت کبھی
کتاب اللہ کی
مخالف نہ ہو گی
بلکہ قرآن کے
احکام کے عین
مطابق کتاب
اللہ کی پیروی
کرتی ہو گی یا
پھر یہ کتاب
اللہ کے
احکام کی
وضاحت کرتی
ہو گی۔ یہ ہر
حال میں کتاب
اللہ کی پیروی
ہی کرے گی۔ سائل:
آپ نے جو فرمایا
کیا اس کی کوئی
دلیل قرآن مجید
سے مل سکتی
ہے؟ شافعی: ان میں سے
بعض تو میں اسی
کتاب میں بیان
کر چکا ہوں۔
اللہ تعالی
نے نماز، زکوۃ
اور حج کو فرض
کیا ہے اور
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے اس کی
وضاحت فرمائی
کہ نماز کیسے
ادا کی جائے؟
نمازوں کی
تعداد کتنی
ہے؟ ان کے
اوقات کیا ہیں؟
اس میں کیا
اعمال ہیں؟
مال میں کتنی
زکوۃ لازم
ہے؟ کس مال پر
زکوۃ ہے اور
کس پر نہیں؟
زکوۃ کس وقت دی
جائے؟ حج کیسے
کیا جائے؟ حج
میں کیا
افعال درست ہیں
اور کن سے
بچنا چاہیے؟ میں
نے اللہ تعالی
کے ان
ارشادات کہ "وَالسَّارِقُ
وَالسَّارِقَةُ
فَاقْطَعُوا
أَيْدِيَهُمَا"
یعنی "چور مرد
و عورت کے
ہاتھ کاٹ دو" اور "الزَّانِيَةُ
وَالزَّانِي
فَاجْلِدُوا
كُلَّ
وَاحِدٍ
مِنْهُمَا
مِائَةَ
جَلْدَةٍ
" یعنی "زانی
مرد و عورت میں
سے ہر ایک کو
سو کوڑے
مارو"
کا بھی ذکر کیا
ہے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے سنت
قائم فرمائی
کہ صرف اسی
چور کا ہاتھ
کاٹا جائے گا
جس نے ربع دینار
یا اس سے زائد
کی چوری کی ہو
اور کوڑے
کنوارے یا
غلام
بدکاروں کے
لئے ہیں نہ کہ
آزاد شادی
شدہ بدکاروں
کے لئے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
نے بتایا کہ
قرآن کے یہ
احکام کچھ
مخصوص چوروں
اور بدکاروں
کے لئے ہیں
جبکہ بظاہر
ان آیات کا
مفہوم عام
معلوم ہوتا
ہے۔ سائل:
آپ نے جو کچھ
فرمایا،
مجھے اس سے
اتفاق ہے لیکن
کیا آپ نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے مروی
اس روایت کے
بارے میں کوئی
دلیل پیش کر
سکتے ہیں کہ:
"تمہارے پاس
میری جانب سے
جو کچھ پیش کیا
جائے اسے
کتاب اللہ پر
پیش کرو اگر یہ
اس کے موافق
ہو تو وہ بات میں
نے ہی کہی ہے
اور اگر اس کے
مخالف ہو تو
وہ بات میں نے
نہیں کہی۔" شافعی: یہ
حدیث کسی بھی
ایسے ثقہ شخص
نے روایت نہیں
کی جس نے کسی
بھی چھوٹے یا
بڑے معاملے میں
حدیث بیان کی
ہو۔ یہ حدیث
کسی بھی
معاملے میں
ثبوت نہیں ہو
سکتی کیونکہ یہ
ایک منقطع
روایت ہے جس
کا راوی
نامعلوم ہے۔
ہم اس قسم کی
کسی روایت کو
قبول نہیں کر
سکتے۔ سائل:
کیا نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے آپ کی
رائے کے حق میں
کوئی حدیث
مروی ہے؟ شافعی:
جی ہاں۔ سفیان
نے سالم ابو
النضر سے،
انہوں نے عبید
اللہ بن ابی
رافع سے، اور
انہوں نے
اپنے والد سے
روایت کی کہ
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا:
میں تم سے کسی
کو اس طرح سے
نہ پاؤں کہ وہ
اپنے پلنگ پر
تکیہ لگائے
(متکبرانہ
انداز میں) بیٹھا
ہو اور جب اس
کے سامنے میرے
احکام میں سے
کوئی حکم پیش
کیا جائے جس میں
میں نے کسی چیز
کے بارے میں
حکم دیا ہو یا
کسی چیز سے
روکا ہو تو وہ
کہہ دے کہ میں
نہیں جانتا،
ہمیں یہ کتاب
اللہ میں نہیں
ملا، اس لئے
ہم اس کی پیروی
نہ کریں گے۔
(ترمذی، ابو
داؤد، ابن
ماجہ) رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
لوگوں پر
لازم کر دیا
کہ وہ کبھی بھی
آپ کے حکم کو
مسترد نہ کریں
کیونکہ اللہ
تعالی نے آپ
کے حکم کی
اتباع ان پر
فرض کی ہے۔ سائل:
کیا آپ ایسی
مثالیں پیش
کریں گے جن پر
اہل علم یا کم
از کم ان کی
اکثریت آپ کے
ساتھ متفق ہے
کہ کتاب اللہ
کا حکم بظاہر
عام تھا لیکن
سنت نے وضاحت
کی کہ یہ حکم
خاص ہے۔ شافعی:
جی ہاں، اس
کتاب میں میں
پہلے ہی یہ
مثالیں بیان
کر چکا ہوں۔ سائل:
برائے کرم
اگر آپ ان کا
اعادہ فرما دیں۔ شافعی:
اللہ تعالی
کا ارشاد ہے: حُرِّمَتْ
عَلَيْكُمْ
أُمَّهَاتُكُمْ
وَبَنَاتُكُمْ
وَأَخَوَاتُكُمْ
وَعَمَّاتُكُمْ
وَخَالَاتُكُمْ
وَبَنَاتُ
الْأَخِ وَبَنَاتُ
الْأُخْتِ
وَأُمَّهَاتُكُمْ
اللَّاتِي
أَرْضَعْنَكُمْ
وَأَخَوَاتُكُمْ
مِنْ
الرَّضَاعَةِ
وَأُمَّهَاتُ
نِسَائِكُمْ
وَرَبَائِبُكُمْ
اللَّاتِي
فِي
حُجُورِكُمْ
مِنْ
نِسَائِكُمْ
اللَّاتِي
دَخَلْتُمْ
بِهِنَّ،فَإِنْ
لَمْ تَكُونُوا
دَخَلْتُمْ
بِهِنَّ
فَلَا
جُنَاحَ عَلَيْكُمْ،وَحَلَائِلُ
أَبْنَائِكُمْ
الَّذِينَ
مِنْ
أَصْلَابِكُمْ
وَأَنْ
تَجْمَعُوا
بَيْنَ
الْأُخْتَيْنِ
إِلَّا مَا
قَدْ
سَلَفَ،إِنَّ
اللَّهَ
كَانَ
غَفُورًا
رَحِيمًا۔
وَالْمُحْصَنَاتُ
مِنْ
النِّسَاءِ
إِلَّا مَا
مَلَكَتْ
أَيْمَانُكُمْ،كِتَابَ
اللَّهِ
عَلَيْكُمْ،وَأُحِلَّ
لَكُمْ مَا وَرَاءَ
ذَلِكُمْ۔ حرام
کی گئی ہیں تم
پر تمہاری
مائیں، بیٹیاں،
بہنیں،
پھوپھیاں،
خالائیں،
بھتیجیاں،
بھانجیاں،
رضاعی مائیں،
رضاعی بہنیں،
بیویوں کی
مائیں، اور
تمہاری گود میں
پرورش پانے
والی تمہاری
سوتیلی بیٹیاں۔
اگر تم نے اپنی
بیویوں سے
خلوت کر لی ہے
تو سوتیلی بیٹی
سے نکاح کرنا
تمہارے لئے
جائز نہیں
ہاں اگر خلوت
نہیں ہوئی تو
پھر کوئی حرج
نہیں۔ تمہارے
سگے (صلبی) بیٹوں
کی بیویوں (سے
نکاح کرنا)
اور دو بہنوں
کو ایک ساتھ
(نکاح میں) جمع
کرنا بھی
حرام ہے
سوائے اس کے
کہ جو کچھ
پہلے ہو چکا کیونکہ
اللہ بخشنے
والا مہربان
ہے۔ دوسروں
کے ساتھ بیاہی
ہوئی خواتین
بھی تم پر
حرام ہیں
سوائے اس کے
کہ جو (جنگ میں)
کنیز بن کر
تمہارے پاس
آئیں۔ یہ
اللہ کا
قانون ہے جس کی
پابندی کرنا
تمہارے لئے
لازم ہے۔ اس
کے علاوہ جتنی
اور خواتین
بھی ہیں (ان سے
نکاح کرنا)
تمہارے لئے
حلال ہے۔
(النساء 4:23-24) اللہ
تعالی نے یہاں
ان خواتین کا
ذکر کیا جن سے
شادی کرنا
حرام ہے۔ اس
کے بعد ارشاد
فرمایا "وَأُحِلَّ
لَكُمْ مَا
وَرَاءَ
ذَلِكُمْ"
یعنی "اس کے
علاوہ جتنی
اور خواتین
بھی ہیں (ان سے
نکاح کرنا)
تمہارے لئے
حلال ہے"۔
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
ارشاد فرمایا:
"کوئی
شخص بھی ایک ہی
وقت میں ایک
عورت اور اس کی
پھوپھی سے
نکاح نہ کرے
اور اسی طرح ایک
ہی وقت میں ایک
عورت اور اس کی
خالہ سے نکاح
بھی منع ہے۔"
(بخاری،
مسلم، ترمذی،
نسائی، ابو
داؤد، مالک) میں
کسی ایسے
عالم کو نہیں
جانتا جو اس
بات سے
اختلاف
رکھتا ہو۔ اس میں
دو باتیں
واضح ہوتی ہیں۔
ایک تو یہ کہ
سنت رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کبھی
کتاب اللہ کے
خلاف نہیں ہو
سکتی بلکہ یہ
اس کے خاص اور
عام احکام کی
وضاحت کرتی
ہے۔ دوسری
بات یہ ہے کہ
اہل علم کے
ہاں خبر واحد
کو قبول کیا گیا
ہے۔ ہم اس حدیث
کے بارے میں
سوائے سیدنا
ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ کے کسی
اور راوی سے
واقف نہیں ہیں۔
سائل:
کیا آپ کے
رائے میں یہ
حدیث کتاب
اللہ کے ظاہری
حکم کے متضاد
نہیں ہے؟ شافعی: نہیں، نہ
تو یہ بلکہ
کوئی بھی حدیث
کتاب اللہ کے
مخالف نہیں
ہو سکتی۔ سائل:
تو پھر اس کا کیا
مطلب ہے کہ
اللہ تعالی
نے فرمایا کہ
"
حرام کی گئی ہیں
تم پر تمہاری
مائیں۔۔۔"
یہ حرمتیں بیان
کرنے کے بعد یہ
فرما دیا کہ "اس کے
علاوہ جتنی
اور خواتین
بھی ہیں (ان سے
نکاح کرنا)
تمہارے لئے
حلال ہے۔" شافعی: یہاں ان
خواتین کے
(شادی کے لئے)
حرام ہونے کا
ذکر ہے جو ہر
حالت میں
حرام ہیں جیسا
کہ ماں، بیٹی،
بہن، پھوپھی،
بھتیجی،
بھانجی۔ یہاں
ان خواتین کا
ذکر ہے جو نسب یا
رضاعی تعلق
کے باعث شادی
کے لئے حرام
کر دی گئی ہیں۔
اس کے بعد ان
خواتین کا
ذکر ہے جن کو ایک
ہی نکاح میں
جمع کرنا
حرام ہے۔ اصل
بات یہ ہے کہ
انفرادی طور
پر ان میں سے
ہر ایک سے
نکاح درست ہے۔
جیسا کہ
ارشاد ہے کہ " اس کے
علاوہ جتنی
اور خواتین
بھی ہیں (ان سے
نکاح کرنا)
تمہارے لئے
حلال ہے۔"
اس کا مطلب یہ
ہے کہ یہ اس
صورت میں
حلال ہیں جس
حال میں اللہ
تعالی نے انہیں
حلال کیا ہے۔ کیا آپ
یہ نہیں دیکھتے
کہ اس ارشاد "اس کے
علاوہ جتنی
اور خواتین
بھی ہیں (ان سے
نکاح کرنا)
تمہارے لئے
حلال ہے۔"
کا مطلب یہ بھی
ہے کہ کوئی
خاتون بغیر
نکاح کے حلال
تو نہیں ہو
سکتی اسی طرح
چار بیویوں
کے ہوتے ہوئے
پانچویں سے
نکاح جائز نہیں
اور ایک بہن
کے ہوتے ہوئے
دوسری سے
نکاح جائز نہیں
یا کوئی اور
معاملہ جس سے
منع کیا گیا
ہو۔ میں نے
وضو سے متعلق
اللہ تعالی
کے لازم کردہ
احکام کا ذکر
کیا اور نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے موزوں پر
مسح فرمایا۔
اکثر اہل علم
نے مسح کی اس
اجازت کو
قبول فرمایا
ہے۔ سائل:
کیا مسح قرآن
کے کسی حکم کے
خلاف ہے؟ شافعی:
سنت کسی حال میں
بھی قرآن کے
خلاف نہیں ہو
سکتی۔ سائل:
کیا آپ ا س کی
وضاحت فرما دیں
گے؟ شافعی:
اللہ تعالی
نے ارشاد
فرمایا: إِذَا
قُمْتُمْ
إِلَى
الصَّلاةِ
فَاغْسِلُوا
وُجُوهَكُمْ
وَأَيْدِيَكُمْ
إِلَى الْمَرَافِقِ
وَامْسَحُوا
بِرُءُوسِكُمْ
وَأَرْجُلَكُمْ
إِلَى
الْكَعْبَيْنِ
۔ جب
تم نماز کے
لئے اٹھو تو
منہ اور ہاتھ
کہنیوں تک
دھو لو، سروں
پر مسح کر لو
اور پاؤں
ٹخنوں تک دھو
لو۔ (المائدہ 5:6) رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
وضاحت فرما دی
کہ اگر کسی
شخص کا وضو ہو
اور وہ اسے
کوئی ایسی چیز
لاحق نہ ہو جس
سے وضو
دوبارہ کرنا
لازم ہو تو نماز
کی ادائیگی
کے لئے یہ وضو
اس پر فرض نہیں
ہے۔ اسی طرح
آپ نے یہ بھی
وضاحت فرما دی
کہ پاؤں
دھونا صرف اسی
کے لئے ضروری
ہے جس نے کامل
وضو کرنے کے
بعد موزے نہ
پہن رکھے ہوں۔
(یعنی اگر وہ
پورا وضو کر
کے موزے پہن
لے تو پھر
اگلے وضو میں
اس کے لئے
پاؤں دھونا
ضروری نہیں
ہے۔) اسی طرح
نبی صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے کچلی والے
درندوں کے
حرام ہونے کا
ذکر فرمایا
ہے جبکہ اللہ
تعالی کا
ارشاد ہے: قُلْ: لَا
أَجِدُ فِي
مَا أُوحِيَ
إِلَيَّ مُحَرَّمًا
عَلَى
طَاعِمٍ
يَطْعَمُهُ
إِلَّا أَنْ
يَكُونَ
مَيْتَةً
أَوْ دَمًا
مَسْفُوحًا
أَوْ لَحْمَ
خِنزِيرٍ،فَإِنَّهُ
رِجْسٌ أَوْ
فِسْقًا
أُهِلَّ
لِغَيْرِ
اللَّهِ
بِهِ۔ (اے
نبی!) آپ کہیے: میرے
پاس جو وحی آئی
ہے اس میں میں
کوئی (کھانے
کے قابل) ایسی
چیز نہیں
پاتا جو کسی
کھانے والے
پر حرام ہو
سوائے اس کے
کہ وہ مردار
ہو، یا بہایا
ہوا خون ہو، یا
خنزیر کا
گوشت ہو کہ وہ
ناپاک ہے یا
(ذبح کرنے
والے کی)
نافرمانی ہو
کہ اس نے اسے
اللہ کے
علاوہ کسی
اور کے لئے
ذبح کر لیا ہو۔
(الانعام 6:145) اس طرح اللہ
تعالی نے
حرام کھانوں
کو بیان کر دیا
ہے۔ سائل: اس کا کیا
مطلب ہے؟ شافعی:
اس کا مطلب یہ
ہے کہ (اے نبی!)
آپ کہیے کہ میرے
پاس جو وحی آئی
ہے میں کسی ایسی
چیز کو حرام
نہیں پاتا جو
کہ تم لوگ
کھاتے ہو
سوائے اس کے
کہ وہ مردار یا
دوسری چیزیں
ہو جن کا یہاں
ذکر ہوا۔ جو
کچھ تم کھانا
چھوڑ رہے ہو یہ
درست نہیں کیونکہ
پاک چیزوں کو
چھوڑنا نہیں
چاہیے۔ جو
حلال ہے وہ
حرام نہیں ہو
سکتا جب تک
اللہ تعالی یا
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم اسے
حرام نہ کریں۔
اللہ تعالی
کا ارشاد ہے
کہ "وَيُحِلُّ
لَهُمْ
الطَّيِّبَاتِ
وَيُحَرِّمُ
عَلَيْهِمْ
الْخَبَائِثَ
" یعنی "آپ ان پر
پاک چیزوں کو
حلال فرمائیں
اور ناپاک چیزوں
کو حرام"
(الاعراف
7:157) میں نے
اللہ تعالی
کے اس ارشاد
کا ذکر بھی کیا
کہ "وَأَحَلَّ
اللَّهُ
الْبَيْعَ
وَحَرَّمَ الرِّبَا
" یعنی " اللہ نے
تجارت کو
حلال قرار دیا
ہے اور سود کو
حرام۔"
اور فرمایا " لَا
تَأْكُلُوا
أَمْوَالَكُمْ
بَيْنَكُمْ
بِالْبَاطِلِ
إِلَّا أَنْ
تَكُونَ
تِجَارَةً
عَنْ
تَرَاضٍ
مِنْكُمْ "
یعنی "ایک دوسرے
کے مال باطل
طریقے سے مت
کھاؤ سوائے
اس کے کہ وہ
تمہاری مرضی
کی باہمی
تجارت ہو۔"
اس کے بعد
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے کچھ
مخصوص اقسام
کے سودوں سے
منع فرما دیا
جیسے سونے کے
دیناروں کو
چاندی کے
دراہم کے
بدلے ادھار بیچنا
شامل ہے اور
اسی طرز کے
دوسری ممنوع
سودے۔ یہ
مثال اور
دوسری تمام
مثالیں کتاب
اللہ کے خلاف
نہیں ہیں۔ سائل: آپ نے جو
کچھ فرمایا
برائے کرم اس
کے جامعیت
اور اختصار
کے ساتھ بیان
کر دیجیے۔ شافعی: اللہ کی
کتاب میں یہ بیان
کر دیا گیا ہے
کہ اس نے اپنے
رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کو اپنے
احکام کی
وضاحت کا
مقام عطا
فرمایا ہے
اور اپنے
بندوں پر آپ کی
اطاعت کو
لازم کر دیا
ہے۔ یہ جو
ارشاد فرمایا
کہ "وَأَحَلَّ
اللَّهُ
الْبَيْعَ
وَحَرَّمَ الرِّبَا
" یعنی " اللہ نے
تجارت کو
حلال قرار دیا
ہے اور سود کو
حرام۔"
اس کا مطلب یہ
ہے کہ اللہ نے
ہر اس تجارت
کو حلال فرما
دیا ہے جس سے
اللہ نے اپنی
کتاب یا اپنے
نبی کی زبان
سے منع نہیں
فرمایا ہے۔
اسی طرح اللہ
کے ارشاد کہ "
وَأُحِلَّ
لَكُمْ مَا
وَرَاءَ
ذَلِكُمْ
" یعنی " اس کے
علاوہ جتنی
اور خواتین
بھی ہیں وہ
تمہارے لئے
حلال ہیں۔"
سے مراد یہ ہے
کہ اللہ نے
اپنی کتاب میں
جن خواتین کو
نکاح یا ملکیت
کے تعلق سے
حلال کیا ہے،
وہ حلال ہیں
نہ کہ ہر عورت
سے جنسی
تعلقات قائم
کرنا جائز ہے۔
یہ واضح عربی
کلام کی مثالیں
ہیں۔ ایسے
شخص کے لئے جو
کتاب و سنت کے
تعلق سے آگاہ
نہیں ہے، اگر
سنت کو ترک
کرنا درست
ہوتا تو ہم
موزوں پر مسح
کو ترک کر دیتے،
ہر اس کام کو
حلال سمجھتے
جسے "تجارت"
کہا جاتا ہے،
ایک خاتون کے
ساتھ ساتھ اس
کی پھوپھی یا
خالہ کو نکاح
میں جمع کر لینے
کو بھی درست
سمجھتے، اور
کچلی والے
درندوں وغیرہ
کو کھانا
جائز سمجھتے۔
یہ رائے
رکھنا بھی
درست ہو جاتا
کہ "چوتھائی
دینار سے کم مالیت
کی چوری پر
ہاتھ نہ کاٹے
جائیں گے" کا
حکم "وَالسَّارِقُ
وَالسَّارِقَةُ
فَاقْطَعُوا
أَيْدِيَهُمَا"
یعنی "چور مرد
و عورت کے
ہاتھ کاٹ دو"
کی آیت کے
نزول سے پہلے
کا ہے۔ جس کام
پر بھی لفظ
"چوری" کا
اطلاق ہوتا،
اس کام کے
کرنے ہاتھ
کاٹ دیے
جاتے۔ یہ
رائے رکھنا
بھی درست ہو
جاتا کہ شادی
شدہ زانیوں
کو رجم کرنے
کا عمل جو نبی
صلی اللہ علیہ
وسلم سے
منسوب ہے اس آیت
کہ "الزَّانِيَةُ
وَالزَّانِي
فَاجْلِدُوا
كُلَّ
وَاحِدٍ
مِنْهُمَا
مِائَةَ
جَلْدَةٍ"
یعنی "زانی مرد
و عورت میں سے
ہر ایک کو سو
کوڑے مارو"
سے پہلے کا ہے۔
اب کنوارے
اور شادی شدہ
بدکاروں کو
کوڑے ہی مارے
جائیں گے اور
انہیں رجم نہ
کیا جائے گا۔
اسی طرح یہ
رائے رکھنا
بھی درست ہو
جاتا کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم نے
تجارتی
سودوں کی جن
اقسام سے منع
فرمایا ہے وہ
حکم اس آیت "وَأَحَلَّ
اللَّهُ
الْبَيْعَ
وَحَرَّمَ الرِّبَا
" یعنی " اللہ نے
تجارت کو
حلال قرار دیا
ہے اور سود کو
حرام۔"
سے پہلے کا ہے۔
جب سے آیت
نازل ہوئی تو یہ
تمام تجارتی
سودے حلال ہو
گئے۔ جہاں
تک سود کا
معاملہ ہے تو یہ
بھی ہو سکتا
تھا کہ ایک
شخص نے دوسرے
سے قرض وصول
کرنا ہو اور
وہ اسے کہے،
"قرض ادا کرو
گے یا سود دو
گے؟" اس طریقے
سے وہ قرض کو
موخر کر دے
اور سود کے ذریعے
اپنے مال میں
اضافہ کر لے۔
اسی طرز کی
بہت سے مثالیں
موجود ہیں۔
جو شخص یہ
رائے رکھتا
ہے (کہ "سنت کو
قرآنی حکم سے
اس طرح منسوخ
کیا جا سکتا
ہے کہ کوئی
ناسخ سنت
موجود نہ ہو")
وہ سنت کے بہت
سے احکام کو
منسوخ قرار
دے دے گا۔ حقیقت
یہ ہے کہ یہ
رائے سوائے
کہنے والے کی
لاعلمی کے
سوا اور کچھ
نہیں ہے۔ سائل:
آپ نے صحیح
فرمایا۔ شافعی: سنت رسول
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے بارے میں میں
نے جو کچھ بیان
کیا، جو اس سے
اختلاف
رکھتا ہے وہ
سنت (کے مقام)
سے اپنی لاعلمی
کو اپنی رائے
کی غلطی کے
ساتھ اکٹھا
کر دیتا ہے (یعنی
لاعلمی کے
باعث غلطی کر
بیٹھتا ہے۔) سائل:
کچھ ایسی
سنتوں کو بیان
کیجیے جو کسی
اور سنت سے
منسوخ ہو چکی
ہوں۔ شافعی: ناسخ اور
منسوخ سنتوں
کو (اس کتاب میں)
اپنے اپنے
مقام پر بیان
کر دیا گیا ہے۔
ان کی تکرار سے
کتاب بہت طویل
ہو جائے گی۔ سائل: ان میں سے
بعض مثالیں
بھی کافی رہیں
گی اگر آپ انہیں
اختصار سے بیان
کر دیں۔ شافعی: (حدیث میں
آتا ہے۔) مالک
نے عبداللہ
بن ابی بکر بن
محمد بن عمرو
بن حزم سے،
انہوں نے
عبداللہ بن
واقد سے اور
انہوں نے
عبداللہ بن
عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت
کی کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
قربانی کے
گوشت کو تین
دن کے بعد
کھانے سے منع
فرمایا۔
عبداللہ بن
ابی بکر کہتے
ہیں کہ میں نے یہ
حدیث عمرۃ
(بنت
عبدالرحمٰن)
کے سامنے بیان
کی تو انہوں
نے کہا،
انہوں نے
درست کہا کیونکہ
میں نے سیدہ
عائشہ رضی
اللہ عنہا کو
کہتے سنا: دیہات
سے کچھ (غریب)
لوگ نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے
زمانے میں
قربانی کے دن
آئے تو نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
ارشاد فرمایا،
"(قربانی کے
گوشت کو) تین
دن تک تم رکھ
سکتے ہو اس کے
بعد جو باقی
بچے اسے (ان غریبوں
کو) صدقہ کر دو۔"
اس
کے کچھ عرصے
بعد آپ سے عرض
کیا گیا، "یا
رسول اللہ!
لوگ اپنی
قربانیوں سے
فائدہ
اٹھاتے ہیں۔ یہ
لوگ قربانی
کے جانوروں کی
چربی اکٹھی
کر لیتے ہیں
اور اس کی
کھال سے مشکیزے
بنا لیتے ہیں۔"
آپ نے فرمایا،
"پھر کیا ہوا"
(آپ نے کچھ اسی
طرح ارشاد
فرمایا) انہوں
نے عرض کیا، "یا
رسول اللہ! آپ
نے تو تین دن
سے زیادہ
قربانی کا
گوشت رکھنے
سے منع فرمایا
تھا۔" رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
ارشاد فرمایا:
" میں نے تو ایسا
ان (غریب دیہاتیوں)
کی وجہ سے کہا
تھا جو قربانی
کے دن آئے تھے۔
(اب چونکہ ایسی
صورتحال نہیں
ہے اس لئے) تم
چاہو تو اس
گوشت کو
کھاؤ، چاہے
صدقہ کرو اور
چاہے محفوظ
کر لو۔ (مسلم،
ابو داؤد،
مالک) ہمیں
ابن عینیہ نے
بتایا کہ
انہوں نے زہری
سے اور انہوں
نے ابن ازھر
کے آزاد کردہ
غلام ابو عبید
کو کہتے سنا:
ہم علی بن ابی
طالب رضی
اللہ عنہ کے
ساتھ عید
گزاری اور آپ
کو یہ کہتے
ہوئے سنا،
"تم میں سے
کوئی بھی تین
دن کے بعد
قربانی کا
گوشت نہ
کھائے۔" ہمیں
ایک قابل
اعتماد راوی
نے بتایا کہ
انہوں نے روایت
کی معمر سے،
انہوں نے زہری
سے، انہوں نے
ابن ازھر کے
آزاد کردہ
غلام ابو عبید
سے اور انہوں
نے علی رضی
اللہ عنہ سے
کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے فرمایا:
"تم سے کوئی تین
دن کے بعد
قربانی کا
گوشت نہ
کھائے۔"
(مسلم، نسائی،
احمد، شافعی) ابن
عینیہ نے
ابراہیم بن میسرہ
سے اور انہوں
نے انس بن
مالک رضی
اللہ عنہ سے
روایت کی۔ آپ
نے فرمایا:
"ہم اپنی
قربانیوں کو
ماشاءاللہ
ذبح کرتے اور
پھر اس کے باقی
گوشت میں سے
اضافی گوشت
کو لے کر بصرہ
تک کا سفر کر لیتے۔
(یعنی گوشت کو
طویل مدت کے
لئے محفوظ کر
لیا جاتا)" ان
احادیث میں
کئی معنی
اکٹھے ہیں۔ سیدنا
علی رضی اللہ
عنہ کی نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم
سے روایت
کردہ حدیث کہ "تین دن
سے زیادہ
قربانی کے
گوشت کو
محفوظ رکھنا
منع ہے"
اور عبداللہ
بن واقد رحمۃ
اللہ علیہ کی
حدیث دونوں ایک
دوسرے کے
موافق ہیں۔
اس سے یہ
معلوم ہوتا
ہے کہ علی رضی
اللہ عنہ نے
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم سے اس
منع کرنے کے
حکم کو سنا
تھا۔ ممانعت
کا یہی حکم
عبداللہ بن
واقد تک بھی
پہنچا۔ اس کے
بعد اس حکم سے
رخصت (یعنی اب
گوشت تین دن
سے زیادہ
محفوظ کیا جا
سکتا ہے)
نہ تو علی رضی
اللہ عنہ تک
پہنچی اور نہ
ہی عبداللہ
بن واقد تک۔
اگر ان دونوں
تک یہ اجازت
پہنچ جاتی تو
وہ اس ممانعت
کو بیان نہ
کرتے جبکہ
ممانعت کا یہ
حکم اب منسوخ
ہے۔ ان دونوں
نے اجازت کے
حکم کو ترک کر
دیا حالانکہ یہی
ناسخ حکم ہے
اور ممانعت
منسوخ ہو چکی۔
ایک منسوخ
حکم سننے
والے کو ناسخ
حکم کو جاننے
سے مستغنی تو
نہیں کرتا۔
اسی
طرح سیدنا
انس بن مالک
رضی اللہ عنہ
کے اس ارشاد میں
کہ "ہم
لوگ قربانی
کے محفوظ شدہ
گوشت کو بصرہ
تک لے جایا
کرتے تھے"
یہ احتمال ہے
کہ انس رضی
اللہ عنہ نے
اجازت کے حکم
کو تو سن لیا لیکن
اس سے پہلے کی
ممانعت کے
حکم کو نہ سن
سکے۔ اس وجہ
سے انہوں نے
رخصت سے تو
فائدہ اٹھایا۔
آپ نے یا تو
ممانعت کے
حکم کو سنا ہی
نہیں یا پھر
ممانعت اور
اجازت دونوں
کے حکم کو سن لیا
اور چونکہ
ممانعت کا
حکم منسوخ
تھا اس وجہ سے
اس کا ذکر نہیں
کیا۔ یہی وجہ
ہے کہ ان
دونوں راویوں
نے جو کچھ
جانتے تھے
روایت کیا جو
(بظاہر) ایک
دوسرے سے
مختلف ہے۔ ہر وہ
شخص جو رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے کوئی
بات سنے، اس
پر لازم ہے کہ
جو کچھ اس نے
سنا اسے دوسروں
تک پہنچائے
تاکہ وہ اسے
جان لیں۔ سیدہ
عائشہ رضی
اللہ عنہا نے
نے نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی جو حدیث
بیان فرمائی
ہے کہ آپ نے
پہلے تو تین
دن سے زیادہ
قربانی کے
گوشت کو
اکٹھا کرنے
سے منع فرمایا
پھر اس کے بعد
اس کی اجازت
دے دی۔ انہوں
نے یہ بھی بتا
دیا کہ تین دن
سے زیادہ
گوشت کو
اکٹھا کرنے کی
ممانعت
دراصل ان غریب
دیہاتیوں کی
وجہ سے تھی۔ یہ
حدیث مکمل
بات بیان کرتی
ہے جس میں
پورے واقعے
کو شروع سے
آخر تک بیان کیا
گیا ہے اور
منع کرنے اور
بعد میں
اجازت دے دینے
کی وجہ بھی
بتا دی گئی ہے۔
جو شخص بھی اس
حدیث کو
جانتا ہو اس
پر لازم ہے کہ
وہ اب اسی پر
عمل کرے۔
سیدہ
عائشہ رضی
اللہ عنہا کی یہ
حدیث، سنت میں
موجود ناسخ و
منسوخ کی سب
سے واضح مثال
ہے۔ اس سے یہ
بھی معلوم
ہوتا ہے کہ
بعض اوقات ایک
حدیث کو جزوی طور
پر محفوظ کر لیا
جاتا ہے۔ بعض
لوگ بات کے
پہلے حصے کو یاد
کر لیتے ہیں
اور دوسرے
حصے کو محفوظ
کرنے کا
اہتمام نہیں
کر پاتے اور
بعض لوگ
دوسرے حصے کو یاد
کر لیتے ہیں
اور پہلے حصے
کو محفوظ نہیں
کرتے۔ اس طرح
ہر کوئی اسی
بات پر عمل
کرتا ہے جو اس
نے یاد کر لی
ہوتی ہے۔ بعد میں
دی گئی اجازت
کہ قربانی کے
گوشت کو
محفوظ کر لیا
جائے یا کھا لیا
جائے یا صدقہ
کر دیا جائے، یہ
ایک معنی کو
مختلف
صورتحال میں
اختیار کر لینے
کے مترادف ہے۔
جب غریب دیہاتی
شہر میں آ گئے
تو قربانی کے
گوشت کو تین
دن سے زیادہ
محفوظ رکھنے
سے منع کر دیا
گیا۔ جب یہ
لوگ چلے گئے
تو اب اجازت
مل گئی کہ
چاہے گوشت کو
کھایا جائے،
سفر میں ساتھ
رکھ لیا
جائے، محفوظ
کر لیا جائے یا
(غریبوں کو)
صدقہ کر دیا
جائے۔ یہ
احتمال بھی
ہے کہ تین دن
سے زیادہ
قربانی کے
گوشت کو
محفوظ رکھنا
اب ہمیشہ کے
لئے ایک
منسوخ حکم ہے۔
اب انسان اپنی
قربانی میں
سے جو چاہے
محفوظ کر لے
اور جو چاہے
صدقہ کر دے۔ ناسخ
و منسوخ روایات
کی دیگر مثالیں پہلی
مثال محمد
بن اسماعیل
نے ابو فدیک
سے، انہوں نے
ابن ابی ذئب
سے، انہوں نے
مقبری سے،
انہوں نے
عبدالرحمٰن
بن ابی سعید
سے اور انہوں
نے ابو سعید
خدری رضی اللہ
عنہ سے روایت
کی جنہوں نے
فرمایا: ہم
لوگ جنگ خندق
کے دن (جنگ کی
شدت کے باعث)
نماز ادا نہ
کر سکے تھے یہاں
تک کہ مغرب کے
بعد رات کو جا
کر ہمیں کچھ
وقت مل سکا جیسا
کہ اللہ تعالی
نے ارشاد
فرمایا:
"اللہ ہی
مومنوں کی
طرف سے جنگ
کرنے کے لئے
کافی ہو گیا
اور اللہ ہی
طاقتور اور
زبردست ہے۔"
اس وقت رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے بلال
رضی اللہ عنہ
کو بلایا کہ
وہ اذان دیں۔
انہوں نے اس
حکم کی تعمیل
کی۔ پھر آپ
ظہر کی نماز
کے لئے کھڑے
ہوئے اور کیا
ہی اچھے طریقے
سے نماز ادا کی
جیسا کہ آپ اس
کے وقت پر کیا
کرتے تھے۔
پھر آپ عصر کے
لئے کھڑے
ہوئے اور ایسے
ہی نماز پڑھی۔
اس کے بعد اسی
طرح مغرب اور
پھر عشا کی
نمازیں ادا
فرمائیں۔
راوی کہتے ہیں
کہ یہ واقعہ
"خطرے کی
نماز" سے
متعلق احکام
نازل ہونے سے
پہلے کا ہے جب
پیدل اور
سوار ہر طرح
سے نماز کی
ادائیگی کا
حکم دیا گیا۔
(احمد، دارمی،
شافعی) ابو
سعید خدری رضی
اللہ عنہ نے
جنگ خندق کے
سال رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی نماز
کا ذکر کیا۔ یہ
واقعہ "صلوۃ
خوف (خطرے کی
نماز)" کے
احکام "فَرِجَالاً
أَوْ
رُكْبَانًا"
یعنی "پیدل و
سوار (ہر حالت
میں) نماز ادا
کرو"
کے نازل ہونے
سے پہلے کا ہے۔
ہم اس سے یہ
اخذ کرتے ہیں
کہ صلوۃ خوف
کا حکم اس کے
بعد نازل ہوا۔
جنگ خندق کے
موقع پر ابو
سعید خدری رضی
اللہ عنہ
موجود تھے۔
انہوں نے بیان
کیا کہ اس
موقع پر
نمازوں میں
ان کے عام وقت
سے تاخیر کی
گئی۔ انہوں
نے یہ بھی بیان
کیا کہ یہ
واقعہ صلوۃ
خوف کے احکام
کے نازل ہونے
سے پہلے کا ہے۔
اب کبھی بھی
شہر میں رہتے
ہوئے نماز کو
اس کے وقت سے
موخر نہ کیا
جائے گا اور
نہ ہی سفر میں
نمازوں کو
جمع کرتے
ہوئے موخر کیا
جائے گا خواہ
خطرے کی حالت
ہو یا نہ ہو۔
ہر حالت میں
نماز ویسے ہی
ادا کی جائے گی
جیسا کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے نماز
ادا فرمائی۔
صلوۃ خوف سے
متعلق ہمارا
نقطہ نظر
امام مالک کی
اس روایت کی
بنیاد پر ہے: مالک
نے یزید بن
رومان سے،
انہوں نے
صالح بن خوات
اور انہوں نے
ایسے صحابہ
سے جنہوں نے
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے ساتھ
غزوہ ذات
الرقاع میں
نماز ادا کی
تھی، سے روایت
کی: ایک گروہ
نے رسول اللہ
کے ساتھ صف
بنا لی جبکہ
دوسرا دشمن کی
طرف
متوجہ رہا۔
حضور اس وقت
تک کھڑے رہے
جب تک جو لوگ
آپ کے ساتھ
تھے انہوں نے
ایک رکعت ادا
کر لی۔ اس کے
بعد یہ لوگ
پلٹے اور
دشمن کے
مقابلے پر جا
کھڑے ہوئے
اور دوسرے
گروہ نے آپ کے
ساتھ ایک
رکعت ادا کر لی
جو باقی رہ گئی
تھی۔ اس کے
بعد حضور نے
انتظار فرمایا
اور اس گروہ
نے اپنے طور
پر دوسری
رکعت پوری کر
لی۔ اس کے بعد
نبی نے
سلام پھیر کر
نماز پوری کر
لی۔ (بخاری،
مسلم، نسائی،
ابو داؤد،
مالک) ہمیں
ایسے لوگوں
سے روایت
پہنچی ہے
جنہوں نے اسے
عبداللہ بن
عمر بن حفص سے
سنا، انہوں نے
اپنے بھائی
عبید اللہ بن
عمر سے،
انہوں نے
قاسم بن محمد
سے، انہوں نے
صالح بن خوات
بن جبیر سے
اور انہوں نے
اپنے والد سے
اسی کے مثل
روایت نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے بیان
کی۔ نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
سے اور روایتیں
بھی منقول ہیں
جس میں صلوۃ
خوف کا ایسا
طریقہ بیان کیا
گیا ہے جو
امام مالک کی
روایتوں سے
مختلف ہے۔ ہم
ان روایتوں
کو چھوڑ کر
مالک کی روایت
کو قبول کرتے
ہیں کیونکہ یہ
قرآن کے زیادہ
قریب ہے اور
دشمن کے
مقابلے پر
نماز کا یہ طریقہ
زیادہ موزوں
ہے۔ ہم نے یہاں
اس اختلاف
ذکر کر دیا ہے
اور اپنے
دلائل کو تفصیل
سے "کتاب
الصلوۃ" میں
بیان کر دیا
ہے۔ یہاں ہم
نے متضاد روایتوں
کو بیان نہیں
کیا ہے کیونکہ
یہ اس کتاب میں
متفرق
مقامات پر بیان
ہو چکی ہیں۔ دوسری
مثال اللہ
تبارک و تعالی
کا ارشاد ہے: وَاللَّاتِي
يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ
مِنْ
نِسَائِكُمْ
فَاسْتَشْهِدُوا
عَلَيْهِنَّ
أَرْبَعَةً
مِنْكُمْ فَإِنْ
شَهِدُوا
فَأَمْسِكُوهُنَّ
فِي الْبُيُوتِ
حَتَّى
يَتَوَفَّاهُنَّ
الْمَوْتُ
أَوْ
يَجْعَلَ
اللَّهُ
لَهُنَّ
سَبِيلًا۔
وَاللَّذَانِ
يَأْتِيَانِهَا
مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا
فَإِنْ تَابَا
وَأَصْلَحَا
فَأَعْرِضُوا
عَنْهُمَا۔ تمہاری
عورتوں میں
سے جو بدکاری
کی مرتکب
ہوں، ان پر
اپنے چار آدمیوں
کی گواہی طلب
کرو۔ اگر وہ
(ان کی بدچلنی
کی) گواہی دے دیں
تو ان کو
گھروں میں
بند رکھو یہاں
تک کہ انہیں
موت آ جائے یا
پھر اللہ ان
کے لئے کوئی
اور راستہ
نکال دے۔ تم میں
سے جو اس فعل
کا ارتکاب کریں
تو ان دونوں
کو کچھ اذیت
دو۔ پھر اگر
وہ توبہ کر لیں
اور اپنی
اصلاح کر لیں
تو انہیں
چھوڑ دو۔
(النساء 4:15-16) اس
آیت میں
بدکاری کی
سزا قید اور
کچھ اذیت بیان
کی گئی ہے۔ اس
کے بعد اللہ
تعالی نے
اپنے رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم پر
بدکاری کی
سزا کے حکم کو
نازل کیا۔
ارشاد ہوا: الزَّانِيَةُ
وَالزَّانِي
فَاجْلِدُوا
كُلَّ
وَاحِدٍ
مِنْهُمَا
مِائَةَ
جَلْدَةٍ۔ بدکار
مرد و عورت،
ان دونوں میں
سے ہر ایک کو
سو کوڑے مارو۔
(النور 24:2) لونڈیوں
کے متعلق
ارشاد فرمایا: فَإِذَا
أُحْصِنَّ
فَإِنْ
أَتَيْنَ
بِفَاحِشَةٍ
فَعَلَيْهِنَّ
نِصْفُ مَا
عَلَى
الْمُحْصَنَاتِ
مِنْ
الْعَذَابِ۔ جب
وہ حصار نکاح
میں محفوظ ہو
جائیں اور اس
کے بعد کسی
بدچلنی کی
مرتکب ہوں تو
ان پر اس سزا کی
نسبت آدھی
سزا ہے جو
محصنہ خواتین
کے لئے مقرر
ہے۔ (النساء 4:25) اس
طرح سے بدکاری
کے جرم میں قید
کی سزا کو
منسوخ کر دیا
گیا اور سزا
کا نفاذ کر دیا
گیا۔ جہاں تک
اللہ تعالی
کے لونڈیوں
سے متعلق
ارشاد "
فَعَلَيْهِنَّ
نِصْفُ مَا
عَلَى
الْمُحْصَنَاتِ
مِنْ
الْعَذَابِ
" یعنی " ان پر اس
سزا کی نسبت
آدھی سزا ہے
جو محصنہ
خواتین کے
لئے مقرر ہے"
کا تعلق ہے،
اس میں اللہ
تعالی نے
بدکاری کا
ارتکاب کرنے
والے کے آزاد
ہونے یا غلام
ہونے میں فرق
کیا ہے۔ نصف
تو کوڑوں کی
سزا ہی کا ہو
سکتا ہے۔ رجم
کی سزا کا نصف
ہونا ناممکن
ہے۔ اس کی وجہ یہ
ہے کہ رجم کا
تعلق تعداد
سے نہیں ہو
سکتا۔ مجرم کی
موت تو ایک پتھر
سے بھی ہو سکتی
ہے اور ہزار یا
اس بے بھی
زائد پتھروں
سے بھی۔
چونکہ
پتھروں کی
تعداد نا
معلوم ہے اس
لئے اس کا نصف
ممکن نہیں ہے۔
اسی طرح موت
کا نصف کرنا
بھی ممکن نہیں
ہے۔ سورۃ
نور میں اللہ
تعالی کے
ارشاد "الزَّانِيَةُ
وَالزَّانِي
فَاجْلِدُوا
كُلَّ
وَاحِدٍ
مِنْهُمَا
مِائَةَ
جَلْدَةٍ"
یعنی "بدکار
مرد و عورت،
ان دونوں میں
سے ہر ایک کو
سو کوڑے مارو"
میں یہ
احتمال تھا
کہ یہ سزا یا
تو بدکاری کا
ارتکاب کرنے
والے ہر آزاد
مرد و عورت کے
لئے ہے یا پھر
بعض لوگوں کے
لئے ہے۔ ہم نے
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم، میرے
ماں باپ آپ پر
قربان ہوں، کی
سنت سے یہ اخذ
کیا ہے کہ سو
کوڑوں کی سزا
کس کے لئے ہے۔ عبدالوہاب،
یونس بن عبید
سے، وہ حسن سے
اور وہ عبادہ
بن صامت رضی
اللہ عنہ سے
روایت کرتے ہیں
کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے فرمایا:
"مجھ سے حاصل
کرو، مجھ سے
حاصل کرو،
اللہ تعالی
نے ان (فاحشہ
عورتوں) کے
لئے راستہ
نکال دیا۔
کنوارے
بدکاروں کے
لئے سو کوڑے
اور ایک سال کی
جلاوطنی کی
سزا ہے اور
شادی شدہ
بدکاروں کے
لئے سو کوڑے
اور رجم کی
سزا ہے۔
(مسلم، احمد،
ابن ماجہ،
مسند شافعی) رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے اس
ارشاد کہ ""اللہ
تعالی نے ان
کے لئے راستہ
نکال دیا"
دراصل اس سے
پہلے موجود
بدکاری کی
سزا کے حکم سے
متعلق تھا۔
اللہ تعالی
نے ارشاد
فرمایا کہ "حَتَّى
يَتَوَفَّاهُنَّ
الْمَوْتُ
أَوْ يَجْعَلَ
اللَّهُ
لَهُنَّ
سَبِيلًا"
یعنی " یہاں تک
کہ انہیں موت
آ جائے یا پھر
اللہ ان کے
لئے کوئی اور
راستہ نکال
دے"۔ اس کے
بعد رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے ماعز
کو رجم کیا
اور انہیں
کوڑے نہیں
مارے، اسی
طرح آپ نے
اسلمی خاتون
کو رجم کیا
اور انہیں بھی
کوڑے نہیں
مارے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
سے یہ معلوم
ہوا کہ شادی
شدہ بدکاروں
کے لئے کوڑوں
کی سزا منسوخ
ہو چکی ہے۔
آزاد لوگوں کی
بدکاری کی
صورت میں سزا
کا فرق صرف
نکاح یا کسی
اور طریقے سے
"احصان" کے ذریعے
کیا گیا ہے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے یہ
ارشاد فرمایا
کہ "
اللہ تعالی
نے ان (فاحشہ
عورتوں) کے
لئے راستہ
نکال دیا۔
کنوارے
بدکاروں کے
لئے سو کوڑے
اور ایک سال کی
جلاوطنی کی
سزا ہے۔"
اس ارشاد سے یہ
معلوم ہوا کہ
بدکاروں کی
سزا میں سب سے
پہلے قید کی
سزا کا حکم
منسوخ ہوا۔
دوسری سزاؤں
کا حکم بعد میں
دیا گیا تھا
اور انہیں
نافذ بھی بعد
میں کیا گیا
تھا۔ یہی وجہ
ہے کہ
بدکاروں کی
سب سے پہلی
سزا یہی "قید"
ہے۔ مالک
نے ابن شہاب
سے، انہوں نے
عبیداللہ بن
عبداللہ سے،
اور انہوں نے
ابوھریرہ
اور زید بن
خالد رضی
اللہ عنہما
سے روایت کی۔
ان دونوں نے بیان
کیا: دو شخص
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے پاس
اپنا مقدمہ
لے کر آئے۔ ان
میں سے ایک نے
کہا، "یا
رسول اللہ!
ہمارے درمیان
اللہ کے
قانون کے
مطابق فیصلہ
فرما دیجیے؟"
دوسرا شخص جو
ان دونوں میں
زیادہ سمجھ
دار تھا،
کہنے لگا، "یا
رسول اللہ!
برائے کرم
ٹھہریے،
پہلے مجھے
بات کرنے کی
اجازت دیجیے۔"
آپ نے فرمایا،
"بولو"۔ وہ
کہنے لگا، "میرا
بیٹا اس شخص
کے ہاں ملازم
تھا۔ اس نے ان
صاحب کی بیوی
سے بدکاری کی۔
مجھے معلوم
ہوا ہے کہ میرے
بیٹے کو رجم کی
سزا دی جائے گی۔
میں نے اس کا
فدیہ سو بھیڑیں
اور ایک لونڈی
کی صورت میں
ان صاحب کو
ادا کر دیا ہے۔"
اس کے بعد میں
نے اہل علم سے
پوچھا تو
انہوں نے بتایا
کہ میرے بیٹے
کو سو کوڑے
اور ایک سال کی
جلا وطنی کی
سزا دی جائے گی
اور ان صاحب کی
بیوی کو رجم کی
سزا دی جائے گی۔"
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
ارشاد فرمایا:
"اس کی قسم جس
کے قبضے میں میری
جان ہے، میں
تمہارے مابین
اللہ کے
قانون کے
مطابق فیصلہ کروں
گا۔ تمہاری
بھیڑیں اور
لونڈی تو
واپس تمہیں
لوٹائی جائے
گی۔ (اس کے بعد)
اس کے بیٹے کو
سو کوڑے اور ایک
سال کی
جلاوطنی کی
سزا دی گئی۔
آپ نے انیس
اسلمی کو حکم
دیا کہ دوسرے
شخص کی بیوی
کو لایا جائے۔
اگر وہ اپنے
جرم کا
اعتراف کر لے
تو اسے رجم کر دیا
جائے۔ اس
عورت نے
اعتراف کر لیا
تو اسے رجم کر
دیا گیا۔
(بخاری، نسائی،
مالک) مالک
نے نافع سے
اور انہوں نے
ابن عمر رضی
اللہ عنہما
سے روایت کی:
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے
بدکاری کے
جرم میں دو یہودیوں
کو رجم کیا۔
(بخاری،
مسلم، ترمذی،
ابن ماجہ) اس
طرح سے سو
کوڑے اور جلا
وطنی کی سزا
کنوارے
بدکاروں اور
رجم کی سزا
شادی شدہ
بدکاروں کے
لئے مقرر ہو
گئی۔ اگر کسی
جوڑے کو کوڑے
اور رجم
دونوں کی سزا
دی جائے تو اس
کے لئے کوڑے کی
سزا رجم سے
منسوخ کر دی
گئی ہے۔ اگر
وہ دونوں شادی
شدہ نہ ہوں
بلکہ کنوارے
ہوں تو ان کے
لئے کوڑوں کی
سزا ہے۔ شادی
شدہ افراد کو
رجم، کوڑوں کی
سزا سے متعلق
آیت کے نزول
کے بعد دیا گیا۔
یہ اس بنیاد
پر تھا کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے اللہ
تعالی سے یہ
حکم روایت کیا
ہے۔ یہ معانی
(اللہ کے حکم
سے) قریب ترین
ہیں اور
ہمارے لئے سب
سے زیادہ
قابل ترجیح ہیں
لیکن اللہ
تعالی بہتر
جانتا ہے۔ تیسری
مثال مالک
نے ابن شہاب
سے اور انہوں
نے انس بن
مالک رضی
اللہ عنہ سے
روایت کی: نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم ایک
گھوڑے پر
سوار تھے۔ آپ
اس سے گر گئے
اور آپ کی دائیں
جانب زخمی ہو
گئی۔ آپ نے
روزانہ کی
نمازوں میں
سے ایک نماز اس
طرح سے ادا کی
کہ آپ بیٹھے
ہوئے تھے اور
ہم نے بھی آپ
کے پیچھے بیٹھ
کر ہی نماز اد
ا کی۔ نماز کے
بعد آپ ہماری
طرف مڑے اور
فرمایا،
"امام اس لئے
بنایا جاتا
ہے کہ اس کی پیروی
کی جائے۔ جب
وہ کھڑا ہو کر
نماز پڑھے تو
تم بھی کھڑے
ہو کر نماز
پڑھو، جب وہ
رکوع کرے تو
تم بھی رکوع
کرو، جب وہ
ہاتھ اٹھائے
تو تم بھی
ہاتھ اٹھاؤ،
جب وہ کہے 'سمع
اللہ لمن
حمدہ' تو تم
کہو 'ربنا و لک
الحمد'، اور
جب وہ بیٹھ کر
نماز پڑھے تو
تم بھی اس کے پیچھے
بیٹھ کر ہی
اکٹھے نماز
ادا کرو۔
(بخاری،
مسلم، نسائی،
ابو داؤد،
ابن ماجہ،
مالک) مالک
نے ہشام بن
عروۃ سے اور
انہوں نے
اپنے والد سے
اور انہوں نے
سیدہ عائشہ
رضی اللہ
عنہا سے روایت
کی۔ آپ نے
فرمایا: رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے بیماری
کی حالت میں
گھر میں نماز
ادا فرمائی۔
آپ نے بیٹھ کر
نماز ادا
فرمائی اور
آپ کے پیچھے
لوگوں نے
کھڑے ہو کر۔
آپ نے انہیں
اشارے سے بیٹھنے
کے لئے کہا۔
نماز کے بعد
آپ مڑے اور
فرمایا،
"امام اس لئے
بنایا جاتا
ہے کہ اس کی پیروی
کی جائے۔ جب
وہ رکوع کرے
تو تم بھی
رکوع کرو، جب
وہ ہاتھ
اٹھائے تو تم
بھی ہاتھ
اٹھاؤ اور جب
وہ بیٹھ کر
نماز پڑھے تو
تم بھی بیٹھ
کر نماز پڑھو۔
(بخاری، احمد) یہ
انس رضی اللہ
عنہ کی حدیث
کے مثل ہے لیکن
سیدنا انس کی
حدیث میں زیادہ
تفصیلات بیان
کی گئی ہیں۔ مالک
نے ہشام بن
عروۃ سے اور
انہوں نے
اپنے والد سے
روایت کی:
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم اپنی بیماری
کے دوران
(حجرے سے) باہر
نکلے۔
ابوبکر رضی
اللہ عنہ اس
وقت امامت کر
رہے تھے، وہ
حضور کے لئے پیچھے
ہٹے لیکن آپ
نے انہیں وہیں
رہنے کا
اشارہ کیا
اور ابوبکر
کے ساتھ بیٹھ
گئے۔ اب
ابوبکر نماز
میں رسول
اللہ کی پیروی
کررہے تھے
اور لوگ
ابوبکر رضی
اللہ عنہ کی پیروی
کر رہے تھے۔
(بخاری،
مسلم، ابن
ماجہ، مالک) (امام
شافعی نے اسی
حدیث کو ترجیح
دی ہے۔) ابراہیم
نخعی نے اسود
بن یزید سے،
انہوں نے سیدہ
عائشہ رضی
اللہ عنہا سے
اور انہوں نے
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم اور سیدنا
ابوبکر رضی
اللہ عنہ سے
عروۃ کی حدیث
کے مثل حدیث
روایت کی ہے۔
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم بیٹھ کر
نماز پڑھ رہے
تھے اور
ابوبکر رضی
اللہ عنہ
کھڑے ہو کر
نماز پڑھ رہے
تھے۔ ابوبکر
حضور کی پیروی
کر رہے تھے
اور پیچھے
کھڑے لوگ
ابوبکر کی۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے، اس بیماری
میں جس میں آپ
کا انتقال
ہو، بیٹھ کر
اور آپ کے پیچھے
لوگوں نے
کھڑے ہو کر
نماز ادا کی۔
اس سے ہم یہ نتیجہ
اخذ کر سکتے ہیں
کہ گھوڑے سے
گرنے والے
واقعے میں آپ
نے جو لوگوں
کو بیٹھ کر
نماز ادا
کرنے کا حکم دیا
تھا، وہ مرض
الموت سے
پہلے کا تھا۔
اس وجہ سے مرض
الموت میں آپ
کی نماز جو بیٹھ
کر تھی اور پیچھے
لوگ کھڑے ہو
کر نماز ادا
کر رہے تھے،
نے اس حکم کو
منسوخ کر دیا
کہ لوگ امام
کے بیٹھنے کی
صورت میں بیٹھ
کر نماز ادا
کریں۔ اس
واقعے میں اس
بات کی دلیل
بھی موجود ہے
جو سنت سے
ثابت ہے اور
جس پر لوگوں
کا اتفاق
رائے ہے اور
وہ یہ ہے کہ
نماز پڑھنے
والے میں اگر
طاقت ہو تو وہ
کھڑے ہو کر
نماز ادا کرے
اور اگر طاقت
نہ ہو تو بیٹھ
کر نماز پڑھے۔
جو شخص کھڑے
ہو کر نماز
ادا کرنے کی
طاقت رکھتا
ہو، اس کے لئے
بیٹھ کر نماز
ادا کرنا
جائز نہیں ہے۔
رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
سے یہ معلوم
ہوا کہ آپ
اپنے آخری
مرض میں بیٹھ
کر نماز ادا
کر رہے تھے
اور آپ کے پیچھے
لوگ کھڑے ہو
کر نماز پڑھ
رہے تھے۔ یہ
سنت پہلی سنت
کو منسوخ کر
رہی ہے۔ یہ
بات صحت مند
اور بیمار کی
نماز سے
متعلق سنت سے
بھی مطابقت
رکھتی ہے۔
لوگوں کا اس
بات پر اجماع
ہے کہ ان میں
سے ہر ایک
اپنے طریقے
پر نماز پڑھے
گا۔ اگر ایک بیمار،
صحت مند کے پیچھے
نماز پڑھ رہا
ہے تو وہ بیٹھ
کر نماز پڑھے
گا جب کہ امام
کھڑے ہو کر۔
اسی طرح ہماری
رائے میں اگر
امام (بیماری
کے باعث) بیٹھ
کر نماز پڑھ
رہا ہے اور اس
کے پیچھے صحت
مند مقتدی
کھڑے ہو کر
نماز پڑھ رہے
ہیں۔ ہر ایک
اپنے فرض کو
ادا کرے گا۔
ہاں یہ زیادہ
مناسب ہے کہ (بیمار
امام) کسی اور
کو اپنی جگہ
نماز پڑھانے
کے لئے کہے۔
بعض
لوگوں کو اس
سے یہ خیال
گزرا ہے کہ نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے بعد کسی اور
کے لئے بیٹھ
کر امامت
جائز نہیں ہے۔
لیکن انہوں
نے جس حدیث کی
بنیاد پر یہ
رائے قائم کی
ہے وہ ایک
منقطع روایت
ہے جو ایک
ناقابل
اعتماد شخص
سے مروی ہے۔ ایسی
روایات کی بنیاد
پر کسی کے لئے
کوئی بات
ثابت نہیں
ہوتی۔ اس روایت
میں ہے، "میرے
بعد کسی اور
کے لئے بیٹھ
کر امامت
جائز نہیں۔"
(بیہقی) سنت کے
ناسخ و منسوخ
کی اور مثالیں
بھی ہیں جو
ہمارے نقطہ
نظر کی دلیل ہیں۔
اس طرز کی اور
مثالیں قرآن
مجید میں بھی
موجود ہیں جن
میں سے بعض ہم
نے اپنی اس
کتاب میں نقل
کر دی ہیں اور
باقی قرآن
اور سنت (کے
مختلف ابواب
میں) متفرق
طور پر موجود
ہیں۔ سائل:
کچھ ایسی
احادیث بیان
کیجیے جن میں
تضاد ہو لیکن
ناسخ و منسوخ
کا فیصلہ
کرنا ممکن نہ
ہو۔ آپ دلائل
بھی بیان کیجیے
جن کی بنیاد
پر آپ نے ایک
حدیث کو لیا
ہے اور دوسری
کو ترک کیا
ہے۔ شافعی:
جیسا کہ میں
نے اس سے پہلے
بیان کیا،
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے غزوہ
ذات الرقاع
کے دن صلوۃ
خوف ادا
فرمائی۔ ایک
گروہ آپ کے
ساتھ نماز کے
لئے صف انداز
ہوا جبکہ
دوسرا گروہ
جو نماز نہیں
پڑھ رہا تھا
دشمن کے
مقابلے پر جا
کھڑا رہا۔
نماز پڑھنے
والوں نے آپ
کے ساتھ ایک
رکعت پڑھی
اور پھر دوسری
رکعت انہوں
نے خود ہی پوری
کی (اس دوران
حضور انتظار
کرتے رہے)، اس
کے بعد وہ لوگ
دشمن کے
مقابلے پر
چلے گئے اور
دوسرا گروہ
نماز کے لئے آ
گیا اور اس نے
آپ کے ساتھ
باقی رہ جانے
والی رکعت
ادا کی۔ پھر
آپ بیٹھ گئے
اور اس گروہ
نے دوسری
رکعت پوری کر
لی۔ اس کے بعد
آپ نے سلام پھیر
کر نماز پوری
کر لی۔ ابن
عمر رضی اللہ
عنہما نے نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
سے (صلوۃ خوف
کا) بعض امور میں
اس سے مختلف
طریقہ روایت
کیا ہے۔ آپ
کہتے ہیں: نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے ایک گروہ
کے ساتھ ایک
رکعت ادا
فرمائی جبکہ
دوسرا گروہ
آپ اور دشمن
کے درمیان
ڈٹا رہا۔ پھر
آپ کے پیچھے
نماز ادا
کرنے والا
گروہ آپ کے
اور دشمن کے
درمیان حائل
ہو گیا اور
دوسرا گروہ
جس نے پہلی
رکعت نہ پڑھی
تھی، آ کر آپ
کے ساتھ باقی
رہ جانے والی
ایک رکعت میں
شریک ہو گیا۔
اس کے بعد آپ
نے سلام پھیرا
اور یہ لوگ بھی
میدان جنگ میں
لوٹ گئے۔ اس
طریقے سے سب
لوگوں نے
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے ساتھ
نماز ادا کر لی۔ ابو
عیاش الزرقی
نے روایت کی
ہے: عسفان کی
جنگ میں نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم (ایک
گروہ کے ساتھ)
نماز ادا
فرما رہے تھے
اور خالد بن
ولید (جو ابھی
مسلمان نہ
ہوئے تھے) آپ
کے اور قبلے
کے درمیان تھے۔
لوگوں نے آپ
کے ساتھ صف
بنا کر نماز
ادا کی۔ جب آپ
نے رکوع فرمایا
تو انہوں نے
آپ کے ساتھ
رکوع کیا اور
جب آپ نے سجدہ
کیا تو انہوں
نے آپ کے ساتھ
سجدہ کیا۔
دوسرا گروہ
دشمن پر نظر
رکھے رہا۔ جب
آپ سجدہ سے
اٹھے تو اس
دوسرے گروہ
نے سجدہ کیا
اور نماز کے
لئے آ کھڑا
ہوا۔ (نسائی،
ابو داؤد) جابر
رضی اللہ عنہ
نے بھی اس سے
ملتے جلتے
معنی کی روایت
کی ہے۔ اس
کے علاوہ اور
بھی روایات ہیں
لیکن وہ ثابت
شدہ (مستند)
روایات نہیں
ہیں۔ سائل:
آپ نے دوسری
روایات کو
چھوڑ کر نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم کی
غزوہ ذات
الرقاع والی
نماز کی روایت
کو قبول کیوں
کیا ہے؟ شافعی: میں نماز
خوف سے متعلق
ابو عیاش اور
جابر رضی
اللہ عنہما کی
روایتوں کو
قبول کر لوں
گا اگر ان میں
بھی وہی سبب
پایا جائے جو
(ذات الرقاع
والی روایت) میں
موجود ہے۔ سائل:
وہ سبب کیا
ہے؟ شافعی: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے ساتھ 1400 ساتھی
تھے جبکہ (آپ
کے مقابلے پر
آنے والے)
خالد بن ولید
(رضی اللہ عنہ)
کے ساتھ صرف 200 ساتھی
تھے۔ وہ کھلے
صحرا میں کچھ
فاصلے پر تھے۔
ان کے ساتھ ایک
قلیل تعداد
تھی جبکہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے ساتھ
اکثر لوگ تھے۔
ان میں سے جو
غالب تعداد میں
تھے وہ دشمن
کے حملے سے
محفوظ تھے۔
اگر دشمن ان
پر آ پڑتا تو
وہ اسے دیکھ
سکتے تھے۔
اگرچہ وہ
حالت سجدہ ہی
میں کیوں نہ
ہوں تب بھی
(خالد کا گروپ)
انہیں دیکھ لیتا
کیونکہ ان سے
کوئی طرف چھپی
ہوئی نہ تھی۔
اگر دشمن قلیل
تعداد میں ہو
اور کچھ دور
ہو اور حضور
اور دشمن کے
درمیان کوئی
آڑ بھی حائل
نہ ہو تو جیسا
کہ میں نے بیان
کیا کہ اس
حالت میں ان
پر صلوۃ خوف
لازم ہوتی۔
سائل:
میرے خیال میں
ذات الرقاع میں
نماز والی
روایت اس کے
خلاف نہیں ہے۔
یہ تو
صورتحال کا
فرق ہے۔ آپ
ابن عمر رضی
اللہ عنہما کی
روایت کو
درست کیوں نہیں
سمجھتے؟ شافعی:
خوات بن جبیر
رضی اللہ عنہ
نے نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے روایت
کی۔ اس کے قریب
ترین معنی میں
روایت سھل بن
ابی حثمہ نے سیدنا
علی بن ابی
طالب رضی
اللہ عنہ سے
محفوظ کی ہے
کہ نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے "ھریر"
کی رات میں
نماز خوف
بالکل اسی طریقے
پر ادا کی جسے
خوات بن جبیر
رضی اللہ عنہ
نے نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم
روایت کیا۔
خوات رضی
اللہ عنہ عمر
اور حضور سے
تعلق میں سینئر
صحابہ میں سے
تھے۔ سائل:
صحابیت میں سینیارٹی
کے علاوہ کیا
کوئی اور دلیل
بھی ہے؟ شافعی: | ||||||||