|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||||||||||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||||||||||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||||||||||
|
کتاب
الرسالہ از
امام محمد بن
ادریس شافعی (اردو
ترجمہ و تلخیص) کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 6MB) |
|||||||||||
باب 6: ناسخ
و منسوخ
احکامات
اللہ
تعالی نے
اپنے ازلی
علم کے مطابق
انسان کو جس
مقصد کے لئے
بھی بنایا،
اس کا حکم تبدیل
کرنے کا اختیار
کسی کو نہیں
ہے اور وہ
حساب تیز
رفتاری سے لیتا
ہے۔ اس نے ان
پر ایسی کتاب
نازل کی ہے جو
ہر چیز کو
واضح کرنے
والی اور ہدایت
و رحمت ہے۔ اس
کتاب میں اس
نے ایسے
احکام بیان کیے
ہیں جن کا حکم
باقی ہے اور ایسے
احکام بھی جن
کا حکم اس نے
منسوخ کر دیا
ہے۔ یہ اس کا
لوگوں پر
احسان ہے کہ
وہ ان کا بوجھ
ہلکا کرتا ہے
اور ان پر
آسانی کرتا
ہے۔ اس نے ان
پر جو نعمتیں
فرمائی ہیں
وہ ان میں
اضافہ کرتا
چلا جاتا ہے۔
جو احکام اس
نے ان پر لازم
کئے ہیں، ان
پر عمل کرنے
کے نتیجے میں
وہ انہیں جنت
عطا کرے گا
اور جہنم کی
سزا سے نجات
دے گا۔ جو حکم
اس نے باقی
رکھا یا جو
منسوخ کیا اس
میں اس کی
رحمت ہی شامل
ہے۔ ان تمام
نعمتوں پر ہم
اس کا شکر ادا
کرتے ہیں۔
اللہ
تعالی نے اس
بات کی وضاحت
کر دی ہے کہ
اللہ کی کتاب
میں دیے گئے
حکم کو یہ
کتاب ہی
منسوخ کر سکتی
ہے۔ کتاب
اللہ کے کسی
حکم کو حدیث منسوخ
نہیں کر سکتی
کیونکہ وہ
کتاب اللہ کے
تابع ہے۔ سنت
کا دائرہ تو
کتاب اللہ کے
احکامات کی
وضاحت ہی ہے۔
اللہ تعالی
کا ارشاد ہے: وَإِذَا
تُتْلَى
عَلَيْهِمْ
آيَاتُنَا
بَيِّنَاتٍ
قَالَ
الَّذِينَ
لَا
يَرْجُونَ لِقَاءَنَا
ائْتِ
بِقُرْآنٍ
غَيْرِ
هَذَا أَوْ
بَدِّلْهُ.
قُلْ مَا
يَكُونُ لِي
أَنْ
أُبَدِّلَهُ
مِنْ
تِلْقَاءِ
نَفْسِي؛
إِنْ
أَتَّبِعُ
إِلَّا مَا
يُوحَى
إِلَيَّ.
إِنِّي أَخَافُ
إِنْ
عَصَيْتُ
رَبِّي
عَذَابَ
يَوْمٍ عَظِيمٍ۔ جب
انہیں ہماری
صاف صاف آیات
سنائی جاتی ہیں
تو وہ لوگ جو
ہم سے ملنے کی
توقع نہیں رکھتے،
کہتے ہیں،
"اس کی بجائے
کوئی اور
قرآن لاؤ یا
اسی میں کوئی
ترمیم کر لو۔"
اے پیغمبر! آپ
کہیے، "میرا یہ
کام نہیں کہ میں
اس میں اپنی
طرف سے کوئی
تغیر و تبدل
کر لوں۔ میں
تو بس اسی وحی
کا پیروکار
ہوں جو میرے
پاس بھیجی
جاتی ہے۔ اگر
میں اپنے رب کی
نافرمانی
کروں تو مجھے
ایک بڑے
ہولناک دن کے
عذاب کا ڈر ہے۔"
(یونس 10:15 ) یہاں
اللہ تعالی
نے اپنے نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کو بتایا ہے
کہ آپ کے ذمے
وحی الہی کی
صرف اتباع ہے
اور آپ اپنی
طرف سے اس میں
کوئی تبدیلی
نہیں کر سکتے۔
اس ارشاد میں
کہ "
مَا يَكُونُ
لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ
مِنْ
تِلْقَاءِ
نَفْسِي
" یعنی " میرا یہ
کام نہیں کہ میں
اس میں اپنی
طرف سے کوئی
تغیر و تبدل
کر لوں
" وہ بات بیان
ہوئی ہے جس کا
ذکر میں اوپر
کر چکا ہوں کہ
اللہ کی کتاب
کے کسی قانون
کو اس کے سوا
کوئی اور چیز
منسوخ نہیں
کر سکتی۔ جیسا
کہ صرف اللہ تعالی
ہی اپنا حکم
جاری کر سکتا
ہے اسی طرح یہ
بات بھی صرف
اسی کے اختیار
میں ہے کہ وہ
اپنے حکم کو
ہمیشہ کے لئے
باقی رکھے (یا
منسوخ کر دے)۔
اس کے سوا کسی
اور کو یہ اختیار
حاصل نہیں۔ اسی
طرح اللہ
تعالی کا
ارشاد ہے" يَمْحُو
اللَّهُ مَا
يَشَاءُ
وَيُثْبِتُ،
وَعِنْدَهُ
أُمُّ
الْكِتَابِ "
یعنی "اللہ
تعالی اپنے
احکام میں سے
جسے چاہے لے
جاتا ہے اور
جسے چاہے باقی
رکھتا ہے اور
اسی کے پاس
اصل کتاب ہے"
اس معاملے میں
بعض اہل علم
کا یہ موقف ہے
کہ یہ آیت اس
بات کی دلیل
ہے کہ رسول
اللہ، اللہ
تعالی کی
اجازت سے اس
معاملے میں
کوئی قانون
سازی کر سکتے
ہیں جس میں
اللہ تعالی
نے کوئی حکم
نازل نہیں کیا۔
اس کے اس
ارشاد میں کہ
"وہ جو چاہے
لے جاتا ہے" میں
یہ بتایا گیا
ہے کہ اللہ
تعالی جس حکم
کو چاہے باقی
رکھتا ہے اور
جسے چاہے
منسوخ کر دیتا
ہے۔ اللہ کی
کتاب میں اس
بات کی دلیل یہ
ہے: مَا
نَنسَخْ
مِنْ آيَةٍ
أَوْ
نُنسِهَا
نَأْتِ بِخَيْرٍ
مِنْهَا
أَوْ
مِثْلِهَا.
أَلَمْ تَعْلَمْ
أَنَّ
اللَّهَ
عَلَى كُلِّ
شَيْءٍ قَدِيرٌ
۔ اگر
ہم کسی آیت کو
منسوخ کر دیں
تو ہم اس سے
بہتر یا ویسی
ہی آیت لے آتے
ہیں۔ کیا تم
نہیں جانتے
کہ اللہ ہر چیز
پر قادر ہے۔
(البقرہ2: 106 ) اللہ
تعالی نے یہ
بات بتا دی ہے
کہ قرآن کے کسی
حکم کا نسخ یا
اس کے کسی حکم
کو موخر کرنا
صرف قرآن مجید
ہی سے ہو سکتا
ہے۔ ارشاد
باری تعالی
ہے: وَإِذَا
بَدَّلْنَا
آيَةً
مَكَانَ
آيَةٍ، وَاللَّهُ
أَعْلَمُ
بِمَا
يُنَزِّلُ:
قَالُوا:
إِنَّمَا
أَنْتَ
مُفْتَرٍ۔ جب
ہم ایک آیت کی
جگہ دوسری
نازل کرتے ہیں
اور اللہ ہی یہ
بہتر جانتا
ہے کہ وہ کیا
نازل کرے تویہ
لوگ کہتے ہیں
کہ تم خود
قرآن گھڑتے
ہو ۔ (النحل 16:101) اسی
طرح رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
کا معاملہ ہے۔
سنت کا نسخ
سنت رسول ہی
سے ہو سکتا ہے۔
اگر کسی
معاملے میں
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کوئی
سنت جاری
فرما چکے ہوں
اور اللہ
تعالی اس
معاملے میں
کوئی اور حکم
جاری کرنا
چاہے تو آپ اس
میں اللہ
تعالی کے حکم
ہی کی پیروی میں
نئی سنت جاری
فرمائیں گے یہاں
تک کہ لوگوں
پر واضح ہو
جائے گا کہ اس
سنت نے اس سے
پہلے والی
سنت کو منسوخ
کر دیا ہے۔ اسی
بات کا ذکر
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی حدیث
میں ہے۔ سائل:
قرآن کو قرآن
سے منسوخ
کرنے کی دلیل
تو خود قرآن میں
مل جاتی ہے کیونکہ
قرآن بے مثل
ہے۔ کیا سنت
کے بارے میں
بھی ایسی کوئی
دلیل ہے؟ شافعی: جیسا کہ میں
نے عرض کیا کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے
احکام کی
اتباع لوگوں
پر اللہ نے
لازم کی ہے۔ یہ
اس بات کی دلیل
ہے کہ سنت
رسول کو اللہ
کے حکم کی حیثیت
سے قبول کیا
جائے گا۔ جو
اس کی پیروی
کرتا ہے وہ
کتاب اللہ کے
حکم کے تحت ہی
ایسا کرتا ہے۔
ہمیں سوائے
اللہ کی کتاب
اور حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی
سنت کے اور تو
ایسی کوئی
بات نہیں ملتی
جسے اللہ
تعالی نے
لازم کیا ہو۔ جیسا
کہ میں بیان
کر چکا ہوں کہ
چونکہ کسی
مخلوق کا کوئی
قول سنت سے
مشابہ نہیں
ہے اس لئے اس
کا نسخ صرف اسی
کے مماثل کسی
چیز سے ہو
سکتا ہے۔ اسی
طرح رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی
سنت کے علاوہ
کوئی چیز اس
کے مماثل نہیں
ہو سکتی کیونکہ
اللہ تعالی
نے کسی شخص کو
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی
طرح کا نہیں
بنایا۔ بلکہ
اس نے اپنے
بندوں پر تو
آپ کی اطاعت
کو لازم کیا
ہے اور آپ کا
حکم ماننا ضروری
قرار دیا ہے۔
تمام مخلوق
آپ کی پیروکار
ہے۔ ایک پیروکار
کے لئے یہ
ممکن نہیں کہ
وہ آپ کے حکم
سے اختلاف
کرے۔ جب سنت
رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کا
اتباع لازم
ہے تو ایسا
ممکن ہی نہیں
ہے کہ کوئی اس
میں سے کسی چیز
کو منسوخ کر
سکے۔ سائل: کیا اس بات
کا امکان ہے
کہ کوئی
منسوخ سنت تو
ہم تک منتقل
ہو گئی جبکہ
اس کو منسوخ
کرنے والی
ناسخ سنت
منتقل نہ ہو
سکی؟ شافعی: اس بات کو
کوئی امکان
نہیں۔ یہ کیسے
ممکن ہے کہ جو
چیز فرض نہیں
ہے وہ تو
منتقل ہو
جائے جبکہ جو
چیز فرض کر دی
گئی ہے وہ ترک
کر دی جائے؟ کیا
یہ درست ہے کہ ایک
ایسی سنت جس
پر عام لوگوں
کا عمل ہے، وہ
ان کے عمل سے نکل
جائے اور وہ
کہہ سکیں،
"شاید یہ
منسوخ ہو گی؟"
کوئی حکم اس
وقت تک منسوخ
نہیں ہوتا جب
تک کہ اس کی
جگہ دوسرا
حکم نہ دے دیا
جائے جیسا کہ
بیت المقدس
کے قبلے کی
منسوخی کی
صورت میں ہوا۔
اس کی جگہ پر
کعبہ کو قبلہ
مقرر کیا گیا۔
اسی طرح اللہ
کی کتاب اور
سنت رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم
دونوں کے ہر
منسوخ حکم کا
معاملہ ہے (کہ
منسوخ ہونے
کے بعد ناسخ
حکم کو جاری
بھی کیا جائے
گا۔) سائل:
کیا سنت کے کسی
حکم کو قرآن
کے کسی حکم کے
ذریعے منسوخ
کی جا سکتی
ہے؟ شافعی: اگر سنت کو
قرآن سے
منسوخ کیا
جائے، تو
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی ایک
اور سنت جاری
ہو گی جو یہ
واضح کر دے گی
کہ پہلی سنت
دوسری سے
منسوخ ہے یہاں
تک کہ
انسانوں پر
حجت پوری ہو
جائے کیونکہ
ہر چیز اس کے
مماثل سے ہی
منسوخ ہو سکتی
ہے۔ سائل: آپ نے جو
فرمایا، اس کی
دلیل کیا ہے؟ جواب:
جیسا کہ میں
نے اس کتاب میں
متعلقہ مقام
پر اللہ تعالی
کے احکام،
خواہ وہ خاص
ہو یا عام کے
بارے میں بیان
کیا کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم اللہ
تعالی کے حکم
کے سوا کوئی
بات کبھی نہیں
کہہ سکتے۔
اگر اللہ
تعالی نے کوئی
حکم دیا ہے
اور وہ اسے
منسوخ کر
سکتا ہے تو
(بالکل اسی
طرح) رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
(اللہ کے حکم آ
جانے پر) بھی
دوسری سنت کو
منسوخ کر سکتی
ہے۔ اگر یہ
کہنا درست ہو
کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے ایک سنت
قائم کی اور
پھر قرآن نے
اسے منسوخ کر
دیا اور اس
معاملے میں
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے کوئی
ناسخ سنت ہمیں
نہیں مل سکی
تو کہنا بھی
درست ہو جائے
گا کہ: · حضور
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے بعض اقسام
کی تجارت کو
ناجائز قرار
دے رکھا تھا
جسے اللہ تعالی
نے اس آیت سے
منسوخ کیا " وَأَحَلَّ
اللَّهُ
الْبَيْعَ
وَحَرَّمَ
الرِّبَا " یعنی
"اللہ نے
تجارت کو
حلال کیا ہے
اور سود کو
حرام۔" (اب اس
بنیاد پر لین
دین سے متعلق
آپ کے احکام
اس آیت سے
منسوخ ہو گئے۔) · رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
بدکاروں کو
رجم کیا اور
اس رجم کو
اللہ تعالی
نے اس آیت سے
منسوخ قرار دیا
" الزَّانِيَةُ
وَالزَّانِي
فَاجْلِدُوا
كُلَّ
وَاحِدٍ
مِنْهُمَا
مِائَةَ
جَلْدَةٍ " یعنی
"زانی اور
زانیہ میں سے
ہر ایک کو سو
کوڑے مارو۔" · موزوں
پر مسح کی سنت
کو آیت وضو نے
منسوخ کر دیا۔ · غیر
محفوظ مقام
اور ربع دینار
سے کم کی چوری
کرنے کی صورت
میں بھی چوری
کی سزا دی
جائے گی کیونکہ
یہ سنت قرآن کی
آیت " السَّارِقُ
وَالسَّارِقَةُ
فَاقْطَعُوا
أَيْدِيَهُمَا " یعنی
"چور مرد و
عورت دونوں
کے ہاتھ کاٹ
دو۔" سے
منسوخ سمجھی
جائے گی۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ
چوری خواہ کم
ہو یا زیادہ،
محفوظ مقام
سے کی جائے یا
غیر محفوظ
مقام سے، ہر
حالت میں چوری
ہی کہلاتی ہے۔
اس
طریقے سے
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے مروی
ہر حدیث کو،
اگر وہ ہمیں
بظاہر قرآن
کے مطابق نہ
لگے، یہ کہہ
رد کیا جا
سکتا ہے کہ
"آپ نے ایسا
نہیں فرمایا
ہو گا۔" اس
طرح سے ان دو
بنیادوں پر
حدیث کو رد
کرنے کو درست
سمجھ لیا
جائے گا: ایک
تو یہ کہ اگر
حدیث کے
الفاظ قرآن
کے الفاظ سے
کچھ مختلف
ہوں اگرچہ اس
کا معنی کتاب
اللہ سے
موافقت
رکھتا ہو (تو
اسے رد کر دیا
جائے) یا پھر
اس کے الفاظ
اگر آیت کے
الفاظ سے کچھ
زیادہ ہوں (تب
بھی اسے کر دیا
جائے) اگرچہ
ان میں معمولی
نوعیت کا فرق
پایا جائے۔ اللہ کی
کتاب اور اس
کے رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
سے اس رائے کے
خلاف اور جو
کچھ ہم نے کہا
اس کی موافقت
میں استدلال
کیا جا سکتا
ہے۔ اللہ کی
کتاب وہ واضح
بیان ہے جس کے
ذریعے وہ
اندھوں کو
شفا دیتا ہے۔
اسی کتاب میں
قانون اور دین
میں رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے
مقام، آپ کے
حکم کی پیروی
(کی اہمیت) اور
دین کی وضاحت
کے بارے میں
آپ کی حیثیت
کو بیان کر دیا
گیا ہے۔ ایسے
ناسخ و منسوخ
جن کے بارے میں
کتاب اللہ سے
بعض اور حدیث
سے بعض احکام
ملتے ہیں ہم
نے بعض اہل
علم کو یہ
کہتے ہوئے
سنا کہ اللہ
تعالی نے
پانچ نمازوں
کو فرض کرنے
سے قبل ایک
اور نماز فرض
کی تھی
چنانچہ اللہ
تبارک و تعالی
ارشاد
فرماتا ہے: یا
أَيُّهَا
الْمُزَّمِّلُ۔ قُمْ
اللَّيْلَ
إِلَّا
قَلِيلًا۔ نِصْفَهُ
أَوْ
انْقُصْ
مِنْهُ
قَلِيلًا۔ أَوْ
زِدْ
عَلَيْهِ
وَرَتِّلْ
القُرَآن
تَرْتِيلًا۔ اے
چادر اوڑھنے
والے! رات کو
تھوڑی دیر
نماز میں
کھڑے رہیے،
آدھی رات یا
اس سے کچھ کم یا
اس سے کچھ زیادہ
کر لیجیے اور
قرآن کو خوب
ٹھہر ٹھہر کر
پڑھیے۔
(المزمل 73:1-4) اس
حکم کو اللہ
تعالی نے اسی
سورت میں اس
طرح سے منسوخ
کر دیا۔ إِنَّ
رَبَّكَ يَعْلَمُ
أَنَّكَ
تَقُومُ
أَدْنَى
مِنْ ثُلُثَي
اللَّيْلِ
وَنِصْفَهُ
وَثُلُثَهُ،
وَطَائِفَةٌ
مِنْ
الَّذِينَ
مَعَكَ،
وَاللَّهُ
يُقَدِّرُ
اللَّيْلَ
وَالنَّهَارَ.
عَلِمَ أَنْ
لَنْ
تُحْصُوهُ
فَتَابَ
عَلَيْكُمْ،
فَاقْرَءُوا
مَا
تَيَسَّرَ
مِنْ القُرَآن،
عَلِمَ أَنْ
سَيَكُونُ
مِنْكُمْ
مَرْضَى
وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ
فِي
الْأَرْضِ
يَبْتَغُونَ
مِنْ فَضْلِ
اللَّهِ،
وَآخَرُونَ
يُقَاتِلُونَ
فِي سَبِيلِ
اللَّهِ
فَاقْرَءُوا
مَا تَيَسَّرَ
مِنْهُ،
وَأَقِيمُوا
الصَّلَاةَ
وَآتُوا
الزَّكَاةَ۔ آپ
کا رب جانتا
ہے کہ آپ کبھی
دو تہائی
رات، کبھی
آدھی رات اور
کبھی تہائی
رات نماز میں
گزارتے ہیں
اور آپ کے
ساتھیوں میں
سے بھی ایک
گروہ ایسا ہی
کرتا ہے۔
اللہ تعالی ہی
رات اور دن کا
حساب رکھتا
ہے۔ اسے
معلوم ہے کہ
آپ اوقات کا
صحیح شمار نہیں
کر سکتے، اس
لئے اس نے آپ
پر مہربانی
فرمائی۔ اب
جتنا قرآن بھی
آسانی سے پڑھ
سکیں، تلاوت
کر لیا کریں۔
اسے معلوم ہے
کہ آپ لوگوں میں
کچھ مریض ہوں
گے اور کچھ
اللہ کا فضل (یعنی
رزق) تلاش
کرنے کے لئے
زمین میں
بھاگ دوڑ
کرتے ہوں گے
اور کچھ اللہ
کی راہ میں
جنگ کرتے ہوں
گے۔ پس جتنا
قرآن باآسانی
پڑھا جا سکے،
پڑھ لیا کریں،
نماز قائم کریں
اور زکوۃ دیں۔
(المزمل 73:20) اللہ
تعالی نے
پہلے یہ حکم دیا
کہ آپ رات کے
نصف یا اس سے
کچھ کم و بیش
حصے کو نماز میں
گزاریے اور
پھر یہ فرمایا
کہ " آپ
کبھی دو تہائی
رات، کبھی
آدھی رات اور
کبھی تہائی
رات نماز میں
گزارتے ہیں
اور آپ کے
ساتھیوں میں سے
بھی ایک گروہ
ایسا ہی کرتا
ہے "۔ اس کے
بعد اس میں اس
میں یہ کہتے
ہوئے تخفیف
فرما دی کہ " اسے معلوم
ہے کہ آپ
لوگوں میں
کچھ مریض ہوں
گے اور کچھ
اللہ کا فضل (یعنی
رزق) تلاش
کرنے کے لئے
زمین میں
بھاگ دوڑ
کرتے ہوں گے
اور کچھ اللہ
کی راہ میں
جنگ کرتے ہوں
گے۔ پس جتنا
قرآن باآسانی
پڑھا جا سکے،
پڑھ لیا کریں۔" اس طرح
سے اللہ تعالی
نے قرآن مجید
میں " پس جتنا
قرآن باآسانی
پڑھا جا سکے،
پڑھ لیا کریں
" کے الفاظ سے
نصف رات یا اس
سے کم و بیش کے
قیام کو
منسوخ فرما دیا۔
اللہ
تعالی کے اس
ارشاد " پس جتنا
قرآن باآسانی
پڑھا جا سکے،
پڑھ لیا کریں
" میں دو
احتمال ممکن
ہو سکتے ہیں: ایک
تو یہ کہ یہ
لازمی فرض ہے
جس نے اس سے
پہلے والے
فرض کو منسوخ
کر دیا۔
دوسرا
احتمال یہ ہو
سکتا تھا کہ یہ
بذات خود ایک
منسوخ حکم ہے
جو کہ کسی اور
(تیسرے) حکم سے
اسی طرح
منسوخ ہو چکا
ہے جیسا کہ اس
نے پہلے حکم
کو منسوخ کر دیا۔
اس حکم کو
منسوخ کرنے
والا حکم یہ
ہے: وَمِنْ
اللَّيْلِ
فَتَهَجَّدْ
بِهِ نَافِلَةً
لَكَ عَسَى
أَنْ
يَبْعَثَكَ
رَبُّكَ مَقَامًا
مَحْمُودًا ۔ رات
کو تہجد پڑھیے،
یہ آپ کے لئے
اضافی حکم ہے
تاکہ آپ کا رب
آپ کو مقام
محمود پر
پہنچا دے۔ (بنی
اسرائیل 17:79) اس
حکم میں کہ "رات کو
تہجد پڑھیے، یہ
آپ کے لئے
اضافی حکم ہے"
میں یہ
احتمال ممکن
تھا کہ تہجد کی
نماز باآسانی
قرآن پڑھ لینے
کے علاوہ ایک
مزید فرض ہے۔
اب یہ بات
ضروری ہو گئی
ہے کہ ہم اس
معاملے میں ایک
متعین معنی
اختیار کرنے
کے لئے رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت کی
طرف رجوع کریں۔
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
سے ہمیں یہ
بات معلوم
ہوتی ہے کہ
صرف پانچ
نمازیں ہی ہم
پر فرض کی گئی
ہیں۔ اس سے
پہلے جو نماز
بھی ہم پر
لازم تھی، وہ
اب منسوخ ہو
چکی ہے۔ اس
معاملے میں
ہم اللہ تعالی
کے اس ارشاد " تہجد پڑھیے،
یہ آپ کے لئے
اضافی حکم ہے"
سے استدلال
کرتے ہیں۔ اس
حکم نے رات کے
نصف یا تہائی
قیام یا جو
کچھ باآسانی
میسر ہو سکے
کے حکم کو
منسوخ کر دیا
ہے۔
اس بحث
کا یہ مطلب
ہرگز نہیں ہے
کہ ہم تہجد کی
نماز کو اپنی
استطاعت کے
مطابق ادا
کرنے کو پسند
نہیں کرتے ہیں۔
جو بھی جتنا زیادہ
یہ عمل کر سکے
وہ ہمارے نزدیک
(بحیثیت نفل) ایک
پسندیدہ عمل
ہے۔ (صرف پانچ
نمازیں فرض ہیں
اور تہجد
نفل، احادیث
سے بھی یہی
معلوم ہوتا
ہے۔) مالک
اپنے چچا ابو
سہیل بن مالک
سے اور وہ
اپنے والد سے
روایت کرتے ہیں
کہ انہوں نے
طلحۃ بن عبید
اللہ رضی
اللہ عنہ کو
کہتے سنا: اہل
نجد میں سے ایک
پرجوش دیہاتی
آیا، جس کی
آواز بھی ہم
سن نہ پا رہے
تھے اور نہ یہ
سمجھ پا رہے
تھے کہ وہ کیا
کہہ رہا ہے۔ یہاں
تک کہ وہ حضور
کے قریب آ گیا
اور اسلام کے
بارے میں
سوال کرنے
لگا۔ نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا،
"دن و رات میں
پانچ نمازیں
تم پر فرض کی
گئی ہیں۔" بولا،
"کیا اس کے
علاوہ کچھ
اور بھی ہے؟" فرمایا،
"نہیں۔ ہاں
اگر تم اپنی
مرضی سے
اضافہ کرنا
چاہو تو کوئی
حرج نہیں۔" اس
کے بعد حضور
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے ماہ رمضان
کے روزوں کا
ذکر فرمایا
تو وہ کہنے
لگا، "کیا اس
کے علاوہ اور
بھی کچھ ہے؟" آپ
نے فرمایا،
"نہیں سوائے
اس کے کہ تم
اپنی مرضی سے
زیادہ کر لو۔"
وہ
شخص واپس گیا
اور کہہ رہا
تھا، "میں نہ
تو اس میں
اضافہ کروں
گا اور نہ ہی
کمی۔" رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا،
"اگر یہ سچ
کہہ رہا ہے تو
کامیاب ہو گیا۔"
(بخاری،
مسلم، نسائی) عبادہ
بن صامت رضی
اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا،
"اللہ تعالی
نے اپنے
بندوں پر
پانچ نمازیں
فرض کی ہیں۔
جو بھی انہیں
اس طرح سے ادا
کرتا ہے کہ ان
میں سے کچھ نہ
تو ضائع کرتا
ہے اور نہ ہی
کم تو اللہ
تعالی کا
وعدہ ہے کہ وہ
اسے جنت میں
داخل فرما دے۔"
(نسائی، ابو
داؤد، ابن
ماجہ، احمد) عذر کے
باعث نماز نہ
پڑھنے کا حکم اللہ
تبارک و تعالی
ارشاد
فرماتا ہے: وَيَسْأَلُونَكَ
عَنْ
الْمَحِيضِ؟
قُلْ:
هُوَ أَذًى
فَاعْتَزِلُوا
النِّسَاءَ فِي
الْمَحِيضِ
وَلَا
تَقْرَبُوهُنَّ
حَتَّى
يَطْهُرْنَ،
فَإِذَا
تَطَهَّرْنَ
فَأْتُوهُنَّ
مِنْ حَيْثُ
أَمَرَكُمْ
اللَّهُ.
إِنَّ
اللَّهَ
يُحِبُّ
التَّوَّابِينَ،
وَيُحِبُّ
الْمُتَطَهِّرِينَ۔ یہ
آپ سے حیض کی
حالت کے بارے
میں پوچھتے ہیں،
آپ کہیے، "وہ
اذیت کی حالت
ہے، اس میں
خواتین سے
الگ رہو اور
ان کے قریب اس
وقت تک نہ جاؤ
جب تک کہ وہ
پاک صاف نہ ہو
جائیں۔ پھر
جب وہ پاک ہو
جائیں تو ان
سے اس طرح سے
ازدواجی
تعلقات قائم
کرو جیسا کہ
اللہ نے تمہیں
حکم دیا ہے۔"
اللہ ان
لوگوں کو
پسند کرتا ہے
جو بدی سے باز
رہیں اور پاکیزگی
اختیار کریں۔
(البقرۃ 2:222) اللہ
تعالی نے
نماز پڑھنے
والے پر وضو
اور جنابت کی
صورت میں غسل
کے ذریعے
طہارت لازم کی
ہے۔ اس کے بغیر
نماز ادا
کرنا جائز نہیں۔
اللہ تعالی
نے حیض کے
حالت کے بارے
میں بیان کیا
ہے کہ خواتین
کے پاک ہونے
تک ان سے دور
رہا جائے۔ جب
وہ پاک ہو جائیں
تو ان کے پاس آنا
جائز ہے۔ اس
سے ہم یہ بات
اخذ کر سکتے ہیں
کہ وہ حیض کے
خاتمے پر پانی
سے غسل کر کے
پاک ہوں کیونکہ
عام طور پر
شہروں میں تو
پانی ہر حال میں
دستیاب ہوتا
ہی ہے۔ حالت حیض
کے دوران غسل
کرنے سے وہ
پاک نہ ہوں گی
کیونکہ اللہ
تعالی نے اپنی
کتاب اور
اپنے رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
میں (غسل کے ذریعے)
پاک ہونے کا
حکم حیض کے
ختم ہونے پر دیا
ہے۔ مالک،
عبدالرحمٰن
بن قاسم سے
اور وہ اپنے
والد سے اور
وہ سیدتنا
عائشہ رضی
اللہ عنہا سے
روایت کرتے ہیں
کہ سیدہ
عائشہ حالت
احرام میں نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے ساتھ تھیں
جب آپ حالت حیض
سے دوچار ہوئیں۔
حضور نے انہیں
حکم دیا کہ وہ
دوسرے حاجیوں
کی طرح حج کے
تقاضے پورے
کریں سوائے
اس کے کہ وہ
پاک ہونے تک بیت
اللہ کا طواف
نہ کریں۔
(بخاری،
مسلم، احمد،
مالک) اس سے
ہم یہ اخذ کر
سکتے ہیں کہ
اللہ تعالی
نے نماز کو اس
شخص پر لازم کیا
ہے جو وضو یا
غسل کے ذریعے
طہارت حاصل
کر لے۔ جہاں
تک کسی حائضہ
خاتون کا
تعلق ہے تو وہ
حالت حیض میں
وضو یا غسل کر
کے پاک نہیں
ہو سکتی۔ حیض
تو ایک قدرتی
عمل ہے اور
خاتون کا اس
پر کوئی اختیار
بھی نہیں ہے
کہ وہ اس کے
باعث (نماز
چھوڑنے پر)
گناہ گار ہو۔
اسی وجہ سے حیض
کے ایام میں
انہیں نماز
کے فرض سے
مستثنی کر دیا
گیا ہے اور ان
کے لئے یہ
ضروری نہیں
کہ حیض کے
خاتمے پر وہ
چھوڑی ہوئی
نمازوں کی
قضا ادا کریں۔ حائضہ
خاتون کے
بارے میں اس
وضاحت کی بنیاد
پر ہم ذہنی
معذور شخص کو
بھی قیاس کر
سکتے ہیں۔ اس
پر یہ بیماری
اللہ تعالی کی
جانب سے آئی
ہے جس میں اس
کا کوئی قصور
نہیں۔ اسی
وجہ سے جب تک
وہ ذہنی طور
پر معذور رہے
اور اس کی عقل
لوٹ کر نہ
آئے، اسے
نماز معاف کر
دی گئی ہے۔ یہ بات
اہل علم میں
عام ہے کہ نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے حائضہ
خواتین کو
نماز قضا
کرنے کا حکم
تو نہیں دیا
البتہ انہیں
روزے کی قضا
کرنے کا حکم دیا
ہے۔ اسی وجہ
سے ہم ان
دونوں فرائض
میں فرق کرتے
ہیں۔ جیسا کہ
میں نے بیان کیا
کہ اسے ہم اہل
علم کے منتقل
کرنے اور ان
کے اجماع سے
اخذ کرتے ہیں۔ روزے
اور نماز میں
ایک فرق یہ بھی
ہے کہ مسافر
رمضان کے
روزے میں تاخیر
کر سکتا ہے لیکن
اس کے لئے
نماز میں ایک
دن کی تاخیر
کرنا بھی منع
ہے۔ روزے تو
بارہ مہینوں
میں سے صرف ایک
مہینے میں
ادا کئے جاتے
ہیں اور گیارہ
مہینے اس فرض
کے بغیر ہوتے
ہیں جبکہ ایسے
شخص کے لئے جو
نماز کی طاقت
رکھتا ہو ایک
دن بھی نماز
سے خالی نہیں
ہو سکتا۔ نشے کے
باعث نماز نہ
پڑھنے کا حکم اللہ
تعالی کا
ارشاد ہے: لَا
تَقْرَبُوا
الصَّلَاةَ
وَأَنْتُمْ
سُكَارَى
حَتَّى
تَعْلَمُوا
مَا
تَقُولُونَ،
وَلَا
جُنُبًا
إِلَّا
عَابِرِي
سَبِيلٍ حَتَّى
تَغْتَسِلُوا
۔ نشے
کی حالت میں
نماز کے قریب
مت جاؤ یہاں
تک کہ تم جو
کہتے ہو وہ
سمجھنے لگو۔
اور اسی طرح
جنابت کی
حالت میں بھی
نماز کے قریب
نہ جاؤ جب تک
کہ غسل نہ کر
لو۔ (یہ حکم اس
شخص کے لئے نہیں
ہے) جو (مسجد سے
بطور) راستہ
گزرنے والا
ہو۔ (النساء 4:43) بعض
اہل علم کا
نقطہ نظر یہ
ہے کہ یہ آیت
شراب کی حرمت
سے پہلے نازل
ہوئی (اور وہ
اسے منسوخ
سمجھتے ہیں۔)
قرآن مجید نے یہ
حکم دیا ہے کہ
کوئی شخص بھی
نشے کی حالت میں
نماز نہ پڑھے یہاں
تک کہ وہ جو
کچھ کہہ رہا
ہے اسے
سمجھنے کے قابل
ہو جائے۔ ایسے
شخص کو نماز
سے روکنے کے
بعد اس شخص کو
بھی نماز سے
روکا گیا ہے
جو حالت
جنابت میں ہو۔
اہل علم کا اس
بات میں کوئی
اختلاف نہیں
ہے کہ کوئی
شخص حالت
جنابت میں
نماز نہ پڑھے۔اسے
ایسا غسل
کرنے کے بعد
کرنا چاہیے۔ نشے کی
حالت میں
نماز سے
روکنے کو اگر
شراب کی حرمت
سے پہلے کے
زمانے کا حکم
بھی مان لیا
جائے، تب اس
وقت جب کہ
شراب حرام ہو
چکی ہے تو یہ
حکم مزید اہمیت
اختیار کر
جاتا ہے۔ اس
پر عمل نہ
کرنے والا (یعنی
نشے کی حالت میں
نماز پڑھے
والا) دو
وجوہات سے
گناہ گار
ہوتا ہے۔ ایک
تو یہ کہ وہ
نشے کی حالت میں
نماز پڑھی ہے
اور دوسرا یہ
کہ اس نے شراب
پی ہے۔ چونکہ
نماز قول،
فعل اور (ایسے
کاموں سے جن کی
نماز میں
اجازت نہیں
ہے) رکنے کا
نام ہے اس وجہ
سے اس شخص کی
نماز نہیں ہے
جو (نشے کے
باعث) قول،
فعل اور رکنے
کی عقل نہیں
رکھتا۔ جو
شخص اللہ
تعالی کے حکم
کے مطابق
نماز ادا نہیں
کر سکتا تو یہ
اس کے لئے
جائز ہی نہیں
ہے۔ جب بھی
اسے افاقہ ہو
تو اس پر قضا
نماز کی ادائیگی
لازم ہے۔ ہمیں
نشہ کرنے
والے اور ذہنی
معذور شخص میں
فرق کرنا چاہیے۔
ذہنی معذور کی
عقل تو اللہ
تعالی کے حکم
سے سلب ہوئی
ہے جس میں اس
کے ارادے کا
کوئی عمل دخل
نہیں جبکہ
نشہ کرنے
والا خود نشے
کی حالت میں گیا
ہے۔ اسی وجہ
سے نشہ کرنے
والے پر نماز
کی قضاء کرنا
لازم ہے جبکہ
ذہنی معذور
پر قضا نماز کی
ادائیگی
لازم نہیں کیونکہ
اس نے جان
بوجھ کر اپنی
مرضی سے اللہ
تعالی کی
نافرمانی نہیں
کی۔ قبلے کی
تبدیلی اسی
طرح اللہ
تعالی نے
اپنے رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کو نماز
میں بیت
المقدس (یروشلم)
کی طرف رخ
کرنے کا حکم دیا۔
اس حکم کے
منسوخ ہونے
سے قبل کسی
اور جانب رخ
کرنے کی
اجازت نہ تھی۔
اس کے بعد
اللہ تعالی
نے بیت
المقدس کی
طرف منہ کرنے
کا حکم منسوخ
کر دیا اور بیت
الحرام (مکہ) کی
طرف رخ کرنے
کا حکم دیا۔
اب کسی شخص کے
لئے یہ جائز
نہیں ہے کہ وہ
اس حکم کے آنے
کے بعد بیت
المقدس کی
طرف منہ کر کے
نماز ادا
کرتا رہے اور
نہ ہی یہ جائز
ہے کہ وہ کسی
اور سمت کی
طرف رخ کر کے
نماز ادا کرے۔ یہ سب
احکام اپنے
اپنے وقت پر
درست تھے۔ جب
اللہ تعالی
نے اپنے نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کو بیت
المقدس کی
طرف رخ کرنے
کا حکم دیا تو یہی
درست تھا۔ اس
کے بعد جب اس
حکم کو اس نے
منسوخ کر دیا
تو اب درست
صرف یہی ہے کہ
بیت اللہ کی
طرف منہ کر کے
نماز ادا کی
جائے۔ کتاب و
سنت سے
استدلال
کرتے ہوئے ہم یہ
کہہ سکتے ہیں
کہ فرض نماز میں
کسی اور جانب
رخ کرنا اب
جائز نہیں
سوائے اس کے
کہ دشمن کے
حملے کا خطرہ
ہو یا پھر سفر
میں نفل نماز
ادا کرتے
ہوئے اس کی
اجازت ہے کہ
جس طرف ممکن
ہو، منہ کر کے
نماز ادا کی
جائے۔ اسی
طرح ہر اس حکم
کا معاملہ ہے
جسے اللہ
تعالی نے
منسوخ قرار
دے دیا۔ نسخ
کا مطلب یہ ہے
کہ کسی حکم پر
عمل کرنا ختم
کر دیا جائے۔
اس حکم پر عمل
کرنا اپنے
وقت میں
بالکل درست
تھا اور جب
اللہ تعالی
نے اسے منسوخ
کر دیا تو اب
اسے ترک کر دینا
ہی درست ہے۔
جو شخص بھی کسی
حکم کے منسوخ
ہونے سے آگاہ
ہو جائے تو اس
پر لازم ہے کہ
وہ منسوخ حکم
پر عمل چھوڑ
دے اور ناسخ پر
عمل شروع کر
دے۔ جو شخص اس
بات سے بے خبر
رہا وہ بے شک
اسی منسوخ
حکم پر عمل
کرتا رہے۔
اللہ تعالی
کا ارشاد ہے: قَدْ
نَرَى
تَقَلُّبَ
وَجْهِكَ
فِي السَّمَاءِ،
فَلَنُوَلِّيَنَّكَ
قِبْلَةً
تَرْضَاهَا،
فَوَلِّ
وَجْهَكَ
شَطْرَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ،
وَحَيْثُ
مَا كُنتُمْ
فَوَلُّوا
وُجُوهَكُمْ
شَطْرَهُ ۔ یہ
تمہارے چہرے
کا آسمان کی
طرف بار بار
اٹھنا ہم دیکھ
رہے ہیں۔ لو
ہم تمہیں اسی
قبلے کی طرف
پھیر دیتے ہیں،
جسے تم پسند
کرتے ہو۔
اپنے چہرے کو
مسجد الحرام
کی طرف پھیر
لو اور جہاں
کہیں بھی تم
ہو، اسی کی
طرف منہ کر کے
نماز ادا کرو۔
(البقرہ 2:144) کوئی
یہ کہہ سکتا
ہے کہ قبلے کی
تبدیلی کا
حکم کہاں بیان
کیا گیا ہے؟ سَيَقُولُ
السُّفَهَاءُ
مِنْ
النَّاسِ: مَا
وَلَّاهُمْ
عَنْ
قِبْلَتِهِمْ
الَّتِي
كَانُوا
عَلَيْهَا؟
قُلْ:
لِلَّهِ الْمَشْرِقُ
وَالْمَغْرِبُ.
يَهْدِي
مَنْ يَشَاءُ
إِلَى
صِرَاطٍ
مُسْتَقِيمٍ
۔ نادان
لوگ ضرور کہیں
گے: "انہیں کیا
ہوا، پہلے یہ
جس قبلے کی
طرف منہ کر کے
نماز پڑھتے
تھے، یکایک
اس سے پھر
گئے؟" آپ ان
سے کہیے:
"مشرق و مغرب
تو اللہ ہی کے
لئے ہے۔ وہ
جسے چاہتا ہے
سیدھے راستے
کی طرف ہدایت
دے دیتا ہے۔" (البقرۃ
2:142) مالک،
عبداللہ بن دینار
سے اور وہ ابن
عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت
کرتے ہیں: ہم
لوگ قبا میں
فجر کی نماز
ادا کر رہے
تھے جب ایک پیغام
لانے والا آیا
اور کہنے
لگا، "رات کو
نبی صلی اللہ
علیہ وسلم پر
وحی نازل ہوئی
ہے اور آپ کو
حکم دیا گیا
ہے کہ آپ قبلے
کو تبدیل کر لیں
تو آپ نے ایسا
کر لیا ہے۔"
لوگوں کے منہ
اس وقت شام
(شمال) کی طرف
تھے جنہیں
انہوں نے (یہ
حکم سننے کے
بعد) منہ پھیر
کر کعبہ (جنوب)
کی جانب کر لیا۔
(بخاری، نسائی) مالک،
یحیی بن سعید
سے اور وہ سعید
بن مسیب سے
روایت کرتے ہیں
کہ: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
وسلم نے سولہ
مہینے بیت
المقدس کی
طرف رخ کر کے
نماز ادا کی۔
اس کے بعد جنگ
بدر سے دو ماہ
قبل قبلے کو
تبدیل کر دیا
گیا۔ (بخاری،
نسائی، ابن
ماجہ، مالک،
احمد) خطرے
کی حالت میں
نماز پڑھنے
کے بارے میں
حکم قرآن مجید
کی اس آیت میں
ملتا ہے، " فَإِنْ
خِفْتُمْ
فَرِجَالًا
أَوْ
رُكْبَانًا
" یعنی "خطرے کی
حالت میں
خواہ پیدل ہو یا
سوار، (نماز
پڑھو)۔" اس
سے یہ معلوم
ہوتا ہے کہ
خوف کی حالت
کے سوا کسی
اور صورت میں
جانور پر
سوار کے لئے
فرض نماز ادا
کرنا جائز نہیں۔
اللہ تعالی
نے یہاں قبلے
کی طرف منہ
کرنے کا ذکر
نہیں کیا۔
ابن عمر رضی
اللہ عنہما
نے خطرے کی
حالت کی نماز
سے متعلق
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے روایت
کی ہے، آپ نے
فرمایا: اگر
خطرے کی حالت
شدید ہو جائے
تو تم لوگ پیدل
یا سوار جیسے
بھی ممکن ہو
تم نماز ادا
کرو خواہ منہ
قبلے کی طرف
ہو یا نہ ہو۔
(بخاری، مالک) رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے نفل
نمازیں اپنی
اونٹنی پر
ادا فرمائیں
اور آپ کا رخ
اس جانب تھا
جدھر اونٹنی
سفر کر رہی تھی۔
اس حدیث کو
جابر بن
عبداللہ،
انس بن مالک
اور دیگر
صحابہ رضی
اللہ عنہم نے
روایت کیا ہے۔
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے ہمیشہ
فرض نماز زمین
پر کھڑے ہو کر
قبلے کی طرف
رخ کر کے ہی
ادا کی ہیں۔ ابن
ابی فدیک، ابن
ابی ذئب سے،
وہ عثمان بن
عبداللہ سے،
وہ سراقہ سے اور
وہ جابر بن
عبداللہ رضی
اللہ عنہ سے
روایت کرتے ہیں:
"نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے غزوہ
بنی انمار کے
دوران اپنے
اونٹ پر ہی
مشرق کی جانب
منہ کر کے
نماز ادا کی۔
(مسند شافعی،
مسند ابی حنیفہ)
جہاد میں
ثابت قدم
رہنے کا حکم اللہ
تعالی کا
ارشاد ہے: يَا
أَيُّهَا
النَّبِيُّ
حَرِّضْ
الْمُؤْمِنِينَ
عَلَى
الْقِتَالِ،
إِنْ يَكُنْ
مِنْكُمْ
عِشْرُونَ
صَابِرُونَ
يَغْلِبُوا
مِائَتَيْنِ،
وَإِنْ
يَكُنْ
مِنْكُمْ
مِائَةٌ
يَغْلِبُوا
أَلْفًا
مِنْ الَّذِينَ
كَفَرُوا
بِأَنَّهُمْ
قَوْمٌ لَا
يَفْقَهُونَ۔ اے
نبی! مومنوں
کو جنگ کی ترغیب
دیجیے۔ اگر
تم میں سے بیس
بھی صبر کرنے
والے ہوں گے
تو وہ دو سو پر
غالب آئیں گے
اور اگر ان میں
سے سو ایسے
ہوں گے تو وہ
اہل کفر کے
ہزار آدمیوں
پر بھاری رہیں
گے کیونکہ وہ
(کفار) ایسے
لوگ ہیں جو
سمجھ بوجھ نہیں
رکھتے۔
(الانفال 8:65) اس
کے بعد اللہ
تعالی نے
وضاحت کر دی
کہ اس نے دس
افراد کا
مقابلہ کرنے
کے لئے ایک
فرد کو ثابت
قدم رہنے کی
ذمہ داری ختم
کر دی ہے اور
اب یہ حکم دیا
ہے کہ اگر
دشمن کی
تعداد دوگنا
ہو تو اس کے
مقابلے میں
ثابت قدم رہا
جائے۔ ارشاد
باری تعالی
ہے: الْآنَ
خَفَّفَ
اللَّهُ
عَنكُمْ،
وَعَلِمَ
أَنَّ
فِيكُمْ
ضَعْفًا،
فَإِنْ
يَكُنْ مِنْكُمْ
مِائَةٌ
صَابِرَةٌ
يَغْلِبُوا
مِائَتَيْنِ،
وَإِنْ
يَكُنْ مِنْكُمْ
أَلْفٌ
يَغْلِبُوا
أَلْفَيْنِ
بِإِذْنِ
اللَّهِ،
وَاللَّهُ
مَعَ
الصَّابِرِينَ۔ اچھا،
اب اللہ نے
تمہارا بوجھ
ہلکا کر دیا
اور اسے
معلوم ہے کہ
تم میں کمزوری
ہے۔ پس اگر تم
میں سے سو آدمی
صبر کرنے
والے ہوں گے
تو وہ دو سو پر
اور اگر ہزار
ایسے ہوں گے
تو وہ دو ہزار
پر اللہ کے
حکم سے غلبہ
پا لیں گے۔
اور اللہ تو
صبر کرنے
والوں کے
ساتھ ہی ہے۔
(الانفال 8:66) سفیان
نے عمرو بن دینار
سے اور انہوں
نے ابن عباس
رضی اللہ
عنہما سے روایت
کی ہے، انہوں
نے فرمایا:
"جب یہ آیت
نازل ہوئی کہ
'اگر تم میں سے
بیس بھی صبر
کرنے والے ہوں
گے تو وہ دو سو
پر غالب آئیں
گے۔' تو
مسلمانوں پر یہ
ذمہ داری
عائد کر دی گئی
کہ دو سو کے
مقابلے پر بیس
آدمی مقابلے
سے احتراز نہ
کریں۔ اس کے
بعد اللہ
تعالی نے یہ آیت
نازل کی کہ '
اچھا، اب
اللہ نے
تمہارا بوجھ
ہلکا کر دیا
اور اسے
معلوم ہے کہ
تم میں کمزوری
ہے۔' اب یہ
لازم ہو گیا
کہ دو سو کے
مقابلے پر
اگر سو آدمی
ہوں تو وہ میدان
جنگ سے پیچھے
نہ ہٹیں۔
(بخاری، مسند
شافعی) جیسا
کہ سیدنا
عبداللہ بن
عباس رضی
اللہ عنہما
نے ارشاد
فرمایا،
اللہ تعالی
نے خود ہی اس
بات کی وضاحت
فرما دی ہے اس
لئے اب اس کی
وضاحت کرنے کی
ضرورت نہیں
ہے۔
بدکاری کی
مرتکب
عورتوں سے
متعلق احکام
میں تبدیلی ایک
اور مقام پر
اللہ تعالی
کا ارشاد ہے: وَاللَّاتِي
يَأْتِينَ
الْفَاحِشَةَ
مِنْ
نِسَائِكُمْ
فَاسْتَشْهِدُوا
عَلَيْهِنَّ
أَرْبَعَةً
مِنْكُمْ،
فَإِنْ
شَهِدُوا
فَأَمْسِكُوهُنَّ
فِي
الْبُيُوتِ
حَتَّى
يَتَوَفَّاهُنَّ
الْمَوْتُ،
أَوْ
يَجْعَلَ
اللَّهُ
لَهُنَّ
سَبِيلًا۔
وَاللَّذَانِ
يَأْتِيَانِهَا
مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا،
فَإِنْ
تَابَا
وَأَصْلَحَا
فَأَعْرِضُوا
عَنْهُمَا،
إِنَّ
اللَّهَ كَانَ
تَوَّابًا
رَحِيمًا۔ تم
میں سے جو
عورتیں
بدکاری کی
مرتکب ہوں ان
پر اپنے میں
سے چار افراد
کی گواہی لو۔
اگر چار
افراد گواہی
دے دیں تو انہیں
ان کے گھروں میں
قید کر دو یہاں
تک کہ انہیں
موت آ جائے یا
اللہ تعالی
ان کے لئے کوئی
اور راستہ
نکال دے۔ تم میں
سے جو جوڑا بھی
اس فعل کا
ارتکاب کرے،
تو ان دونوں
کو کچھ اذیت
دو، پھر اگر
وہ توبہ کر لیں
اور اپنی
اصلاح کر لیں
تو انہیں
چھوڑ دو۔ بے
شک اللہ تو
توبہ قبول
کرنے والا
مہربان ہے۔ (النساء
4:15-16)
اس
کے بعد اللہ
تعالی نے اپنی
کتاب میں قید
اور کچھ اذیت
کی سزا کو
منسوخ کر دیا
اور فرمایا: الزَّانِيَةُ
وَالزَّانِي
فَاجْلِدُوا
كُلَّ
وَاحِدٍ
مِنْهُمَا
مِائَةَ
جَلْدَةٍ ۔ زانی
اور زانیہ
دونوں میں سے
ہر ایک کو سو
کوڑے مارو۔
(النور 24:2) سنت
سے یہ بات
واضح ہوئی کہ یہاں
سو کوڑوں کی
سزا کنوارے
زانیوں کے
لئے ہے۔ عبدالوہاب،
یونس بن عبید
سے، وہ حسن سے
اور وہ عبادہ
بن صامت رضی اللہ
عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا:
"مجھ سے حاصل
کرو، مجھ سے
حاصل کرو،
اللہ تعالی
نے ان (فاحشہ
عورتوں) کے
لئے راستہ
نکال دیا۔
کنوارے
بدکاروں کے
لئے سو کوڑے
اور ایک سال کی
جلاوطنی کی
سزا ہے اور
شادی شدہ
بدکاروں کے
لئے سو کوڑے
اور رجم کی
سزا ہے۔
(مسلم، احمد،
ابن ماجہ،
مسند شافعی) اسی
طرح ہمیں
قابل اعتماد
اہل علم سے اس
کے مثل روایت
ملی ہے۔ اسے یونس
بن عبید، حسن
سے، وہ حطان
الرقاشی سے،
وہ عبادہ بن
صامت رضی
اللہ عنہ سے
اور وہ نبی صلی
اللہ علیہ
وسلم سے روایت
کرتے ہیں۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
سے معلوم
ہوتا ہے کہ سو
کوڑے کی سزا
آزاد کنوارے
بدکاروں کے
لئے ہے اور
شادی شدہ
بدکاروں کے
بارے میں یہ
سزا منسوخ ہے۔
اس کی وجہ یہ
ہے کہ رجم
آزاد شادی
شدہ بدکاروں
کے لئے سنت سے
ثابت ہے۔ جب
حضور کا یہ
فرمان کہ "مجھ سے
حاصل کرو،
مجھ سے حاصل
کرو، اللہ
تعالی نے ان
(فاحشہ
عورتوں) کے
لئے راستہ
نکال دیا۔
کنوارے
بدکاروں کے
لئے سو کوڑے
اور ایک سال کی
جلاوطنی کی
سزا ہے اور
شادی شدہ
بدکاروں کے
لئے سو کوڑے
اور رجم کی
سزا ہے۔" جاری
کیا گیا تو اس
سے قید اور
کچھ اذیت کی
سزا بدکاروں
کے لئے منسوخ
کر دی گئی۔
نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے ماعز
کو رجم کیا
اور انہیں
کوڑوں کی سزا
نہ دی اور انیس
(بن مالک
الاسلمی) کو
اپنی بیوی سے
تفتیش کرنے
کا حکم دیا کہ
اگر وہ زنا
(بالرضا) کا
اعتراف کر لیں
تو انہیں بھی
رجم کیا جائے۔
یہ واقعہ اس
بات کی دلیل
ہے کہ آزاد
شادی شدہ
بدکاروں کے
لئے سو کوڑے کی
سزا منسوخ کر
دی گئی ہے اور
رجم کی سزا
نافذ کر دی گئی
ہے۔ چونکہ جو
حکم آخر میں
جاری کیا گیا
ہوتا ہے وہی
ہمیشہ کے لئے
باقی رکھا
جاتا ہے (اس
لئے یہی حکم
اب حتمی ہے)۔
اللہ
تعالی کی
کتاب اور پھر
اس کے نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
سے ثابت ہوتا
ہے کہ (چونکہ یہ
حکم صرف آزاد
مرد و عورت کے
لئے ہے اس لئے)
ایسا غلام جو
بدکاری کا
مرتکب ہو، اس
سزا کے حکم میں
داخل نہیں ہے۔ اللہ
تبارک و تعالی
لونڈیوں کے
متعلق ارشاد
فرماتا ہے: فَإِذَا
أُحْصِنَّ:
فَإِنْ
أَتَيْنَ
بِفَاحِشَةٍ
فَعَلَيْهِنَّ
نِصْفُ مَا
عَلَى الْمُحْصَنَاتِ
مِنْ
الْعَذَابِ ۔ پھر
جب "احصان" سے
محفوظ ہو جائیں،
اور اس کے بعد
کسی بدکاری کی
مرتکب ہوں تو
ان پر اس سزا
کا نصف ہے جو
شادی شدہ
خواتین کے
لئے مقرر کی
گئی ہے۔
(النساء 4:25) سزا کا
نصف تو صرف
کوڑوں ہی میں
ہو سکتا ہے جس
کو تقسیم
کرنا ممکن ہے۔
رجم تو جان سے
مار دینے کا
نام ہے جس کا
نصف ممکن ہی
نہیں ہے۔ رجم
کیا جانے
والا شخص تو
پہلے پتھر ہی
سے مر سکتا ہے۔
ایسی صورت میں
مزید پتھر نہ
مارے جائیں
گے۔ یہ بھی ہو
سکتا ہے کہ وہ
ہزار پتھروں
سے بھی نہ مرے
اور مزید
پتھر مارنے
پڑیں۔ اس سزا
کا نصف کرنا
تو ہمیشہ کے
لئے ناممکن
ہے۔ (رجم کی)
سزا اس وقت تک
دی جائے گی جب
تک کہ اس کی
جان نکل نہ
جائے۔ جان
نکل جانے کا
انحصار
پتھروں کی
تعداد اور
سائز پر
منحصر ہے۔ یہ
بات تو سب اچھی
طرح جانتے ہیں
کہ رجم کا نصف
کرنا ممکن ہی
نہیں ہے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا:
"اگر
تمہاری لونڈی
بدکاری کی
مرتکب ہو اور
اس کا جرم
ثابت ہو جائے
تو اسے کوڑوں
کی سزا دو۔"
(بخاری،
مسلم، احمد)
آپ نے یہاں یہ
نہیں فرمایا
کہ اسے رجم
کرو۔ اس کے
معاملے میں
مسلمانوں کا
کوئی اختلاف
نہیں کہ
غلاموں کو
بدکاری کے
جرم میں رجم
نہیں کیا
جائے گا۔
ایک
لونڈی کا
"احصان" اس کا
اسلام قبول
کر لینا ہے۔
ہم نے یہاں جو
کچھ کہا وہ
سنت کے
استدلال اور
اکثر اہل علم
کے اجماع سے
کہا ہے۔ جیسا
کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کا ارشاد ہے
کہ "اگر
تمہاری لونڈی
بدکاری کی
مرتکب ہو اور
اس کا جرم
ثابت ہو جائے
تو اسے کوڑوں
کی سزا دو۔" یہاں
آپ نے لونڈی
کے شادی شدہ
ہونے یا نہ
ہونے کا کوئی
ذکر نہیں
فرمایا۔ اس وجہ
سے لونڈیوں
کے بارے میں
ہم اللہ تعالی
کے اس ارشاد
کہ "
پھر جب وہ
"احصان" سے
محفوظ ہو جائیں،
اور اس کے بعد
کسی بدکاری کی
مرتکب ہوں تو
ان پر اس سزا
کا نصف ہے جو
شادی شدہ
خواتین کے
لئے مقرر کی
گئی ہے۔"
کے بارے میں
اخذ کر سکتے ہیں
کہ "احصان" کا
معنی یہ ہے کہ
وہ اسلام لے
آئیں۔ اس سے یہ
معنی مراد لینا
درست نہیں کہ
"وہ نکاح کر لیں
اور ان سے
ازدواجی
تعلق قائم ہو
جائے یا جب وہ
آزاد کر دی
جائیں اگرچہ
ان سے ازدواجی
تعلق قائم نہ
کیا گیا ہو۔" کوئی شخص یہ
کہہ سکتا ہے
کہ اس معاملے
میں ہم لفظ
"احصان" سے
مختلف معانی
مراد لے رہے ہیں۔
یہ بات درست
ہے، احصان کا
مطلب یہ ہوتا
ہے کہ جو شخص
"احصان" حاصل
کر لے، اس کے اور
حرام چیزوں
کے درمیان
رکاوٹیں
قائم ہو جائیں
(اور وہ ان سے
محفوظ ہو
جائے)۔ اسلام
لانے سے ایک
شخص اور
گناہوں کے
درمیان
رکاوٹ کھڑی
ہو جاتی ہے۔
اسی طرح آزاد
ہو جانے، شادی
کر لینے،
ازدواجی
تعلقات قائم
کر لینے، گھر
میں قید کئے
جانے، اور دیگر
طریقوں سے بھی
انسان اور
گناہوں کے
درمیان
رکاوٹیں
قائم ہو جاتی
ہیں۔ مثال کے
طور پر اللہ
تعالی کا
ارشاد ہے: وَعَلَّمْنَاهُ
صَنْعَةَ
لَبُوسٍ
لَكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ
مِنْ
بَأْسِكُمْ ۔ ہم
نے انہیں (یعنی
داؤد کو)
تمہارے
فائدے کے لئے
زرہ بنانے کی
صنعت سکھا دی
تھی تاکہ تمہیں
ایک دوسرے کی
مار سے محفوظ
رکھے۔ (الانبیا
21:80) لَا
يُقَاتِلُونَكُمْ
جَمِيعًا
إِلَّا فِي
قُرًى
مُحَصَّنَةٍ
۔ یہ
تمہارا
مقابلہ کبھی
مل کر نہ کریں
سوائے اس کے یہ
قلعہ بند
محفوظ شہروں
میں ہوں۔
(الحشر 59:14) ان
آیات میں
"احصان" سے
مراد محفوظ
ہونا ہی ہے۔
اوپر مذکور زیر
بحث آیت (4:25) کا
شروع اور آخر
اس بات کی دلیل
ہے کہ لفظ
"احصان" کا معنی
یہاں اسلام ہی
ہے۔ یہاں اس
سے نکاح،
آزادی، قید، یا
عفت مراد لینا
درست نہیں
اگرچہ یہ سب
لفظ "احصان" کے
معنی میں
داخل ہیں۔ ناسخ
و منسوخ آیات
جن کا علم سنت
اور اجماع سے
ہوتا ہے وارث کے
حق میں وصیت
جائز نہ ہونے
کی مثال اللہ
تبارک و تعالی
کا ارشاد ہے: كُتِبَ
عَلَيْكُمْ
إِذَا
حَضَرَ
أَحَدَكُمْ
الْمَوْتُ
إِنْ تَرَكَ
خَيْرًا
الْوَصِيَّةُ
لِلْوَالِدَيْنِ
وَالْأَقْرَبِينَ
بِالْمَعْرُوفِ
حَقًّا
عَلَى الْمُتَّقِينَ
۔ تم
پر لازم کیا
جا رہا ہے کہ
جب تم میں سے
کسی کو موت
آئے اور وہ
کچھ مال و
دولت چھوڑ
رہا ہو تو وہ
والدین اور
رشتہ داروں
کے لئے معروف
طریقے سے وصیت
کرے۔ یہ حق ہے
متقی لوگوں
پر۔ (البقرۃ 2:180) وَالَّذِينَ
يُتَوَفَّوْنَ
مِنْكُمْ
وَيَذَرُونَ
أَزْوَاجًا
وَصِيَّةً
لِأَزْوَاجِهِمْ
مَتَاعًا
إِلَى
الْحَوْلِ
غَيْرَ
إِخْرَاجٍ،
فَإِنْ
خَرَجْنَ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَيْكُمْ
فِي مَا
فَعَلْنَ
فِي
أَنفُسِهِنَّ
مِنْ مَعْرُوفٍ،
وَاللَّهُ
عَزِيزٌ
حَكِيمٌ۔ تم
میں سے جو لوگ
وفات پا جائیں
اور پیچھے بیویاں
چھوڑ رہے
ہوں، انہیں
چاہیے کہ وہ
اپنی بیویوں
کے حق میں وصیت
کر جائیں کہ ایک
سال تک انہیں نان و
نفقہ دیا
جائے اور انہیں
گھر سے نہ
نکالا جائے۔ پھر اگر
وہ خود چلی
جائیں، تو
اپنی ذات سے
متعلق معروف
طریقے پر جو
بھی کریں، تم
پر اس کی ذمہ داری
نہیں ہے۔
اللہ سب پر
غالب اقتدار
رکھنے والا
اور حکیم و
دانا ہے۔ (البقرۃ
2:240) اللہ
تعالی نے یہ
احکام والدین،
قریبی رشتے
داروں،
خاوند اور بیوی
کی میراث کے
متعلق نازل
فرمائے۔ (اس
کے بعد وراثت
کے تفصیلی
احکام سورۃ
نساء کی آیت 11-12 میں
نازل ہوئے۔)
ان دونوں آیات
سے ایک تو یہ
احتمال ہو
سکتا تھا کہ
وراثت کے
دوسرے احکام
کے ساتھ والدین،
رشتے داروں
اور شریک حیات
کے لئے وصیت کی
اجازت ہے۔ اس
لئے وراثت کے
احکام پر عمل
کرنے کے ساتھ
ساتھ وصیت پر
بھی عمل کیا
جائے گا۔
دوسرا
احتمال یہ
ممکن تھا کہ
وراثت کے
احکام نے وصیت
کے حکم کو
منسوخ کر دیا
ہے۔ چونکہ یہ
دونوں
احتمال ممکن
ہیں اس لئے
اہل علم پر یہ
لازم تھا کہ
وہ اس معاملے
میں (ایک آپشن
اختیار کرنے
کے لئے) کتاب
اللہ سے
راہنمائی
حاصل کریں۔
اگر انہیں
کتاب اللہ سے
اس معاملے میں
کوئی نص نہ
ملے تو وہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت کی
جانب رجوع کریں۔
اگر انہیں ایسی
کوئی
راہنمائی مل
جائے جس کی
نسبت رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی طرف
قبول کر لی گئی
ہو تو وہ اہل
علم اسے بھی
اللہ تعالی کی
طرف سے ہی
قبول کر لیں کیونکہ
اللہ تعالی
نے آپ کی
اطاعت ہم پر
لازم کی ہے۔ جنگوں
کے واقعات کو
محفوظ کرنے
والے ماہرین،
خواہ وہ قریش
میں سے ہوں نہ
ہوں، اس
معاملے میں
اتفاق رائے
رکھتے ہیں کہ
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے فتح
مکہ کے سال
ارشاد فرمایا:
"(قرآن
میں بیان
کردہ حصہ
پانے والے)
وارث کے حق میں
وصیت قبول نہ
کی جائے گی
اور ایک انکار
کرنے والے کے
بدلے ایمان
لانے والے کو
قتل نہ کیا
جائے گا۔"
یہ روایت ہم
تک ان لوگوں
کے توسط سے
پہنچی ہے
جنہوں نے اسے
جنگوں کے
واقعات
محفوظ کرنے والے
ماہرین سے
براہ راست
حاصل کیا ہے۔ یہ بات
عام لوگوں سے
عام لوگوں کو
(تواتر سے) نقل ہوئی
ہے اور یہ ان
روایات کی
نسبت زیادہ
مستند ہے جو ایک
شخص سے ایک
شخص کو (خبر
واحد) منتقل
ہوتی ہیں۔ اس بات
پر ہم نے اہل
علم کو متفق
الرائے پایا
ہے۔ شام کے
بعض اہل علم
نے اس حدیث کی
ایسی سند بیان
کی ہے جسے حدیث
کے علوم کے
ماہرین قبول
نہیں کرتے کیونکہ
اس کی روایت
کرنے والے
بعض لوگوں کے
حالات
نامعلوم ہیں
جس کے باعث اس
کی روایت کا
سلسلہ نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم تک ٹوٹا
ہوا (منقطع) ہے۔
ہم نے اس حدیث
کو جنگی
واقعات کے
ماہرین اور
عام لوگوں کے
اجماع کی وجہ
سے قبول کیا
ہے۔ سفیان
نے سلیمان
الاحول سے،
انہوں نے
مجاہد سے روایت
کی کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
ارشاد فرمایا:
"(قرآن میں بیان
کردہ حصہ
پانے والے)
وارث کے حق میں
وصیت قبول نہیں
کی جائے گی۔"
(ترمذی، نسائی،
ابو داؤد،
ابن ماجہ) جو
نتیجہ ہم نے
اخذ کیا وہ نبی
صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے جنگی
واقعات کے
عام ماہرین
کے ذریعے نقل
کردہ حدیث "(قرآن میں
بیان کردہ
حصہ پانے
والے) وارث کے
حق میں وصیت
قبول نہیں کی
جائے گی۔" کی
بنیاد پر ہے۔
اس کے علاوہ
اس موضوع پر ایک
منقطع حدیث
اور عام
لوگوں کا
اجماع بھی ہے۔
یہ حدیث والدین
اور شریک حیات
کے لئے وصیت
کے اختیار کو
منسوخ کرتی
ہے۔ اکثر عام
اہل علم کی یہ
رائے ہے کہ قریبی
رشتے داروں
کے لئے وصیت
کے لازمی
ہونے کا حکم
منسوخ ہوا ہے۔
اب یہ لوگ
وراثت کے
احکام کے
مطابق حصہ
پائیں گے۔
جہاں تک ان
لوگوں کا
تعلق ہے جو
قرآن میں بیان
کردہ وارثوں
میں شمار نہیں
ہوتے تو ان کے
لئے تو وصیت
پہلے بھی فرض
نہیں تھی۔ طاؤس
(بن کیسان) اور
اہل علم کے ایک
قلیل گروہ کی
رائے یہ ہے کہ
والدین کے حق
میں وصیت تو
منسوخ ہو چکی
ہے البتہ ایسے
رشتے داروں
کے حق میں وصیت
ہو سکتی ہے جو
(قرآن میں بیان
کردہ) وارثوں
میں شمار نہیں
ہوتے۔ اس وجہ
سے رشتے
داروں سے ہٹ
کر کسی اور
شخص کے لئے وصیت
کرنا جائز نہیں
ہے۔ اگر
ہمارے پاس
جنگی واقعات
کے ماہرین کی
روایت کردہ
حدیث "وارث کے
حق میں وصیت
قبول نہیں کی
جائے گی۔"
نہ ہوتی تو ہم
پر لازم تھا
کہ ہم طاؤس کے
نقطہ نظر کے
حق میں یا اس
کے خلاف کوئی
دلیل تلاش
کرتے۔ ہمیں
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی ایک
اور حدیث ملتی
ہے جس میں ایک
فوت ہونے
والے شخص کی
وراثت میں
سوائے چھ
غلاموں کے
اور کچھ نہ
تھا۔ اس نے
مرتے ہوئے
انہیں آزاد
کرنے کی وصیت
کی تھی۔ نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے انہیں تین
حصوں میں تقسیم
کیا۔ ان میں
سے دو کو (قرعہ
اندازی کر کے)
آزاد کر دیا
اور چار کو
بدستور غلام
رکھتے ہوئے
وراثت میں
منتقل کر دیا۔
یہ روایت ہم
تک
عبدالوھاب،
ایوب، ابو
قلابہ، ابو
مھلب اور
عمران بن حصین
رضی اللہ عنہ
کے ذریعے
پہنچی ہے۔ اس حدیث
سے یہ معلوم
ہوتا ہے کہ نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے مرض الموت
میں کی گئی وصیت
کو برقرار
رکھا ہے۔ جس
شخص نے ان
غلاموں کا
آزاد کیا، وہ
عرب تھا اور
عرب لوگ غیر
عرب غلام ہی
رکھتے ہیں جن
کے اور مالک
کے درمیان
کوئی خونی
رشتہ نہ ہو۔
اسی وجہ سے نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے اس وصیت کی
اجازت دے دی۔
اس سے یہ بھی
ثابت ہوا کہ
(طاؤس کے نقطہ
نظر کے برعکس)
اگر رشتے
داروں کے
علاوہ کسی
اور کے حق میں
وصیت جائز نہ
ہوتی تو ان
غلاموں کو بھی
آزاد نہ کیا
جاتا کیونکہ
وہ اس شخص کے
خونی رشتے
دار نہ تھے۔ اس
حدیث سے یہ بھی
معلوم ہوتا
ہے کہ: · وصیت
کی زیادہ سے زیادہ
مقدار کل مال
کا تہائی حصہ
ہے۔ · تہائی
حصے سے زیادہ
جو وصیت کی
جائے گی اسے
مسترد کر دیا
جائے گا۔ · جو
غلام پہلے ہی
آزاد ہونے کے
لئے اپنی قیمت
ادا کر رہا ہے
اس کے حق میں
بھی وصیت
قبول نہ کی
جائے گی۔ · غلاموں
کی تین حصوں میں
تقسیم سے پتہ
چلتا ہے کہ
قرعہ اندازی
کے ذریعے فیصلہ
کرنا درست ہے۔ والدین
کے حق میں وصیت
درست نہیں کیونکہ
وہ قانون
وراثت کے تحت
پہلے ہی حصہ
پانے والوں میں
سے ہیں۔ ایسے
رشتے دار اور
دوسرے لوگ جو
قانون وراثت
کے تحت حصہ
پانے والے نہ
ہوں، ان کے حق
میں وصیت
جائز ہے بلکہ
میری رائے میں
تو یہ ایک
اچھا عمل ہے
کہ انسان ایسے
رشتے داروں
کے لئے بھی وصیت
کر جائے۔ قرآن میں
اس کے علاوہ
اور بھی ناسخ
و منسوخ ہیں
جو کہ مختلف
مقامات پر ہیں۔
انہیں ہم
مناسب موقع
پر اس کتاب میں
احکام
القرآن کے
باب میں بیان
کریں گے۔ میں
نے یہاں صرف
چند مثالیں بیان
کی ہیں جن کی
بنیاد پر دیگر
مثالوں کو
سمجھا جا
سکتا ہے۔ میں
سمجھتا ہوں
کہ یہ مثالیں
کافی ہیں اس
لئے دیگر
مثالوں کو بیان
کرنے کی
ضرورت نہیں
ہے۔ غلطیوں
سے بچنے اور
صحیح بات کو
پانے کے لئے میں
اللہ تعالی کی
مدد کا
طلبگار ہوں۔ اللہ
تعالی کے
نازل کردہ
احکام، خواہ
وہ تفصیلی
ہوں یا اجمالی،
ان کے ساتھ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی سنت
کو بیان کرنے
کا مقصد یہ
تھا کہ اللہ
تعالی نے جو
مقام اپنے نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کو اپنی
کتاب، دین
اور دین کے
ماننے والوں
میں عطا کیا
ہے، اس کی
وضاحت ہو
جائے۔ لوگ
اچھی طرح
جانتے ہیں کہ
آپ کی اتباع
دراصل اللہ
تعالی ہی کی
اطاعت ہے۔ آپ
کی سنت ہمیشہ
کتاب اللہ کے
مطابق ہی ہوتی
ہے اور کبھی
اس کے متضاد
نہیں ہوتی۔ جو بھی
اس کتاب کو
سمجھتا ہے وہ
جانتا ہے کہ
اللہ تعالی
کے احکامات
کا بیان بعض
اوقات اہل
علم کے لئے
(زبان سے
متعلق ان کے
علم کی وجہ سے)
واضح ہوتا ہے
اور بعض
اوقات غیر
واضح۔ جو شخص
کم علم رکھتا
ہے اس کے لئے
اس کی وضاحت
کے درجوں میں
مزید فرق
ہوتا ہے۔ ایسے
فرائض جن کے
لئے قرآن میں
نص موجود ہے
کے ناسخ و
منسوخ کی
مثالیں جھوٹا
الزام لگانے
کی سزا اور
لعان کا عمل اللہ
تعالی کا
ارشاد ہے: وَالَّذِينَ
يَرْمُونَ
الْمُحْصَنَاتِ،
ثُمَّ لَمْ
يَأْتُوا
بِأَرْبَعَةِ
شُهَدَاءَ،
فَاجْلِدُوهُمْ
ثَمَانِينَ
جَلْدَةً،
وَلَا
تَقْبَلُوا
لَهُمْ
شَهَادَةً
أَبَدًا،
وَأُوْلَئِكَ
هُمْ
الْفَاسِقُونَ
۔ جو
لوگ پاک دامن
خواتین پر
تہمت لگائیں،
پھر چار گواہ
نہ لے کر آئیں،
انہیں 80 کوڑے
مارو، اور ان
کی گواہی پھر
کبھی قبول نہ
کرو۔ ایسے ہی
لوگ فاسق ہیں۔
(النور 24:4) یہاں
"محصنات" سے
مراد آزاد
بالغ خواتین
ہیں۔ لفظ
"احصان" بہت
سے مختلف
معانی کا
جامع ہے۔ مزید
ارشاد ہے: وَالَّذِينَ
يَرْمُونَ
أَزْوَاجَهُمْ
وَلَمْ
يَكُنْ
لَهُمْ
شُهَدَاءُ
إِلَّا أَنفُسُهُمْ:
فَشَهَادَةُ
أَحَدِهِمْ
أَرْبَعُ
شَهَادَاتٍ
بِاللَّهِ
إِنَّهُ لَمِنْ
الصَّادِقِينَ۔
وَالْخَامِسَةُ
أَنَّ
لَعْنَةَ
اللَّهِ عَلَيْهِ
إِنْ كَانَ
مِنْ
الْكَاذِبِينَ۔
وَيَدْرَأُ
عَنْهَا
الْعَذَابَ
أَنْ تَشْهَدَ
أَرْبَعَ
شَهَادَاتٍ
بِاللَّهِ
إِنَّهُ
لَمِنْ
الْكَاذِبِينَ۔
وَالْخَامِسَةَ
أَنَّ
غَضَبَ
اللَّهِ
عَلَيْهَا
إِنْ كَانَ
مِنْ
الصَّادِقِينَ۔ جو
لوگ اپنی بیویوں
پر الزام
لگائیں اور
ان کے پاس خود
اپنے سوا کوئی
اور گواہ نہ
ہو تو ان میں
سے ایک شخص کی
گواہی یہ ہے
کہ وہ چار بار
اللہ کے نام کی
قسم کھا کر یہ
کہے کہ وہ
(اپنے الزام میں)
ضرور سچا ہے
اور پانچویں
بار یہ کہے کہ
اس پر اللہ کی
لعنت ہو اگر
وہ جھوٹا ہو۔
اور عورت سے
سزا اسی صورت
میں ٹل سکتی
ہے کہ وہ چار
بار اللہ کا
نام لے کر قسم
کھائے کہ اس
پر الزام
لگانے والا
جھوٹا ہے اور
پانچویں
مرتبہ یہ کہے
کہ مجھ پر
اللہ کا غضب
ہو اگر یہ شخص
(اپنے الزام میں)
سچا ہو۔
(النور 24:6-9)
یہاں
اللہ تعالی
نے الزام
لگانے والے
عام شخص اور
خاوند کے درمیان
فرق کیا ہے۔
الزام لگانے
والا اگر
خاوند کے
علاوہ کوئی
شخص ہو اور وہ
چار گواہ نہ
لا سکے تو اسے
فوراً جھوٹا
الزام لگانے
کے جرم میں
سزا دی جائے گی۔
خاوند اگر
اپنی بیوی پر
بدکاری کا
الزام لگائے
تو وہ "لعان"
کے ذریعے اس
حد سے بچ سکتا
ہے۔ اس سے یہ
معلوم ہوتا
ہے کہ جو شخص
بھی پاک دامن
خواتین پر
تہمت لگائے
اسے کوڑوں کی
سزا دی جائے گی۔
یہ اس شخص کے
لئے ہے جو
بالغ آزاد
خواتین پر
تہمت لگائے
اور اس کا
خاتون سے
ازدواجی
تعلق بھی نہ
ہو۔ اس میں
وہ بات بیان کی
گئی ہے جس کا میں
نے ذکر کیا۔
قرآن عربی
زبان میں ہے
اس سے بعض
اوقات کوئی
لفظ بظاہر
عام ہوتا ہے لیکن
اس سے کوئی
خاص گروہ
مراد ہوتا ہے۔
اگرچہ ان
دونوں میں سے
ایک آیت نے
دوسری کو
منسوخ کیا ہے
لیکن ان
دونوں کا حکم
اب بھی اپنے
اپنے حالات میں
باقی ہے۔ جیسا
کہ اللہ تعالی
نے ان آیات کے
حکم میں فرق کیا،
ہم بھی فرق کریں
گے اور جہاں
اس نے ان کے
حکم کو اکٹھا
کیا، ہم بھی
اکٹھا کریں
گے۔ جب
الزام لگانے
والا خاوند
"لعان" کے عمل
سے گزرتا ہے
تو وہ (کوڑوں کی)
سزا سے بچ
جاتا ہے جیسا
کہ اجنبی شخص
اگر چار گواہ
لے آئے تو وہ
بھی سزا سے بچ
جاتا ہے۔ اگر
خاوند لعان
کے عمل سے
گزرنے کو تیار
نہ ہو اور اس کی
بیوی آزاد
اور بالغ
عورت ہو تو اس
خاوند کو بھی
سزا دی جائے گی۔ عجلانی
اور ان کی اہلیہ
کے متعلق
لعان کی آیات
نازل ہوئیں۔
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے ان کے
مابین لعان
کا عمل کروایا۔
لعان کا یہ
واقعہ سھل بن
سعد الساعدی
اور ابن عباس
نے بیان کیا
ہے لیکن ابن
عمر اور دیگر
صحابہ (رضی
اللہ عنہم) جو
اس موقعے پر
موجود تھے،
انہوں نے اس
موقع پر نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے الفاظ کو
نقل نہیں کیا۔
انہوں نے اس
معاملے میں
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے ایسے
احکامات بیان
کئے ہیں جو
قرآن کی کسی
نص میں موجود
نہیں ہیں۔ ان میں
سے ایک حکم تو یہ
ہے کہ لعان کے
عمل کے بعد میاں
بیوی میں علیحدگی
کروا دی جائے
گی اور خاوند
کو (ہونے والے)
بچے کا باپ
قرار نہیں دیا
جائے گا ہاں
اگر بچے میں
باپ سے واضح
مشابہت ہو تو
اسے اسی کی
اولاد قرار دیا
جائے گا۔
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے فرمایا:
"اب
بچے کا
معاملہ
بالکل واضح
ہو گیا جس کا
ذکر اللہ
تعالی نے
قرآن میں نہیں
کیا۔"
ابن عباس رضی
اللہ عنہما بیان
کرتے ہیں کہ
لعان کے عمل
کے دوران جب
پانچویں
مرتبہ قسم
کھائی گئی تو
آپ نے فرمایا: "اسے روکو کیونکہ
اس سے (آخرت کی)
سزا لازم ہو
جائے گی۔"
(بخاری، ترمذی،
نسائی،
ابوداؤد) (یعنی
آخرت کی سزا
پانے سے بہتر
ہے کہ انسان
دنیا میں سزا
پا لے۔) اس سے یہ
بھی معلوم
ہوتا ہے کہ
راویوں نے حدیث
کے بعض حصے بیان
نہیں کئے جو
کہ ضروری تھے۔
مثلاً انہوں
نے یہ بیان نہیں
کیا کہ حضور
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے لعان کا
عمل میاں بیوی
کے مابین کس
طرح سے کروایا۔
انہوں نے یہ خیال
کیا ہو گا کہ
جو شخص اللہ کی
کتاب کا علم
رکھتا ہے وہ
جانتا ہی ہو
گا کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کتاب
اللہ میں دیے
گئے طریقے کے
مطابق ہی
لعان کروائیں
گے۔ ان راویوں
نے اسی پر
اکتفا کیا کہ
اللہ تعالی
نے لعان میں
قسموں کی
تعداد اور ہر
ایک کی گواہی
کو بیان کیا
ہے۔ انہوں نے
میاں بیوی کے
مابین لعان
کے عمل کے
دوران رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے
الفاظ کو روایت
نہیں کیا۔ لعان
کے عمل اور
قسموں کی
تعداد کے
بارے میں
کتاب اللہ میں
کافی تفصیل
موجود ہے۔ جیسا
کہ میں نے عرض
کیا کہ بعض
لوگوں نے نبی
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
سے یہ بھی روایت
کی ہے کہ آپ نے
لعان کے عمل
کے بعد میاں بیوی
میں تفریق
کروا دی ہے۔
ہم نے اس
معاملے میں
کتاب اللہ کے
ساتھ ساتھ اس
سے پہلے بھی
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی احادیث
کو بیان کر دیا
ہے۔ روزے کی
مثال اللہ
تعالی کا
ارشاد ہے: يَاأَيُّهَا
الَّذِينَ
آمَنُوا
کُتِبَ عَلَيْكُمْ
الصِّيَامُ
كَمَا
كُتِبَ
عَلَى الَّذِينَ
مِنْ
قَبْلِكُمْ
لَعَلَّكُمْ
تَتَّقُونَ۔
أَيَّامًا
مَعْدُودَاتٍ۔ تم
پر روزے فرض
کئے گئے ہیں جیسا
کہ تم سے پہلی
امتوں پر فرض
کئے گئے تھے
تاکہ تم متقی
بن سکو۔ چند
مقرر دنوں کے یہ
روزے ہیں۔
(البقرۃ 2:183-184 ) فَمَنْ
شَهِدَ
مِنْكُمْ
الشَّهْرَ
فَلْيَصُمْهُ
وَمَنْ
كَانَ
مَرِيضاً اب
سے جو شخص اس
مہینے کو
پائے وہ اس میں
پورے مہینے
کے روزے رکھے
اور اگر کوئی
مریض ہو (تو
وہ دوسرے
دنوں میں
پورے کر لے۔) اس
کے بعد اللہ
تعالی نے یہ
واضح فرما دیا
ہے کہ روزے کس
مہینے میں
فرض ہیں: شَهْرُ
رَمَضَانَ
الَّذِي
أُنزِلَ
فِيهِ الْقُرْآنُ
هُدًى
لِلنَّاسِ
وَبَيِّنَاتٍ
مِنْ
الْهُدَى
وَالْفُرْقَانِ
فَمَنْ
شَهِدَ
مِنْكُمْ
الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
وَمَنْ
كَانَ
مَرِيضاً
أَوْ عَلَى
سَفَرٍ
فَعِدَّةٌ
مِنْ
أَيَّامٍ
أُخَرَ،
يُرِيدُ
اللَّهُ
بِكُمْ
الْيُسْرَ
وَلَا
يُرِيدُ
بِكُمْ
الْعُسْرَ،
وَلِتُكْمِلُوا
الْعِدَّةَ،
وَلِتُكَبِّرُوا
اللَّهَ
عَلَى مَا
هَدَاكُمْ،
وَلَعَلَّكُمْ
تَشْكُرُونَ
۔ رمضان
وہ مہینہ ہے
جس میں قرآن
نازل ہوا۔ جو
انسانوں کے
لئے سراسر
ہدایت ہے اور
ایسی واضح
تعلیمات پر
مشتمل ہے جو
راہ راست
دکھانے والی
اور حق و باطل
کا فرق کھول دینے
والی ہیں۔ اس
لئے اب سے جو
شخص اس مہینے
کو پائے وہ اس
میں پورے مہینے
کے روزے رکھے
اور اگر کوئی
مریض یا
مسافر ہو تو
وہ دوسرے
دنوں میں گنتی
پوری کر لے۔
اللہ تمہارے
لئے آسانی
چاہتا ہے اور
مشکل نہیں
چاہتا۔ اس
گنتی کو پورا
کر لو اور
اللہ کی بڑائی
بیان کرو کیونکہ
اس نے تمہیں
ہدایت دی تا کہ تم اس
کے شکر گزار
بنو۔ (البقرہ 2:185) میں حدیث کے کسی ایسے عالم کو نہیں جانتا جس نے ہم سے پہلے محض یہ بیان کرنے کے لئے کوئی حدیث روایت کی ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ی | |||||||||||