|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری،
امن اور
انسانیت کی
محبت سے
وابستہ |
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
باب ششم: دور
جدید کی تبدیلیاں
اور ہمارا رد
عمل مکمل
تحریر کو
ڈاؤن لوڈ
کرنے کے لئے یہاں
کلک کیجیے |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
بعض افراد کا
طرز فکر یہ
ہوتا ہے کہ وہ
ہر قسم کی تبدیلی
کو ناپسند
کرتے ہیں۔ یہ
حضرات
عموماً اپنی
عمر کے آخری
حصے میں ہوتے
ہیں۔ اس
مخالفت کی
بڑی وجہ یہ
ہوتی ہے کہ
عمر بھر کے
تجربات کے
باعث یہ ایک
خاص طرز
زندگی کے
عادی ہو جاتے
ہیں اور جب
انہیں اس سے
کچھ مختلف
طرز زندگی کا
سامنا کرنا
پڑتا ہے تو ان
کا ذہن اسے
قبول نہیں کر
پاتا،
چنانچہ وہ یہ
کہتے ہوئے
نظر آتے ہیں:
"ہمارے وقتوں
کی کیا بات
تھی، آج کل تو
۔۔۔۔" اگر آپ ان کے
وقتوں کے
لٹریچر کو
اٹھا کر دیکھ
لیں تو معلوم
ہو گا کہ ان کے
بزرگ بھی اپنے
بڑھاپے میں
یہی کہا کرتے
تھے۔" اس
کے برعکس
نوجوان
عموماً
انقلابی
خیالات کے
حامل ہوتے
ہیں اور
تبدیلی کے
عمل میں ممد و
معاون ثابت
ہوتے ہیں۔ یہی
نوجوان جب
بڑھاپے کی
حدود میں
داخل ہوتے ہیں
تو وہ بعد میں
آنے والی
تبدیلیوں کے
مخالف بن
جاتے ہیں۔ دور
جدید میں
پیدا ہونے
والی
تبدیلیوں کے اثرات
جب مسلم
ممالک میں
پہنچے تو اس
ضمن میں تین
طرح کے طرز
عمل سامنے
آئے جن کی تفصیل
یہ ہے۔
ہمارے
نزدیک تبدیلی
کے بارے میں
صحیح رد عمل
یہ ہے کہ سب سے
پہلے تبدیلی
کا تجزیہ کیا
جائے تو یہ
دیکھا جائے
کہ دینی اور
اخلاقی
اعتبار سے یہ
تبدیلی مثبت
نوعیت کی ہے
یا منفی
نوعیت کی۔ مثبت
تبدیلیوں کی
بھرپور
حمایت کی
جائے اور منفی
تبدیلیوں کو
روکنے کی
کوشش کی
جائے۔ اگر
منفی نوعیت کی
تبدیلی کے
ساتھ ایسی
قوتیں
وابستہ ہو
چکی ہیں جن کے
باعث انہیں
مکمل طور پر
روکنا ممکن
نہ ہو تو پھر
ان میں اساسی
نوعیت کی چند
تبدیلیاں کر
کے ان کے منفی اثرات
کو کم سے کم
کرنے کی کوشش
کی جائے۔
زیادہ بہتر
ہو گا کہ
موجودہ دور
کی تبدیلیوں کے
بارے میں
کوئی رد عمل
تجویز کرنے
سے قبل ہم
پچھلے ابواب
میں کی گئی
بحث کا خلاصہ ایک
جدول کی صورت
میں پیش کر
دیں۔
اگر اس جدول
کا جائزہ لیا
جائے تو ہم یہ
دیکھ سکتے
ہیں کہ دور
جدید میں
رونما ہونے
والی بہت سی تبدیلیاں
مثبت نوعیت
کی ہیں۔ چند
تبدیلیاں
منفی نوعیت
کی ہیں اور اکثر
ایسی
تبدیلیاں
ہیں جن کے
مثبت اور
منفی دونوں
پہلو پائے
جاتے ہیں۔ اب
ہم ان تینوں
قسم کی
تبدیلیوں کے
بارے میں مجوزہ
رد عمل کی
تفصیل پیش
کرتے ہیں۔ موجودہ دور
میں جو مثبت
تبدیلیاں
پیدا ہوئی
ہیں ان میں عقل
کے استعمال
میں اضافہ،
توہم پرستی
میں کمی،
سائنسی طرز
فکر، شخصی
آزادی،
غلامی کا خاتمہ،
جاگیردارانہ
اور قبائلی
نظام کی
کمزوری،
جمہوریت اور
آزادی اظہار
نہایت ہی
مثبت
تبدیلیاں
ہیں۔ اس کے
علاوہ خاندانی
نظام میں
ہونے والی
تبدیلیاں،
تعدد ازدواج
میں کمی،
خواتین کا
فعال کردار،
تعلیم کا
فروغ، سماجی
عالمگیریت،
معلوماتی
انقلاب اور
بہتر معیار
زندگی بھی
ایسی
تبدیلیاں
ہیں جن کے
مثبت پہلو
نمایاں ہیں۔ ان
مثبت
تبدیلیوں کے
بارے میں
صحیح طرز عمل
یہ ہے کہ مسلمانوں
کے دانشور، مصلحین
اور اہل علم
اپنی پوری
قوت ان
تبدیلیوں کے
دفاع پر خرچ
کر دیں اور ان
کی مخالفت
میں پیدا
ہونے والی ہر
آواز کو اپنے
دلائل کے
ذریعے کمزور
کریں۔
حکومتیں
اپنی قوت ان
مثبت
تبدیلیوں کو
فروغ دینے پر
خرچ کریں۔
انفرادی سطح
پر مسلمان ان
تبدیلیوں کو
اپنانے کی
کوشش کریں
اور اپنے ذاتی،
خاندانی اور
عملی دائروں
میں ان کے
فروغ کے لئے
اپنی اپنی استطاعت
کے مطابق
جدوجہد کرتے
رہیں۔ بعض
پہلوؤں سے
مثبت اور بعض
پہلوؤں سے
منفی تبدیلیاں ایسی
تبدیلیاں جن
میں خیر اور
شر دونوں کے
امکانات
پائے جاتے
ہیں ان میں
میڈیا کا
کردار،
سیکولر ازم،
ریاست کا
کردار، توانائی
کا استعمال،
جینیٹک
انجینئرنگ
اور نوجوانوں
کی تعداد میں
اضافہ شامل
ہیں۔ ان
تبدیلیوں کے
بارے میں
ہمارے نزدیک
صحیح طرز عمل
یہ ہے کہ سب سے
پہلے ان
تبدیلیوں کے
مثبت اور
منفی پہلوؤں
کا شعور اپنے
اور دوسروں
کے اندر پیدا
کیا جائے۔ ان
کے مثبت
پہلوؤں
کواجاگر کیا
جائے اور ان
کے منفی
پہلوؤں کے
بارے میں ایک تحریک
پیدا کی جائے
تا کہ ان کے
منفی پہلوؤں
کے نقصانات
کو کم سے کم
کیا جا سکے۔ اس
کی تفصیل کچھ
یوں ہے: معاشرتی
تبدیلیاں
سیاسی
تبدیلیاں
معاشی اور تکنیکی
تبدیلیاں
دور جدید میں
نہایت منفی
تبدیلیوں
میں مذہبی جنگیں،
سود پر مبنی
استحصالی
نظام اور اس
کے نتیجے میں
پیدا ہونے
والا امیر و
غریب کا فرق
ہے۔ دیگر
منفی
تبدیلیوں
میں نوجوان
نسل کی بے راہ
روی، شہروں
پر آبادی کا
دباؤ اور
اوقات کار
میں ہونے
والی تبدیلیاں
ہیں۔ اہل
علم، مصلحین،
دانشوروں
اور حکومت کی
ذمہ داری ہے
کہ وہ اپنی
پوری قوت ان
تبدیلیوں کے
خلاف صرف
کریں اور اس
بات کی کوشش
کریں کہ ان
تبدیلیوں کے
اثرات کو کم
سے کم کرتے
ہوئے انہیں
کمزور کیا جا
سکے۔ سیاسی
تبدیلیاں ·
مذہبی
جنگوں کے
جنون کو کم
کرنے کی ذمہ
داری مذہبی
علماء کی ہے۔ ان
پر یہ لازم ہے
کہ وہ اپنے
معتقدین کو
یہ بتائیں کہ
یہ جنگیں
بجائے خود
دین اسلام اور
مسلمانوں کو
فائدے کی
بجائے نقصان
پہنچانے کا
باعث بن رہی
ہیں۔ قرآن و
سنت کے دلائل
سے نوجوان
نسل کو یہ بتایا
جائے کہ دین
اسلام میں
جہاد کا صحیح
تصور کیا ہے
اور دہشت
گردی اسلام
کی رو سے ایک ناقابل
معافی جرم ہے۔
امن کی اہمیت
کو اجاگر کیا
جائے اور نوجوان
نسل کی صحیح
خطوط پر
تربیت کی
جائے۔
حکومتوں کی
یہ ذمہ داری
ہے کہ وہ اپنی
اپنی حدود
میں ان جنگوں
کو پھیلنے سے روکنے
کے لئے اہم
کردار ادا
کریں۔ مسلم
ممالک میں
دہشت گردی کی
موجودہ لہر
دراصل اہل
مغرب کی غلط
پالیسیوں کا
نتیجہ ہے۔ اس
وجہ سے اس ضمن
میں کرنے کا
ایک اہم کام
یہ بھی ہے کہ اہل
مغرب سے اس
باب میں
مکالمہ کیا
جائے اور انہیں
اس ضمن میں
اسلام کے اصل
نقطہ نظر سے آگاہ
کیا جائے۔ انہیں
اس بات پر
قائل کرنے کی
کوشش کی جائے
کہ مسلم
ممالک میں
مسلح مداخلت
خود ان کے لئے
بھی نقصان دہ
ہے۔ معاشی
تبدیلیاں ·
سود پر
مبنی
استحصالی
نظام کے
خاتمے کی سب
سے بڑی ذمہ
داری مسلم
ماہرین
معاشیات پر
عائد ہوتی
ہے۔ یہ ان کا
کام ہے کہ وہ
سود کے متبادل
نظام ہائے
حیات تیار
کریں اور
حکومت اور
کاروباری
اداروں کی
مدد سے ان کو
تجرباتی
بنیادوں پر
نافذ کر کے ان
کا عملی
تجربہ کریں۔
اہل علم اور
مصلحین کی یہ
ذمہ داری ہے
کہ وہ سود کے
خلاف عوام
الناس میں
زیادہ سے
زیادہ شعور
پیدا کرنے کی
کوشش کریں
اور انہیں اس
کے مضر اثرات
سے آگاہ کریں
تاکہ موجودہ
سودی نظام کی
ڈیمانڈ کم سے
کم ہو سکے۔
عام لوگوں کی ذمہ
داری یہ ہے کہ
وہ سودی
ڈیپازٹس اور
سودی قرضوں
سے بچنے کی
حتی الامکان
کوشش کریں۔ ·
امیر و
غریب کے فرق
کو کم کرنے کی
اصل ذمہ داری حکومتوں
پر عائد ہوتی
ہے۔ اس
معاملے میں
زکوۃ کے نظام
کو اس کی اصل
صورت میں
نافذ کرنا سب
سے اہم ہے۔ اس
کے علاوہ
حکومتیں
غربت میں کمی
کے مغربی
ماڈلز سے بھی
استفادہ کر
سکتی ہیں۔ حال
ہی میں بنگلہ
دیش کے نوبل
انعام یافتہ
ماہر
معاشیات
ڈاکٹر محمد یونس
نے عملی طور
پر ایسا ماڈل
پیش کر کے بھی
دکھا دیا ہے۔ اس ماڈل
میں سے سود کے
عنصر کو ختم
کرنا بہرحال
ضروری ہے۔ اس
ضمن میں
علماء اور
دانشوروں کی
یہ ذمہ داری
ہے کہ وہ عوام
کو اس بات پر
قائل کریں کہ
غربت بذات
خود ایک برائی
ہے۔ اہل ثروت
کو زیادہ سے
زیادہ دولت غرباء
کی فلاح و
بہبود پر خرچ
کرنے کی
ترغیب دی
جائے اور گداگری
کو فروغ دینے
کی بجائے
غریب افراد
کو اپنے پاؤں
پر کھڑا کرنے
کی کوشش کی
جائے۔ انفرادی
سطح پر ہر شخص
جتنا کچھ اس
ضمن میں خرچ
کر سکتا ہے،
خرچ کر کے کم
سے کم ایک آدھ
خاندان کی غربت
کے خاتمے کی
کوشش کرے۔ معاشرتی
تبدیلیاں ·
نوجوان
نسل کی بے راہ
روی کی بڑی
وجہ شادیوں
میں تاخیر
ہے۔ اس ضمن
میں ایک طرف
تو میڈیا نے
صنفی جذبات
کو بھڑکانے
میں اپنا
کردار ادا
کیا ہے اور
دوسری طرف غیر
انسانی رسوم جیسے
جہیز وغیرہ کے
باعث شادیوں
میں تاخیر ہو
رہی ہے۔ اس
معاملے میں
معاشرے کے
تمام طبقات
کو اپنا
کردار ادا
کرنے کی
ضرورت ہے۔
مصلحین اور
اہل علم کی یہ
ذمہ داری یہ
ہے کہ وہ عام
لوگوں میں اس
مسئلے کا
شعور پیدا
کریں۔ غیر
انسانی رسم و
رواج جیسے
جہیز اور
شادی کے غیر
ضروری
اخراجات کے
خاتمے کے لئے
بھرپور مہم
چلائی جائے۔
لوگوں کو
سادگی
اپنانے پر
زور دیا
جائے۔ حکومت
کی یہ ذمہ
داری ہے کہ وہ
جلد شادیوں
کی ترغیب دے
اور اس
معاملے میں مسائل
کو حل کرنے کی
کوشش کرے۔ اس
کی حالیہ مثال
سعودی عرب
میں شادی کے
لئے دیے گئے
بلا سود قرضوں
کا اجرا ہے۔ عام
لوگوں کی یہ
ذمہ داری ہے
کہ وہ اپنے
خاندان کی حد
تک تاخیر سے
اجتناب کریں
اور نوجوانوں
کی جلد
شادیوں کی
کوشش کریں۔ ·
شہری
معاشروں پر
بڑھتے ہوئے
دباؤ کا ایک
ہی حل ہے اور
وہ یہ ہے کہ
دیہی علاقوں
کو ترقی دی
جائے۔ اس
معاملے میں
حکومت اپنا
کردار دیہی
علاقوں میں
سہولیات اور
روزگار کی
فراہمی کے
ذریعے انجام
دے سکتی ہے۔
اس معاملے
میں سول
سوسائٹی کو
حکومت کی مدد
کرنی چاہیے
اور کم ترقی
یافتہ
علاقوں کو
ترقی دینے کی
کوشش کرنا
چاہیے۔ ان
علاقوں میں
صنعتیں قائم
کرنے کی حوصلہ
افزائی کی
جانی چاہیے۔ ·
اوقات
کار میں
تبدیلی کے
مسئلے کو
انسانی بنیادوں
پر حل کرنے کے
لئے معاشرے
کے تمام
طبقات کو
اپنا کردار
ادا کرنا ہو
گا۔ حکومت کی
یہ ذمہ داری
ہے کہ وہ متعین
اوقات کار کی
پابندی پر
زور دے اور
متعین اوقات
سے زیادہ کام
لینے پر اوور
ٹائم کی
ادائیگی کو
قانونی
حیثیت دے۔ اس سے
طویل اوقات
کار کی حوصلہ
شکنی ہو گی
اور کسی کی حق
تلفی نہ ہو
گی۔ اہل علم و
دانش کی یہ
ذمہ داری ہے
کہ وہ زندگی کو
بیلنس کرنے
اور وقت کو
احسن انداز
میں استعمال
کرنے کی
ضرورت پر زور
دیں۔
انفرادی سطح
پر کارکن اور
کمپنیوں کے
مالکان اس تصور
کو فروغ دیں
کہ وقت کو
صحیح طریقے
سے استعمال
کیا جائے اور
غیر ضروری
کاموں سے
گریز کیا
جائے۔ ہم نے مثبت و
منفی
تبدیلیوں پر
رد عمل کی جو
تجاویز پیش کی
ہیں، یہ نئی
نہیں ہیں۔ ان
میں سے بہت سی
تجاویز پر
پہلے ہی کام
ہو رہا ہے اور
بہت سی
تجاویز پر
ابھی بہت کچھ
کرنا باقی
ہے۔ اس
معاملے میں
ہر شخص کو
اپنی
صلاحیتوں کا
جائزہ لے کر
اپنا دائرہ
عمل متعین
کرنا چاہیے
کہ وہ کیا کر
سکتا ہے۔ اس
دائرہ عمل کے
مطابق ہر شخص
کو اپنا
کردار ادا
چاہیے تاکہ
ہمارے
معاشرے بہتر
سمت میں جا
سکیں۔ ہمیں
اس بات پر زور
دینا چاہیے
کہ دور حاضر
کی مثبت تبدیلیوں
سے ہم فائدہ
اٹھا سکیں
اور منفی
تبدیلیوں کے
اثرات کو کم
سے کم کر
سکیں۔ |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد جدید
کے مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||