بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جزیرہ نما سینا

جزیرہ نما سینا کا جغرافیہ

لگے ہاتھوں جزیرہ نما سینا کا ذکر بھی ہوتا چلے۔ ہم اس وقت سینا میں وارد ہوئے تھے۔ مصر کے دو حصے ہیں۔ ایک اس کی مرکزی زمین (Main Land) اور دوسری جزیرہ نما سینا۔ بحیرہ احمر شمال میں جا کر دو شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ مشرقی شاخ خلیج عقبہ اور مغربی شاخ خلیج سویز کہلاتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان کا علاقہ جزیرہ نما سینا کہلاتا ہے۔  سینا وہ واحد مقام ہے جہاں ایشیا اور افریقہ کے براعظم ایک دوسرے  سے ملے ہوئے ہیں۔

     ہم اس وقت خلیج عقبہ سے گزر کر نویبع پہنچے تھے۔ اس کے مشرقی جانب سعودی عرب اور اردن اور مغربی جانب جزیرہ نما سینا واقع ہے۔ خلیج سویز کے مغربی جانب مصر کا مین لینڈ واقع ہے۔ شمال میں سینا، مشرق میں اسرائیل اور مغرب میں مصر کے مین لینڈ سے متصل ہے۔ اس کے شمال میں بحیرہ روم واقع ہے۔ سینا میں ہی کوہ طور واقع ہے جہاں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

     طور عربی میں پہاڑ کو کہتے ہیں۔ "الطور" سے مراد وہ خاص پہاڑ ہے جہاں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر تورات نازل ہوئی۔ عام روایت کے مطابق یہ پہاڑ سینا کے عین بیچ میں واقع ہے اور جبل موسی کہلاتا ہے۔ اس پہاڑ کے دامن میں  تیسری صدی میں ایک کلیسا بھی تعمیر کیا گیا جو "سینٹ کیتھرین کا کلیسا" کہلاتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں موجود قصبے کا نام بھی "سینٹ کیتھرین" ہے۔ کوہ طور کی اصل لوکیشن کے بارے میں بعض عیسائی اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہ سعودی عرب کے شمالی علاقے میں واقع ہے اور "جبل لوز" کہلاتا ہے۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق بنی اسرائیل کے لئے سمندر "نویبع" کے مقام پر شق ہوا تھا۔ اہل کتاب اور مسلمانوں کے مذہبی علماء اور ماہرین آثار قدیمہ کی اکثریت اس بات پر متفق ہے سینا میں واقع پہاڑ "جبل موسی" ہی اصل کوہ طور ہے۔

     مصر کی سیاحت کا ہمارا ابتدائٰ منصوبہ یہ تھا کہ نویبع سے ہم لوگ سینٹ کیتھرین جا کر وہیں رات گزاریں گے۔ اگلے دن کوہ طور کو دیکھنے کے بعد ہمارا پروگرام جزیرہ نما سینا کی نوک پر واقع شہر "شرم الشیخ" جانے کا تھا جس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ سیاحت کے لئے نہایت ہی عمدہ اور خوبصورت مقام ہے۔ اس کے بعد ہم لوگ قاہرہ اور پھر اسکندریہ جاتے۔ وہاں سے واپسی پر ہمارا پروگرام جنوبی مصر کے فرعونی شہر "الاقصر (Luxor)" جانے کا تھا۔ الاقصر سے ہم لوگ مصر کے مین لینڈ کے سیاحتی مقام "الغردقہ (Hurghada)" جاتے جہاں سے ہمیں سعودی عرب کے شہر ضبا کے لئے فیری دستیاب ہو جاتی۔

     سولہ گھنٹے کی خواری نے ہمیں اپنا پروگرام تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ مسلسل سفر، تھکاوٹ اور نیند کے مارے ہمارا برا حال تھا۔ ہم نے سوچا کہ ابھی سیدھے شرم الشیخ چلتے ہیں اور وہاں ایک دو روز رک کر آرام کرتے ہیں۔ شرم الشیخ، نویبع کے جنوب میں 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا جو ہمارے لئے ایک معمولی سا فاصلہ تھا۔

جزیرہ نما سینا میں ہمارا سفر

شرم الشیخ

سینا کے ساحل قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال ہیں۔ اگر ساحل کے ساتھ ساتھ سڑک بنا دی جاتی تو یہ نہایت خوبصورت سفر ہوتا لیکن یہاں سڑک پہاڑوں کے درمیان بنائی گئی تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے میں ہم لوگ شرم الشیخ جا پہنچے۔ چونکہ ہم لوگ اسرائیل کی جانب سے آ رہے تھے اس لئے راستے میں جگہ جگہ چیک پوسٹوں سے واسطہ پڑا۔ اردنی فوجیوں کی نسبت یہاں کے سپاہی کافی روکھے پھیکے لوگ تھے۔

     شہر میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہ شہر اسم بامسمی کے بالکل متضاد کوئی چیز تھا۔ نہ تو یہاں شرم نظر آ رہی تھی اور نہ ہی کوئی شیخ یعنی بزرگ۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ ہم لوگ کسی مشرقی ملک کی بجائے، یورپ یا امریکہ کے بھی کسی انتہائی مادر پدر آزاد مقام پر آ گئے ہیں جہاں شرم و حیا نام کی کسی چیز کا کبھی گزر نہیں ہوا۔

     شرم الشیخ، 1967ء سے پہلے مچھیروں کا ایک گاؤں تھا۔ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے پورے جزیرہ نما سینا پر قبضہ کر لیا۔ 1978ء کے مصر اسرائیل سمجھوتے کے نتیجے میں مصر نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا اور اسرائیل نے اس کے جواب میں مصر کو جزیرہ نما سینا واپس کر دیا۔ اس زمانے میں مصری حکومت نے اس مقام پر ایک ٹورازم سٹی کا منصوبہ بنایا کیونکہ یہاں کے ساحل نہایت ہی خوبصورتی کے حامل ہیں۔ مغربی سرمایہ کاروں نے یہاں بڑی بڑی رقوم انویسٹ کیں۔ بڑے بڑے ریزارٹس کے علاوہ بڑی تعداد میں نائٹ کلب، ڈسکو اور کیسینو بنائے گئے۔ اب یہ شہر مغربی سیاحوں کے لئے یورپ کے ساحلی مقامات کا ایک سستا متبادل تھا۔

شرم الشیخ کا ساحل بشکریہ  www.panoramio.com

     ہمیں انٹر نیٹ اور مصری دوستوں سے یہ تو معلوم ہو چکا تھا کہ یہاں مغربی سیاح کثیر تعداد میں آتے ہیں لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ اس مقام پر ان لوگوں کے لئے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے جو شرم و حیا کی مشرقی اقدار پر تھوڑا سا یقین بھی رکھتے ہیں۔ اگر یہ معلوم ہوتا تو ہم یہاں سرے سے آتے ہی نہیں۔ اردن میں بھی مغربی سیاح کثیر تعداد میں آتے ہیں لیکن اردن نے اپنا اسلامی، مشرقی اور عرب تشخص بحال رکھا ہوا ہے اور وہاں جا کر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم کسی مادر پدر آزاد معاشرے میں موجود ہیں۔ شراب، رقص اور جوئے کے اڈوں میں اور بہت سے لوگوں کے لئے تو بہت کشش تھی لیکن ہمارے لئے ایسے مقامات کی بجائے کچھ اور قسم کے مقامات میں کشش موجود تھی۔

مرد کی عفت و عصمت

اگر میں اکیلا بھی ہوتا تو ایسے مقامات کا رخ نہ کرتا لیکن اس وقت تو میری عفت و عصمت کا ایک خونخوار محافظ یعنی میری اہلیہ میرے ساتھ تھیں۔ نجانے ہمارے معاشرے میں عفت و عصمت کا تصور صرف اور صرف عورت کے ساتھ خاص کیوں کر دیا گیا ہے۔ مرد کے لئے بھی عفت و عصمت اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ عورت کے لئے۔ ہمارے معاشرے میں مرد تو جو چاہے کرتا پھرے اس سے خاندان کی عزت پر کوئی حرف نہیں آتا لیکن اگر عورت ایسا کر بیٹھے تو یہ اس کے لئے ایک ناقابل معافی جرم ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے اس گناہ کے بارے میں مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں کی۔ اس گناہ کے نتیجے میں عورت جتنی گناہ گار ہوتی ہے، مرد بھی اتنا ہی گناہ گار ہوتا ہے اور اگر مرد توبہ کے ذریعے پاک صاف ہو سکتا ہے تو ایسا عورت کے لئے بھی ممکن ہے۔

     جس طرح قدیم دور میں عالمی فتنہ شرک تھا جس نے چین و ہندوستان سے لے کر افریقہ اور یورپ تک تمام اقوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اسی طرح دور جدید کا سب سے بڑا فتنہ بے حیائی اور فحاشی ہے۔ اہل مغرب جب اپنے مذہب سے برگشتہ ہوئے تو انہوں نے دل و جان کے ساتھ بے حیائی کو قبول کر لیا۔ جب ان کا قبضہ مسلم ممالک پر ہوا تو یہ بے حیائی یہاں بھی امپورٹ ہوئی۔

     شروع شروع میں تو یہ صرف معاشرے کے ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود رہی لیکن 1990ء کے عشرے میں ڈش، کیبل اور انٹر نیٹ کے فروغ کے بعد جس تیزی سے یہ مسلم معاشروں میں پھیل رہی ہے، اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگلے پندرہ بیس برس میں اس معاملے میں مسلم اور مغربی معاشروں میں شاید ہی کوئی فرق رہ جائے۔ مسلم ممالک میں یہ منظر عام نظر آتا ہے کہ ماں اور بیٹی ساتھ ساتھ جا رہی ہیں۔ ماں نے تو برقع لے رکھا ہے جبکہ بیٹی نیم عریاں لباس پہنے ہوئے ہے۔ بے حیائی دور جدید کا فتنہ ہے جس کے استیصال کے لئے اہل مذہب کو ایک عظیم جہاد کی ضرورت ہے جس کا میدان جنگ انسانی ذہن ہوگا۔

     میں ذاتی طور پر اہل مغرب کے بارے میں کسی تعصب کا شکار نہیں۔ جدید سائنسی ایجادات سے لے کر جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی اظہار اور نظم و ضبط جیسی بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو مغرب نے تین چار سو سال کی محنت کے بعد انسانیت کو دیں۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں بھی کوئی چیز مانع نہیں کہ جدید دور میں ان تصورات کو اپنانے کے لئے اور اپنے معاشروں کو ماڈرنائز کرنے کے لئے ہمیں مغرب ہی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

     اعتراض مجھے اس بات پر ہے کہ مسلم معاشرے اہل مغرب کی ان خوبیوں کو تو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں اور ان سے سیکھنے کے لئے جس چیز کا انتخاب کرتے ہیں وہ بے حیائی اور فحاشی ہے۔ شاید یہ وہ واحد معاملہ ہے جس میں اہل مشرق، اہل مغرب کی بجائے بہتر مقام پر کھڑے ہوئے تھے لیکن انہوں نے مغرب کی اچھی چیزوں کو لینے کی بجائے اس چیز کا انتخاب کیا جس میں اہل مغرب انسانیت کے درجے سے بھی گرے ہوئے ہیں۔ انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک تمام مسلم ممالک کو دیکھتے چلے جائیے، ہمیں مغرب کی انسان دوستی، انسانی حقوق، جمہوریت اور نظم و ضبط تو شاید ہی کہیں نظر آئے لیکن ان کی عریانی و فحاشی ہر جگہ ہمیں نظر آئے گی۔

     دور سے شرم الشیخ کے ساحل نہایت خوبصورت نظرآ رہے تھے۔ دور تک پھیلا ہوا پر سکون نیلگوں سمندر اور اس کے بیچ میں واقع سنہرے رنگ کا جزیرہ آنکھوں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔ ہم لوگوں نے ساحل کی طرف جانے سے احتراز کیا کیونکہ مین روڈ کے ماحول سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ساحل بالکل ہی مادر پدر آزاد ہو گا۔ شہر میں گرمی بھی بے پناہ تھی۔ معلوم نہیں مغربی سیاحوں کو اس موسم میں کیا کشش محسوس ہو رہی تھی جو وہ کھلے عام ارنے بھینسوں کی طرح ادھر ادھر دھوپ میں گھوم رہے تھے۔

     شرم الشیخ کو امن کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مشرق وسطی میں امن بحال کرنے کے لئے کانفرنسیں ہوتی رہتی ہیں۔ امن بحال کرنے کے لئے ایک ہی چیز انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کا نام ہے "کمپرومائز"۔ چھوٹے سے گھر سے لے کر دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے کمپرومائز ضروری ہے جس پر مشرق وسطی کی تمام متحارب قوتیں تیار نظر نہیں آتیں۔

     ایک نسبتاً صاف مقام پر ایک اسٹور نظر آیا۔ ہم نے یہاں سے بسکٹ وغیرہ خریدے۔ میں نے انرجی ڈرنک "ریڈ بل" لے کر پیا۔ ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ یہاں رکنے کی بجائے سینٹ کیتھرین کے بابرکت شہر میں ہی جا کر رکا جائے۔ سینٹ کیتھرین کے یہاں سے دو راستے تھے۔ ایک تو شرقی جانب سے خلیج عقبہ کے ساتھ ساتھ چلنے والا راستہ تھا جہاں سے ہم آئے تھے۔ دوسرا غربی جانب سے خلیج سویز کے ساتھ ساتھ جانے والا راستہ تھا۔

راس محمد اور مجمع البحرین

ایک پولیس چیک پوسٹ پر میں نے رک کر پوچھا کہ کون سا راستہ بہتر ہے۔ کہنے لگے، "دونوں طرف سے راستہ برابر ہے، آپ جہاں سے چاہے چلے جائیے۔" ہم لوگ اب خلیج سویز والے راستے سے روانہ ہوئے۔ تھوڑی دیر میں ہم "راس محمد" جا پہنچے۔ یہ سینا کا انتہائی کونہ تھا جہاں خلیج سویز اور خلیج عقبہ آپس میں مل رہی تھیں۔ اس مقام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی ملاقات جناب خضر علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوئی تھی۔ قرآن مجید نے یہ واقع کچھ اس طرح بیان کیا ہے:

یاد کرو وہ وقت جب موسی نے اپنے خادم (یشوع بن نون) سے کہا، "میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں پانیوں کے سنگم تک نہ پہنچ جاؤں۔ ورنہ میں عرصہ دراز تک اپنا سفر جاری رکھوں گا۔ پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی کو بھول گئے اور وہ نکل کر پانی میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سرنگ لگی ہو۔

    آگے جا کر موسی نے اپنے خادم سے کہا، "لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں۔" خادم نے کہا، "آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے تو مجھے مچھلی کا خیال ہی نہ رہا اور شیطان نے مجھے ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر کرنا آپ سے بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے پانی میں چلی گئی۔" موسی نے کہا، "اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔" چنانچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم دیا تھا۔

    موسی نے ان سے کہا، "کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو عطا ہوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا، "آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔" موسی نے کہا، "ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔" وہ بولے، "اچھا اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیے گا جب تک کہ میں خود آپ سے ذکر نہ کروں۔"

    اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوگئے تو ان صاحب نے کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسی نے کہا، "آپ نے اس میں شگاف پیدا کر دیا ہے تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے سخت حرکت کی۔" انہوں نے کہا، "میں نے آپ کو نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسی بولے، "بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے۔ میرے معاملے میں سختی سے کام نہ لیجیے۔"

    پھر وہ دونوں وہاں سے چلے، یہاں تک کہ ایک لڑکا انہیں ملا۔ ان صاحب نے اسے قتل کر دیا۔ موسی نے کہا، "آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ تو آپ نے بہت برا کیا۔" انہوں نے پھر کہا، "میں نے آپ کو نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔" موسی نے کہا، "اگر اب میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا۔ لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا۔"

    پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں جا پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو کہ گرنے ہی والی تھی۔ ان صاحب نے اس دیوار کو درست کر دیا۔ موسی کہنے لگے، "اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت بھی لے سکتے تھے۔" وہ بولے، "اب میرا اور آپ کا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔"

    اس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو چھین لیتا تھا۔ رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر کے باعث انہیں تنگ کرے گا۔ اس لئے ہم نے یہ چاہا کہ ان کا رب، اس کے بدلے انہیں ایسی اولاد دے جو اخلاق میں اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔ اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ اس شہر کے رہنے والے دو یتیم بھائیوں کی تھی اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ اس لئے آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ آپ کے رب کی رحمت کے باعث کیا گیا۔ میں نے کچھ بھی اپنے اختیار سے نہ کیا۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔" (کہف 18:60-82)

سیدنا موسی و خضر علیہما الصلوۃ والسلام کے اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان اپنے محدود علم کے باعث اللہ تعالی کے بہت سے معاملات کو سمجھ نہیں پاتا اور اللہ تعالی کے کاموں پر اعتراض شروع کر دیتا ہے۔ جب ان کی حقیقت کسی طرح اس پر کھلے گی تو اسے معلوم ہو گا کہ اللہ تعالی کا فیصلہ بالکل درست تھا۔

     وہ مقام جہاں سیدنا موسی و خضر علیہما الصلوۃ والسلام کی ملاقات ہوئی تھی، مجمع البحرین یعنی دو پانیوں کے ملنے کا مقام" تھا۔ بہت سے محققین کے نزدیک یہ سوڈان کے شہر خرطوم کا مقام ہے جہاں سیدنا موسی اور یشوع بن نون علیہما الصلوۃ والسلام دریائے نیل کے ساتھ ساتھ سفر کرتے گئے تھے۔ اس مقام پر دریائے نیل کی دو شاخیں بحر ابیض اور بحر ازرق آپس میں ملتی ہیں۔ اہل علم کے دوسرے گروہ کے نزدیک یہ مقام راس محمد کا مقام تھا جو کہ خلیج سویز اور خلیج عقبہ کا سنگم ہے۔ اگر آپ کا یہ سفر قیام مصر کے دوران ہوا تو پھر خرطوم والی بات درست ہے اور اگر یہ مصر سے خروج کے بعد ہوا تو پھر راس محمد والا قول درست معلوم ہوتا ہے۔

ذہنی غلامی

اس واقعے سے بعض مذہبی راہنماؤں نے ایک عجیب و غریب نتیجہ اخذ کیا۔ انہوں نے اپنے شاگردوں اور مریدین کو اپنا ذہنی غلام بنانے کے لئے یہ اخذ کیا انسان کو اپنے استاد یا مرشد سے کسی معاملے میں کوئی سوال نہیں کرنا چاہیے اور اس کے ہاتھ میں "مردہ بدست زندہ" بن کر رہنا چاہیے۔ موسی علیہ الصلوۃ والسلام اللہ کے رسول تھے۔ وہ اسی کے خاص حکم سے جناب خضر علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات کے لئے گئے تھے۔ سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالی کے فرشتے یا خاص امور سر انجام دینے والے کوئی بندے تھے جو اللہ تعالی سے براہ راست حاصل ہونے والے احکام کے مطابق عمل کرتے تھے جسے اصطلاح میں "تکوینی امور" کہا جاتا ہے۔

     کیا ہمارے مذہبی راہنماؤں میں کوئی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالی سے براہ راست احکام حاصل کرتا ہے اور اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اللہ کے تمام بندے ختم نبوت کے بعد اب صرف اور صرف اس کے بندے ہی ہیں۔ ان سے سوال بھی کیا جا سکتا ہے اور ان سے اختلاف رائے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کے نیک اور مخلص بندوں نے ہمیشہ ایسا ہی یہی رویہ اختیار کیا۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ جیسی نابغہ روزگار ہستی مسجد نبوی میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے روضہ انور کی طرف اشارہ کر کے کہتے، "اس ہستی کے علاوہ ہر شخص سے اختلاف رائے کیا جا سکتا ہے؟"

     سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسی ہستی کا یہ عالم تھا کہ فرماتے، "اگر میں ٹھیک راستے پر چلوں تو میری اطاعت کرو اور اگر غلط راستے پر چلنے لگوں تو میری اصلاح کرو۔" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عام دیہاتی لوگ بھی جواب طلبی کر سکتے تھے۔ چادر والا واقعہ تو اس معاملے میں بہت مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سچے اور مخلص نیک بندے اپنے شاگردوں اور مریدوں کی تعلیم و تربیت کے دوران نہ صرف ان کے سوالات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ انہیں استاد کے ذہن سے سوچنے کی بجائے ان کے اپنے ذہنوں سے سوچنے کی تربیت دیتے ہیں۔

     اگر آپ کے استاد، شیخ یا تنظیمی قائد آپ کو کھلے ذہن سے سوچنے اور واقعات اور نقطہ ہائے نظر کو تنقیدی انداز میں جانچنے اور پرکھنے کی تربیت دیتے ہیں تو جان لیجیے کہ وہ آپ کے ساتھ مخلص ہیں۔ دوسری طرف اگر وہ آپ کو اپنا ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں تو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ان صاحب کا مقصد آپ کا جذباتی استحصال ہے اور آپ سے کچھ مالی یا کم ازکم نفسیاتی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

افسوس کہ ہمارے معاشروں میں لوگوں کو ذہنی غلام بنانے کی عمل صدیوں سے جاری ہے۔ اس کے لئے کیا کیا ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں، اس کی تفصیل آپ میری کتاب "مسلم دنیا میں ذہنی ، فکری اور نفسیاتی غلامی" میں دیکھ سکتے ہیں۔

سمندر میں ڈائیونگ اور کورل ریف

راس محمد کا علاقہ "کورل ریف" کے لئے مشہور ہے۔ اس علاقے میں سمندری مخلوقات کی بہت سی قسمیں پائی جاتی ہیں۔ یہاں کے سمندر میں کورل کی بہت سی کالونیاں موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے سیاح غوطہ خوری کا لباس پہن کر سمندر میں اترتے ہیں۔ میں ابھی تک اس تجربے سے محروم رہا تھا اور گھر سے یہ ارادہ کر کے چلا تھا کہ یہاں غوطہ خوری کا شوق پورا کروں گا لیکن ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا مناسب محسوس نہ ہوا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ غوطہ خوری کا شوق جدہ میں بھی پورا کیا جا سکتا ہے جہاں بہت سی ڈائیونگ کمپنیاں سیاحوں کو غوطہ خوری کی سہولیات مہیا کرتی ہیں۔

راس محمد کے قریب سمندر میں کورل ریف بشکریہ www.panoramio.com

طور سینا کا قصبہ

ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ہم لوگ "طور سینا" نامی قصبے میں جا پہنچے۔ یہ خلیج سویز کے شرقی کنارے پر واقع بندرگاہ ہے اور اس کا نام کوہ طور کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ہم لوگ شہر کے اندر چلے گئے۔ ایک بڑی سی مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد ایک ہوٹل سے تکے کھائے۔ عربوں کے تکے بھی مصالحوں سے پاک ہوتے ہیں جس کے باعث ہمارے جیسا تیز مصالحے کھانے والا انہیں مجبوراً ہی کھاتا ہے۔ ہمیں اب پاکستانی کھانے شدت سے یاد آ رہے تھے لیکن یہاں ان کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ انٹرنیٹ سے یہ معلوم ہوا تھا کہ قاہرہ میں چند انڈین ریسٹورنٹ ہیں۔ ہم نے سوچا کہ وہیں چل کر اپنی زبان کی اس خواہش کو پورا کریں گے۔

     تھکن کے باعث ہمارا دل یہ چاہ رہا تھا کہ یہیں قیام کر لیا جائے اور لمبی تان کر نیند پوری کی جائے لیکن اس قصبے میں ایک دو ہوٹل ہی تھے جو فیملی کے ساتھ رکنے کے لئے مناسب معلوم نہ ہوئے۔ اب ہم یہاں سے آگے روانہ ہوئے۔ پچاس ساٹھ کلومیٹر کے بعد سینٹ کیتھرین کا ایگزٹ آ گیا۔ اب ہم اس سڑک پر ہو لئے۔ سینٹ کیتھرین یہاں سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ یہ پہاڑی سڑک تھی جو زگ زیگ انداز میں اوپر نیچے جا رہی تھی۔ راستے میں بدوؤں کے چند گاؤں آئے اور ایک گھنٹے کے مزید سفر کے بعد ہم بالآخر سینٹ کیتھرین پہنچ گئے۔ یہاں کی چیک پوسٹ کے سپاہیوں کا رویہ بہت اچھا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ مصر میں چیک پوسٹوں پر سفید وردی والے اہل کاروں کے ساتھ ساتھ سادہ لباس والے بھی موجود تھے جو کہ چیکنگ کر رہے تھے۔ یہ چیکنگ بالعموم جزیرہ نما سینا تک ہی محدود تھی کیونکہ آگے مصر کے مین لینڈ میں ہمیں کہیں بھی چیک پوسٹ پر روکا نہیں گیا۔

     چیک پوسٹ سے تھوڑا آگے ہمیں ایک خوبصورت موٹل نظر آیا جس کا نام تھا "مورگن لینڈ موٹل"۔ نہایت ہی صاف ستھری جگہ تھی جس میں ایک دوسرے سے فاصلے پر عمارتیں بنی ہوئی تھیں اور گاڑی عمارت تک جا سکتی تھی۔ موٹل کا کرایہ بھی نہایت ہی مناسب تھا یعنی پچاس ڈالر روزانہ۔ اس رقم میں رات کا کھانا اور صبح کا ناشتہ بھی شامل تھا۔ ہم یہیں رک گئے۔

     مغرب کے بعد کھانے کا وقت تھا جو کہ امریکی ڈشوں پر مبنی بوفے پر مشتمل تھا۔ اہل مغرب کے کھانے بھی ان کی طرح پھیکے ہی ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک ڈش ہمیں پسند آئی جو کہ گوشت کے قتلوں اور شملہ مرچوں سے بنائی گئی تھی۔ کھانے کے ہال کو بہت سے تاریخی نوادرات سے سجایا گیا تھا۔

     موٹل میں ایک چھوٹا سا بازار بھی تھا جہاں بدوؤں کے ہینڈی کرافٹس کی دکانیں تھیں۔ یہ ہینڈی کرافٹ بالکل ویسے ہی تھے جیسا کہ ہمارے ہاں سوات وغیرہ میں ملتے ہیں۔ یہاں بھی بدو خواتین گھروں میں یہ چیزیں بناتی تھیں جو کہ ان دکانوں پر غیر ملکیوں کو فروخت کئے جاتے تھے۔ ایک دکان عیسائی حضرات کے مذہب سے متعلق اشیاء کی بھی تھی جس میں صلیبوں سے لے کر سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی تصاویر بھی شامل تھیں۔      عشاء کے بعد ہم لمبی تان کر سو گئے کیونکہ پچھلی رات ہم نے فیری میں بہت کم نیند لی تھی۔ صبح اٹھ کر ڈٹ کر ناشتہ کرنے کے بعد ہم کوہ طور پر جانے کے لئے تیار ہو گئے۔

بنی اسرائیل کی تاریخ

یہ پورا علاقہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت کا حامل تھا۔ یہی تیہ کا وہ دشت تھا جہاں بنی اسرائیل کو چالیس سال قید رکھا گیا تھا۔ مناسب ہو گا اگر ہم آگے چلنے سے قبل بنی اسرائیل کی تاریخ کا کچھ جائزہ لے لیں۔

     جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کو اس دنیا میں آخرت کی جزا و سزا کا نمونہ بنا دیا تھا۔ آپ کے پوتے سیدنا یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام فلسطین کے علاقے میں آباد تھے اور اللہ کے دین کی دعوت دیا کرتے تھے۔ آپ کا لقب اسرائیل تھا جس کا معنی ہے عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ۔ آپ کے بارہ بیٹے تھے۔ ان میں سے دس بیٹوں کو سب سے چھوٹے بھائی یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے حسد ہوا اور انہوں نے آپ کو کنویں میں پھینک دیا۔ بنی اسماعیل کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا تو انہوں نے یوسف کو نکالا۔ ان کے بھائیوں نے تھوڑی سی رقم کے عوض یوسف کو قافلے والوں کے ہاتھ بیچ دیا جنہوں نے آپ کو لے جا کر مصر میں فروخت کر دیا۔

بنی اسرائیل مصر میں

سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں مصر کا دارالحکومت میمفس (Memphis) تھا جو موجودہ قاہرہ کے قریب دریائے نیل کے دوسری طرف آباد تھا۔ سورہ یوسف میں آپ کے تفصیلی حالات بیان ہوئے ہیں۔ آپ کی اعلی انتظامی صلاحیتوں کے باعث بادشاہ نے آپ کو مصر کے وزیر اعظم کا عہدہ دے دیا۔ سورہ یوسف کے مطابق مصر میں سات سال نہایت ہی اچھی فصل ہوئی جسے سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے ذخیرہ کر لیا۔ اس دور میں بھی مصر کی زیادہ تر آبادی دریائے نیل کے دونوں کناروں پر آباد تھی۔ اس کے علاوہ ممفس سے شمال کی جانب دریائے نیل کی مختلف شاخوں کے نتیجے میں بننے والا ڈیلٹا کا علاقہ بہت زرخیز ہوا کرتا تھا۔ آج بھی مصر کی آبادی کا نوے فیصد حصہ انہی علاقوں میں آباد ہے۔

     اگلے سات سال شدید قحط پڑا۔ ارد گرد کے علاقوں سے لوگ غلہ لینے مصر آئے جن میں فلسطین سے آنے والے بھائی بھی شامل تھے۔ سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بھائیوں کو معاف کر دیا اور اپنے والدین کو بھی یہیں بلا لیا۔ ان بارہ بھائیوں کو مصر میں خوب پذیرائی ملی اور یہ زرخیز ترین زمینوں پر آباد ہوئے اور کچھ ہی عرصے میں ان کی اولاد کثیر تعداد میں ہو گئی۔ ماہرین آثار قدیمہ اور بائبل کے علماء کی تحقیق کے مطابق یہ واقع 1900 قبل مسیح یعنی آج سے تقریباً چار ہزار سال قبل کا ہے۔ چار سو سال کے عرصے میں بنی اسرائیل کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں میں پہنچ گئی۔

     بنی اسرائیل اس دور میں شرک اور دوسری برائیوں میں مبتلا ہو چکے تھے جس کی سزا انہیں بحیثیت قوم اسی دنیا میں دی۔ جب بنی اسرائیل مصر میں آباد ہوئے تو اس دور میں مصر میں ہکسوس (یعنی چرواہے یا اجنبی) بادشاہوں کی حکومت تھی۔ یہ غیرملکی حکمران تھے اور عرب علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ کچھ عرصے بعد مصر کے مقامی باشندوں میں قوم پرستی کی ایک شدید لہر اٹھی جس کے تحت ہکسوس بادشاہوں کے خلاف ایک عظیم بغاوت ہوئی جس کے نتیجے میں مصر کی قومی حکومت قائم ہوئی۔ بنی اسرائیل جو غیر ملکی بادشاہوں کے پسندیدہ لوگ تھے، اب معتوب ٹھہرے اور انہیں غلام بنا لیا گیا۔

سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام

سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے چار سو سال کے بعد اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا۔ آپ کی پیدائش سے قبل بنی اسرائیل پر ایسا وقت بھی آیا کہ فرعون نے ان کی قوت ختم کرنے کے لئے ان کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کرنے اور بچیوں کو اپنی خدمت کے لئے زندہ رکھنے کا حکم دیا۔ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام بھی شاید اسی حکم کی پاداش میں قتل کئے جاتے لیکن اللہ تعالی نے آپ کو بچا لیا اور ایسے حالات پیدا کئے کہ فرعون نے خود آپ کو گود لے کر آپ کی پرورش کی۔ اس زمانے میں مصر کا دارالحکومت میمفس سے تھیبس (Thebes) منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں آج "الاقصر (Luxor)" کا تاریخی شہر ہے۔

     جوانی میں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے نادانستہ طور پر ایک مصری قتل ہو گیا جو کہ ایک اسرائیلی پر ظلم کر رہا تھا۔ خطرہ محسوس کر کے آپ مصر سے مدین تشریف لے گئے۔ یہ علاقہ موجودہ عقبہ کے قریب ہی واقع تھا۔ یہاں آپ کی ملاقات سیدنا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوئی۔ آپ نے ان کے ہاں ملازمت کر لی۔ کئی برس کے بعد سیدنا شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بیٹی صفورا رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کر دیا اور آپ مصر واپس آئے۔

     راستے میں آپ کا گزر صحرائے سینا کے اس مقام سے ہوا جہاں ہم اس وقت موجود تھے، یہیں آپ کو جنگل میں ایک روشنی نظر آئی۔ آپ کی زوجہ اس وقت حمل سے تھیں جس کا وقت قریب ہی تھا۔ آپ سمجھے کہ شاید یہ آگ ہے۔ آپ اپنی زوجہ کے لئے آگ لینے جنگل میں گئے تو اللہ تعالی آپ سے ہم کلام ہوا اور آپ کو نبوت عطا ہوئی۔ آپ کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ آپ فرعون کے دربار میں جا کر اس کو اللہ کے دین کی دعوت دیں۔ آپ نے ایک مددگار طلب کیا جس پر آپ کا مددگار آپ کے بھائی سیدنا ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو مقرر کیا گیا۔

     محققین کا خیال ہے کہ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا واسطہ دو فراعین سے پڑا۔ ایک تو رعمسیس ثانی تھا جس نے آپ کی پرورش کی اور دوسرا اس کا بیٹا منفتاح تھا جس کو آپ نے اللہ کے دین کی دعوت پیش کی۔ آپ نے فرعون کو یہ بتایا کہ آپ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور وہ بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دے۔ فرعون کے طلب کرنے پر آپ نے اللہ تعالی کی طرف سے دیے گئے معجزے یعنی اپنا عصا اور ید بیضا (چمکتا ہوا ہاتھ) اسے دکھائے۔ فرعون نے اسے جادوگری قرار دیا اور آپ کے مقابلے پر اپنے جادوگروں کو لے آیا۔

     جادوگروں نے آپ کے سامنے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ڈالیں تو یہ سانپ بن کر نظر آئیں۔ آپ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو یہ اژدھا بن کر سب کو نگل گیا۔ جادوگر ماہرین فن تھے، وہ یہ جان گئے کہ یہ جادو نہیں ہو سکتا۔ یہ لوگ آپ پر ایمان لائے جس کی پاداش میں فرعون نے انہیں ہاتھ پاؤں کٹوا کر شہید کر دیا۔ فرعون نے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام جو کہ ایک غلام قوم کے فرد تھے، کی دعوت کو اپنی سلطنت اور قوم کے لئے خطرہ قرار دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سیدنا موسی و ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کی دعوتی سرگرمیوں کے نتیجے میں آپ کی پوری قوم آپ پر ایمان لا چکی تھی۔

     فرعون نے اللہ کے اس رسول کے سامنے نہایت ہی سرکشی کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالی نے اس کی پاداش میں اس کی قوم پر وقتا فوقتا چھوٹے عذاب نازل کئے جن میں قحط، ٹڈی دل، طوفان، جوئیں، مینڈک اور خون کے عذاب شامل ہیں۔ عذاب سے تنگ آ کر فرعون سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے عذاب ٹلنے کی درخواست کرتا اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کا آپ کا مطالبہ مان لیتا لیکن عذاب ٹلنے کے بعد حیلے بہانوں سے انکار کر دیتا۔

     معاملہ آخر کار اس مرحلے کو پہنچ گیا جب رسول کی جانب سے اتمام حجت ہو چکا۔ اللہ کے رسول اپنی اقوام کو مختلف دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور انہیں اللہ کی جانب سے دیے ہوئے معجزات دکھایا کرتے تھے۔ جب ان کی قوم کے پاس سوائے ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کے کوئی اور عذر رسول کا انکار کرنے کے لئے باقی نہ رہتا تو ان پر اللہ کی حجت پوری ہو جاتی تھی۔ اس کے بعد رسول کو مان لینے والوں کو الگ کر کے نہ ماننے والوں کو موت کی سزا دے دی جاتی تھی۔

بنی اسرائیل کا خروج (Exodus)

اللہ کے حکم سے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے وادی نیل اور ڈیلٹا کے علاقے میں پھیلے ہوئے بنی اسرائیل کو اکٹھا کیا اور انہیں لے کر نکلے۔ بائبل کے بیان کے مطابق بنی اسرائیل کے مصر میں قیام کی کل مدت 430 برس تھی۔ فرعون نے اس معاملے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی تھی کیونکہ اللہ تعالی نے اس کا دل نرم کر دیا تھا۔ جب سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر کے مین لینڈ سے باہر نکلے تو فرعون کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنی فوج لے کر آپ کے تعاقب میں آیا۔

     اب بنی اسرائیل کے سامنے بحیرہ احمر تھا اور پیچھے فرعون کی فوج تھی۔ اللہ تعالی کے حکم سے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا عصا پانی میں مارا جس کے نتیجے میں پانی دو ٹکڑے ہو گیا اور راتوں رات اللہ تعالی نے اسے خشک کر کے اس میں ایک راستہ بنا دیا۔ بنی اسرائیل اس راستے سے سمندر پار کر گئے۔ فرعون کی پوری فوج ان کے تعاقب میں سمندر میں داخل ہوئی تو اللہ تعالی نے پانی کو دوبارہ ملا دیا جس کے نتیجے میں فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہو گیا۔

     محققین کے مطابق یہ واقعہ موجودہ سویز شہر اور نہر سویز کے عین بیچوں بیچ واقع کڑوی جھیلوں کے درمیان ہوا تھا۔ اس زمانے میں یہ کڑوی جھیلیں سمندر سے ملی ہوئی تھیں۔ بعد میں جغرافیائی تبدیلیوں کے نتیجے میں سمندر پیچھے ہٹ گیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ واقع "عیون موسی" نامی مقام کے قریب پیش آیا۔

     اللہ تعالی کی جانب سے دلائل کے ذریعے اتمام حجت کا یہ معاملہ صرف رسول کے اولین مخاطبین کے ساتھ پیش آتا ہے۔ فرعون کو ہر طرح کے دلائل اور معجزات کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب اس کے پاس ضد اور ہٹ دھرمی کے علاوہ کوئی عذر باقی نہ رہا تو اسے غرق کر دیا گیا۔ سمندر کے شق ہونے اور ہزاروں افراد کے اس میں ڈوب جانے کا یہ واقع ایسا نہ تھا جس سے دنیا بے خبر رہتی۔ اس عظیم واقعہ کی خبر دور دور تک پھیل گئی۔ چونکہ اب اللہ کی یہ برہان آ چکی تھی اس لئے ارد گرد کی تمام اقوام پر خود بخود اتمام حجت ہو چکا تھا اور اب شرک سے چمٹے رہنے اور سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت کو قبول نہ کرنے کے باعث ان پر عذاب آنا تھا۔

     بنی اسرائیل اب آزاد ہو چکے تھے۔ یہ لوگ اب جزیرہ نما سینا میں سفر کر رہے تھے۔ سینا کے علاقے میں انہوں نے ایک قوم کو گائے کی پوجا کرتے دیکھا تو سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمائش کی کہ وہ انہیں بھی ایسا ہی خدا بنا دیں۔ اس سے بنی اسرائیل پر غلامی کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر انہیں سخت تنبیہ فرمائی۔

     بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی نوازشوں اور رحمتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اتنی بڑی تعداد کے لئے خوراک اور پانی کا انتظام آسان کام نہ تھا لیکن اللہ تعالی نے ان پر من و سلوی نازل کیا۔ من، گندم کی قسم کے دانے تھے جو روزانہ ان پر برستے تھے اور سلوی بٹیر کی طرح کا ایک پرندہ تھا جو کثرت سے ان کے خیموں کے گرد جمع ہو جاتے اور بنی اسرائیل ان کو پکڑ کر بھون لیتے۔ پانی کے لئے اللہ تعالی نے بارہ چشمے جاری فرما دیے جو بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لئے کافی تھے۔

دس احکام (Ten Commandments)

اللہ تعالی کا منصوبہ یہ تھا کہ دنیا میں حق کے علمبرداروں کا ایک ایسا گروہ تیار کر دیا جائے جو اخلاقی اور تمدنی اعتبار سے دنیا سے ممتاز ہو۔ اس گروہ کو دنیا میں جزا و سزا کا نمونہ بنا دیا جائے۔ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اللہ تعالی کے احکام کے مطابق گزارنے کے لئے اللہ تعالی نے قانون دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لئے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو کوہ طور پر طلب کیا گیا۔ یہاں اللہ تعالی نے آپ کو تورات عطا فرمائی جو صدیوں سے بنی اسرائیل کے قانون کا ماخذ ہے۔ اس کے دس احکام (Ten Commandments) بہت مشہور ہیں:

1.   میرے حضور تم غیر معبودوں کو نہ ماننا۔

2.   تم کسی بھی چیز کی صورت کا خواہ وہ اوپر آسمانوں میں یا نیچے زمین پر یا پانیوں میں ہو، بت نہ بنانا۔

3.   تم خداوند اپنے خدا کا نام بری نیت سے نہ لینا کیونکہ جو اس کا نام بری نیت سے لے گا، خدا اسے بے گناہ نہ ٹھہرائے گا۔

4.   سبت (ہفتے) کے دن کو یاد سے پاک رکھنا۔ چھ دن تم محنت سے کام کرنا لیکن ساتواں دن خداوند تمہارے خدا کا سبت ہے۔ اس دن نہ تو تم کوئی کام کرنا اور نہ ہی تمہارا بیٹا یا بیٹی، نوکر یا نوکرانی، تمہارے چوپائے اور تمہارے پاس مقیم مسافر کوئی کام کریں۔

5.   اپنے باپ اور ماں کی عزت کرنا تاکہ تمہاری عمر اس ملک میں جو خداوند تمہارا خدا تمہیں دیتا ہے، دراز ہو۔

6.   تم (کسی کا) خون نہ کرنا۔

7.   تم زنا نہ کرنا۔

8.   تم چوری نہ کرنا۔

9.   تم اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا۔

10.                                                                                                                                                                                                                                                                                                    تم اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تم اپنے پڑوسی کی بیوی (کے حصول) کا لالچ نہ کرنا اور نہ ہی اس کے غلام یا کنیز کا، نہ اس کے بیل یا گدھے کا اور نہ ہی کسی اور چیز کا۔ (کتاب خروج 20:3-17)

قرآن مجید نے ان احکام کو میثاق سے تعبیر کیا ہے۔ غلامی کے ادارے کا خاتمہ کرنے کے لئے یہ قانون بنایا گیا کہ اگر بنی اسرائیل کوئی غلام یا کنیز خریدیں تو اس سے چھ سال خدمت لی جائے اور ساتویں سال وہ خود بخود آزاد ہو جائے۔ اگر کوئی اپنی کنیز کے حقوق ادا نہ کرے تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گی۔

     بنی اسرائیل کو تفصیلی فوجداری قوانین دیے گئے۔ ان کے کاروبار کے قوانین بنائے گئے۔ انہیں عدل و انصاف کی تلقین کی گئی۔ ان کی دولت کا بڑا حصہ جانوروں پر مشتمل تھا اس لئے ان کے ہاں قربانی کی عبادت کو خاص اہمیت دی گئی اور ہر معاملے میں جانوروں کی قربانی پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ غریب لوگوں کی خوراک کا مستقل انتظام کیا جا سکے۔ ان کے ہاں زکوۃ کا مفصل قانون نازل کیا گیا۔ ان کے ہاں زرعی پیداوار پر زکوۃ کے وہی ریٹ مقرر کیے گئے جو ہماری شریعت میں مقرر کیے گئے ہیں۔

     غریب لوگوں کی مدد کرنے اور ان سے عدل و انصاف کرنے کے خاص اہمیت دی گئی۔ رشوت لینے سے منع کیا گیا اور مسافروں اور دوسری اقوام کے لوگوں سے اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی گئی۔ ان کے لئے تین عیدیں مقرر کی گئیں۔ ان میں سے ایک کو "عید فطیر" کہا گیا۔ اس دن بے خمیری روٹیاں پکانے اور قربانی دینے کا حکم دیا گیا۔ فصل اترنے کے موقع پر بھی عید منانے کا حکم دیا گیا اور زمین کے پھلوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا۔  بنی اسرائیل کو ایک اجتماعی عبادت گاہ بنانے کا حکم دیا گیا جو کہ "خیمہ اجتماع" کہلائی۔ اس کا پورا ڈیزائن کتاب خروج میں دیا گیا ہے۔

بچھڑے کی پوجا

سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا۔ آپ کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کے کچھ مفسدین نے سونے کا ایک بچھڑا بنایا اور لوگوں کو اس کی عبادت کی ترغیب دی۔ غلامانہ ذہنیت کے حامل بنی اسرائیل کی بڑی تعداد اس فتنے میں مبتلا ہو گئی۔ سیدنا ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کی شدید کوشش کے باوجود بھی یہ لوگ اس سے باز نہ آئے۔ جب سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام واپس آئے تو آپ اس پر بہت ناراض ہوئے اور اللہ تعالی کے حکم سے ان مفسدین کو موت کی سزا دی گئی جنہوں نے بنی اسرائیل کو اس گمراہی کی طرف لگایا تھا۔

     بائبل کی کتاب خروج (Exodus) ، احبار (Leviticus) اور استثنا (Deuteronomy) میں بنی اسرائیل کو دیے گئے قوانین کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ان کتب میں اللہ تعالی کے دیے گئے قانون کے علاوہ ان کے علماء کے اجتہادات، مفسرین کے تفاسیری نکات، تاریخی روایات، قانونی موشگافیاں اور یہاں تک کہ ان کے حکیموں کے طبی نسخے بھی درج کر دیے گئے ہیں۔ ہماری شریعت کی طرح ان کے ہاں بھی جسمانی اور اخلاقی و روحانی پاکیزگی کو بہت اہمیت دی گئی اور شرک سے سختی سے روکا گیا ہے۔

     ازدواجی تعلقات سے متعلق ان کے قوانین بھی تقریباً ہماری شریعت سے ملتے جلتے ہیں۔ سگی و سوتیلی ماں، بہن، بیٹی، پوتی، نواسی، پھوپھی، خالہ، چچی، بہو، بھاوج، سوتیلی بیٹی سب سے ازدواجی تعلقات ممنوع قرار دیے گئے۔ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرنا منع کیا گیا۔ ہم جنس پرستی اور جانوروں سے جنسی تعلقات کو حرام قرار دیا گیا۔ مختلف جنسی جرائم پر سزائیں مقرر کی گئیں۔

بنی اسرائیل کے لئے دنیا ہی میں جزا و سزا کا قانون

بنی اسرائیل کو یہ بتا دیا گیا کہ اللہ تعالی کی فرمانبرداری کا بدلہ انہیں اسی دنیا میں ملے گا اور اس کی نافرمانی کی سزا بھی انہیں اسی دنیا میں دی جائے گی۔ ایسا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کی دوسری اقوام اس سے عبرت پکڑیں کہ یہی معاملہ نسل انسانی کے ہر ہر فرد کے ساتھ آخرت میں ہوگا۔ بنی اسرائیل کا یہ معاملہ تمام نسل انسانیت کے لئے اللہ کے وجود، آخرت کی زندگی اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے کا بین ثبوت ہے۔ اب جس کی مرضی ہے وہ اسے مان کر جنت کا مستحق ہو اور جس کی مرضی وہ انکار کر کے جہنم کا سزاوار ٹھہرے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

(اے بنی اسرائیل!) اگر تم میری شریعت پر چلو گے اور میرے احکام کو ماننے میں محتاط رہو گے تو میں تہمارے لئے بروقت بارش برساؤں گا، زمین اپنی پیداوار دے گی اور میدان کے درخت اپنے پھل دیں گے۔۔۔۔ تم اپنے ملک میں حفاظت سے بسے رہو گے اور میں ملک میں امن بخشوں گا۔ تم سوؤ گے اور کوئی تمہیں پریشان نہ کرے گا۔ میں جنگلی درندوں کو تمہارے ملک سے بھگا دوں گا۔ تلوار تمہارے ملک میں نہ چلے گی۔ تم اپنے دشمنوں کا تعاقب کرو گے اور وہ تہمارے آگے تلوار سے مارے جائیں گے۔ تمہارے پانچ آدمی سو کو اکھاڑ پھینکیں گے اور تمہارے سو آدمی دس ہزار پر غالب آئیں گے۔۔۔۔۔

اگر تم میری نہ سنو گے ۔۔۔ میرے عہد کی خلاف ورزی کرو گے تو میں ناگہانی دہشت، گھلا دینے والی بیماریوں اور بخار تم پر بھیجوں گا جو تمہاری بینائی سلب کر لیں گے اور تمہاری جان لے لیں گے۔ تم بیکار بیج بوؤ گے کیونکہ ان کا پھل تمہارے دشمن کھائیں گے۔ میں تمہارا مخالف ہو جاؤں گا اور تم اپنے دشمنوں سے شکست کھاؤ گے۔۔۔۔ میں تمہارے اوپر آسمان کو لوہے اور نیچے زمین کو کانسی کی بنا دوں گا (یعنی تمہیں ان سے فائدہ حاصل نہ ہو گا)۔ زمین تمہیں پیداوار نہ دے گی اور نہ ملک کے درخت تمہیں فائدہ دیں گے۔۔۔۔ میں تمہارے خلاف جنگلی درندوں کو بھیجوں گا، وہ تمہارے بچوں کو اٹھا لے جائیں گے اور تمہارے مویشیوں کو تباہ کر دیں گے۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دوں گا ۔۔۔۔ تمہیں قوموں میں منتشر کر دوں گا۔۔۔۔۔ تم اپنے دشمنوں کے ملکوں میں رہو گے ۔۔۔۔ جب تک وہ دشمنوں کے ملک میں رہیں گے، میں ان کو بالکل مسترد نہ کروں گا اور نہ ہی ان کے ساتھ ایسی نفرت کروں گا کہ ان کے ساتھ اپنے عہد کو توڑ کر انہیں فنا کر دوں۔ میں خداوند ان کا خدا ہوں۔ (کتاب احبار، باب 26)

بنی اسرائیل کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ شریعت دینے کے بعد سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں فوج کی صورت میں منظم کیا اور ان کی مردم شماری کی۔ بائبل کی کتاب گنتی کےمطابق ان کی تعداد 603,550 تھی۔ ہر قبیلے کو مختلف ذمے داریاں تفویض ہوئیں۔ سیدنا ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد بنی لاوی کو مذہبی ذمہ داریاں سوپنی گئیں۔

     بائبل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ارد گرد کی اقوام فرعون کے غرق کے واقعہ سے پوری طرح باخبر تھیں اور ان کے عوام میں سے بہت سے لوگ دل ہی دل میں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی رسالت کو تسلیم کر چکے تھے۔ جب ان اقوام کو ان کی سرکشی اور شرک سے تعلق کے باعث سزا دینے کے لئے لشکر کشی کی گئی تو ان لوگوں نے بنی اسرائیل کے لشکروں کا ساتھ دیا۔ اللہ تعالی کے حکم سے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے بنی اسرائیل کو ارد گرد کی اقوام پر لشکر کشی کا حکم دیا۔  آپ نے ذہین اور تیز افراد پر مشتمل ایک انٹیلی جنس یونٹ بھی قائم کیا جس نے ملک فلسطین، جو اس وقت کنعان کہلاتا تھا، کا جائزہ لے کر ایک تفصیلی رپورٹ آپ کی خدمت میں پیش کی۔ بنی اسرائیل ایک طویل عرصےسے غلامی زندگی بسر کر رہے تھے اور نہایت ہی بزدل ہو چکے تھے۔ کہنے لگے، "اے موسی! تم اور تمہارا خدا ہی ان سے جا کر لڑو، ہم تو یہ بیٹھے ہیں۔" بائبل کے مطابق انہوں نے رونا پیٹنا شروع کر دیا اور کہا:

"کاش کہ ہم مصر ہی میں مر جاتے یا بیابان ہی میں ڈھیر ہو جاتے۔ خداوند ہمیں اس ملک میں کیوں لایا ہے؟ کیا صرف اس لئے کہ ہم تلواروں سے قتل کئے جائیں؟ ہماری بیویاں اور بچے لوٹ کا مال بن جائیں؟ کیا ہمارے لئے یہ بہتر نہ ہوگا ہم واپس مصر چلیں؟" (کتاب گنتی 14:3-4)

اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو جزیرہ نما سینا کے صحرا میں قید کر دیا۔ ان لوگوں کو یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملتا تھا۔ چالیس سال یہ یہیں قید رہے۔ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ السلام نے انہیں بتا دیا کہ سوائے یشوع بن نون اور کالب بن یفنہ (علیہما الصلوۃ السلام) کے ان میں سے کوئی اب فلسطین میں داخل نہ ہو سکے گا۔ یہ دونوں حضرات نہایت ہی اولوالعزم اور ثابت قدم تھے۔ ان کی بنی اسرائیل میں وہی حیثیت ہے جو صحابہ کرام میں  سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو حاصل ہے۔ اس چالیس سال کے دوران ان کی پرانی نسل کے افراد دنیا سے رخصت ہوئے اور نئی نسل صحرا کے کھلے اور آزاد ماحول میں پل کر جوان ہوئی۔ اس نسل کے افراد کی دینی، اخلاقی اور عسکری تربیت کا بھرپور انتظام کیا گیا۔ چالیس سال کے عرصے میں ایک نئی قوم تیار تھی جو اللہ کے دین سے پوری طرح وابستہ تھی۔

     بنی اسرائیل کے اس لشکر نے موجودہ اردن اور فلسطین کے جنوبی حصوں پر حملہ کیا اور یہاں موجود قوموں جن میں عمالیقی اور ادومی شامل تھے، مفتوح کر لیا۔ ادومی سیدنا یعقوب علیہ الصلوۃ السلام کے بھائی عیسو علیہ الرحمۃ کی اولاد تھے۔ ابتدا میں بنی اسرائیل نے ان سے صرف گزرنے کا راستہ مانگا تھا لیکن انہوں نے راستہ دینے سے انکار کیا تھا۔ بنی اسرائیل کے بعض لوگوں نے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ السلام کی نافرمانی کی اور آپ سے بغاوت پر آمادہ ہوئے جس پر اللہ تعالی نے سانپ بھیجے جنہوں نے ان لوگوں کو کاٹ کر ہلاک کر دیا۔

     آگے اموریوں کی حکومت تھی۔ ان سے بھی راستہ مانگا گیا لیکن وہ مقابلے پر اتر آئے۔ بنی اسرائیل اب اللہ تعالی کے نہایت فرمانبردار بندے تھے۔ اموریوں اور پھر ان سے آگے موآبیوں کی افواج ان کے آگے نہ ٹک سکیں اور موجودہ اردن کا پورا علاقہ بنی اسرائیل کے زیر تسلط آ گیا۔ اس موقع پر دوبارہ بنی اسرائیل کی مردم شماری کی گئی۔ اب ان کی تعداد چھ لاکھ کے قریب تھی۔ اسی دوران سیدنا ہارون علیہ الصلوۃ السلام  نے وفات پائی۔  اس واقعے کے تقریباً 1800 برس بعد بالکل یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ ہوا جب اسی علاقے میں رومیوں کی افواج ان کے آگے ڈھیر ہوتی چلی گئیں۔

     بنی اسرائیل اب یریحو شہر کے مقابل خیمہ زن ہوئے اور دریائے اردن پار کر کے فلسطین پر حملے کی تیاری کرنے لگے۔          بنی اسرائیل کو اعلی اخلاق کی ہدایات دی گئیں۔ انہیں بتایا گیا کہ انہیں دوسری قوموں کے طور طریقوں سے دور رہنا ہے۔ انہیں شرک سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی اور جنگ کے بارے میں تفصیلی ہدایات دی گئیں۔

سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات

سیدنا موسی علیہ الصلوۃ السلام نے اس موقع پر تمام شرعی احکام کو تفصیل سے لکھ کر بنی اسرائیل کو دیا۔ اس کے بعد آپ کوہ نیبو پر تشریف لے گئے جہاں آپ کو فلسطین کا پورا ملک دکھایا گیا۔ یہیں آپ نے وفات پائی۔ آپ کا زمانہ 1400-1500 قبل مسیح کا ہے۔

     سیدنا موسی علیہ الصلوۃ السلام کی وفات کے بعد آپ کے خلیفہ اول یشوع بن نون علیہ الصلوۃ السلام کی حکومت آئی۔ جناب یشوع کو بنی اسرائیل میں وہی مقام حاصل ہے جو ہمارے ہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ حربی صلاحیتوں کے اعتبار سے آپ کا موازنہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی جنگی صلاحیتوں کی بدولت بنی اسرائیل نے جلد ہی فلسطین کا بیشتر علاقہ فتح کر لیا اور اسے شرک کی غلاظت سے پاک کر دیا۔ ان جنگوں میں آپ نے فرزی، حتی، کنعانی، جرجاسی، حوی اور یبوسی اقوام سے مقابلہ کر کے انہیں فتح کیا۔

     ان جنگوں میں دوسری اقوام کے ان لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا جو فرعون کے غرق کے واقعے سے متاثر ہو کر ایمان قبول کر چکے تھے۔ ان جنگوں کے بعد شرک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا اور ان قوموں کے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا جو ایمان نہ لائے تھے۔ ایسا اس وجہ سے ہوا تھا کہ فرعون کے غرق کے بعد ان پر اللہ کی حجت تمام ہو چکی تھی اور اب شرک پر قائم رہنے کے لئے ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا تھا۔ بنی اسرائیل کے مختلف قبائل کو مختلف علاقوں میں آباد کیا گیا اور بڑی تعداد میں مساجد اور قربان گاہیں تعمیر کی گئیں۔ بنی اسرائیل اور نئے ایمان لانے والوں کو تاکید کی گئی کہ وہ شرک کبھی اختیار نہ کریں اور اللہ کی دی ہوئی شریعت کی پیروی کریں۔

سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مانند ایک اور رسول

     بائبل میں اللہ تعالی کا یہ فرمان درج ہے۔

(اے موسی!) میں ان کے لئے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک رسول برپا کروں گا اور میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور وہ انہیں وہ سب کچھ بتائے گا جس کا میں اسے حکم دوں گا۔ اگر کوئی شخص میرا کلام جسے وہ میرے نام سے کہے گا، نہ سنے گا تو میں خود اس سے حساب لوں گا۔ (کتاب استثنا 18:18-19)

بنی اسرائیل کے بھائی دو قبائل ہی ہو سکتے تھے۔ ایک بنی اسماعیل اور دوسرے سیدنا اسحاق علیہ الصلوۃ السلام کے بیٹے عیسو رضی اللہ عنہ کی اولاد جو کہ ادومی کہلاتے ہیں۔ بائبل اس بات کی خود گواہ ہے کہ ادومیوں کے ہاں کوئی رسول مبعوث نہیں ہوا۔ دوسری طرف بنی اسماعیل میں سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے کوئی اور رسول مبعوث نہیں ہوا۔ تاریخ میں نبوت و رسالت کا دعوی کرنے والوں میں سوائے سیدنا محمد علیہ الصلوۃ السلام  کے کوئی ایسی شخصیت نہیں جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اس کی نبوت و رسالت میں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ السلام سے مشابہت پائی جاتی ہے۔

     انبیاء کرام علیہم الصلوۃ السلام کی پوری تاریخ میں صرف سیدنا موسی و محمد علیہما الصلوۃ السلام ہی ایسی دو ہستیاں ہیں جن کی اقوام کے باشندوں نے کثیر تعداد میں ایمان قبول کیا۔ اس سے پہلے جن رسولوں کے ذریعے اللہ تعالی نے آسمانی عدالت زمین پر قائم کی تھی ان پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت کم تھی جس کے باعث ان اقوام پر اللہ کا عذاب قدرتی آفات کی صورت میں آیا اور انہیں زلزلے یا آگ کی بارش کی ذریعے تباہ کر دیا گیا۔

     سیدنا موسی علیہ الصلوۃ السلام پر لاکھوں کی تعداد میں بنی اسرائیل ایمان لائے۔ فرعون کے غرق ہونے کے عظیم واقعہ کے بعد ارد گرد کی اقوام پر اللہ کی جو حجت پوری ہوئی تھی، اس کے نتیجے میں ان اقوام پر حملہ کیا گیا اور ان کے جن افراد نے ایمان قبول نہیں کیا اور شرک سے چمٹے رہے، انہیں ہلاک کر دیا گیا۔

     بعینہ یہی معاملہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں پیش آیا۔ آپ کی قوم یعنی بنی اسماعیل کے بڑے حصے نے شرک کو چھوڑ کر آپ کی دعوت پر لبیک کہا۔ جو لوگ ایمان نہ لائے تھے، سورہ توبہ میں دی گئی ہدایات کے مطابق انہیں موت کی سزا دی گئی۔ مکہ فتح ہونے سے لے کر پورے عرب کا مفتوح ہونا ایسا واقعہ تھا جو ارد گرد کی اقوام کے لئے اللہ کی طرف سے آخری حجت تھا۔

     رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے ارد گرد کی اقوام کے سربراہوں کو خط لکھ کر الٹی میٹم دے دیا تھا۔ ان میں سوائے نجاشی، جو کہ اہل کتاب میں سے تھے، کے کوئی ایمان نہ لایا تھا۔ جس طرح سیدنا موسی کے خلفاء یوشع اور کالب علیہما الصلوۃ والسلام نے اس اتمام حجت کے نتیجے میں ارد گرد کی مشرک حکومتوں پر اللہ کا عذاب نازل کیا تھا بالکل اسی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے خلفا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے ارد گرد کی حکومتوں پر اللہ کا عذاب نازل کیا جس کے نتیجے میں روم اور ایران کی دو سپر پاورز مفتوح ہوئیں۔ اس کے علاوہ ان کے باجگزار علاقے مصر اور شمالی افریقہ فتح ہوئے۔ فرق صرف یہ تھا کہ سیدنا یوشع و کالب کے دور میں کی جانے والی کاروائیوں کے نتیجے میں ایمان نہ لانے کی سزا موت دی گئی تھی جبکہ سیدنا ابوبکر و عمر کے دور میں کی جانے والی کاروائی میں مغلوبیت کی سزا مقرر کی گئی تھی۔

     شرک کے خلاف کی جانے والی ان دو عالمگیر کاروائیوں کے نتیجے میں متمدن دنیا سے بالآخر شرک کا ایک غالب قوت کے طور پر خاتمہ ہو گیا۔ آج دنیا کی کئی اقوام شرک میں مبتلا ضرور ہیں لیکن ان میں سے کوئی شرک کا علم بردار بن کر کھڑا نہیں ہوتا۔ بہت سے مشرکانہ مذاہب بھی مختلف تاویلوں کے ذریعے خود کو اہل توحید ہی کہتے ہیں۔

سیدنا موسی علیہ الصلوۃ السلام نے اپنی وفات سے قبل بنی اسرائیل کے سامنے جو آخری خطبہ دیا اس میں آپ نے فرمایا:

"خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر ظاہر ہوا اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا۔ وہ جنوب سے اپنی پہاڑی ڈھلانوں میں سے 10,000 مقدسوں کے ساتھ آیا اور اس کے دائیں ہاتھ میں نورانی شریعت تھی۔" (کتاب استثنا 33:2-3)

آپ کے اس ارشاد میں اللہ تعالی کی اس مدد کا ذکر کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کو وقتا فوقتا نصیب ہوئی۔ اس میں آپ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اس لشکر کا ذکر بھی کیا ہے جو دس ہزار کی تعداد میں مدینہ کی پہاڑی ڈھلانوں میں سے نکلا اور اس نے مقدسوں کے شہر مکہ مکرمہ کو فتح کر کے اللہ کی شریعت کو دنیا پر نافذ کر دیا۔

بنی اسرائیل کا پہلا عروج

سیدنا یشوع علیہ الصلوۃ السلام کی وفات کے بعد موجودہ فلسطین اور لبنان کے علاقے فتح ہوئے۔ آپ کے بعد سیدنا کالب بن یفنہ علیہ الصلوۃ السلام کو خلیفہ مقرر کیا گیا۔ ان کا موازنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کیا جا سکتا ہے۔

     اس کے بعد کی تاریخ اللہ تعالی کی طرف سے جزا و سزا کی تاریخ ہے۔ جب جب بنی اسرائیل توحید اور نیکی سے وابستہ رہے، امن سے رہے اور انہیں خوشحالی نصیب ہوئی۔ اور جب کبھی انہوں نے بدی کی راہ اختیار کی، انہیں اس کی سزا اس طرح ملی کہ ارد گرد کی اقوام ان پر حملہ آور ہوتی رہیں اور انہیں غلام بناتی رہیں۔ سزا پا کر ان کے ہاں اصلاحی تحریکیں شروع ہوتیں اور یہ لوگ اللہ کی طرف رجوع کرتے جس کے نتیجے میں اللہ تعالی پھر انہیں غلبہ اور سرفرازی عطا فرما دیتا۔ بائبل کی کتاب قضاۃ (Judges) تین چار سو سال کے اسی دور کی تاریخ پر مبنی ہے۔ اس دور میں دشمن اقوام نے بنی اسرائیل پر حملہ کر کے ان سے وہ تابوت بھی چھین لیا تھا جس میں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ السلام کے تبرکات اور تورات کے اصل نسخے کی تختیاں تھیں۔

بادشاہت کا دور

بنی اسرائیل کی حکومت قاضیوں (Judges) کے ہاتھ میں آئی۔ یہ ایک جمہوری نظام تھا جس میں اجتماعی طریقے سے حکومت کی جاتی۔ اسی عرصے میں ان میں سیدنا سموئیل علیہ الصلوۃ السلام مبعوث ہوئے۔ آپ کے دور میں بنی اسرائیل نے یہ مطالبہ کیا کہ ان میں ایک بادشاہ مقرر کیا جائے تاکہ ہم اس کی قیادت میں اللہ کی راہ میں جہاد کر سکیں۔

     سیدنا سموئیل علیہ الصلوۃ السلام نے انہیں خبردار کیا کہ تم بادشاہت کے طالب ہو۔ بادشاہ تمہارے ساتھ ظلم کریں گے، تمہارے بیٹوں سے خدمت لیں گے اور بیٹیوں کو اپنا غلام بنائیں گے لیکن انہوں نے اپنا اصرار جاری رکھا جس پر طالوت (ساؤل) رضی اللہ عنہ کو ان کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ بنی اسرائیل نے اعتراض کیا کہ ایک غریب آدمی ان کا بادشاہ کیسے بن گیا۔ اس پر سیدنا سموئیل علیہ الصلوۃ السلام نے انہیں بتایا کہ طالوت جسمانی اور علمی اعتبار سے ان میں سب سے بہتر ہیں اور ٹھیک ٹھیک میرٹ پر پورا اترتے ہیں۔

     طالوت نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ فلستی قوم کا ایک نامور پہلوان جالوت (Goliath)  تھا جس کے مقابلے کی کسی کو ہمت نہ ہو رہی تھی۔ بنی اسرائیل کے لشکر کے ایک عام سپاہی داؤد علیہ الصلوۃ السلام نے جالوت کا مقابلہ کر کے اسے ہلاک کردیا۔ اس واقعہ کے بعد طالوت نے آپ کی شادی اپنی بیٹی سے کر دی اور طالوت کے بعد آپ ان کے بادشاہ مقرر ہوئے۔

     بائبل کی تاریخی کتب سموئیل 1 اور 2 میں جناب طالوت اور سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ السلام کے بارے میں کئی گستاخیاں درج کی گئی ہیں جن پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ السلام پر سچا ایمان رکھنے والا کوئی شخص یقین نہیں کر سکتا۔

     سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ السلام کے دور میں یروشلم فتح ہوا اور آپ نے اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔ آپ کی حکومت موجودہ شام، فلسطین اور اردن کے تمام علاقوں میں پھیل گئی۔ آپ پر اللہ کی کتاب زبور نازل ہوئی جس میں نہایت ہی دلنشیں شاعری موجود تھی۔ یہ شاعری انسان کو خدا کے قریب کرتی تھی اور اس کا تزکیہ نفس کرتی تھی۔ آج بھی یہودی و مسیحی عبادات میں زبور کی نظموں کو ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔

     سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ السلام کے بعد آپ کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ السلام آپ کے جانشین ہوئے جن کے دور میں بنی اسرائیل کی حکومت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ یہ اللہ تعالی کے اسی وعدے کا ایفا تھا جو نیکی سے وابستگی پر بنی اسرائیل سے کیا گیا تھا۔ جناب طالوت، داؤد اور سلیمان کا زمانہ 1030 سے 926  قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ السلام کے زمانے میں بیت المقدس کی عظیم مسجد کی تعمیر ہوئی جو یہود کی تاریخ میں ہیکل سلیمانی کہلاتی ہے۔

     سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ السلام پر بھی بنی اسرائیل نے شرک کا الزام لگایا۔ قرآن مجید نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ سلیمان علیہ الصلوۃ السلام اللہ تعالی کی توحید سے پوری طرح وابستہ تھے اور ہر طرح کے شرک سے پاک تھے۔ اس سے ان لوگوں کے اخلاقی انحطاط کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے نبیوں پر الزام تراشی سے بھی اجتناب نہ کیا۔

بنی اسرائیل کا پہلا فساد

سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ السلام کے بعد بنی اسرائیل پر پھر دنیا پرستی کا غلبہ ہوا۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ السلام کی اولاد گمراہی کا شکار ہو گئی۔ انہوں نے آپس میں لڑ کر دو سلطنتیں قائم کر لیں۔ شمال کی سلطنت کا نام "اسرائیل(Israel)" تھا جس کا پایہ تخت "سامریہ" تھا۔ یہ سلطنت موجودہ لبنان کے بیشتر علاقوں پر قائم تھی۔ جنوبی سلطنت کا نام "یہودیہ (Judea)" تھا جس کا دارالحکومت یروشلم تھا۔ شمالی سلطنت کچھ ہی عرصے میں ہمسایہ قوموں کے مشرکانہ عقائد اور اخلاقی فساد سے متاثر ہوئی۔

     بائبل کی کتاب سلاطین کے مطابق اسرائیل کے فرمانروا اخی اب نے مشرک شہزادی ایزبل سے شادی کر لی اور بعل دیوتا کی پوجا کرنے لگا۔ ایزبل نے دین شرک کو پھیلانے کے لئے خدا کے نیک بندوں جن میں انبیاء بھی شامل تھے، قتل کروانا شروع کر دیا۔ سیدنا الیاس اور ان کے خلیفہ الیسع علیہما الصلوۃ السلام نے اس اخلاقی زوال کو روکنے کی پوری کوشش کی لیکن بنی اسرائیل نے ان کی دعوت قبول نہ کی۔ سیدنا الیسع علیہ الصلوۃ السلام نے نیک لوگوں کی ایک فوج تیار کی جس کا سربراہ یاہو کو بنایا۔

     اسرائیل کی سلطنت پر اللہ نے قحط اور شام کے باشندوں اشوریوں کے حملوں کی صورت میں چھوٹے چھوٹے عذاب نازل کئے لیکن یہ لوگ باز نہ آئے۔ یاہو نے لشکر کشی کر کے اخی اب کے پورے گھرانےکو قتل کیا اور اس کی بیوی ایزبل خواجہ سراؤں کے ہاتھوں قتل ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے بعل کے ان پجاریوں کا قتل عام کر دیا جو اہل توحید کو زبردستی بعل کی پوجا پر مجبور کرتے تھے۔ اخی اب کے بعد یاہو کی حکومت قائم ہوئی جو آگے چل کر پھر گمراہی میں مبتلا ہو گئی۔

     اسرائیل کی سلطنت پر بہت سے بادشاہوں نے حکومت کی۔ آخری بادشاہ ہوسیع تھا جسے عراق کے اشوریوں نے ہلاک کر دیا اور بنی اسرائیل کو ان کے گناہوں کے باعث جلاوطنی اور غلامی کی سزا ملی۔ یہ واقعہ لگ بھگ 700 قبل مسیح کا ہے۔

     دوسری طرف یہودیہ کی جنوبی سلطنت تھی جس کا اخلاقی زوال اسرائیل کی نسبت سست تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں زیادہ مہلت دی۔ اس پر بھی اشوریوں کے حملے ہوئے لیکن یہ مکمل ختم نہ ہو سکی بلکہ ان کی باج گزار بن گئی۔ اللہ نے ان کی طرف پے در پے نبی بھیجے جن میں حزقیاہ، عاموس، یسعیاہ، یرمیاہ، یوایل اور بہت سے دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ السلام شامل ہیں۔ ان انبیاء کی دعوت پرانے عہد نامے کے آخر میں دیے گئے صحائف سے واضح ہے۔  خاص طور پر سیدنا یسعیاہ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے صحیفے میں جس طرح بنی اسرائیل کے کردار کا نوحہ کیا ہے، وہ پڑھنے کے لائق ہے۔  بنی اسرائیل نے ان نبیوں کی دعوت کے سامنے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ نبوکد نضر نے یروشلم پر حملہ کیا اور سلطنت یہودیہ کو تباہ کر دیا۔

     ہمارے آج کے مسلمانوں کی طرح، اس دور کے یہودیوں نے بھی اپنے اعمال کو درست کرنے کی بجائے بغاوت کے ذریعے اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں 587 قبل مسیح نبوکد نضر نے یروشلم پر دوبارہ حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ آخری یہودی بادشاہ صدقیاہ کے بیٹوں کو اس کے سامنے قتل کیا گیا اور اس کی آنکھیں نکال لی گئیں۔ بیت المقدس کو تباہ کر دیا گیا۔ اس فساد میں تورات کے نسخوں کو جلا دیا گیا اور بنی اسرائیل کی تاریخ میں تورات مکمل طور پر غائب ہو گئی۔ اس دور میں بنی اسرائیل پر ظلم کی تفصیلات بائبل کی کتاب حزقی ایل (Ezeikiel) میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

     یہود کی تاریخ میں اس عذاب کو پہلی جلاوطنی (First Diaspora) کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے ان کے پہلے فساد عظیم سے تعبیر کیا ہے۔

بنی اسرائیل کا دوسرا عروج

بنی اسرائیل کا ایک گروہ اس دور میں بھی نیکی پر قائم رہا اور اپنی قوم کی اعتقادی اور اخلاقی اصلاح کی کوشش کرتا رہا۔ یہی وہ لوگ تھے جو انبیاء کرام کے ساتھی بنتے رہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو توبہ کی دعوت دی جو کامیاب رہی۔ اس توبہ کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ان کی مدد کی۔ بابل کی حکومت کو زوال آیا اور 535 قبل مسیح میں ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل فتح کر لیا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ سائرس ہی قرآن میں مذکور ذوالقرنین ہیں۔ سائرس نے یہود کو دوبارہ فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دی۔ یہ لوگ واپس آئے اور انہوں نے بالآخر یہودیہ کی سلطنت دوبارہ قائم کی۔

     458 قبل مسیح میں یہود کے ہاں سیدنا عزیر (عزرا) علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی۔ بعض اہل علم کے نزدیک آپ نبی ہیں اور بعض کے نزدیک آپ شریعت موسوی کے بہت بڑے عالم تھے اور بنی اسرائیل کی تاریخ کے سب سے بڑے مجدد۔ شاہ ایران دارا نے آپ کی بھرپور مدد کی۔ آپ نے ہر طرف سے یہود کے اہل خیر کو اکٹھا کیا اور ان میں تجدید و احیائے دین کا کام شروع کیا۔ آپ نے تورات کی پہلی پانچ کتب دوبارہ تصنیف کیں، تاریخ بنی اسرائیل کو دوبارہ مرتب کیا، دینی تعلیم کا اہتمام کیا اور ان اعتقادی و اخلاقی برائیوں کو ختم کرنے کی جدوجہد کی جو غیر اقوام سے بنی اسرائیل میں در آئی تھیں۔

     سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ السلام نے اجتماعی توبہ کروائی جس میں بنی اسرائیل نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔ یہ دعا اور توبہ نامہ بائبل کی کتاب عزرا میں درج ہے۔ بنی اسرائیل کی گمراہی میں بڑا ہاتھ غیر اقوام کی ان مشرک عورتوں کا تھا جن سے بنی اسرائیل کے مردوں نے شادی کر لی تھی۔ سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ السلام نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان مشرک عورتوں سے علیحدگی اختیار کر لیں۔

     سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ السلام کے زمانے ہی میں بنی اسرائیل کی سیاسی قیادت سیدنا نحمیاہ (Nehemiah) علیہ الصلوۃ السلام کے ہاتھ میں آئی۔ ایران کے بادشاہ ارتخششتا نے آپ کو یروشلم کا حاکم مقرر کیا۔ آپ نے 445 قبل مسیح کے لگ بھگ یروشلم کی از سر نو تعمیر کی۔ اس طرح بنی اسرائیل کے دوسرے دور عروج کا آغاز ہوا۔ سیدنا نحمیاہ علیہ الصلوۃ السلام نے تورات کی تعلیم عام کی اور شریعت کے ان احکام کو دوبارہ نافذ کیا جنہیں بنی اسرائیل ایک عرصے سے بھلا چکے تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس وقت اللہ کی کتاب سے کتنی دوری اختیار کر چکے تھے۔

     چونکہ اس زمانے میں بنی اسرائیل اللہ تعالی کی طرف رجوع کر چکے تھے اس لئے اللہ تعالی نے ان کی مدد کی۔ بائبل کی کتاب آستر (Esther) میں ہامان کی سازش کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ یہ شخص شاہ ایران کا ساتھی اور مشیر خاص تھا۔ اس نے یہود کے قتل عام کی کوشش کی۔ اللہ تعالی نے اس کی سازش کو ایران کی ملکہ آستر کے ذریعے ناکام بنا دیا۔ یہ ہامان اس ہامان سے مختلف ہے جو فرعون کا وزیر تھا۔

     اسی زمانے میں بنی اسرائیل کے ہاں سیدنا ایوب علیہ الصلوۃ السلام کی بعثت ہوئی۔ آپ نہایت ہی مالدار تھے لیکن اللہ تعالی نے آپ کی آزمائش کے لئے آپ کا مال و اسباب تباہ کر دیا اور آپ کو شدید بیماری میں مبتلا کر دیا۔ آپ نے صبر کا وہ نمونہ پیش کیا جس کے بعد آپ کا نام صبر کے لئے ضرب المثل بن گیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے آپ کے صبر کی بہت تعریف کی ہے۔ بائبل میں کتاب ایوب عبرانی شاعری کا شاہکار ہے جس میں آپ کی دعائیں اور مناجات شامل ہیں۔

     اسی دور میں بائبل کی کتب عزرا، نحمیاہ، ایوب اور امثال لکھی گئیں۔ امثال (Proverbs) نہایت ہی عمدہ اقوال پر مشتمل ہے۔ ان کتب میں اخلاقیات کو خاص اہمیت دی گئی۔ ان کتب کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاں نیکی اور اخلاص اپنے عروج پر تھا۔ کچھ عرصے بعد ان کے ہاں صوفیانہ خیالات بھی پیدا ہوئے اور انہیں ترک دنیا اور رہبانیت کی تعلیم دی گئی۔ بائبل کی کتاب واعظ (Ecclesiastes)  اس دور سے متعلق ہے۔

     یہود کے اس دور عروج میں لبنانی علاقے کے رہنے والے اسرائیلی اپنی تہذیب سے دور ہوتے چلے گئے اور دوسری اقوام میں جذب ہوگئے۔ دو تین سو سال تک بنی اسرائیل کو عروج حاصل رہا۔ آہستہ آہستہ یہ لوگ پھر دین سے دور ہونے لگے۔

     300 قبل مسیح کے قریب اسکندر اعظم کی فتوحات اور بنی اسرائیل کی حامی ایرانی حکومت کے زوال کے بعد بنی اسرائیل کو شدید دھچکا لگا۔ یہودی قوم کا ایک بڑا حصہ یونانیوں کا آلہ کار بن کر یونانی تہذیب کو اپنے ہاں فروغ دینے لگا۔ 175 قبل مسیح میں یونانی حکمران انیٹوکس نے جابرانہ قوت سے یہودی مذہب کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اللہ کے لئے قربانی بند اور دیوتاؤں کے لئے قربانی شروع کروائی اور تورات رکھنے یا شریعت پر عمل کرنے کی سزا موت مقرر کی۔

مکابی تحریک

اس جبر کے خلاف یہودیوں میں ایک زبردست تحریک اٹھی جو مکابی بغاوت کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ایک خالص دینداری کی تحریک تھی۔ اس جنگ میں یونانیت پرست یہودیوں نے اہل یونان کا ساتھ دیا جبکہ عام یہودیوں نے مکابیوں کا ساتھ دیا۔ اللہ تعالی نے پھر بنی اسرائیل پر کرم کیا۔ اس تحریک کے زیر اثر یہودیوں نے یونان سے آزادی حاصل کر کے پھر ریاست قائم کر لی جو یہودیہ اور اسرائیل کے علاقوں پر مشتمل تھی۔ یہ ریاست 67 قبل مسیح تک قائم رہی۔

بنی اسرائیل کا دوسرا فساد

مکابی تحریک کی دینداری آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی اور یہود ظواہر پرستی کے مرض میں مبتلا ہوگئے۔ ان کے ہاں چھوٹے چھوٹے احکام پر تو سختی سے عمل کیا جاتا لیکن دین کے بڑے بڑے احکام جیسے رحم دلی، خدا سے تعلق نظر انداز ہونے لگے۔ اس کی سزا انہیں پھر غلامی کی صورت میں ملی اور مشہور رومی فاتح پومپی نے 63 قبل مسیح میں یہودی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ رومیوں نے فلسطین کے علاقے میں ایک یہودی ہیرود کو یہاں کا حکمران بنا دیا جو کہ ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے۔ یہ یہودی پوری طرح رومی و یونانی تہذیب میں غرق تھے۔

بنی اسرائیل کا عروج و زوال

اس زمانے میں سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام  کی بعثت ہوئی۔ یہود کے اخلاقی انحطاط کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہیرود کے بیٹے نے ہیرود اینٹی پاس نے اپنی سوتیلی بیٹی کے رقص سے متاثر ہو کر اس کی فرمائش پر سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کو شہید کروا دیا۔ واضح رہے کہ سیدنا یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کو خود بنی اسرائیل میں ایک نہایت ہی معزز اور نیک شخص سمجھا جاتا تھا۔

     بنی اسرائیل کی طرف بھیجے جانے والے آخری رسول سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔ یہود نے آپ کا انکار کیا اور آپ کو اپنے تئیں شہید کرنے کی کوشش کی۔ یہ تفصیل ہم اردن کے سفر نامے میں بیان کر چکے ہیں کہ کس طرح یہودی علماء نے سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی جگہ برابا نامی ڈاکو کو رہا کروا دیا تھا۔

     سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اللہ کی برہان تھے جس کے بعد بنی اسرائیل کے عروج کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا۔ یہود نے 60ء کے لگ بھگ رومی سلطنت سے بغاوت کی۔ 70ء میں رومی بادشاہ ٹائٹس کی صورت میں بنی اسرائیل پر اللہ کا عذاب آیا۔ اسرائیلیوں کے 133,000 افراد قتل کئے گئے اور 67,000 افراد کو غلام بنا لیا گیا۔ ان کی لڑکیوں کو فاتحین کی عیاشی کے لئے رکھ لیا گیا۔ اس دور میں بنی اسرائیل کو پوری دنیا میں جلا وطن کر دیا گیا۔ یہود کی تاریخ میں اسے  بنی اسرائیل کی دوسری جلاوطنی (Second Diaspora) کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اسے ان کا دوسرا فساد قرار دیا گیا ہے۔

     چھٹی صدی عیسوی میں اللہ نے اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو بھیجا۔ یہ بنی اسرائیل کے لئے آخری موقع تھا کہ وہ اللہ کے آخری رسول کو مان کر آپ کی پیروی کریں۔ اگر وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے تو آج پھر دنیا میں سرفراز ہوتے۔ انہوں نے آپ کے خلاف بھی سرکشی کا رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں ان پر ذلت و مسکنت کا عذاب جاری رکھا گیا۔

قرآن مجید نے بنی اسرائیل کی اس تاریخ کو مختصرا یوں بیان کیا ہے:

وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إسْرائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوّاً كَبِيراً. فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَاداً لَنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلالَ الدِّيَارِ وَكَانَ وَعْداً مَفْعُولاً. ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمْ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيراً. إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لأَنفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ لِيَسُوءُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيراً. عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيراً.

ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر متنبہ کیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین پر فساد عظیم برپا اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ آخر کار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا۔ تو اے بنی اسرائیل! ہم نے تمہارے مقابلے میں اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت ہی زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر رہنا تھا۔ اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دیا اور تمہیں مال و اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ دیکھو! جو بھلائی تم نے کی، وہ تمہارے اپنے لئے ہی بھلائی تھی اور جو برائی کی، وہ بھی اپنے لئے ہی تھی۔

پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑ جائے اسے تباہ کردیں۔

ہو سکتا ہے کہ تمہارا رب تم پر اب رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابقہ روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے اور کفران نعمت کرنے والوں کے لئے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے۔ (بنی اسرائیل 17:4-8)

بنی اسرائیل کا مقام ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل کو دیا گیا۔ اس قوم نے محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رسالت کا اقرار کر لیا جس کے نتیجے میں موجودہ افغانستان اور پاکستان سے لے کر سپین تک کی حکومت انہیں عطا ہوئی۔ جب انہوں نے اللہ تعالی کے مقابلے پر سرکشی اختیار کی تو پھر ان پر اللہ کا عذاب آپس کی جنگوں، تاتاریوں، صلیبیوں اور بالآخر مغربی اقوام کی صورت میں نازل ہوا اور ان کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو بنی اسرائیل کے ساتھ کیا گیا تھا۔

     قرآن مجید نے سورہ اٰل عمران میں یہ بیان کیا ہے کہ دوسرے فساد کے بعد بنی اسرائیل کو یہ سزا دی گئی کہ وہ قیامت تک سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پیروکاروں یعنی مسلمانوں اور عیسائیوں کے ماتحت رہیں گے۔ عیسائیوں نے بنی اسرائیل کو اپنے علاقوں میں شدید سزائیں دیں جبکہ مسلمانوں نے بالعموم ان سے اچھا سلوک کیا۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے 1900 سال بعد، آپ کے پیروکاروں کی مدد سے یہودیوں کو فلسطین کے علاقے میں دوبارہ آنا نصیب ہوا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ان کی اس علاقے میں بقا کا دارومدار سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پیروکاروں یعنی امریکہ، یورپ اور روس پر رہا ہے۔

     بنی اسرائیل اگر اس دنیا میں دوبارہ سرفرازی حاصل کرنا چاہیں تو اس کے لئے انہیں اللہ کے دو آخری رسولوں عیسی و محمد علیہما الصلوۃ والسلام پر ایمان لانا ہو گا اور اللہ تعالی کے دین سے وابستہ ہونا ہو گا۔ یہ وہی دین ہے جو تمام انبیاء کرام کی وساطت سے انسانوں کو دیا گیا۔ اس کا آخری ورژن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے دنیا کو دیا گیا۔ اس کے برعکس ان لوگوں نے اس سرفرازی کو اپنا نسلی حق سمجھا اور اس وقت دنیا کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

     بنی اسماعیل بھی اگر اس دنیا میں دوبارہ سرفرازی حاصل کرنا چاہیں تو انہیں اللہ کے دین سے درست انداز میں وابستہ ہونا ہو گا جس پر وہ پہلے ہی ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس انہوں نے اور ان کے دیگر ساتھیوں (یعنی امت مسلمہ) نے بھی اس سرفرازی کو محض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے نسلی یا قومی وابستگی کے باعث اپنا حق سمجھا اور آج یہ بھی دنیا کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

     دیگر تمام انسانوں کے لئے اولاد ابراہیم کی ان دو شاخوں کی داستان اس بات کا بین ثبوت ہے کہ خدا واقعتاً ہے۔ اس دنیا کے اعمال کی جزا و سزا وہ انسان کو آخرت میں دے گا جیسا کہ اس نے اولاد ابراہیم کو دنیا میں دی۔ ابراہیم، موسی، عیسی اور محمد علیہم الصلوۃ والسلام اسی خدا کے سچے اور برحق رسول ہیں جن پر ایمان لا کر ہی اس دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

     بنی اسرائیل و بنی اسماعیل کی تاریخ کو یاد کر کے مجھے قرآن مجید کی سورۃ تین یاد آ رہی تھی۔ ارشاد ربانی ہے:

وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ. وَطُورِ سِينِينَ. وَهَذَا الْبَلَدِ الأَمِينِ. لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ. ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ. إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ. فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ. أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ.

انجیر و زیتون، طور سینا اور یہ امن والا شہر (مکہ) گواہ ہیں کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے۔ پھر اسے الٹ پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچا کر دیا۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے۔ تو ان کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ تو کیا اس کے بعد بھی تم روز جزا کو جھٹلاؤ گے۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟

تین و زیتون سے مراد اکثر مفسرین نے گلیل و یروشلم کے وہ علاقے لئے ہیں جنہیں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی دعوت کا مرکز بنایا تھا۔ زیتون نامی پہاڑ آج بھی یروشلم میں واقع ہے جہاں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام قیام پذیر ہوا کرتے تھے۔ طور سینا، یہی پہاڑ تھا جہاں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام  کو تورات عطا ہوئی۔ امن والا شہر مکہ مکرمہ، سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام نے آباد فرمایا۔ یہ تینوں شہر تین امتوں کا نقطہ آغاز تھے یعنی عیسی، موسی اور اسماعیل علیہم الصلوۃ والسلام کی امتیں۔ اپنے آغاز میں یہ نہایت ہی نیک افراد پر مشتمل امتیں تھیں جو بعد میں بگڑ کر اپنے ایمان و اخلاق کو تباہ کر بیٹھیں۔ ان امتوں کی یہ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا حاکم ہے اور وہ روز جزا کو ہر انسان سے اس کے اعمال کا حساب لے گا۔

کوہ طور کا علاقہ

     موٹل سے نکل کر ہم لوگ سڑک پر آئے۔ اب ہم ان میدانوں سے گزر رہے تھے جہاں بنی اسرائیل نے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت میں کبھی قیام کیا تھا۔ کچھ دیر ہی میں ہم ایک راؤنڈ اباؤٹ پر پہنچے جہاں سے ایک سڑک سیدھی سینٹ کیتھرین کے قصبے اور دوسری کوہ طور کی طرف جا رہی تھی۔

     ہمارے بائیں جانب پہاڑی کے دامن میں ایک جگہ تھی جہاں "مقام نبی ہارون" کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس جگہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کی اور سیدنا ہارون علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اس سے روکا تو یہ باز نہ آئے۔ اس وقت سیدنا ہارون علیہ الصلوۃ والسلام انہیں چھوڑ کر اس مقام پر آ بیٹھے تھے۔ کچھ آگے چل کر بچھڑے کا مقام تھا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام  کی آمد کے بعد بچھڑے کے بت کو جلا کر راکھ کیا گیا تھا۔ بچھڑے کی پوجا پھیلانے والوں کو سزا بھی یہیں دی گئی ہو گی۔

     تھوڑی دور جا کر سینٹ کیتھرین کے گرجا کا گیٹ آ گیا۔ یہاں بہت سی دکانیں بنی ہوئی تھیں اور مغربی سیاح کثرت سے اندر جا رہے تھے۔ دکانوں والے بدو نہایت ہی شستہ انگریزی میں مغربی سیاحوں کو تلقین کر رہے تھے کہ یہ مقدس مقام ہے، اس لئے انہیں یہاں معقول لباس میں جانا چاہیے۔ بہت سے مرد و خواتین ان کی تبلیغ سے متاثر ہو کر انہی سے چادریں خرید کر اپنی نیکروں کے اوپر دھوتیاں باندھ رہے تھے۔

     پاسپورٹ وغیرہ دکھا کر ہم پیدل اندر چل پڑے۔ موسم اگرچہ ٹھنڈا تھا لیکن دھوپ بھی کافی تیز تھی۔ میں نے ایک انگریز سے کوہ طور کی تفصیلات پوچھیں تو ان صاحب نے بڑی خندہ پیشانی سے آگے کی تفصیلات بتا دیں۔ ایک بدو پولیس آفیسر اپنی گاڑی میں ہمارے پاس سے گزرے تو بچی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ہمیں اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ نصف کلومیٹر کے بعد سینٹ کیتھرین کا گرجا آ گیا جس سے آگے جانے کا راستہ صرف پیدل کا تھا۔

سینٹ کیتھرین کا گرجا اور خانقاہ

سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی یاد میں یہ گرجا چوتھی صدی میں تعمیر کیا گیا۔ پتھر کے تراشیدہ بلاکس سے بنی ہوئی چرچ کی عمارت بہت اچھی حالت میں تھی۔

     یہ پورا علاقہ ساتویں صدی میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کے پاس آ گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک مسلمانوں نے اپنی روایتی رواداری کے باعث اس چرچ کی حفاظت اپنی عبادت گاہوں کی طرح کی تھی۔ یہ ہماری تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس روایت کو قائم رکھنا چاہیے کیونکہ یہی ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان اچھے تعلقات کی بنیاد ہے۔

مقام ہارون علیہ الصلوۃ والسلام

کوہ طور کے علاقے کا نقشہ

بچھڑے کی پوجا کا مقام

     چرچ کے اندر کا آرکی ٹیکچر بھی خوبصورت تھا۔ محرابوں کی صورت میں دروازے بنے ہوئے تھے۔ بیرونی دیوار کسی قلعے سے مشابہ تھی۔ چرچ کے دروازے پر بدو مغربی سیاحوں کو باندھنے کے لئے کپڑے دے رہے تھے جس کے باعث ماحول کافی باپردہ ہو گیا تھا۔ سنا ہے کہ یہاں اسرائیلی سیاح بھی بڑی تعداد میں کوہ طور کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔

     ہم چرچ سے نکل کر اس کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ ہمارے سامنے بالکل سیاہ رنگ کا پہاڑ تھا۔ اس کا نام جبل مناجاۃ معلوم ہوا۔ عین ممکن ہے یہ وہی پہاڑ ہو جس پر اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام  کی فرمائش پر اپنی تجلی ظاہر کی تھی جس کے نتیجے میں یہ جل کر راکھ ہو گیا تھا اور سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام بے ہوش ہو گئے تھے۔                                                                                  

     گرجا سے آگے دو راستے نکل رہے تھے۔ ایک راستہ کوہ طور اور جبل موسی کی جانب جا رہا تھا۔ یہاں یا تو پیدل جایا جاسکتا تھا یا پھر اونٹوں پر۔ کوہ طور پر جانے کے لئے پتھر کی سیڑھیاں تراشی گئی تھیں۔ ہمارے ساتھ چونکہ بچی تھی اور اسے لے کر کوہ طور پر چڑھنا کافی مشکل کام تھا اس لئے ہم اوپر نہ جا سکے۔ کوہ طور کے دامن میں ایک اور گرجا اور ایک مسجد پہلو بہ پہلو موجود تھے۔ یہاں کے چرچ کا ڈیزائن بالکل مساجد جیسا تھا۔ قرآن مجید نے بھی یہود و نصاری کی عبادت گاہوں کو مسجد ہی قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  اللہ تعالی کا دین ایک ہی ہے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے توحید کے مرکز کے طور پر مساجد ہی تعمیر کی تھیں۔ بعد میں لوگوں نے توحید کے انہی مراکز میں تصاویر اور مجسموں کو داخل کرنا شروع کر دیا۔ امت مسلمہ اس فتنہ سے تو اب تک محفوظ ہے مگر ہمارے ہاں بھی شرکیہ مضامین پر مشتمل اشعار  اور نعرے مساجد میں لکھے جانے لگے ہیں۔

رہبانیت کا دور

یہ گرجے عیسائیت کے اس دور کی یادگار ہیں جب ان کے ہاں رہبانیت نے فروغ پایا۔ عیسائیت کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں ترک دنیا کی زبردست تحریک پیدا ہوئی جسے رہبانیت (Monasticism) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نوجوان دنیا کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ ان لوگوں نے خود پر دنیا کی لذتوں کو حرام کر لیا اور عبادت کرنے کے نت نئے طریقے ایجاد کئے۔ ترک دنیا میں یہ لوگ اپنی انتہا کو پہنچ گئے۔ رہبانیت کی یہ تحریک مصر میں بہت زیادہ مقبول ہوئی۔ اس کی کچھ تفصیل History of the Christian Church  میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔ 

سینٹ انتھونی کتنے عظیم انسان تھے جنہوں نے اپنی بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اپنی زندگی کو رہبانیت میں بسر کردیا۔ انہوں نے کبھی اچھی خوراک کی خواہش نہ کی، نہ ہی لباس پہنا اور نہ ہی کبھی اپنے پاؤں دھوئے۔  سینٹ ہیلاریس جو کہ سینٹ انتھونی کے شاگرد اور مشرک والدین کی اولاد تھے، نے ترکے میں ملنے والی رقم کو اپنے بھائیوں اور غرباء میں تقسیم کردیا اور دن کے روزے اور رات کی عبادت سے اپنے جسم کو گھلانے کی کوشش شروع کر دی۔ صرف بیس برس کی عمر میں ان کا جسم ایک ڈھانچے کی مانند تھا۔ انہوں نے کبھی سورج غروب ہونے سے قبل کھانا نہ کھایا۔ ان کی کٹیا صرف پانچ فٹ اونچی تھی جو ان کے اپنے قد سے بھی نیچی تھی۔ وہ ہمیشہ زمین پر سوتے اور سال میں صرف ایک  بار بال کٹواتے۔  -------

سینٹ پاؤلا نے اپنے ماں کے جذبات کو کچلتے ہوئے اپنی بیٹی اور نومولود بیٹے کو چھوڑ کر فلسطین اور مصر کا سفر اختیار کیا۔ انہوں نے مقد س زمین میں رہائش اختیار کی جہاں انہوں نے ایک خانقاہ قائم کی ۔ انہوں نے ہمیشہ شراب اور گوشت سے پرہیز کیا۔ بیماری کی حالت میں بھی وہ ننگے فرش پر سوتیں اور بالوں کا لباس پہنتیں۔   -------  

سینٹ سائمن اپنی ابتدائی زندگی میں شام کے ملک میں رہنے والے ایک چرواہے تھے۔ انہوں نے چرچ میں گائے جانے والے چند گیت سنے اور اس کے نتیجے میں ایک خانقاہ کی طرف چل دیے۔ یہاں وہ کئی دن بغیر کچھ کھائے پئے دہلیز پر پڑے رہے اور خود کو اس خانقاہ کا حقیر ترین خادم بنا لینے کی فریاد کرتے رہے۔ انہوں نے خود کو ہفتے میں صرف ایک دن اتوار کو کھانا کھانے کا عادی بنا لیا ۔اپنے چلّے کے دوران انہوں نے چالیس دن گرم ترین علاقے میں بغیر کسی خوراک کے بسر کئے۔ اس کوشش کے نتیجے میں وہ موت سے ہمکنار ہوتے ہوتے بچے لیکن انہوں نے (خدا سے کئے ہوئے )اپنے وعدے کی پاسداری کی۔

جب تھیوڈورس ان سے ملنے آیا تو وہ بغیر خوراک کے 26 چلّے لگا کر (اپنے تئیں) موسیٰ، الیاس اور عیسیٰ (علیھم الصلوۃ والسلام) سے بھی آگے بڑھ چکے تھے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں صرف ایک ایک مرتبہ چالیس دن کا روزہ رکھا۔ ان کی ایک اور غیر معمولی کوشش یہ تھی کہ انہوں نے اپنے جسم کو اتنی سختی سے رسیوں سے باندھ لیا تھا کہ وہ ہڈیوں میں چبھتی تھیں اور شدید تکلیف پہنچائے بغیر انہیں کاٹا بھی نہ جاسکتا تھا۔ بعد ازاں انہیں خانقاہ سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد وہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر چلے گئے جہاں انہوں نے اپنے پاؤں کو ایک وزنی لوہے کی زنجیر سے باندھ لیا۔

جب انہیں اس سے بھی اطمینان حاصل نہ ہوا تو وہ انطاکیہ کے مشرق میں دو دن مسافت کے مقام پرموجود ایک چالیس ہاتھ اونچے تنگ سے ستون پر چڑھ گئے ۔ یہاں وہ اپنی وفات تک موجود رہے۔ اس جگہ وہ نہ تو لیٹ سکتے تھے اور نہ ہی بیٹھ سکتے تھے بلکہ بڑی مشکل سے صرف جھک سکتے تھے چنانچہ انہوں نے خدا کے سامنے جھکنا شروع کردیا۔ کسی نے خدا کے سامنے ان کے رکوع کرنے کو گننا شروع کیا تو صرف ایک دن میں ان کے 1244 رکوع شمار ہوئے۔ انہوں نے جانوروں کی کھالیں پہن رکھی تھیں اور ان کی گردن کے گرد ایک موٹی زنجیر تھی۔ یہاں سینٹ سائمن ہفتوں، مہینوں بلکہ سالوں تک کڑکتی دھوپ ، طوفانی بارشوں اورشدید برفباری میں کھڑے رہے اور روزانہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔  www.ccel.org/s/schaff/history History of Christian Church,    

سینٹ کیتھرین کا چرچ

سینٹ کیتھرین خانقاہ کی بیرونی دیوار اور جبل مناجاۃ

جبل موسی علیہ السلام (کوہ طور) کی سیڑھیاں (بشکریہ www.st-katherine.net )

کوہ طور (بشکریہ www.st-katherine.net )

کوہ طور سے دیگر پہاڑوں کا نظارہ (بشکریہ www.st-katherine.net )

سینٹ کیتھرین کے قریب ایک اور مسجد نما چرچ

 

رہبانیت کا یہ سلسلہ اتنی شدت اختیار کر گیا کہ ہر طرح کے جنسی تعلقات کو ممنوع قرار دیا گیا۔ جو شادی شدہ شخص راہب بنتا اس کے لئے لازم ہوتا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر آئے۔ ہنسنے اور مسکرانے کو بھی حرام سمجھا جاتا۔ راہب کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے تمام رشتے داروں کی محبت دل سے نکال دے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

ایک راہب ایواگریس سالہا سال سے صحرا میں ریاضتیں کر رہا تھا۔ ایک روز یکایک اس کے پاس اس کی ماں اور اس کے باپ کے خطوط پہنچے جو برسوں سے اس کی جدائی میں تڑپ رہے تھے۔ اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں ان خطوں کو پڑھ کر اس کے دل میں انسانی محبت کے جذبات نہ جاگ اٹھیں۔ اس نے ان کو کھولے بغیر فوراً آگ میں جھونک دیا۔

سینٹ تھیوڈورس کی ماں اور بہن بہت سے پادریوں کے سفارشی خطوط لے کر اس خانقاہ میں پہنچیں جس میں وہ مقیم تھا اور خواہش کی کہ وہ ایک نظر اپنے بیٹے اور بھائی کو دیکھ لیں۔ مگر اس نے ان کے سامنے آنے تک سے انکار کر دیا۔ سینٹ مارکس کی ماں اس سے ملنے کے لئے اس کی خانقاہ میں گئی اور خانقاہ کے شیخ (Abott) کی خوشامدیں کرکے اس کو راضی کیا کہ وہ بیٹے کو ماں کے سامنے آنے کا حکم دے۔ مگر بیٹا کسی طرح ماں سے نہ ملنا چاہتا تھا۔ آخر کار اس نے شیخ کے حکم کی تعمیل اس طرح کی کہ بھیس بدل کر ماں کے سامنے گیا اور انکھیں بند کرلیں۔ اس طرح نہ ماں نے بیٹے کو پہچانا ، نہ ہی بیٹے نے ماں کی شکل دیکھی۔

ایک اور ولی سینٹ پوئمن اور اس کے 6 بھائی مصر کی ایک صحرائی خانقاہ میں رہتے تھے۔ برسوں بعد ان کی بوڑھی ماں کو ان کا پتہ معلوم ہوا اور وہ ان سے ملنے کے لئے وہاں پہنچی۔ بیٹے ماں کو دور سے دیکھتے ہی بھاگ کر اپنے حجرے میں چلے گئے اور دروازہ بند کرلیا۔ ماں باہر بیٹھ کر رونے لگی اور اس نے چیخ چیخ کر کہا میں اس بڑھاپے میں اتنی دور سے چل کر صرف تمہیں دیکھنے آئی ہوں ، تمہارا کیا نقصان ہوگا اگر میں تمہاری شکلیں دیکھ لوں۔ کیا میں تمہاری ماں نہیں ہوں؟ مگر ان ولیوں نے دروازہ نہ کھولا اور ماں سے کہہ دیا کہ ہم تجھ سے خدا کے ہاں ملیں گے۔

اس سے بھی درد ناک قصہ سینٹ سائمن اسٹائلائیٹس کا ہے جو ماں باپ کو چھوڑ کر 27 سال غائب رہا۔ باپ اس کے غم میں مر گیا۔ ماں زندہ تھی۔ بیٹے کی ولایت کے چرچے جب دور و نزدیک پھیل گئے تو اس کو پتہ چلا کہ وہ کہاں ہے۔ بے چاری اس سے ملنے کے لئے اس کی خانقاہ پر پہنچی ۔ مگر وہاں کسی عورت کو داخلے کی اجازت نہ تھی۔ اس نے لاکھ منت سماجت کی کہ بیٹا یا تو اسے اندر بلالے یا باہر نکل کر اسے اپنی صورت دکھا دے۔ مگر اس ولی اللہ نے صاف انکار کر دیا ۔ تین رات اور تین دن وہ خانقاہ کے دروازے پر پڑی رہی اور آخر کا روہیں لیٹ کر اس نے جان دے دی۔ تب ولی صاحب نکل کر آئے۔ ماں کی لاش پر آنسو بہائے اور اس کی مغفرت کی دعا کی۔  ------- 

اپنے قریب ترین رشتے داروں کے ساتھ بے رحمی ، سنگدلی اور قساوت برتنے کی جو مشق یہ لوگ کیا کرتے تھے، اس کی وجہ سے ان کے انسانی جذبات مر جاتے تھے اور اسی کانتیجہ تھا کہ جن لوگوں کے ساتھ انہیں مذہبی اختلاف ہوتا تھا ان کے مقابلے میں یہ ظلم و ستم کی انتہا کر دیتے تھے۔ چوتھی صدی تک پہنچتے پہنچتے مسیحیت میں 80-90 فرقے پیدا ہو چکے تھے۔  -------  یہ فرقے ایک دوسرے کے خلاف سخت نفرت رکھتے تھے۔ ------- 

پہلے ایرئن فرقے کے بشپ نے اتھاناسیوس کی پارٹی پر حملہ کیا، اس کی خانقاہوں سے کنواری راہبات پکڑ پکڑ کر نکالی گئیں، ان کو ننگا کرکے خاردار شاخوں سے پیٹا گیا اور ان کے جسم پر داغ لگائے گئے تاکہ وہ اپنے عقیدے سے توبہ کریں۔ -------  اسی اسکندریہ میں ایک مرتبہ سینٹ سائرل کے مرید راہبوں نے ہنگامہ عظیم برپا کیا، یہاں تک کہ مخالف فرقے کی ایک راہبہ کو پکڑ کر اپنے کلیسا میں لے گئے، اسے قتل کیا، اس کی لاش کی بوٹی بوٹی نوچ ڈالی اور پھر اسے آگ میں جھونک دیا۔  (تفہیم القرآن ، سورۃ الحدید)

 اللہ تعالیٰ نے ان کی اس رہبانیت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:  وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَامَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلاَّ ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا۔   (الحدید57:27)  ’’رہبانیت تو انہوں نے خود ہی ایجاد کر لی تھی۔ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا۔ انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے( اسے ایجاد تو کرلیا ) مگر اس کی رعایت نہ رکھ سکے۔‘‘  اس رہبانیت کی ایجاد کی وجہ یہ تھی کہ جب انسان دین کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کی نظر میں دنیا کی وقعت کچھ نہیں رہتی۔

     اسی بنا پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی رہبانیت اختیار کرنے کی کوشش کی اور یہ ارادہ کیا کہ وہ رات بھر نمازیں پڑھا کریں گے، ہمیشہ روزہ رکھیں گے اور ہمیشہ اپنی بیویوں سے دور رہیں گے۔جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے حدود کا پاس رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بیاہ بھی کرتا ہوں۔ جس نے میرے طریقے سے انحراف کیا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (بخاری ، کتاب النکاح)

     اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم فرمایا کرتے’’ دین کے معاملے میں خود پر سختی نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر سختی کرے۔ ایک گروہ نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔ یہ انہی کی باقیات ہیں جنہیں تم گرجوں اور خانقاہوں میں دیکھتے ہو۔ پھر آپ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم  نے آیت رہبانیت تلاوت فرمائی۔‘‘ (ابوداؤد، کتاب الادب)

     قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:  قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ۔    (الاعراف 7:32) آپ کہہ دیجئے کہ کس نے اللہ کی عطا کی ہوئی زینت اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ. وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمْ اللَّهُ حَلالاً طَيِّباً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي أَنْتُمْ بِهِ مُؤْمِنُونَ۔ (المائدہ  5:87-88)  اے ایمان والو! اللہ نے جو پاک چیزیں تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرو۔ حد سے نہ بڑھو کیونکہ بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ نے جو حلال اور پاکیزہ چیزیں تمہیں دی ہیں ، ان میں سے کھاؤاور اللہ سے ڈرتے رہوجس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ 

    موجودہ دور میں بھی بہت سے ایسے لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے دین پر چلنے کی توفیق دی ہے، دنیا کو بالکل نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر میرے کئی جاننے والوں نے اپنی تعلیم کو اس لئے خیرباد کہا کہ وہ اپنا وقت تعلیم کی بجائے اپنی دینی جماعت کی سرگرمیوں میں لگانا چاہتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد انہیں اپنی جماعت سے نظریاتی اختلافات پیدا ہوگئے جس کے نتیجے میں انہیں اس سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اب وہ صورتحال سامنے آئی کہ   نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے ۔ 

     اسی طرح میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو دین کی تبلیغ کے لئے اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر کئی کئی ماہ کے لئے چلے جاتے ہیں اور ان کے خاندان کا خرچ ان کے رشتہ داروں کو بادل نخواستہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ وہ رشتہ دار ان کا خرچ اٹھانے پر جس طرح کی طعن و تشنیع کرتے ہیں اور اس سے ان کی بیوی اور بچوں کی عزت نفس جس بری طرح سے مجروح ہوتی ہے اس کا حال وہی جانتے ہیں یا پھر خدا جانتا ہے۔ یہ لوگ یقینا اللہ تعالیٰ کے ایک حکم پر تو عمل کر رہے ہیں لیکن دوسرے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اسی کا نام انتہا پسندی ہے۔ 

رہبانیت اور دنیا پرستی کی انتہائیں

اس کے بالکل برعکس ہمارے معاشرے کا عمومی رجحان دنیا پرستی کا ہے جو کہ انتہا پسندی کی دوسری شکل ہے۔ اپنی چند سالہ دنیا کو خوبصور ت بنانے کے لئے ہم آخرت کو مکمل طور پر نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔ کاروبار یا ملازمت میں ترقی کے لئے ہم اپنا خون پسینہ ایک کردیتے ہیں۔ دفاتر میں خود کو زیادہ محنتی ثابت کرنے لئے آٹھ گھنٹے کی بجائے سولہ سولہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں نمازیں بے شک قضا ہوں، اولاد کی تربیت سے جتنی چاہے غفلت ہو جائے، دین کے تقاضے جتنا چاہے نظر انداز ہو جائیں،ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی حتیٰ کہ ہمیں اپنی روحانی صحت کے علاوہ جسمانی صحت کا بھی خیال نہیں رہتا اور ہم اپنی جسمانی صحت کو بہتر بنانے کا وقت نکالنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے۔

     یہ درست ہے کہ غیر منصفانہ معاشرتی و معاشی نظام کی وجہ سے اکثر مالکان اپنے ملازمین کا خون چوستے ہیں اور انہیں کم سے کم تنخواہ دے کر ان سے زیادہ سے زیادہ وقت کام کروانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایسے ملازمین کی بھی کمی نہیں جو محض اپنے شوق میں دن رات کام میں مشغول رہتے ہیں۔  اسی طرح بہت سے کاروباری حضرات اپنے بزنس میں اس طرح مگن ہوتے ہیں کہ انہیں دین و دنیا کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ یہ بھی انتہا پسندی ہی کی ایک شکل ہے۔

     عیسائی حضرات کے تصوف اور رہبانیت کی اس تحریک نے مسلمانوں کو بھی متاثر کیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کے ہاں صوفی تحریک خالصتاً تزکیہ نفس کی تحریک تھی جس کا مقصد دنیا پرستی کے غلبے سے مسلمانوں کو بچانا تھا۔ بعد کے بہت سے صوفی یہودی، عیسائی، مجوسی اور ہندو تصوف سے بہت متاثر ہوئے اور ترک دنیا کی تحریک ان میں عام ہو گئی۔ خانقاہیں بننے لگیں اور لوگ دنیا کو ترک کر کے جنگلوں میں نکلنے لگے۔

     موجودہ دور میں دنیا پرستی کو جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کے نتیجے میں ترک دنیا کی یہ تحریک کم از کم مسلمانوں میں دم توڑ چکی ہے اور خانقاہوں پر تارک الدنیا صوفیا کے جانشین بیٹھے ہیں جو اپنے بزرگوں کے برعکس دنیا پرستی میں کسی طور بھی عام لوگوں سے کم نہیں ہیں۔ دنیا کی رنگینیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے انہوں نے یہ حل نکالا ہے کہ "دنیا کی محبت اگر دل میں نہ ہو تو اس کی چیزوں کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔"

     دین اسلام ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال کا راستہ پیش کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دین اور دنیا میں توازن قائم کرتے ہوئے دونوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔ رہبانیت ہو یا دنیا پرستی، دونوں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔

خلیج سویز

اب ہم یہاں سے واپس ہوئے۔ سینٹ کیتھرین کے گیٹ سے نکل کر گاڑی میں بیٹھے اور قاہرہ کی طرف اپنا رخ کر لیا۔ ایک گھنٹے میں ہم واپس اسی مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں سے ایک دن پہلے ہم سینٹ کیتھرین کے لئے مڑے تھے۔ اب ہم خلیج سویز کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے جس کا نیلا پانی دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ خلیج سویز کے مناظر خوبصورت تھے لیکن ان کی نسبت سینا کے دوسری جانب خلیج عقبہ کے مناظر زیادہ خوبصورت تھے۔

عمارتوں کی شکل میں تراشی ہوئی چٹانیں

     کچھ ہی دیر میں ہم ایسے پہاڑوں کے قریب سے گزرے جنہیں باقاعدہ عمارتوں کی شکل میں تراشا گیا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق یہاں چاند دیوی کے ماننے والوں کی آبادی تھی۔ غالباً یہیں سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے مشرک اقوام کے معبودوں کو دیکھتے ہوئے سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے درخواست کی تھی کہ وہ بھی انہیں ایسا ہی معبود بنا دیں۔

     آگے ایک چھوٹا سا قصبہ "ابو ردیس" آیا۔ میں نےیہاں رک کر کوک اور ایک پین خریدا۔ قصبے کی دکانیں اور بازار ہمارے بٹ گرام اور بٹ خیلہ کا منظر پیش کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں ہم "حمام فرعون" کے مقام پر جا نکلے۔ اس جگہ کے بارے میں مشہور ہے کہ فرعون منفتاح ، جو کہ سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے پر آ کر غرق ہوا تھا، کی لاش یہاں تیرتی ہوئی ملی تھی۔ مصریوں نے اپنے بادشاہ کی لاش دیکھ کر اسے حنوط کر کے محفوظ کر لیا۔      کچھ آگے جا کر ہم "عیون موسی" کے مقام پر پہنچ گئے۔ اس جگہ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ بنی اسرائیل نے اس مقام سے سمندر کو پار کیا تھا اور فرعون اپنی فوج سمیت سمندر میں غرق ہو گیا تھا۔

مصر اسرائیل جنگ

اس مقام پر 1973ء کی جنگ کی یادگار بنی ہوئی تھی۔ یہاں مصری سپاہیوں کے مجسمے بھی تھے جن کی مدد ایک فرشتے کو کرتے دکھایا گیا تھا۔ غالباً مصر میں اس طرح کی کہانیاں عام ہوں گی جیسا کہ ہماری 1965ء کی جنگ کے بارے میں مشہور کر دی گئی ہیں کہ بھارتی جہازوں کے دریائے راوی کے پل پر پھینکے ہوئے بم کو کوئی بزرگ دریائے راوی سے نکل کر کیچ کر لیتے تھے اور دریا میں غوطہ لگا جاتے تھے۔

مصر اسرائیل جنگ کی یادگار

     مصری افواج نے سینا کا کچھ حصہ اسرائیلی افواج سے چھڑا لیا تھا جس پر مصر کو فخر حاصل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسرائیلی افواج نے اس کے بدلے میں مصر کے مین لینڈ کے اتنے ہی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس وقت مصر کے صدر انور سادات تھے جو جمال عبدالناصر کی نسبت کافی معقول اور حقیقت پسند تھے۔ انہوں نے اس جنگ سے یہ سبق حاصل کیا کہ وہ اسرائیل سے تو لڑ سکتے ہیں مگر امریکہ سے نہیں۔ امریکہ کے ایماء پر انہوں نے اسرائیل سے صلح کر کے اسے تسلیم کر لیا جس کے بدلے اسرائیل نے مصر کو جزیرہ نما سینا واپس کر دیا۔

نہر سویز

دوپہر تک ہم نہر سویز کے قریب پہنچ چکے تھے۔ سمندر اب ختم ہو چکا تھا۔ جزیرہ نما سینا اور مصر کے مین لینڈ کی سرحد نہر سویز ہے۔ اس نہر کا آئیڈیا تو بہت پرانا ہے لیکن دفاعی نقطہ نظر سے اس نہر کو کبھی تعمیر نہ کیا گیا۔

     انیسویں صدی میں جب مصر انگریزوں کے قبضے میں آیا تو انہوں نے 1869ء میں نہر سویز کھود ڈالی۔ اس دور کے انگریز ذرائع نقل و حمل کو ترقی دینے کے لئے مشہور تھے۔ یہ وہی دور ہے جب انگریز برصغیر میں ریل بچھا رہے تھے۔ یہ نہر، جہاز رانی کی دنیا میں ایک بڑا بریک تھرو تھی جس کے نتیجے میں ایشیا سے یورپ جانے والے بحری جہازوں کا فاصلہ کئی ہزار کلومیٹر کم ہو گیا تھا۔

     نہر سویز، سویز کی بندرگاہ سے شروع ہو کر پورٹ سعید تک جاتی ہے۔ نہر کی کل لمبائی 170 کلومیٹر ہے۔ اس کی چوڑائی عام طور پر تین سو میٹر ہے اور بڑے سے بڑا بحری جہاز اس میں سے باآسانی گزر سکتا ہے۔ مصر کی معیشت کا بڑی حد تک انحصار نہر سویز کی آمدنی پر ہے۔ اسرائیل کا ارادہ بھی ہے کہ وہ خلیج عقبہ کو ایک نہر کے ذریعے ڈیڈ سی سے اور پھر ڈیڈ سی کو ایک اور نہر کے ذریعے بحیرہ روم سے ملا دے۔ اگر یہ نہر بن گئی تو مصر کی آمدنی کو بڑا دھچکا پہنچنے کا خطرہ ہے۔

     نہر سویز کو پار کرنے کے لئے پل کی بجائے سرنگ بنائی گئی تھی۔ دو مصری پاؤنڈ ٹول ٹیکس ادا کر کے ہم سرنگ میں داخل ہوئے۔ یہ پتلی سی سرنگ تھی جس میں ٹریک اتنا تنگ تھا کہ اوور ٹیک کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ اسے دیکھ کر مجھے مکۃ المکرمۃ کی سرنگیں یاد آئیں جو کہ نہایت ہی کشادہ ہیں۔ نصف کلومیٹر لمبی سرنگ سے نکلتے ہی ایک ریسٹ ایریا آ گیا۔ یہاں رک کر ہم نے نماز ادا کی۔ یہاں بیٹھے کچھ مصریوں سے میں نے پوچھا کہ کہیں کوئی ایسا مقام ہے جہاں سے ہم نہر سویز کو دیکھ سکیں۔ وہ کہنے لگے، "نہر سویز پوری کی پوری فوج کی تحویل میں ہے اور اس تک جانے کے تمام راستے بند ہیں۔"

     اب میری گاڑی کے پہیوں سے عجیب سی آواز نکل رہی تھی۔ قریب ہی ایک صاحب اپنی گاڑی کا بونٹ اٹھائے کھڑے تھے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ میری گاڑی بھی دیکھ لیں۔ دیکھ کر انہوں نے کہا، "گھبرانے کی کوئی بات نہیں، پاور اسٹیرنگ آئل ذرا کم ہو گیا ہے، وہ ڈال لیں تو آواز ٹھیک ہو جائے گی۔" میں نے ایسا ہی کیا جس کے نتیجے میں آواز ختم ہو گئی۔ مصر میں میں نے یہ پہلے صاحب دیکھے جنہوں نے داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ بڑے خوش مزاج تھے۔ سعودی عرب کے شہر دمام میں کام کرتے تھے اور ہماری طرح وہاں سے اپنی گاڑی پر مصر جا رہے تھے۔

     مصری بالعموم داڑھی نہیں رکھتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے فقہا کے نزدیک داڑھی رکھنا "واجب" نہیں بلکہ "مستحب" ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مصری حکومت داڑھی والوں کو اخوان المسلمون کا نمائندہ سمجھتی ہے اور ان سے تفتیش کا سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں رہنے والے بہت سے مصری داڑھی رکھ لیتے ہیں لیکن جب سالانہ چھٹیوں پر یہ لوگ مصر جاتے ہیں تو داڑھی منڈوا دیتے ہیں اور واپسی پر پھر رکھ لیتے ہیں۔ مجھے مصری کولیگز نے بتایا تھا کہ آپ بے فکر ہو مصر جا سکتے ہیں کیونکہ غیر ملکی داڑھی والوں کو کچھ نہیں کہا جاتا۔

سویز شہر

ہم نے سوچا کہ ذرا سویز شہر بھی دیکھ لیا جائے۔ شہر یہاں سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ شہر میں داخل ہوئے تو ریلوے پھاٹک نے ہمارا استقبال کیا۔ جس زمانے میں انگریزوں نے ہمارے ہاں ریلوے لائن بچھائی تھی، اسی زمانے میں انہوں نے مصر میں بھی ریلوے لائن بچھا ڈالی تھی۔ مصر کی ریلوے لائن کو دیکھتے ہوئے لگ رہا تھا کہ ہم نے اپنی ریل کو کافی اپ گریڈ کر لیا ہے کیونکہ یہاں ابھی تک تنگ گیج کی لائن بچھی ہوئی تھی۔          سویز شہر کے جس علاقے میں ہم داخل ہوئے وہ لاہور کی چمڑہ منڈی، سلطان پورہ اور تیزاب احاطے کی طرز کا علاقہ تھا۔ ویسی ہی ریلوے لائن، ویسے ہی مکانات اور ویسا ہی ٹریفک۔ ہم یہاں سے واپس ہوئے۔

بحیرات مرۃ یا کڑوی جھیلیں (Bitter Lakes)

نہر سویز کے بیچوں بیچ دو جھیلیں ہیں جو "بحیرات مرۃ" یعنی کڑوی جھیلیں کہلاتی ہیں۔ یہ جھیلیں اسماعیلیہ شہر کے قریب واقع ہیں اور سمندر کے مدوجزر کو جذب کر کے نہر میں پانی کی سطح بلند نہیں ہونے دیتیں۔ گوگل ارتھ سے یہ کافی خوبصورت نظر آ رہی تھیں۔ میرا ارادہ تھا کہ یہ جھیلیں دیکھی جائیں۔ ایک دکاندار سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ جھیلیں بھی فوج کے قبضے میں ہیں اور یہاں جانا ممکن نہیں۔ پوری نہر سویز مصری فوج کے زیر کنٹرول ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نہر سے گزرنے والے جہازوں پر دہشت گرد، نہر کے کنارے سے راکٹ فائر کر کے حملہ کر سکتے ہیں۔

     اسماعیلیہ شہر سے مجھے حسن البناء یاد آ گئے جنہوں نے اس شہر میں اخوان المسلمون کی بنیاد رکھی تھی۔ اخوان مسلم اور بالخصوص عرب دنیا میں سب سے منظم اسلامی تحریک سمجھی جاتی ہے اس لئے بہتر ہے کہ لگے ہاتھوں اس کا تعارف بھی پیش کر دیا جائے۔

اخوان المسلمون

اخوان المسلمون کی بنیاد 1928ء میں اسماعیلیہ کے قصبے میں پڑی۔ اس کے بانی حسن البناء تھے۔ ابتدا میں اس تحریک نے سماجی اور فلاحی نوعیت کے کاموں پر اپنی توجہ رکھی لیکن جلد ہی یہ تحریک سیاسی میدان میں آ گئی۔ اس تحریک نے معاشرے کی اصلاح کے لئے ٹاپ ڈاؤن ماڈل کو اختیار کیا۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ حکومت تبدیل کر کے اسلام کا نظام خلافت رائج کیا جائے اور اس کی مدد سے معاشرے کی اصلاح کی جائے۔

     مصر پر اس وقت شاہ فاروق کی حکومت تھی جو مصری معاشرے کو مغربی رنگ میں رنگنا چاہتے تھے۔ اخوان المسلمون کی تحریک ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ تھی۔ اخوان کی حکمت عملی بالعموم عدم تشدد کی تھی لیکن ان کے مخالفین کے بیان کے مطابق ان کا ایک خفیہ عسکری ونگ کام کر رہا تھا۔ 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اخوان نے اپنے ممبرز کو اسرائیل کے خلاف جنگ کرنے کے لئے بھیجا۔ دسمبر 1948ء میں پولیس نے اخوان کے خفیہ ونگ کے خلاف ایک آپریشن میں بم اور دیگر اسلحہ پکڑ لیا۔

     اس زمانے میں اخوان مصری معاشرے میں مضبوط پوزیشن حاصل کر چکے تھے۔ ان کے اپنے ہسپتال، فیکٹریاں اور اسکول کام کر رہے تھے۔ مصری حکومت نے اس خفیہ ونگ کو انقلابی تحریک سمجھتے ہوئے اخوان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ اسی دوران ایک اخوانی نے مصر کے وزیر اعظم محمود فہمی النقریشی کو قتل کر دیا۔ حسن البناء نے ان تمام متشددانہ کاروائیوں کی مخالفت کی اور خود کو اس سے بری الذمہ قرار دیا۔ فروری 1949ء میں ایک نامعلوم شخص نے حسن البناء کو قتل کر دیا۔

     اخوان کی یہ تحریک مغربی کلچر کے اثر و نفوذ، سیکولر نیشنلزم کے خطرے اور مغربی امپیریل ازم کی موجودگی کے خلاف رد عمل کے طور پر وجود میں آئی۔اخوان نے اسلام کی نظریاتی خود کفالت پر زور دیا۔ یہ مغرب کی شدید مخالف جماعت تھی۔ انہوں نے مغرب اور مشرق کے کیپٹلزم اور سوشلزم کو مسلم دنیا کے لئے ماڈل ماننے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مسلم معاشروں کی ویسٹرنازیشن اور سیکولر ائزیشن، نیشنلزم کی تقسیم امہ، کیپٹلزم کے معاشی تفاوت اور مارکسزم کی مادیت پرستی اور خدا کے انکار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا کہ وہ یاد رکھیں کہ ان سب سے ہٹ کر ان کے پاس اسلام موجود ہے جو غیر ملکی ماڈلز اور سسٹمز کا بہترین متبادل ہے۔

     1952ء میں ایک فوجی انقلاب کے نتیجے میں جمال عبدالناصر نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس بغاوت میں اخوان نے ناصر کا ساتھ دیا۔ اقتدار کے بعد ناصر نے اخوان سے سرد مہری کا رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے اسلام کو اپنا رول ماڈل ماننے کی بجائے عرب سوشلزم کو فروغ دیا۔ صنعتوں کو قومی تحویل میں لے لیا گیا اور عرب قومیت کو فروغ دیا گیا۔ اس دوران اخوان کے آپس میں تنظیمی اختلافات بڑھتے گئے۔ 1954ء میں اخوان نے ناصر پر قاتلانہ حملہ کیا جس کے بعد ناصر نے اخوان پر مکمل پابندی عائد کر کے اس کے ہزاروں ممبرز کو جیل بھجوا دیا۔ ان افراد کو سالوں جیل میں رکھا گیا جس کے نتیجے میں اخوان میں انتہا پسندی نے فروغ پایا۔

     1960ء کے عشرے میں سید قطب اخوان کے سب سے بڑے مفکر اور لیڈر بن کر ابھرے۔ 1966ء میں ناصر نے سید قطب کو بھی پھانسی دے دی جس کے بعد اخوان میں شدت پسندی بڑھتی چلی گئی اور وہ طاقت کے زور پر موجودہ حکومت کو ختم کر کے اسلامی حکومت کے قیام کے لئے سرگرم عمل ہو گئے۔ 1967ء  میں عرب اسرائیل جنگ میں مصر کی شکست کے نتیجے میں جزیرہ نما سینا اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ جنگ عرب قومیت کے جذبے کے تحت لڑی گئی تھی۔ اس جنگ کے نتیجے میں عرب سوشلزم اور ناصر کی مقبولیت کم ہونے لگی۔ 1970ء میں ناصر اچانک فوت ہو گئے۔

     ناصر کے بعد انور سادات کی حکومت آئی جنہوں نے اخوان سے اچھا سلوک کیا اور حکومت کو اسلامی بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ انہوں نے بہت سے اخوان کو رہا کر دیا۔ 1978ء میں سادات نے اسرائیل سے صلح کر لی جس کے نتیجے میں اخوان سادات کے خلاف ہو گئے۔ اس دوران ان کے بہت سے شدت پسند گروپ ان سے الگ ہو گئے۔ اخوان نے ان گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ ایسے ہی ایک گروپ الجہاد کے ایک کارکن لیفٹیننٹ خالد اسلامبولی نے 1981ء سادات کو میں قتل کر دیا۔

     سادات کے بعد حسنی مبارک مصر کے صدر بنے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی ایام میں اخوان کو کسی حد تک برداشت کیا لیکن انتہا پسند گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا۔ مذہبی انتہا پسندوں کو سائیڈ لائن کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں ان کے غیض و غضب میں اضافہ ہوا اور انہوں نے عیسائی گرجوں اور ان کی دکانوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔بڑے شہروں میں نائٹ کلبوں، باروں، سینماؤں، ویڈیو سنٹروں اور جو بھی چیز مغربی اثر و نفوذ کو ظاہر کرتی تھی، کو آگ لگا دی گئی یا بم سے اڑا دیا گیا۔اسلامی قانون کے نفاذ کے لئے مظاہرے کئے گئے۔ ان گروپوں کی باقیات اب ڈاکٹر ایمن الظواہری کی قیادت میں القاعدہ میں شامل ہو چکی ہیں۔

     اخوان المسلمون نے اپنی حکمت عملی مکمل طور پر تبدیل کر دی۔ اب انہوں نے تشدد کا سہارا لینے کی بجائے معاشرے میں اصلاح کے عمل کا آغاز کیا۔ اس دوران انہوں نے محدود تعداد میں پارلیمنٹ کے الیکشن میں حصہ بھی لیا اور خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کو مغربی مفکر جان ایل ایسپوزیٹو اس طرح بیان کرتے ہیں:

1990 کا عشرہ مصر میں ایک نئی تبدیلی لے کر آیا۔ اسلام جو پہلے غریبوں یا لوئر مڈل کلا س تک ہی محدود تھا، اب مڈل اور اپر کلاس میں بھی مقبولیت حاصل کرنے لگا۔تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ، کسان اور پروفیشنلز، بوڑھے اور جوان اور مرد و عورت سب قرآن کے مطالعے کے گروپس میں آنے لگے۔اب اسلامی شناخت کا اظہار محض مذہبی رسوم و رواج ہی سے نہیں بلکہ سماجی سرگرمیوں میں بھی ہونے لگا۔ اس کی مثال منشیات کے علاج کے سنٹر، میڈیکل کیمپ، قانونی مدد فراہم کرنے والی سوسائیٹیز اور ایسی تنظیموں ہیں جو سستے مکانات اور خوراک فراہم کرتی ہیں۔علماء اور مساجد کا کردار بھی معاشرے کی تعمیر میں بڑھنے لگا ۔

مذہبی رہنما جیسے شیخ محمد مطاولی الشراوی اور شیخ عبدالحمید مقبول ترین میڈیا سٹار بن گئے۔ان کی تقاریر باقاعدگی سے ٹی وی پر نشر کی جانے لگیں اور ان کی کتب مذہبی اداروں سے ہٹ کر عام دکانوں پر بھی بکنے لگیں۔اب مذہبی تقاریر صرف مساجد تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ یہ ٹیکسیوں، بسوں، گھروں، دکانوں اور بازاروں میں بھی آڈیو کیسٹوں کی شکل میں پھیل گئیں۔رسالوں اور میگزینوں میں سیاست دانوں اور فلمی اداکاروں کے علاوہ اب علماء کو بھی کوریج دی جانے لگی ۔ ان تمام چیزوں کے نتیجے میں انقلابیوں کی اہمیت معاشرے میں کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ (John L. Esposito, The Islamic Threat: Myth or Reality)

مصری حکومت کی جانب سے اخوان کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ کسی حد تک اب تک جاری ہے۔ یہ اب بھی مصر کا سب سے مضبوط اپوزیشن گروپ ہے۔ اخوان کی شاخیں تمام عرب ممالک کے علاوہ مغربی ممالک میں بھی موجود ہیں۔

     اخوان کی ویب سائٹ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ان کا تنظیمی ڈھانچہ متعدد درجوں پر مشتمل ہے۔ تنظیم کا سب سے نچلا یونٹ "اسرۃ" یعنی خاندان کہلاتا ہے۔ نئے آنے والے افراد کو اسرہ کا ممبر بنایا جاتا ہے۔ تنظیم کی آئیدیالوجی کے مطابق ان کی تربیت کی جاتی ہے۔ یہ یونٹ "اسرۃ التکوین" کہلاتا ہے۔ اس تربیت کے نتیجے میں منتخب افراد کو "اسرۃ العمل" میں بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ افراد دراصل اخوان کے سب سے زیادہ متحرک رکن ہوتے ہیں۔ انہی افراد کو ان کی مزید تربیت اور خدمات کے نتیجے میں درجہ بدرجہ سینئر لیول تک لے جایا جاتا ہے۔

     تربیت پانے کے مختلف درجے ہیں۔ ابتدائی درجہ "ناصر" ہے جس کا معنی ہے مددگار۔ اس کے بعد منفذ (نفاذ کرنے والا)، عامل (عمل کرنے والا) اور مجاہد (جہاد کرنے والا) کے درجے آتے ہیں۔ سب سے سینئر درجہ نقیب کا ہے۔ اخوان کے ایکٹو ممبرز کا اصل ٹارگٹ تعلیمی ادارے ہوتے ہیں جہاں سے نئے افراد کو تنظیمی ماحول کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

     اخوان معاشرے میں تبدیلی کا ایک ہمہ جہتی وژن رکھتی ہے۔ ان کے مطابق معاشرے میں تعلیمی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں سے اصلاح کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ اخوان خواتین کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں البتہ انہیں باپردہ رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ اہل مغرب کے خلاف مسلح مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں۔

     اپنے ابتدائی پچاس سالوں میں اخوان جو کامیابی حاصل نہ کر سکی، اس نے آخری بیس سالوں میں اس سے کہیں بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اخوان نے حکومت حاصل کرنے کو اپنا مقصد حیات بنا کر تشدد کا راستہ اپنانے کی بجائے مثبت انداز میں دعوتی کام پر اپنی توجہ مرکوز کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج مصری معاشرے میں تمام تر مغرب زدگی کے باوجود اسلام کی حقیقی تعلیم تیزی سے پھیل رہی ہے۔

 

اگلا باب                                              فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability