بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Religion & Ethics

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity

اخلاقیات اور مذہب

اعلی اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری، امن اور انسانیت کی محبت سے وابستہ

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

قرآن اور بائبل کے دیس میں

 

حصہ اول کو ہائی ریزولوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ  کیجیے (سائز 25MB)

حصہ اول کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 16MB)

حصہ اول کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

 

حصہ دوم کو میڈیم ریزولیوشن تصاویر کے ساتھ ڈاؤن لوڈ کیجیے ( سائز 18MB)

حصہ دوم کو بغیر تصاویر کے ڈاؤن لوڈ کیجیے (سائز 5MB)

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

سفر ہجرت

سوئے مدینہ

 سعودی عرب پہنچنے کے بعد پہلے ویک اینڈ پر میں نے مکہ کا سفر کیا۔ دوسرے ویک اینڈ پر مدینہ کا ارادہ تھا۔ اس ویک اینڈ تک مجھے ڈرائیونگ لائسنس نہ مل سکا تھا۔ جدہ سے مدینہ جانے کے متبادل ذرائع بس اور ٹیکسی ہے۔ بسیں عموماً رات کو دس بجے روانہ ہوتی ہیں۔ اگر میں اس پر سفر کرتا تو مدینہ جانے کے راستے کو نہ دیکھ پاتا جس سے مجھے سالوں پرانا جذباتی تعلق رہا ہے۔ ٹیکسی کا سفر خاصا مہنگا ثابت ہو سکتا تھا۔ ان وجوہات کی بنیاد پر میں نے مدینہ کا سفر تیسرے ویک اینڈ تک موخر کیا۔ اس ہفتے میں مجھے خوش قسمتی سے ڈرائیونگ لائسنس بھی مل گیا۔ سعودی عرب میں گاڑی خریدنے کے لئے لائسنس کی شرط ہے۔ فوری طور پر میرے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ میں گاڑی خرید سکوں چنانچہ میں نے ایک کار کرائے پر لی اور اس پر مدینہ روانہ ہوا۔ یہ ٹیکسی اور بس کی نسبت کافی سستا ذریعہ ہے۔

          تقریباً سو کلومیٹر چلنے کے بعد یہ روڈ دو شاخوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ ایک روڈ رابغ اور ینبوع کے ساحلی شہروں کی طرف چلی جاتی ہے اور دوسری مدینہ اور پھر آگے تبوک کی طرف روانہ ہوتی ہے۔ اس سے تھوڑا سا آگے جا کر یہ روڈ مکہ سے آنے والی موٹر وے میں مل جاتی ہے۔ مکہ سے مدینہ موٹر وے اس راستے پر بنائی گئی ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ہجرت فرمائی تھی۔اسے طریق الہجرہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ قارئین کو جدہ مدینہ روڈ سے زیادہ طریق الہجرہ میں دلچسپی ہوگی، اس لئے اس سفر نامے میں میں اپنے اس سفر کا ذکر کروں گا جو میں نے طریق الہجرہ پر کیا۔

          جدہ سے مدینہ میں دو بار جدہ مدینہ موٹر وے کے راستے جا چکا تھا۔ اس راستے کا تقریباً 70 فیصد حصہ طریق الہجرہ پر مشتمل ہے ۔ اس کے باوجود مجھے یہ شدید خواہش تھی کہ کسی دن مکہ سے مدینہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے نقش قدم پر سفر کیا جائے۔ ایک دن یہ خواہش اس طرح پوری ہو ئی کہ ہم لوگ علی الصبح جدہ سے مدینہ کے لئے براستہ مکہ روانہ ہوئے۔ میرے ساتھ میری اہلیہ اور بچیاں تھیں۔ اسماءنے حسب روایت سفر نامے کے لئے نوٹس لینا شروع کئے۔ ہم لوگ مکہ کے راستے میں دوسرے سروس ایریا پر رکے تاکہ گاڑی کے ٹائروں میں ہوا وغیرہ چیک کروا لی جائے۔ مکینک نے یہ کہہ کر ایک کی بجائے دو ریال وصول کئے کہ صبح کا وقت ہے اور آپ پہلے گاہک ہیں۔ ہمارے یہاں بوہنی کروانے والے کو خصوصاً رعایت دی جاتی ہے لیکن یہاں الٹا رواج تھا۔

          مکہ کے راستے میں بہت سی سنہری وادیاں ہیں۔ یہاں جب شام کی سنہری دھوپ میں ریت چمکتی ہے تو دور دور تک سنہرا رنگ بکھرا نظر آتا ہے۔ اس کی تفصیل میں سفر مکہ میں بیان کر چکا ہوں۔ یہی وادیاں صبح کے وقت ہلکے پیلے اور گرے رنگ کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ تھوڑا سا آگے ایک ہورڈنگ پر موبائل فون کا عربی اشتہار تھا جس میں بطور خاص یہ فیچر بیان کیا گیا تھا کہ اس میں اگر نماز کا سالانہ نظام الاوقات سیٹ اپ کردیا جائے تو اذان کے اوقات میں باقاعدہ اذان دی سنائی دیتی ہے۔

          عین ممکن ہے کہ یہ فیچر غیر مسلموں نے ڈیویلپ کیا ہو۔ یہ کمرشل سوچ کا کمال ہے کہ اس نے مسلمانوں کی ڈیمانڈ کا اندازہ لگاتے ہوئے اس میں ان کے مذہب سے متعلق فیچر داخل کر دیا۔ مسلم ممالک میں تو شاید اس کی کوئی خاص اہمیت نہ ہو لیکن غیرمسلم ممالک کے سفر کے دوران یہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جب انسان کو کئی کئی دن اذان کی آواز سننے کو نہیں ملتی۔ اسی کمرشل سوچ کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے جائے نماز، تسبیحیں اور ٹوپیاں چین سے بن کر آتی ہیں۔

          جدہ مکہ موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے ہم لوگ مکہ میں داخل ہوئے۔ مکہ کے تیسرے رنگ روڈ سے ہم نے بائیں جانب کا رخ کیا۔ یہ رنگ روڈ سیدھی جبل ثور سے آ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوتی ہے۔ مدینہ مکہ کے شمال میں واقع ہے اور جبل ثور جنوب میں۔ مدینہ کا پرانا نام یثرب ہے۔ جب کثیر تعداد میں یثرب کے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو بحیثیت حکمران یثرب آنے کی دعوت دی تو کفار مکہ نے اس بات کو اپنے لئے ایک ممکنہ خطرہ (Potential Threat) سمجھتے ہوئے دار الندوہ میں مجلس مشاورت منعقد کی۔

          چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا اپنا خاندان بنی ہاشم مکہ میں بہت اثر و رسوخ والا خاندان تھا اس لئے یہ لوگ آپ کی ذات کے خلاف کوئی بڑی کاروائی کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچنا چاہتے تھے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ایک ٹیم جا کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو شہید کر دے اور اس ٹیم میں ہر قبیلے کے افراد ہوں تاکہ بنی ہاشم سب سے قصاص کا مطالبہ نہ کرسکیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ لوگ دیت (قصاص کے بدلے لی جانے والی رقم)  کا مطالبہ کریں گے جو تمام قبائل کے لئے پورا کرنا کچھ مشکل نہ ہوگا۔

سفر ہجرت اور غار ثور

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم، اللہ تعالیٰ کے محض نبی ہی نہیں بلکہ اس کے آخری رسول بھی ہیں۔ رسول اپنی قوم کے لئے آسمانی حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ نبی چونکہ انسانی صلاحیتوں کی بنیاد پر اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہے اس لئے اس کو اس کے مخاطبین شہید بھی کر سکتے ہیں مگر رسول کی حفاظت براہ راست اللہ تعالیٰ کرتا ہے کیونکہ کوئی بھی اللہ کے رسول پر غالب نہیں آسکتا۔

          اللہ تعالیٰ نے خاص اہتمام کے ذریعے اپنے رسول کو یثرب کی جانب ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے اس سفر کا علم بہت ہی کم لوگوں کو تھا جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔ کفار نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے گھر کا محاصرہ کر لیا تاکہ آپ کو شہید کر دیا جائے۔ اس ایمرجنسی کی حالت میں بھی آپ نے اخلاقیات کا اعلیٰ ترین معیار قائم کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ کی امانتیں واپس کرنے پر مامور فرمایا۔ یہ امانتیں ان لوگوں کی بھی تھیں جو آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے آپ سے دشمنی پر اترے ہوئے تھے۔

                   اس انتظام سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے ان لوگوں کی طرف مٹی پھینکی جو آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے آئے تھے۔ یہ لوگ اندھے ہو گئے اور آپ کو نہ دیکھ سکے۔ ہجرت کا انتظام کرنا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ذمے داری تھی۔ آپ نے پہلے ہی سے سواریاں تیار رکھی ہوئی تھیں۔ ان پر سوار ہو کر حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم اور سیدنا ابوبکر مدینہ کی بجائے اس کی مخالف سمت میں چل پڑے اور آکر غار ثور میں پناہ لی۔ کفار آپ کو تلاش کرتے ہوئے یہاں بھی آ پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ کے خصوصی (Divine) انتظامات کی وجہ سے آپ تک نہ پہنچ سکے۔ قرآن مجید اس واقعے کو اس طرح بیان کرتا ہے۔

فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔ (توبہ 9:40)

”اللہ ان (اپنے رسول کی) مدد اس وقت کر چکا ہے جب کفار نے انہیں نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو (ساتھیوں میں سے ) ایک تھے۔ جب وہ دونوں غار میں تھے، اس وقت وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے ، ’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘ اس وقت اللہ نے ان پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور ان کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تمہیں نظر نہ آتے تھے۔ اس نے کفار کا قول نیچا کر دکھایا اور اللہ کا کلمہ بلند کر دیا۔ اور اللہ بہت زبردست اور حکمت والا ہے۔“

          غار ثور میں قیام کے دوران سیدنا ابوبکر کے بیٹے عبد اللہ ، بیٹی اسماءاور غلام عامر (رضی اللہ عنہم) آپ دونوں کو خوراک پہنچاتے رہے۔ اس سے خانوادہ ابو بکر پر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے اعتماد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ تین دن بعد یہ دونوں حضرات ہجرت کے سفر پر روانہ ہوئے۔ان دونوں حضرات نے یثرب جانے والے تجارتی قافلوں والے عام راستے کی بجائے ایک علیحدہ راستہ اختیار کیا۔ اسی راستے پر اب جدید موٹر وے طریق الہجرہ بنی ہوئی ہے جو وادی قدید کے راستے مدینہ کی طرف رواں دواں ہوتی ہے۔ تجارتی قافلوں والے عام راستے پر مکہ سے مدینہ جانے والی قدیم سڑک بنی ہوئی ہے جو رابغ ، جحفہ اور بدر سے ہوکر مدینہ پہنچتی ہے۔ حال ہی میں اسے بھی موٹر وے بنا دیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں اب طریق الہجرہ پرانی سڑک معلوم ہوتی ہے۔ یہ موٹر وے مقام تنعیم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ چھ لین کی موٹر وے ہے۔ جدہ مکہ روڈ کے مقابلے میں یہاں اتنا زیادہ ٹریفک نہیں ہوتا کہ آٹھ لین کی موٹر وے بنائی جائے۔

مدینے کا سفر ہے اور ۔۔۔۔

مقام تنعیم سے چلے تو تھوڑی دور جا کر جموم شہر آگیا۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ یہاں سے دائیں جانب طائف اور بائیں جانب جدہ کے لئے راستہ نکلتا ہے۔ جموم ایک وسیع سرخ وادی پر مشتمل ہے جس کے بیک گراؤنڈ میں سیاہ اور سرخ پہاڑ خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ یہاں ایک زرعی فارم بھی تھا۔ ایک بورڈ پر ”مدینہ 405 کلومیٹر“ لکھا ہوا تھا۔ دل پر ایک اضطراب کی کیفیت طاری ہوگئی۔

سنبھل جا اے دل مضطر ، مدینہ آنے والا ہے

لٹا اے چشم تر گوہر، مدینہ آنے والا ہے

          جموم سے آگے جاکر ایک مقام پر حجاج گروپنگ سینٹر نظر آیا۔ اس وقت یہ ویران پڑا ہوا تھا۔ شام، اردن اور سعودی عرب کے شمالی علاقہ جات سے براستہ سڑک آنے والے حجاج اسی راستے سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے آتے ہیں۔ بائیں جانب دور اونچے اونچے پہاڑ نظر آ رہے تھے جن کی بلندی اس راستے کے عام پہاڑوں کی نسبت خاصی بلند تھی۔ صحرا میں ایک راستہ بنا ہوا تھا جس کے کنارے کھجور کے درخت طویل قطار کی صورت میں لگے ہوئے تھے۔ یہاں ایک زرعی فارم بھی تھا۔ وسیع صحرا میں یہ نخلستان بہت بھلا لگ رہا تھا۔ میں نے گاڑی کا شیشہ نیچا کیا تو سہانی ہوا کا ایک جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا اور مولانا احمد رضا خان کے یہ اشعار میری زبان پر جاری ہوگئے۔

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے

ہاں ہاں رہ مدینہ ہے ، غافل ذرا تو جاگ

او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے

          میری یہ عادت رہی ہے کہ میں اچھی چیز ہر جگہ سے لے لیتا ہوں اور اس عمل میں کسی تعصب کو پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتا۔ مولانا سے کئی نظریاتی و علمی اختلافات کے باوجود میں ان کے وہ اشعار بڑے شوق سے پڑھتا ہوں جن میں مجھے کوئی بات قرآن و سنت کے خلاف نظر نہیں آتی۔ فن نعت گوئی میں مولانا کا اعتبار نہایت ہی اعلیٰ درجے کے شعرا میں ہوتا ہے۔

          اچانک دائیں جانب اونٹوں کا ریوڑ چرتا نظر آیا۔ براؤن رنگ کی پہاڑیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں براؤن رنگ کے بے شمار شیڈ موجود تھے۔ ان صحرائی پہاڑوں اور وادیوں میں انسان خود کو فطرت کے کتنا قریب محسوس کرتا ہے۔ شہر کی مصنوعی زندگی انسان کو فطرت سے اور خدا سے کتنا دور لے گئی ہے۔ سڑک زگ زیگ کی شکل میں پہاڑوں پر چڑھنے لگی۔ سامنے وادی میں خاصا سبزہ تھا اور عسفان کا شہر نظر آرہا تھا۔ چوٹی پر کسی قدیم عمارت کے ستون نظر آ رہے تھے۔ یہ پہاڑ مجھے اپنے اپنے سے لگے۔ دراصل ان کی صورت بالکل کلر کہار کے پہاڑوں کی سی تھی جو موٹر وے پر اسلام آباد جاتے ہوئے دریائے جہلم کے فوراً بعد سامنے آ جاتے ہیں ۔

عسفان اور سراقہ بن مالک

          میری نظر کے سامنے موجود سکس لین موٹر وے پتلی کچی سڑک میں تبدیل ہونے لگی۔ گاڑیوں کے قافلوں کی جگہ اونٹوں اور گھوڑوں کے قافلوں نے لے لی۔ چشم تصور میں مجھے تین افراد کا قافلہ نظر آنے لگا۔ ایک اللہ کے برگزیدہ رسول ہیں ، دوسرے ان کے بچپن کے ساتھی ابوبکر جن پر حضور سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور تیسرا ان کا گائیڈ ہے۔ چونکہ یہ راستہ زیادہ معروف نہ تھا، اس لئے انہیں گائیڈ کی ضرورت بھی پڑی تھی ورنہ سیدنا ابوبکر خود تجارتی راستوں کے بہت بڑے ماہر تھے۔

          یہیں عسفان کے نزدیک کسی مقام پر ان کا سامنا سراقہ بن مالک سے ہوا تھا جو ان کی تلاش میں تھے۔ سراقہ انہیں پہچان گئے تھے لیکن آگے بڑھتے ہوئے ان کے گھوڑوں کے قدم زمین میں دھنس گئے۔ اس معجزے کو دیکھ کر وہ ایمان لے آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے انہیں کسریٰ کے کنگن پہننے کی بشارت دی جو پندرہ بیس سال بعد اس وقت پوری ہوئی جب خلیفہ دوم عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں کسریٰ کے محلات فتح ہوئے۔

          عسفان کے بعد روڈ اچانک گہرائی میں جاکر اوپر اٹھنے لگی۔ سامنے سیاہ رنگ کے پہاڑ تھے جن پر بے شمار ٹھیکری نما پتھر پڑے ہوئے تھے۔ اصل میں یہ سیاہ رنگ انہی ٹھیکریوں کا تھا۔ روڈ کے کنارے ’مرکز امداد حجاج ‘ تھا۔ دور پھیلی ہوئی سنہری وادی میں ہلکے سبز رنگ کے صحرائی پودے افراط سے پھیلے ہوئے تھے ۔ جہاں سنہری وادی ختم ہوتی تھی وہاں سے سیاہ پہاڑ شروع ہو جاتے تھے اور بلندی تک چلے جاتے تھے۔

          سامنے کی طرف ایک فصیل نما پہاڑی سلسلہ تھا جس کے پہاڑوں میں اتار چڑھاؤ بالکل نہیں تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دیو قامت دیوار کھڑی ہے اور بس کھڑی ہے۔ ایسے پہاڑی سلسلے قدیم زمانوں میں دفاع کی خدمات انجام دیتے تھے۔ شہر کے مصنوعی ماحول سے نکل کر فطرت کے ماحول میں ایسی صناعی دیکھ کر انسان کا ذہن بے اختیار خدا کی اس آیت کو یاد کر اٹھتا ہے : فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۔ ”اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔“ سامنے خلیص الکامل کا ایگزٹ تھا ۔ اب مدینہ 305 کلومیٹر دور رہ گیا تھا۔ اضطراب بڑھتا جارہا تھا۔  سنبھل جا اے دل مضطر ، مدینہ آنے والا ہے۔

          سعودی عرب میں سڑکوں پر سفر کے دوران اکثر سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کے بورڈ نظر آتے ہیں۔ یہ انسان کو دوران سفر خدا کی یاد دلاتے ہیں۔ یہاں ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا،  تعوّذ من الشيطان  یعنی "شیطان سے پناہ مانگو۔" حقیقت یہ ہے کہ شیطان ہمارا دشمن ہے لیکن ہم اس کی دشمنی کو پہچاننے کی بجائے اس سے دوستی پر تلے ہوئے ہیں۔

خیمہ ام معبد

اب جدہ سے آنے والی روڈ ہمارے سر کے اوپر سے گزرتی ہوئی ہم سے طریق الہجرہ پر آ ملی۔ یہیں سے ایک لنک روڈ رابغ والی سڑک کی طرف جارہی تھی۔ ٹھیکری نما پہاڑوں پر سفر کرتے ہوئے ہم وادی قدید میں جانکلے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے سفر ہجرت میں قیام فرمایا تھا۔ یہاں پر ام معبد نامی خاتون کا خیمہ تھا جنہیں حضور کا میزبان بننے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ میرے دل میں یہ شدید خواہش تھی کہ اس مقام کو دیکھا جائے جہاں حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے قیام فرمایا تھا چنانچہ میں نے گاڑی وادی قدید کے ایگزٹ کی طرف موڑ لی۔

          دور جاہلیت سے اس علاقے میں بنو خزاعہ آباد تھے۔ یہ وہی قبیلہ ہے جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کا حلیف بن گیا تھا۔ بنو بکر نے ان پر شب خون مارا اور قریش نے ان کا ساتھ دیا۔ یہ حدیبیہ کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھی جو قریش کی جانب سے ہوئی۔ اس کے بعد اس معاہدے کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی تھی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے دس ہزار قدوسیوں کا ایک لشکر جرار تیار کیا اور مکہ کی طرف روانہ ہوگئے۔

          بنو خزاعہ عرب کا ایک اہم قبیلہ تھا۔ اس قبیلے کی خاتون ام معبد اپنی شعر و شاعری کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھیں۔ حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے سفر کے دوران جب ان کے خیمے کے پاس پہنچے تو ان کی ایک بکری وہاں موجود تھی۔ آپ نے اس کا دودھ دوہنے کی اجازت مانگی۔ یہ بکری دودھ دینے کے لائق نہ تھی لیکن آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے اس تھنوں میں کثیر مقدار میں دودھ اتار دیا۔ ام معبد اس معجزے کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئیں اور انہوں نے بعد میں آپ کے بارے میں ایک فی البدیہہ نظم کہی۔ بعد میں ام معبد اور ان کے شوہر نے اسلام قبول کرلیا۔

          وادی قدید ایک بہت بڑے علاقے کا نام ہے جو ٹھیکری والے سیاہ پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ اس میں بہت سی وادیاں شامل ہیں جن کا مجموعی نام وادی قدید ہے۔ ایک سنگل روڈ وادی کے بیچ میں سے گزر رہا تھا۔ اس پر دو تین چھوٹے چھوٹے گاؤں آئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وادی میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے اس لئے جا بجا کھجوروں کے فارم نظر آرہے تھے۔ تھوڑا سا آگے جا کر روڈ نے ایک کچے ٹریک کی شکل اختیار کرلی۔ اصل روڈ کہیں کہیں سے زمین میں دھنسا نظر آرہا تھا۔ ہر طرف چھوٹے چھوٹے پتھر بکھرے ہوئے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہاں سیلاب آیا ہو جس نے روڈ کی یہ حالت کر دی ہو۔

          اچانک روڈ کے کنارے جدید طرز تعمیر پر مشتمل زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے کوارٹر نظر آئے جس کے ساتھ پانی کی ایک بڑی سی ٹینکی تھی۔ غالباً یہ ارد گرد کے علاقے کے رہائشی مکانات اور کھجوروں کے فارمز کے لئے تعمیر کی گئی تھی۔ میری گاڑی زیادہ اونچی نہیں اس لئے پتھر اس کے فرش سے ٹکرا رہے تھے۔ ایسی جگہ آنے کے لئے جیپ کی ضرورت تھی۔ تھوڑا آگے جاکر مجھے ایک جیپ پیچھے آتی نظر آئی جسے اصولی طور پر کسی میوزیم میں ہونا چاہئے تھا۔ غالباً یہ 1960 کی دہائی کا کوئی ماڈل تھا۔ میں نے معلومات حاصل کرنے کے لئے گاڑی ایک طرف روکی اور جیپ کو رکنے کا اشارہ کیا۔ خوش قسمتی سے جیپ کو ایک پاکستانی چلا رہے تھے۔ تعارف میں ان کا نام ادریس معلوم ہوا۔ ان کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔

          ادریس صاحب اس وادی میں کافی عرصے سے مقیم تھے۔ وہ کسی سعودی کے فارم پر رہتے تھے اور اس کی گاڑیاں وغیرہ چلاتے تھے۔ سعودی عرب کے زرعی فارمز پر کافی پاکستانی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں ہر تین چار سال کے بعد شدید بارش ہوتی ہے جس کے نتیجے میں سیلاب آجاتا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے ہی یہاں زیر زمین پانی خاصی مقدار میں موجود رہتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کھجوروں کے فارم پائے جاتے ہیں۔ سیلابی پانی بعد میں تالابوں کی شکل میں بھی اکٹھا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور قدیم میں لوگ اس راستے کو اختیار کرتے تھے تاکہ طویل صحرائی سفر میں اپنے اور جانوروں کے لئے پانی حاصل کر سکیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم بھی اسی علاقے سے گزرے تھے البتہ سیلاب کے خدشے کے باعث سے طریق الہجرہ کو پہاڑوں کے اوپر سے گزارا گیا ہے۔

          ادریس صاحب نے ہمیں کھانے کی پرزور دعوت دی جس پر میں نے معذرت کرلی۔ اب ہم ان کے پیچھے روانہ ہوئے۔ تھوڑا سا آگے ظُبیہ نام کا قصبہ تھا۔ یہیں ان کا فارم ہاؤس تھا۔ ہم ایک بقالہ (جنرل سٹور) پر رکے۔ادریس صاحب نے وہاں سے میرے بچوں کے لئے ڈھیروں چیزیں خرید کر دیں۔ میرے بھرپور اصرار کے باوجود انہوں نے اس کے پیسے نہ لئے۔ بقالے کے مالک ایک سوڈانی صاحب تھے جن کا نام اسماعیل تھا۔ انہوں نے عربی میں ایک کتاب بھی دکھائی جس میں وادی قدید کے متعلق معلومات دی گئی تھیں۔ میں نے وہ کتاب خریدنا چاہی لیکن ادریس صاحب نے مجھے اس کی ادائیگی نہ کرنے دی۔ اس کتاب میں خیمہ ام معبد کی لوکیشن کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔ اسماعیل صاحب نے اس جگہ کی نشاندہی کی جو اس مقام کے قریب تھی جہاں وادی قدید کا ایگزٹ واقع ہے۔

          ان کا شکریہ ادا کرکے ہم لوگ واپس روانہ ہوئے۔ ظُبیہ کے قریب آ کر طریق الہجرہ پھر ہمارے قریب سے گزر رہی تھی۔ ہم نے رخ مکہ کی طرف کیا اور بیس کلومیٹر پیچھے وادی قدید کے ایگزٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر ہم پھر ایگزٹ سے باہر نکلے۔ اب کی ہم نے موٹر وے سے دوسری جانب کا راستہ اختیار کیا۔ میری توقع کے خلاف پکی روڈ جلد ہی ختم ہوگئی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ ایسے ٹورز کے لے دو چیزوں کی ضرورت ہے، ایک فور وہیل ڈرائیو جیپ اور دوسرے ایڈونچر پسند ساتھی۔ اس وقت ان دونوں ہی کی کمی تھی، لہذا ہم نے خیمہ ام معبد کی تلاش کو ملتوی کیا اور دوبارہ طریق الہجرہ پر گاڑی ڈال کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔

          طریق الہجرہ پر پانی کا ایک سفید ٹینکر ہمارے آگے جا رہا تھا جس میں آب زمزم تھا۔ مکہ سے آب زمزم ٹینکروں کی مدد سے مدینہ پہنچایا جاتا ہے جہاں یہ مسجدنبوی میں اسی طرح میسر ہوتا ہے جیسا کہ مسجد الحرام میں۔ یہاں میری ڈیڑھ سالہ بیٹی ماریہ کو نجانے کیا سوجھی کہ وہ اچھل اچھل کر "مدینہ مدینہ" پکارنے لگی۔ اس کی یہ پکار تقریباً آدھ گھنٹہ جاری رہی۔ اس کی شکل پر خوشی کے تاثرات تھے اور وہ اپنی پکار کو خود ہی انجوائے کر رہی تھی۔

          اب ہم ایک بار پھر وادی قدید سے گزر رہے تھے لیکن اب ہمارا راستہ سیلابی ٹریک کی بجائے طریق الہجرہ تھی۔ بائیں جانب ہمیں کچھ پہاڑ نظر آرہے تھے جو تیز دھوپ کے باوجود کچھ بھوت نما دکھائی دے رہے تھے۔ روڈ پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا جو یہ بتا رہا تھا کہ اس روڈ کو ریڈار کی مدد سے مانیٹر کیا جارہا ہے اس لئے آپ حد رفتار کا خیال رکھیں۔ جدہ مکہ روڈ کے برعکس یہاں زیادہ پولیس نہیں ہوتی اس لئے اس روڈ کو ریڈار کی مدد سے مانیٹر کیا جاتا ہے اور جو گاڑی مسلسل 120 سے زائد رفتار پر سفر کرے ، اسے اگلے کسی مقام پر پولیس کی گاڑی روک کر اس کا چالان کرتی ہے۔

          ہم اس وقت 150 کی رفتار پر تھے جو میں چالان سے بچنے کے لئے مسلسل کم زیادہ کرتا آ رہا تھا۔ مجھے اعتراف ہے کہ حد رفتار سے تجاوز کا اخلاقی جرم اس زمانے میں میں کیا کرتا تھا تاہم جلد ہی اللہ تعالی نے توبہ کی توفیق دی اور میں نے 120 کی رفتار سے تجاوز کرنا چھوڑ دیا۔ اچانک ایک گاڑی نے ہمیں اوور ٹیک کیا۔ یہ یقینا 180 کی رفتار پر ہو گی۔ اگر ہم کھڑے ہوتے تو اس رفتار سے گزرتی ہوئی گاڑی پر نظر جمانا بھی مشکل ہے لیکن اس وقت وہ ہمیں آہستہ آہستہ چلتی نظر آرہی تھی۔ اس کائنات میں کوئی بھی چیز ہمیں مطلق صورت (Absolute) میں نظر نہیں آتی بلکہ اضافی (Relative) صورت میں نظر آتی ہے۔ چاند زمین کے گرد سینکڑوں میل فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرتا ہے لیکن ہمیں اس کی حرکت سست نظر آتی ہے کیونکہ ہماری زمین خود اتنی ہی رفتار کر رہی ہے۔ یہی حال اس دنیا کی زندگی کا ہے۔ ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیںلیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم تیزی سے اپنی موت کی طرف جارہے ہیں جس کے بعد ہماری اصل منزل ہماری منتظر ہے۔

          بھوت نما پہاڑ ہمارے بائیں جانب پیچھے رہ گئے تھے۔ اب سامنے تہہ در تہہ پہاڑوں کی قطاریں تھیں۔ سامنے المساة ایگزٹ تھا اور مدینہ 254  کلومیٹر باقی رہ گیا تھا۔  سنبھل جا اے دل مضطر، مدینہ آنے والا ہے۔

صحرائے مدینہ

آگے بہت بڑا برساتی نالہ تھا جس پر ایک طویل پل بنا ہوا تھا۔ اس سے گزر کر ہم وادی ستارہ میں داخل ہوگئے۔ عربی میں ستارہ ، پردے (Curtain)  کو کہتے ہیں۔ نجانے اس وادی کی وجہ تسمیہ کیا ہوگی۔ دور دور تک پھیلا ہوا صحرا نظر آ رہا تھا۔ مجھے مولانا الیاس قادری کی دعائے مدینہ یاد آئی جسے میں ہمیشہ پڑھا کرتا تھا۔

یا رب محمد! میری تقدیر جگا دے

صحرائے مدینہ مجھے آنکھوں سے دکھا دے

          اب صحرائے مدینہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ برسوں پہلے مانگی ہوئی دعا کی قبولیت کا وقت اب آیا تھا۔

پاکستان کے مقابلے میں پیٹرول سعودی عرب میں چھ گنا سستا تھا۔ پاکستان میں بھی اس وقت پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت تقریباً 34 روپے لیٹر تھی۔ باقی رقم حکومت کے ٹیکس پر مشتمل تھی۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سعودی عرب کو بہت فائدہ ہوا تھا۔ حکومت نے اس فائدے کو عوام تک منتقل کرنے کے لئے پیٹرول، بجلی اور فون کی قیمتوں میں کمی کی تھی۔ کاش ہماری حکومتوں کو بھی اللہ تعالیٰ ایسی ہی توفیق دے کہ وہ ملک کو پہنچنے والے ہر فائدے کو عوام تک منتقل کر سکیں۔

          وادی ستارہ کے بعد ہم ایک اور وادی میں جا پہنچے جس کے پتھر ہلکے گرے رنگ کے تھے اور آنکھوں کو بہت خوبصورت دکھائی دے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی اس صناعی کا کون مقابلہ کر سکتا ہے؟ یہ وادی الفارع تھی۔ یہاں سرخ رنگ کے کچھ ایسے پہاڑ تھے جن کے بے شمار چھوٹے چھوٹے کونے نکلے ہوئے تھے۔ سڑک کے کنارے ایک بورڈ تھا جس پر بندر بنا ہوا تھا۔ اگرچہ موٹر وے کو دونوں طرف باڑھ لگا کر محفوظ کر دیا جاتا ہے لیکن یہ باڑھ ظاہر ہے بندروں کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی اس لئے ڈرائیوروں کو وارننگ دی گئی تھی کہ وہ بندروں سے محتاط رہیں جو اچانک سامنے آسکتے تھے اور تیز رفتار گاڑی ان سے ٹکرا کر الٹ سکتی تھی۔ مجھے لاہور اسلام آباد موٹر وے کا ایک مقام یاد آیا جہاں ایسا ہی بورڈ تھا اور اس پر کچھوا بنا ہوا تھا۔

          جدید تہذیب کی یہ خصوصیت مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ اس میں قرآن کے اصول کے مطابق انسانی جان کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ جدید انداز میں تعمیر کی گئی ہر موٹر وے پر ایسی بہت سی وارننگز ملتی ہیں جو معمولی سے خطرے کی بھی نشاندہی کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی جان کو اب بہت زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے برصغیر میں ابھی یہ رجحان زور نہیں پکڑ سکا اور انسان کے بنائے ہوئے قوانین، رسم و رواج اور روایات، انسانی جان پر فوقیت رکھتے ہیں۔ صرف اپنے ہاں کی سڑکوں کا ہی جائزہ لیں تو کتنے لوگ بے احتیاطی کی وجہ سے ان پر جان دے دیتے ہیں اور بحیثیت مجموعی معاشرے کو اس کا شعور ہی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں انسانی جان کس قدر ارزاں حیثیت کی حامل ہے۔ کاش ہمارے لوگ قرآن کو پڑھیں جس میں انسانی جان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے۔

          وادی الفارع کے بعد اگلی وادی ، وادی ارن تھی۔ اس میں ہلکے سبز رنگ کے صحرائی پودے سرخ ریت کے پس منظر میں بہت بھلے لگ رہے تھے۔ یہاں ایک بہت بڑا زرعی فارم بھی تھا جس کے مالک نے اس راستے کی مناسبت سے اس کا نام ”مزرعة الهجرة“ رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد وادی شلالة الهمةآئی ۔ یہ گرے رنگ کا ایک اونچا نیچا میدان تھا جہاں کچھ بدو سفید رنگ کی بھیڑوں کو چرا رہے تھے۔ آج بھی سعودی عرب کی بدو آبادی کا سب سے بڑا پیشہ گلہ بانی ہے۔

          لفظ ’بدو‘، بادیہ سے نکلا ہے جس کے معنی گاؤں کے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے پنجابی میں پنڈ سے پینڈو۔ ہمارے ہاں کے دیہاتی ، پینڈو کہے جانے پر برا مان جاتے ہیں لیکن اس کے برعکس بدو اپنی بدویت پر فخر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہاتھ سے کام کرنے والے پیشوں کو جاگیر دارانہ اثرات کے باعث حقیر سمجھا جاتا ہے لیکن عرب لوگ اپنے آبائی پیشوں پر فخر کرتے ہیں اور بڑے فخر سے نام کے ساتھ ”خیاط (درزی)“، ”حمال (قلی)“ لگاتے ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل اسلام اور انسانیت کے عین مطابق ہے۔ کوئی بھی ایسا پیشہ جس میں کوئی شرعی یا اخلاقی قباحت نہیں، یقینامعزز ہے۔

          وادی قدید سے لے کر یہاں تک کا پورا علاقہ دراصل ایک بہت بڑا آتش فشانی میدان (Volcanic Field) ہے۔ قدیم دور میں یہاں آتش فشاں پھٹتے رہے ہیں۔ میں جن سیاہ ٹھیکریوں کا ذکر کر رہا ہوں، یہ دراصل لاوے میں شامل پتھر ہیں جو لاوے کی حدت سے سیاہ رنگت اختیار کر گئے ہیں۔ اس میدان کو "حرات راحۃ" کا نام دیا گیا ہے۔ نجانے اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟

ساسکو ریسٹ ایریا

اب ساسکو ریسٹ ایریا قریب آگیا تھا ۔ یہ کافی خوبصورت اور صاف ستھرا ریسٹ ایریا تھا ۔ یہاں ایک بڑی سی خوبصورت مسجد، سپر مارکیٹ، پیٹرول پمپ، ٹائر شاپ، بچوں کے جھولے، ریسٹورنٹ موجود تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں ایک میوزک سنٹر بھی تھا۔ یہاں ہم نے رک کر تھوڑا سا آرام کیا اور کھانا کھایا۔ اس کے بعد ہم دوبارہ روانہ ہوئے۔ مدینہ یہاں سے 171 کلومیٹر دور تھا۔

          تھوڑی دور جاکر ایک بڑا برساتی نالہ آیا جس میں پانی بھی موجود تھا۔ اس کے قریب سیاہ بکریوں کا ریوڑ چر رہا تھا۔ سامنے ایک کوئلہ نما پہاڑ تھا جو سیاہ رنگ کے پاؤڈر پر مشتمل تھا۔ جس کے دامن میں بڑی بڑی مشینری نصب تھی۔ نجانے اس پہاڑ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ ایسا ہی ایک مقام میں نے ہنزہ کے راستے میں دیکھا تھا جہاں سیاہ چورا پہاڑ پر برف بھی موجود تھی۔ اب ہم "الکھل" کے علاقے میں پہنچ چکے تھے اور ہمارے سامنے ایک وسیع کمپلیکس بنا ہوا تھا جس میں ایک بڑی سی مسجد بھی تھی۔ یہ کمپلیکس نجانے کس نے اور کیوں تعمیر کیا تھا۔ ابھی یہ غیر آباد تھا۔

          اب ہم ایسے علاقے میں داخل ہوئے جہاں بکثرت برساتی نالے تھے جن پر پل بنے ہوئے تھے۔ سیاہ پہاڑوں میں ایک براؤن رنگ کی پہاڑی تھی اور حیرت انگیز طور پر یہاں کی ریت کا رنگ اورنج تھا۔ یہ وادی الفرع تھی۔ یہاں دو پہاڑ الگ الگ کھڑے تھے اور ان کا کسی پہاڑی سلسلے سے تعلق نہ تھا۔ ان کی شکل آتش فشاں پہاڑوں سے متشابہ تھی۔ اس جگہ ٹرکوں والی لین بالکل نئی تعمیر کی گئی تھی کیونکہ ٹرکوں کے چلنے سے یہ لین جلدی خراب ہو جاتی ہے۔ میں نے اس نئی لین کا بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کیا۔ ہم اب الجھیزہ کے علاقے میں داخل ہورہے تھے اور مدینہ 104 کلومیٹر دور رہ گیا تھا۔ سنبھل جا اے دل مضطر، مدینہ آنے والا ہے۔

          پودوں نے اب گہرا سبز رنگ اختیار کرنا شروع کردیا تھا۔ الیُتمہ کے علاقے سے گزرتے ہوئے ہم ثنیۃ الشامۃ میں داخل ہوگئے جو کہ ایک تنگ پہاڑی درہ تھا۔ عربی میں ثنیۃ پہاڑی ٹریک کو کہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ٹریک سے گزر کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مدینہ میں داخل ہوئے تھے جس کا نام "ثنیۃ الوداع" تھا۔ یہاں پہاڑ عین ہمارے سر پر کھڑے تھے جن کو کاٹ کر روڈ بنائی گئی تھی۔ یہاں سلائیڈنگ کا خطرہ بھی تھا۔

غزوہ حمرا الاسد

درے سے گزرنے کے بعد ہماری دائیں جانب ایک وسیع میدان آیا جو کہ ریس کورس کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس کے بعد کون نما سرخ پہاڑیاں تھیں جن کے دامن میں "اسماک الحمرا" کا ریسٹ ایریا تھا۔ یہاں کی مچھلی بھی مشہور ہے۔

          یہ وہی مقام ہے جہاں "غزوۃ حمراء الاسد" ہوا تھا۔ احد کی جنگ کے بعد زخموں سے چور اسلامی فوج کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ تیاری کا حکم دیا۔ خدا کے یہ بندے، اس کے رسول کے حکم پر اپنے زخموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے مشرکین کے لشکر کا تعاقب کیا اور حمراء الاسد کے مقام تک آئے۔ مشرکین کی فوج نے ان کا مقابلہ نہ کیا اور رفتار تیز کرکے نکل گئے۔ اس لشکر کشی نے بڑی حد تک کفار کی اس خود اعتمادی کو توڑ دیا جو احد کی جنگ میں مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر پیدا ہوئی تھی۔ اسی طرح اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے مورال اور خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔

          مدینہ اب صرف 17 کلومیٹر باقی رہ گیا تھا۔ اس مقام پر مولانا الیاس قادری صاحب کی نعت کا یہ شعر میری زبان پر جاری ہوگیا۔

ٹھہر جا اے روح مضطر، نکل جانا مدینے میں

خدارا اب نہ جلدی کر ، مدینہ آنے والا ہے

          مولانا اور ان کی جماعت ، دعوت اسلامی کو مدینے سے شدید محبت ہے۔ ان کی شاعری کا 99 فیصد حصہ مدینے کی آرزو ، اس کی تعریف اور اس سے جذباتی تعلق پر مشتمل ہے۔ اگر اردو اور پنجابی کی نعتیہ شاعری کا جائزہ لیا جائے تو اس کا بڑا حصہ مدینے سے متعلق ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مکہ کو بھی حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا مدینہ کو ہے ، لیکن اس کے بارے میں بہت ہی کم اشعار کہے گئے ہیں۔ مدینہ سے متعلق تمام تر شاعری کا مرکز حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا روضہ انور ہوتا ہے اور آپ کی سرگرمیوں کے اصل مرکز مسجد نبوی کو بالکل ہی نظر انداز کرد یا جاتا ہے جسے آپ نے تعمیر فرمایا اور اسے ایک دینی حیثیت عطا فرمائی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے زیارت کے سفر کی اجازت صرف تین مقامات کے لئے دی تھی: مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔ اس کے علاوہ آپ نے کسی اور مقام کی طرف زیارت کے سفر سے منع فرمایا تھا۔ آپ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے آپ کی مسجد کا ہی قصد کیا جائے اور اسے ہی اپنی عقیدت کا مرکز بنایا جائے۔

حرم مدینہ

گلابی رنگ کی پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے حرم مدینہ کی حدود کے قریب جا پہنچے۔ یہ "جبل عیر" کہلاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے جبل عیر سے لے کر جبل ثور (یہ مدینہ میں ایک پہاڑ ہے جس کا نام مکہ کے جبل ثور سے ملتا ہے) کو حرم قرار دیا۔ یہاں مکہ کی طرح چیک پوسٹ بنی ہوئی تھی اور للمسلمین فقط کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ غالباً انہی پہاڑوں میں ثنیۃ الوداع ہے جس کا ذکر مدینہ کی بچیوں کے اس نغمے میں ہے جو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی تشریف آوری پر پڑھا تھا۔

طلع البدر علینا، من ثنیۃ الوداع

وجب الشکر علینا، ما دعا للہ داع

          روڈ کے درمیان میں کھجور کے درخت ایک لائن سے لگے تھے۔ آگے ذی الحلیفہ کا میقات تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے عمرے اور حج کی ادائیگی کے لئے احرام باندھا تھا ۔ اہل مدینہ کے لئے یہی میقات ہے۔ یہاں ایک بہت بڑی مسجد بنی ہوئی ہے۔ اس مسجد میں کثیر تعداد میں غسل خانے موجود ہیں تاکہ حج و عمرہ پر جانے والے افراد یہاں غسل کرکے احرام باندھ سکیں۔

 

اگلا باب                                              فہرست                                     پچھلا باب

مصنف کی دیگر تحریریں

قرآنی عربی پروگرام  /  سفرنامہ ترکی  /    مسلم دنیا اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی  /  اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ   /  تعمیر شخصیت پروگرام  /  قرآن  اور بائبل  کے دیس میں  /  علوم الحدیث: ایک تعارف   /  کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص  /  اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں   /  ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ    /  الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   /  اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   /  اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟  /  مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟  /  دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار   /  اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    /  Quranic Concept of Human Life Cycle  /  Empirical Evidence of God’s Accountability