|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری ،
امن اور محبت
سے وابستہ |
|||
|
آرٹیکل
کو ڈاون لوڈ
کرنے کے لئے یہاں
کلک کیجیے۔ اسلام کا
خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت؟ اس کتاب
کے مصنف جان ایل
ایسپوزیٹو
کا تعلق امریکہ
سے ہے۔ وہ
جارج ٹاؤن یونیورسٹی
میں مذہب اور
بین الاقوامی
تعلقات کے
پروفیسر ہیں۔
اس کے ساتھ
ساتھ یونیورسٹی
کے والش سکول
آف فارن سروس
کے Center for Muslim-Christian Understanding کے
بانی اور
ڈائریکٹر بھی
ہیں۔ ایسپوزیٹو
اسلام سے
متعلق
موضوعات پر ایک
درجن سے زائد
کتابوں کے
مصنف ہیں۔ وہ Oxford
History of Islam اور
چار جلدوں پر
مشتمل Oxford
Encyclopedia of the Modern Islamic World کے
ایڈیٹر انچیف
ہیں۔ ان کی
کتابوں کا
عربی، فارسی
، ترکی،
جاپانی ، چینی
اور کئی یورپی
زبانوں میں
ترجمہ کیا
جاچکا ہے۔ ایسپوزیٹو
نے 1993 میں مسلم
کرسچن انڈر
سٹینڈنگ
سنٹر قائم کیا
تاکہ اسلام
اور مسلم عیسائی
تعلقات کو
سمجھنے میں
مدد ملے۔ وہ
امریکی
حکومت کے سٹیٹ
ڈیپارٹمنٹ
کے کنسلٹنٹ
کے طور پر بھی
خدمات انجام
دے رہے ہیں
اور اس کے
علاوہ دنیا
بھر میں کمپنیاں،
یونیوسٹیاں
اور میڈیا کو
بھی اپنی
خدمات فراہم
کرتے ہیں۔
انہیں امریکی
میڈیا میں غیر
معمولی اہمیت
دی جاتی ہے
اور ان کے
انٹرویو وال
اسٹریٹ
جرنل، نیو یارک
ٹائمز،
واشنگٹن
پوسٹ، CNN ، NPR ، اور BBC جیسے
اداروں سے
شائع یا نشر
ہوتے ہیں۔ ان
کی چند
کتابوں کے
نام یہ ہیں۔ · The
Islamic Threat: Myth or Reality · Makers
of Contemporary Islam · The
· Islam
& Democracy · Islam:
A Closer Look · The
· Islam:
The Straight Path · Unholy
War: Terror in the Name of Islam · Muslims
& Politics in Islam · Shattered
Illusions: Analyzing the War on Terrorism عام مغربی
مصنفین کے
برعکس، ایسپوزیٹو
مسلم دنیا کے
لئے مثبت
نقطہ نظر کے
حامل ہیں۔
نائن الیون
کے بعد جب امریکی
میڈیا میں
مسلمانوں کے
خلاف مہم
چلائی گئی تو
ایسپوزیٹو
نے مسلمانوں
کا ساتھ دیا۔
مسلمانوں کی
تاریخ پر ان کی
نظر گہری ہے
اور وہ اس
معاملے میں
بہت سے مسلم
دانشوروں
اور اسکالرز
سے زیادہ علم
رکھتے ہیں۔ زیر
نظر کتاب لوئیس
برنارڈ کے
مضمون The Roots of Muslim Rage اور سیموئیل
ہننگٹن کی
کتاب The Clash of
Civilizations
کی تردید میں
لکھی گئی ہے
اور اس میں یہ
ثابت کیا گیا
ہے کہ مسلمان
مغرب کے لئے
کوئی خطرہ نہیں
ہیں۔ یہ
مسلمانوں کی
ایک اقلیت ہے
جو دہشت گردی
کے واقعات کے
ذریعے اسلام
کو بدنام کر
رہی ہے۔ ان کی
اکثریت، امن
پسند شہریوں
پر مشتمل ہیں
جن سے اہل
مغرب کو کوئی
خطرہ محسوس
نہیں کرنا
چاہیے۔ کتاب
ان ابواب پر
مشتمل ہے: باب
1: عصر حاضر کی
اسلامی تحریک
: انقلاب یا
اصلاح اسلام
کا احیا اور
جدت پسندی کا
نظریہ احیائے
اسلام کی تحریک مسلمانوں
کی ناکامی
اور مسلم
شناخت کے
تحفظ کا
مسئلہ شکست
سے کامیابی
تک اسلامی
احیائی تحریکوں
کی نظریاتی
اساسات انقلاب
ایران کی توسیع احیائے
اسلام کی تحریکوں
کا معاشرے میں
ثانوی سے
مرکزی اہمیت
حاصل کرنا باب
2: اسلام اور
مغرب: تعاون،
تصادم اور
محاذ آرائی کی
تاریخی
اساسات اسلام
کا آغاز اور
اس کی حقیقت محمد
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم اسلامی
کمیونٹی کا قیام اسلامی
حکومت اور معاشرہ اسلام
کی اشاعت اور
اس کی فتوحات جہاد اسلامی
تہذیب اسلامی
قانون مسلمانوں
کا تصوف اور
روحانیت اسلام
اور مغرب اسلامی
حکومت میں غیر
مسلموں کا
اسٹیٹس صلیبی
جنگیں (Crusades) سلطنت
عثمانیہ: یورپ
کا مرد بیمار اسلام
کے بارے میں
اہل یورپ کا
نقطہ نظر باب
3: مغرب
کی مسلمانوں
پر فتح اور
مسلمانوں کا
رد عمل اسلام
کی تجدیدی
تحریکیں یورپی
کالونیل ازم
اور
مسلمانوں کا
رد عمل مغربیت
کا استرداد
اور علیحدگی(Rejection
& Withdrawal)
سیکولر
ازم اور مغرب
کی تقلید(Secularism
& Westernization)
اسلامی
ماڈرنزم نیشنلسٹ
تحریکیں اور
آزادی کی
جدوجہد مشرق
وسطیٰ شمالی
افریقہ ایران جنوبی
ایشیا نئی ریاستیں
اور مغرب اسلامی
احیائے نو کی
جدید تحریکیں عرب
نیشنلزم /
سوشلزم اور
مغرب فلسطین عرب
نیشنلزم اور
اسلام باب
4: اسلام اور ریاست:
احیا ء اسلام
کی تحریک اسلام
اور جدید ریاست لیبیا قذافی
کا اسلام کے
بارے میں
نقطہ نظر قذافی
کی خارجہ پالیسی سوڈان اسلام،
جمہوریت اور
فوجی حکومت مصر سادات
کا اسلام سے
تعلق حسنی
مبارک اور احیائے
اسلام کی تحریک
کی Institutionalization
اسلامی
جمہوریہ ایران اسلام،
نیشنلزم اور
حکومت ایران
اور مغرب شاہ
کے خلاف عدم
اطمینان انقلاب
ایران کی نظریاتی
اساس ایک یا
کئی ایران؟ بادشاہت
سے اسلامی
جمہوریہ تک انقلاب
ایران کی توسیع
کا خطرہ حکومت
کے مابین
اختلافات خلاصہ
بحث باب
5: اسلامی
جماعتیں :
مجاہدین فی سبیل
اللّٰہ اخوان
المسلمون
اور جماعت
اسلامی نیو ریوایول
ازم اور مغرب سید
قطب اخوان
اور جماعت کا
سیاسی عمل میں
کردار مصر میں
سرگرم عمل
اسلامی تحریکیں:
ارتقاء یا
انقلاب مصر کے
اسلامی
انقلابی
گروپ جہاد:
بھولی ہوئی
ذمہ داری دنیا
کے بارے میں
مسلم
جنگجوؤں کا
نقطہ نظر جنگ جو
قوتوں کی لیڈر
شپ اور تنظیم جنگ جو
قوتوں کی رکنیت
کا معیار 1990 کے
عشرے میں مصر
میں اسلامی
تحریکیں لبنان
کی "افواج
المقاومۃ
اللبنانیۃ(AMAL)" اور حزب
اللّٰہ افواج
المقاومۃ
اللبنانیہ (AMAL) اور امام
موسیٰ صدر حزب
اللہ کا قیام حزب اللہ
کی تنظیم اور
لیڈر شپ حزب
اللہ اور AMAL کی کشمکش شمالی
افریقہ (مغرب)
میں اسلامی سیاست تیونس
کی اسلامی
تحریک الجیریا
میں اسلامی
تحریک سیاسی
اپوزیشن سے
گوریلا جنگ
تک خلاصہ
بحث اور
نتائج باب
6: اسلام اور
مغرب: تہذ یبوں
کا تصادم آج کے دور میں اسلام | ||||