|
Ethics & Religion Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ اخلاقی
رویوں، مذہبی
رواداری ،
امن اور محبت
سے وابستہ |
|||
|
آرٹیکل
کو ڈاون لوڈ
کرنے کے لئے یہاں
کلک کیجیے۔ دین دار طبقے
کے لئے معاش
اور روزگار
کے مسائل معاشی
مسئلہ انسان
کی زندگی میں
سب سے زیادہ
اہمیت کا
حامل ہے۔ اگر
کوئی شخص
معاشی
اعتبار سے
مسائل کا
شکار ہو تو وہ
کوئی بھی کام
ذہنی یکسوئی
سے انجام نہیں
دے سکتا۔ مالی
اعتبار سے
مستحکم
ہونا، اچھا
روزگار حاصل
کرنا اور
اپنے
کاروبار یا
ملازمت میں
ترقی حاصل
کرنا ہر
انسان کی
خواہش ہوتی
ہے۔ یہ ہماری
بدقسمتی ہے
کہ ہمارے
معاشرے کا
نظام حیات ان
اصولوں پر
مرتب کیا گیا
ہے جو بہت سے
معاملات میں
اللہ تعالیٰ
کی شریعت اور
دین سے
متصادم ہیں۔ یہی
وجہ ہے کہ جو
لوگ اللہ
تعالیٰ کے دین
کی طرف مائل
ہوتے ہیں اور
اپنی زندگیوں
میں اس کے
احکامات پر
عمل پیرا
ہونا چاہتے
ہوں، ان کے
لئے معاشی
زندگی میں
کچھ مخصوص
نوعیت کے
مسائل پیدا
ہوجاتے ہیں۔
اس تحریر کا
مقصد ان
مسائل کا
جائزہ لینا
اور ان کے حل
کے لئے مناسب
تجاویز پیش
کرنا ہے۔ دوسرے
وہ لوگ ہیں جو
عام سکولوں ،
کالجوں اور یونیورسٹیوں
کے تعلیم یافتہ
ہوتے ہیں اور
اپنے
خاندان،
اساتذہ،
دوستوں، کسی
دینی حلقے یا
جماعت کے زیر
اثر دین کی
طرف مائل
ہوتے ہیں اور
اس پر عمل
کرنے اور اس کی
خدمت کرنے کو
اپنا نصب العین
قرار دیتے ہیں۔
یہ افراد
عموماً دین کی
خدمت کو ایک
پارٹ ٹائم
مشغلے کے طور
پر اختیار
کرتے ہیں اور
اپنی معاش کے
لئے کسی
کاروبار یا
ملازمت پر
انحصار کرتے
ہیں۔ ان
مدارس کے
فارغ التحصیل
علماء
عموماً
مساجد میں
امام یا خطیب
کی ذمہ داریاں
ادا کرتے ہیں۔
ان میں سے جو
افراد اچھی
تقریر کرنا
جانتے ہیں وہ
جمعے کی نماز
کی خطابت کے
علاوہ جلسوں
وغیرہ میں
تقاریر کرکے
بھی کچھ رقم
کما لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ
ان میں سے جو
علمی اعتبار
سے مستحکم
ہوتے ہیں، وہ
کسی مدرسے میں
بطور معلم
ملازمت حاصل
کر لیتے ہیں۔
ہمارے عام
سکولوں کے نصاب
میں بھی عربی
پڑھائی جاتی
ہے، اس وجہ سے
بعض علماء جدید
تعلیمی
اداروں میں
بھی بطور عربی
اور اسلامیات
کے معلم کے
خدمات انجام
دیتے ہیں۔
بعض ایسے
حضرات جنہیں
مالی امداد
کرنے والے
دوست اور
ساتھی مل جائیں
، عموماً
اپنا دینی
مدرسہ کھول لیتے
ہیں۔ یہ
حضرات معاشی اعتبار
سے سب سے بہتر
حالت میں
ہوتے ہیں۔ چھوٹے
شہروں اور دیہات
میں یہ رقوم
اور بھی کم ہو
جاتی ہیں۔ اس
سے آپ اندازہ
لگا سکتے ہیں
کہ ایک امام
مسجد اپنی
تمام تر
کاوشوں کے
بعد بڑی مشکل
سے زیادہ سے زیادہ
پانچ چھ ہزار
روپے اور خطیب
زیادہ سے زیادہ
دس بارہ ہزار
روپے کما
پاتا ہے۔ جو
حضرات اپنے
مدرسے قائم
کر لیتے ہیں،
وہ نسبتاً
بہتر حالت میں
ہوتے ہیں۔
افراط زر کے
ساتھ ساتھ ان
ائمہ و خطباء
کی تنخواہوں
میں بھی کوئی
خاص اضافہ نہیں
ہوتا۔گویا
جس تنخواہ پر
ایک امام یا
خطیب اپنے کیریئر
کا آغاز کرتا
ہے، تقریباً
اتنی ہی یا اس
سے کچھ زیادہ
پر اس کے کیریئر
کا اختتام
ہوتا ہے۔ یہ
بھی غنیمت ہے
کہ عموماً
مساجد کے
ساتھ امام و
موذن کی
رہائش کا
انتظام کیا
جاتا ہے اور
ان کے یوٹیلیٹی
بلز وغیرہ
ادا کردیے
جاتے ہیں۔ اس
کے باوجود اس
رقم سے یہ
حضرات جس
درجے کا معیار
زندگی حاصل
کر سکتے ہیں،
اس کا اندازہ
ہر شخص کر
سکتا ہے۔یہی
وجوہات ہیں
کہ اعلیٰ تعلیم
یافتہ طبقہ
فل ٹائم خدمت
کے طور پر اسے
اختیار نہیں
کرتا۔ اس
طبقے میں جو
لوگ دین کا
درد رکھتے ہیں،
وہ اپنی معاش
کے لئے کوئی
اور انتظام
کرتے ہیں اور
دینی خدمات
کو پارٹ ٹائم
مشغلے کے طور
پر انجام دیتے
ہیں۔ یہی
وجہ ہے کہ
امام و خطیب
کو مسجد میں
انتظامیہ
اور نمازیوں
کی منشا اور
مرضی کے
مطابق ہی بات
کرنا پڑتی ہے
اور اسے مکمل
طور پر آزادی
رائے حاصل نہیں
ہوتی۔ کھل کر
امر
بالمعروف و
نہی عن
المنکر کا فریضہ
انجام دینا
بھی اکثر
اوقات ان کے
لئے خاصا
مشکل ہوجاتا
ہے جو ان کی
اصل ذمہ داری
ہے۔ ان سب کے
علاوہ مساجد
کی تزئین اور
آرائش پر تو
لاکھوں روپے
خرچ کئے جاتے
ہیں اور لوگ
بھی اس میں دل
کھول کر چندہ
دیتے ہیں لیکن
اس زندہ وجود
کی کسی کو خبر
نہیں ہوتی جو
اس مسجد کا سب
سے اہم حصہ ہے۔
مساجد کی تزئین
و آرائش میں
اسراف کی حد
تک خرچ کرنے میں
کسی کو کوئی
مسئلہ درپیش
نہیں ہوتا لیکن
اس انسان کا
کوئی خیال نہیں
کرتا جسے
اپنے علاوہ
اپنے بیوی
بچوں کا پیٹ
بھی پالنا ہے۔
اگر مساجد کی
کمیٹیوں کے
عہدے دار
اپنے اپنے
ائمہ مساجد
کے گھروں میں
جاکر ان کے معیار
زندگی کا
اندازہ لگائیں
تو وہ خود کبھی
بھی ایسی
زندگی
گزارنا پسند
نہ کریں۔ اہل
مغرب کے سیکولر
ازم نے دوہرے
نظام تعلیم
کو جنم دیا جس
کے مطابق دینی
مدارس کے تعلیم
یافتہ دنیاوی
ذمہ داریوں
کے لئے نااہل
تھے اور دنیاوی
علوم کے ماہرین
کا دین سے دور
کا بھی کوئی
واسطہ نہ
ہوتا تھا۔
پاکستان کی
کئی حکومتوں
نے اس خلیج کو
پاٹنے کے لئے
کئی اقدامات
کئے ہیں جن میں
مدارس کی سند
کو ایم اے عربی
اور ایم اے
اسلامیات کے
مساوی قرار دیا
گیا ہے۔ اس کے
نتیجے میں
مدارس کے تعلیم
یافتہ بھی
سرکاری نوکریوں
کے لئے اہل
قرار پا گئے ہیں۔
اسی طرح
مدارس کے
نصاب میں جدید
علوم اور کمپیوٹر
کی تعلیم کو
شامل کرلیا گیا
ہے۔ ان تمام
اقدامات کے
باوجود ان
معاشی مسائل
پر قابو نہیں
پایا جاسکا۔ ·
دینی
مدارس میں دینی
تعلیم کے
ساتھ ساتھ
کوئی ایسا
ہنر بھی سکھایا
جائے جس میں
وہ اپنی روزی
کماسکیں۔ یہ
تجویز بہت
پہلے دی جاچکی
ہے لیکن اسے
بہت سے علماء
نے رد کردیا۔
ایک عالم دین
کے مطابق ،
اگر ایک امام
مسجد یا خطیب
معاشرے کے
لئے اپنی فل
ٹائم خدمات
انجام دیتا
ہے تو معاشرے
کو بھی اس کی
ضروریات کا خیال
رکھنا چاہئے۔
ان کا یہ نقطہ
نظر اپنی جگہ
بالکل درست
ہے لیکن اگر
معاشرہ اپنی
اس ذمہ داری
کو بطریق
احسن انجام
نہیں دے رہا
تو پھر مدارس
کے طلباء ہی
کو اپنے لئے
کچھ کرنا پڑے
گا۔ اگر
مدارس میں اس
طرز کی کسی
تعلیم وتربیت
کا کوئی
اہتمام نہیں
کیا جاتا تو طلباء
کو چاہئے کہ
وہ اپنی مدد
آپ کے تحت خود
ہی اپنے طور
پر کوئی ہنر سیکھ
کر اپنے کیریئر
بنانے کے لئے
کچھ اقدام کریں۔
ہمارے ہاں
عام لوگوں کی
طرح دینی
طلباء میں بھی
محنت اور
ہاتھ سے کام
کرنے کو برا
سمجھا جاتا ہے
اور اس سے
اغماض برتا
جاتا ہے۔جو
شخص بھی دین
کا تھوڑا بہت
علم رکھتا ہے
وہ اچھی طرح
جانتا ہے کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم اپنے
ہاتھ سے کام
کرنے کو پسند
فرماتے تھے۔
اکثرجلیل
القدر صحابہ
کرام رضی
اللہ عنہم
محنت مزدوری
کیا کرتے تھے ۔
کوئی کپڑے سیتا،
کوئی گوشت بیچتا،
کوئی جوتے
مرمت کرتا،
کوئی لوہے کا
کام کرتا،
کوئی قبریں تیار
کرتا، کوئی
گھوڑوں کی
پرورش کرتا
اور کوئی کھیتوں
اور باغات میں
کام کرتا۔ سیدنا
ابوبکر اور
عثمان رضی
اللہ عنہما
تجارت کرتے
اور سیدنا علی
رضی اللہ عنہ
باغات میں
مزدوری کرکے
اپنی روزی
کماتے۔ ان
حضرات میں ایسا
کوئی کمپلیکس
نہیں تھا کہ
ان میں سے کوئی
پیشہ گھٹیا
ہے۔ اہل عرب میں
اب تک تما م پیشوں
کو عزت کی
نگاہ سے دیکھا
جاتا ہے۔ یہ
تصورات ہم میں
برصغیر کے
مخصوص جاگیر
دارانہ
ماحول کے زیر
اثر آئے ہیں
جہاں محنت
کشوں کو تیسرے
درجے کا شہری
تصور کیا
جاتا ہے۔ ·
امام،
خطیب اور
موذن کو
مساجد کی
انتظامیہ میں
اہم مقام دیا
جائے اور ان کی
رائے کو زیادہ
اہمیت (Weightage)
دی جائے۔
مساجد کو
حاصل ہونے
والے چندے کی
رقم کے زیادہ
تر حصے کو غیر
ضروری تعمیرات
پر خرچ کرنے کی
بجائے مستحق
انسانوں پر
خرچ کیا جائے۔
ان مستحقین میں
مسجد کے
اردگرد رہنے
والے مساکین،
بیواؤں اور یتیموں
کو بھی شامل
کرلیا جائے۔
انشاء اللہ
اس کا اجر
اللہ تعالیٰ
کے ہاں زیادہ
ملے گا اور
مسجد کے اہم
ترین ادارے
کو بھی ایک
فلاحی مرکز
کے طور پر
معاشرے میں
لایا جاسکے
گا۔ ·
اعلیٰ
تعلیم دینے
والے مدارس
کے نصاب میں
دور جدید کے
تقاضوں کے
مطابق تبدیلیاں
کی جائیں
تاکہ ان کے
فارغ التحصیل
طلباء
معاشرے سے
کٹنے کی
بجائے اس کی
تعمیر میں
فعال کردار
ادا کرنے
والے بنیں۔ ·
مدارس
میں دینی تعلیم
کے ساتھ ساتھ
اخلاقی تربیت
کا بھرپور
اہتمام کیا
جائے اور
طلباء میں
پوری طرح
اخلاقی شعور
بیدار کیا
جائے۔ ایسا
نہ ہو کہ وہ
دوسروں کو دین
کی دعوت دیں لیکن
ان کی اپنی
اخلاقی حالت
عام لوگوں سے
بھی زیادہ
خراب ہو۔ اس
معاملے میں
حفظ و قراۃ کے
مدارس خاص
توجہ کے
مستحق ہیں کیونکہ
آج کل ان کے
طلباء بہت زیادہ
اخلاقی
گراوٹ کا
شکار ہو رہے ہیں
جس کی بنیادی
وجہ معلمین کی
جانب سے توجہ
کی کمی ہے۔
یہ
لوگ عموماً
اپنی معاش کے
لئے کوئی اور
پیشہ اختیار
کرتے ہیں اور
دین کی خدمت
کو جزوقتی
مشغلے کے طور
پر اپناتے ہیں۔
چونکہ ہمارے
معاشرے کی
اکثریت دین
سے جذباتی سی
وابستگی
رکھتی ہے اور
اس کو پورے کا
پورا اختیار
کرنے کو زیادہ
اہمیت نہیں دیتی،
اس وجہ سے
اپنے کیریئر
میں ان لوگوں
کو کئی مسائل
کا سامنا
کرنا پڑتا ہے۔
ان
دین دار
حضرات میں سے
بہت سے لوگ تو
اللہ تعالیٰ
کے احکامات
کے مطابق پوری
دیانت داری
سے کاروبار
کرتے ہیں لیکن
بعض افراد ایسے
ہوتے ہیں جن کی
پوری طرح سے دینی
تربیت نہیں
ہوتی۔ کسی دینی
حلقے سے
وابستگی کی
وجہ سے یہ دین
کے ظاہری
اعمال کو تو
اپنا لیتے ہیں
لیکن دین کے
اخلاقی پہلو
کو نظر انداز
کردیتے ہیں۔
ان کی دلچسپیوں
کا تمام مرکز
نماز، روزہ ،
مخصوص وضع
قطع اور ذکر و
اذکار رہ
جاتے ہیں لیکن
خوش اخلاقی
سے پیش آنا،
کاروبار میں
دیانت داری
سے کام لینا،
پورا تولنا،
اور بروقت
ادائیگی
کرنا ان کے
ہاں مفقود
ہوتا ہے۔ سیدنا
عیسیٰ علیہ
الصلوۃ
السلام کے ایک
فرمان کے
مطابق ان کے
ہاں مچھر تو
چھانے جاتے ہیں
لیکن اونٹ
نگلے جاتے ہیں۔
اس کی بنیادی
وجہ ہی یہ ہوتی
ہے کہ یہ جس دینی
حلقے کے زیر
اثر دین کو
اختیار کرتے
ہیں ، اس میں
چند مخصوص
اعمال پر تو
بہت زور دیا
جاتا ہے لیکن
اخلاقی پہلو
کو بالکل ہی
نظر انداز
کردیا جاتا
ہے۔ ان سب
عوامل کا نتیجہ
یہ نکلتا ہے
کہ کوئی شخص
جب ان کے ساتھ
کاروبارکرلے
تو پھر وہ آئندہ
دین دار طبقے
کے ساتھ ڈیل
کرنے سے
محتاط ہو
جاتا ہے۔
ہمارے ہاں اس
طرز کے جملے
عام طور پر
سننے میں
ملتے ہیں کہ
داڑھی والوں
پر کبھی
اعتبار نہیں
کرنا چاہئے۔
چند لوگوں کی یہ
اخلاقی
گراوٹ پورے دینی
طبقے کی
بدنامی کا
باعث بنتی ہے۔ اس
مسئلے کا حل یہ
ہے کہ تمام دینی
جماعتیں اور
دینی حلقے
اپنے تربیتی
نظام میں
اخلاق کو بنیادی
حیثیت دیں
اور خود سے
متاثر ہونے
والوں کے
اخلاق کو بہتر
بنانے کے لئے
مناسب
اقدامات کریں۔اسی
طرح جب کبھی
بھی کوئی شخص
دین کی طرف
مائل ہو تو
اسے اس بات کا
خیال رکھنا
چاہئے کہ اب
اس کی کسی ایسی
حرکت کی وجہ
سے صرف اس کا
نہیں بلکہ
پورے دینی
طبقے کا
نقصان ہوگا۔اسے
عام لوگوں کی
نسبت اپنے رویے
میں سو گنا
محتاط رہنا
ہوگا۔ اس
ذہنیت کا
مظاہرہ ان کی
کارکردگی کے
جائزے (Appraisal)
کے وقت سامنے
آتا ہے جب غیر
محسوس طریقے
سے کچھ اور
باتوں کو
بہانہ بنا کر
ان کی ترقی کی
راہ میں
رکاوٹیں کھڑی
کی جاتی ہیں۔ یہی
وجہ ہے کہ ملٹی
نیشنل کمپنیوں
میں اعلیٰ
عہدوں پر
فائز دین دار
افراد کی
تعداد بہت کم
ہے۔ ایسی
مثالیں بھی دیکھنے
میں آئی ہیں
کہ ان کمپنیوں
کے اعلیٰ
عہدے داران میں
سے اگر کوئی دین
کی طرف مائل
ہوا بھی ہے تو
اس کے خلاف ایک
محاذ بنا لیا
گیا اور ایسے
حالات پیدا
کئے گئے ہیں
کہ وہ خود ہی
نوکری چھوڑ
کر چلا جائے۔ دلچسپ
بات یہ ہے کہ غیر
مسلم مغربی
ممالک میں دین
دار مسلمانوں
کو پیش آنے
والے ان
مسائل کی
تعداد اور
شدت نسبتاً
بہت کم ہے۔
اگرچہ حالیہ
واقعات میں
مسلمانوں کے
خلاف تعصب میں
اضافہ ہوا ہے
لیکن اس کے
باوجود انہیں
اپنے دین پر
عمل کرنے کی
آزادی مسلم
ممالک سے زیادہ
میسر ہے۔
مسلم ممالک میں
انہی غیر
مسلم کمپنیوں
کے مسلمان
کہلانے والے
نمائندے
اپنے بھائیوں
کو دین سے
برگشتہ کرنے
میں شاہ سے زیادہ
شاہ کے
وفادار ثابت
ہوتے ہیں۔ اس
مسئلے کے
ساتھ ساتھ
بسا اوقات
مسلکی تعصب
بھی رنگ لاتا
ہے۔ اگر کسی
شخص کا باس اس
کے مخالف
فرقے سے تعلق
رکھتا ہو تو
وہ اسے ہر طریقے
سے تنگ کرنے کی
کوشش کرتا ہے۔ ایسا
کام وہی
کرسکتا ہے
جسے اللہ
تعالیٰ کے
سامنے پیش
ہونے کا کوئی
خوف نہ ہو، وہ
اپنے کیریئر
کو صرف انہی تیس
پینتیس
سالوں پر محیطسمجھتا
ہواور یہ
سمجھتا ہو کہ
اس دنیا کی
چند سالہ
زندگی ہی سب
کچھ ہے اور اس
کے بعد اس کا کیریئر
ختم ہو جائے
گا۔ ایسے لوگ
جو دین پر عمل
کرنے ہی کو
اپنی ترجیح
سمجھتے ہوں ،
ان کے لئے چند
تجاویز پیش
خدمت ہیں۔ امید
کی جاسکتی ہے
کہ ان تجاویز
کی مدد سے اگر یہ
مسائل مکمل
طور پر حل نہ
بھی ہو سکیں
تب بھی ان کی
شدت کو کافی
حد تک کم کیا
جاسکتا ہے۔ ·
سب سے
پہلے اس حقیقت
کو ذہن نشین
کر لیجئے کہ
ہم سب کا رازق
اللہ تعالیٰ
ہے۔ وہ جب
پتھر کے اندر
موجود کیڑے
کو بھی رزق دیتا
ہے تو کیا اس
انسان کو رزق
عطا نہیں کرے
گا جو اس کی
فرمانبرداری
کرنے کی کوشش
کر رہا ہے؟
درحقیقت ایسا
ہوتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ
ہمیں آزمانے
کے لئے بعض
اوقات ہمارے
سامنے کچھ
مسائل رکھتا
ہے۔ جو لوگ ان
مسائل کے
باوجود اللہ
تعالیٰ کی
نافرمانی نہ
کریں، انہیں
وہ کچھ عرصے
بعد اپنی
رحمت سے
نوازتا ہے۔
جو افراد اس کی
نافرمانی کریں
اور پھر توبہ
کرکے واپس بھی
نہ آئیں ، انہیں
وہ بہت مرتبہ
دنیاوی عیش و
آرام دے کر ان
کی نیکیوں کا
صلہ اس دنیا ہی
میں دے دیتا
ہے۔ ہمارے پیش
نظر یہ حقیقت
بھی رہنی
چاہئے کہ
ہمارا کیریئر
صرف چند سال
پر مشتمل نہیں
ہے۔ اس زندگی
کے بعد ایک
ختم نہ ہونے
والی زندگی
اور شروع ہوگی
جس کے کیریئر
کی ہر شخص کو
فکر ہونی
چاہئے۔ ہم
لوگ اپنی قلیل
المیعاد (Short-term)
ضروریات کو
قربان کرکے
اعلیٰ تعلیم
حاصل کرتے ہیں
تاکہ طویل
عرصے (Long-term)
میں اپنی
زندگی کو
بہتر بنایاجاسکے۔
ہمارا یہ عمل
دراصل
مستقبل میں
سرمایہ کاری (Investment)
کی حیثیت
رکھتا ہے۔
اگر کبھی
ہمارے کیریئر
کے قلیل المیعاد
اور طویل المیعاد
مقاصد میں
کوئی تصادم
ہو تو ہم ہمیشہ
طویل المیعاد
مقاصد ہی کو
ترجیح دیتے ہیں۔
بالکل اسی طریقے
سے ہمیں
لامحدود (Infinite)
سالوں پر
مشتمل کیریئر
کے لئے کبھی
چھوٹی موٹی
قربانی بھی
دے دینی
چاہئے اور
چند سالوں کے
اس کیریئر کے
لئے ختم نہ
ہونے والے کیریئر
کو قربان نہیں
کرنا چاہئے۔
دین کے کسی
حکم پر عمل نہ
کرنے کی رخصت
ہمیں اس صورت
میں حاصل ہے
جب ہمارے
سامنے کوئی
بہت بڑی
مجبوری ہو۔
اس مجبوری کو
بھی معقول
ہونا چاہئے
اور دنیاپسند
طبقے کی طرح
مضحکہ خیز
مجبوریوں سے
اجتناب کرنا
چاہئے۔ ·
اعلیٰ
کاروباری
حلقوں اور
ملٹی نیشنل
کمپنیوں میں
دینی طبقے کے
بارے میں
پائے جانے
والے تعصب کو
بڑی حد تک اپنی
اچھی
کارکردگی سے
کم کیا
جاسکتا ہے۔ دین
دار افراد کو
چاہئے کہ وہ
اپنے کام میں
مہارت حاصل
کریں، دیانت
داری سے اپنی
پیشہ ورانہ
ذمہ داریاں
ادا کریں،
دوسروں کی
نسبت اپنی
کارکردگی کو
بہتر بنائیں
، پیشہ ورانہ
اخلاقیات کا
مظاہرہ کریں
اور اپنے
تاثر کو بہتر
سے بہتر
بنانے کی
کوشش جاری
رکھیں۔ حالیہ
دنوں میں اس کی
بہترین مثال
امریکی
مسلمانوں نے
پیش کی ہے۔ گیارہ
ستمبر 2001 کی
دہشت گردی کے
بعد مسلم
مخالف حلقوں
کی طرف سے امریکی
میڈیا پر یہ
مہم چلائی گئی
کہ مسلمان
دہشت گرد ، لاقانونیت
کے حامی،
انتہا
پسنداور امن
کے دشمن ہوتے
ہیں۔ اس مہم
کے نتیجے میں
مسلمانوں کو
خاصا نقصان
پہنچا۔ اگر
ان کی جگہ ہم
ہوتے تو لڑائی
جھگڑے پر اتر
آتے۔ وہ لوگ
تعلیم یافتہ
ہونے کی وجہ
سے ہماری
نسبت ایسے
معاملات کا
گہرا شعور
رکھتے ہیں
اور بے جا
جذباتیت سے پرہیز
کرتے ہیں۔
انہوں نے اس
کے جواب میں ایک
جوابی میڈیا
مہم چلائی جس
میں انہوں نے
اپنے کردار
اور عمل سے یہ
ثابت کیا کہ
اسلام دہشت
گردی،
لاقانونیت،
انتہا پسندی
اور بدامنی
کا سب سے بڑا
مخالف ہے اور
کوئی بھی سچا
مسلمان ایسا
نہیں ہوسکتا۔
اس جوابی مہم
میں ان کا
ساتھ ان غیر
مسلم سکالرز
نے بھی دیا جو
غیر متعصب
ہونے کی وجہ
سے مسلمانوں
کے ساتھ
ہمدردی
رکھتے ہیں۔ یہ
جوابی مہم
ابھی جاری ہے
اور اس کے نتیجے
میں مغربی
معاشروں میں
مسلمانوں کے
عزت اور وقار
میں اضافہ
ہورہا ہے۔
ہماری دعا ہے
کہ ان کی یہ
مہم کامیاب
ہو۔ موجودہ حالات
کی ضرورت ہے
کہ ہمارا تعلیم
یافتہ دینی
طبقہ بھی ایسی
مہم چلائے او
راپنے کردار
سے یہ ثابت
کرے کہ دین پر
عمل کرنے
والا مسلمان
دہشت گرد اور
انتہا پسند
نہیں ہوتا۔
وہ پیشہ
ورانہ اخلاقیات
کا اپنے ساتھیوں
سے زیادہ
پابند ہوتا
ہے، اس کی
کارکردگی
عام لوگوں کی
نسبت بہتر
ہوتی ہے ،
اپنے فرائض کی
ادائیگی میں
وہ انتہائی دیانت
دار ہوتا ہے
اور اپنی ذمہ
داریاں
انتہائی
توجہ اور
محنت سے ادا
کرنے کا
پابند ہوتا
ہے۔ ·
ایسے دین
دار حضرات جو
اعلیٰ عہدوں
پر فائز ہیں،
انہیں چاہئے
کہ وہ دوسرے دین
دار ساتھیوں
کی جائز حمایت
کریں اور ان
کا امیج بہتر
بنانے کی
کوشش کرتے رہیں۔
اس بات کا خیال
رہے کہ یہ حمایت
صرف اور صرف
جائز
معاملات میں
ہونی چاہئے
اور اس میں کسی
اور کی حق تلفی
بالکل نہیں
کرنی چاہئے۔ ·
دین
دار حضرات کے
بعض مسائل ایسے
ہیں جو کہ
قرآن و سنت کی
واضح
احکامات
(نصوص) کی وجہ
سے نہیں بلکہ
علماء کے
نقطہ ہائے
نظر کے
اختلاف کی
وجہ سے پیدا
ہوتے ہیں۔ اس
کی ایک مثال
لباس اور وضع
قطع کی وجہ سے
پیش آنے والے
مسائل ہیں۔
ان معاملات میں
ہمیں لکیر کا
فقیر نہیں
بننا چاہئے
بلکہ دوسرے
نقطہ نظر کا
مطالعہ بھی
کرنا چاہئے
اور اگر ہمیں
وہ قرآن وسنت
اور عقل و
فطرت کے زیادہ
قریب لگے اور
اسے اپنا لینے
میں بھی کوئی
جھجک محسوس
نہیں کرنی
چاہئے۔
بلاسوچے
سمجھے ایک ہی
نقطہ نظر کو
مان کر ہر طرف
سے آنکھیں
بند کرلینا
نہ تو دین میں
صحیح قرار دیاگیا
ہے اور نہ ہی
عقل و فطرت میں۔ ·
بعض دینی
جماعتوں کی
انتہا پسندی
اور چند غلط اقدامات
کی وجہ سے
معاشرے میں
ان اک منفی امیج
پایا جاتا ہے۔
ان جماعتوں
سے تعلق
رکھنے والے
افراد کو اپنی
عملی زندگی میں
اپنی
جماعتوں کے
مخالفین یا
ان کے بارے میں
منفی تاثر
رکھنے والے
افراد کی طرف
سے مزاحمت کا
سامنا کرنا
پڑتا ہے۔
ہماری رائے میں
ایسی
جماعتوں میں
شمولیت سے
اجتناب ہی
بہتر ہے۔
انسان کو ایسے
دینی حلقوں
سے وابستگی
اختیار کرنی
چاہئے جن کے
بارے میں
معاشرے میں
اچھا تاثر پایا
جاتا ہو۔ ·
اگر
ہمارا واسطہ
ایسے لوگوں
سے پڑ جائے جو
محض مسلکی یا
فرقہ وارانہ
تعصب کی بنا
پر ہمیں
ہمارے جائز
حقوق سے
محروم کرنے
پر تلے ہوں،
تو ان کے ساتھ
حکمت عملی سے
معاملہ کرنا
چاہئے اور
اللہ تعالیٰ
سے دعا کرتے
رہنا چاہئے
کہ وہ انہیں
ہدایت دے۔ اس
بات کا بھی خیال
رکھئے کہ
مذہب یا نقطہ
نظر میں
اختلاف کی
صورت میں آپ
سے بھی کبھی
کسی کی حق تلفی
نہ ہو۔ محمد
مبشر نذیر November
2003 آرٹیکل
کو ڈاون لوڈ
کرنے کے لئے یہاں
کلک کیجیے۔ مزید مطالعے
کے لئے ·
دین کا
مطالعہ
معروضی طریقے
پر کیجیے ·
کیا
اسلام اور
جمہوریت ہم آہنگ
ہیں؟ ·
مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ ·
اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز |
||||
|
سفر نامے روانگی
برائے سعودی
عرب جدہ
مکہ جبل
نور اور غار
حرا مکہ کے دیگر
تاریخی
مقامات سفر
حج سفر ہجرت مدینہ مدینہ
کے تاریخی
مقامات بدر احد خندق طائف جازان،
ابہا اور
فیفا
دمام،
الخبر اور
بحرین کاز وے خیبر،
مدائن صالح
اور تبوک روانگی
برائے اردن پیٹرا جنگ موتہ
اور ڈیڈ سی مادبہ،
جبل نیبو اور
بپتسمہ سائٹ عقبہ مصر
کا بحری سفر جزیرہ
نما سینا قاہرہ اسکندریہ مصر
سے سعودی عرب
براستہ اردن
مذہبی
معاملات کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص دیباچہ مقدمہ حصہ
اول: تعارف باب 1:
تعارف باب 2:
البیان باب 3:
اسلامی
قانون کا علم حصہ
دوم: کتاب
اللہ باب 4:
قرآن کی زبان
باب 5:
خاص اور عام باب 6:
ناسخ و منسوخ
احکامات حصہ سوم: سنت
باب 7:
اللہ اور اس
کے رسول کے
احکامات کو
قبول کرنے کی
ذمہ داری باب 8:
اللہ اور اس
کے رسول کی
بیان کردہ
ممانعتیں باب 9:
روایات باب 10:
خبر واحد حصہ چہارم:
اجماع،
قیاس،
اجتہاد اور
اختلاف رائے
باب 11:
اجماع باب 12:
قیاس باب13
:
اجتہاد باب 14:
اختلاف رائے ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے جائزہ | دین کا
مطالعہ
معروضی
طریقے پر
کیجیے | رہبانیت | دوہرے
معیارات | فارم
اور اسپرٹ | دین میں
اضافے | گنیش
جی کا جلوس | صوفیاء
کی دعوتی حکمت
عملی | عقل
اور عشق | اسلام نے غلامی
کو ایک دم ختم
کیوں نہ کیا؟ | سورہ
توبہ کے شروع
میں بسم اللہ
کیوں نہیں ہے
؟ | کیا
رسولوں پر
ایمان ضروری
ہے؟
| مکہ
اور مدینہ حرم
کیوں کہلاتے
ہیں؟ | مرد
کا وراثت میں
حصہ دوگنا
کیوں ہے؟ | متشابہات
کیا ہیں؟ | عقائد و
نظریات الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات الحاد کی
تعریف یورپ
میں الحاد کی
تحریک مسلم
معاشروں میں
الحاد کا
فروغ
مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
الحاد کے
اثرات کائنات:
خدا کی ایک
نشانی | Quranic Concept of Human Life Cycle | A Dialogue with Atheism | کیا
عقل کے ذریعے
خدا کی پہچان
ممکن ہے؟ | کیا آخرت
کا عقیدہ
معقولیت
رکھتا ہے؟ | خدا کے
جسم سے کیا
مراد ہے؟ | خدا
نظر کیوں
نہیں آتا؟ | تقدیر کا
مسئلہ؟ بعض
لوگ خدا کے
منکر کیوں
ہیں؟ | محمد
رسول اللہ کی رسالت
کا ثبوت کیا
ہے؟ | Empirical Evidence of God’s Accountability | معاشرتی
معاملات اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز | دین دار
افراد کے لئے
معاش اور
روزگار کے
مسائل | موٹر وے
کی ٹریفک | جنریشن
گیپ | ساس اور
بہو کا مسئلہ | ہماری
شخصیت اپنی
شخصیت اور کردار
کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ مایوسی کی تعریف مایوسی
کی اقسام مایوسی
کی وجوہات مایوسی
دور کرنے کے
لئے چند
تجاویز
بزرگوں
کی کرامات یا
ان کا کردار سبز یا
نیلا | مشکل
پسندی | اختلاف
رائے کی صورت
میں ہمارا
رویہ | سیکس کے
بارے میں
متضاد رویے | تکبر کے
اسٹائل | انسان کا
اپنی شخصیت
پر کنٹرول | علماء
کی زبان | جذبہ حسد
اور جدید
امتحانی
طریقہ | فرشتے،
جانور اور
انسان | شیطانی
قوتوں کا
مقابلہ کیسے
کیا جائے؟ | اسلام اور
دور جدید اسلام
اور دور حاضر
میں وقوع
پذیر ہونے
والی تبدیلیاں دیباچہ معاشرے
میں تبدیلی
کا عمل انسانی
نفسیات اور
طرز فکر میں تبدیلی معاشرتی
اور ثقافتی
تبدیلی سیاسی
تبدیلی معاشی
اور تکنیکی
تبدیلی دور
جدید کی
تبدیلیاں
اور ہمارا رد
عمل دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار دعوت دین
کی اہمیت داعی
اور اس کی
صفات
دعوت دین
کی منصوبہ
بندی
دعوتی
پیغام کی
تیاری اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا
حقیقت | مسلم
دنیا میں
علمی و
تحقیقی
رجحانات | دور
جدید کی سازش | ہم
اسلام نافذ
کیوں نہ کر
سکے؟ | امت
مسلمہ زوال پذیر
کیوں ہے؟ | اقوام
عالم کو مسلمانوں
سے ہمدردی
کیوں نہیں؟ | مذہب
کی دعوت کے
لئے کرنے کا
سب سے بڑا
کام؟ | مولوی
اور دور جدید |
||||
|
The content of this
website is copyright protected © Mubashir Nazir. All rights expressly
reserved. The material can be republished with permission of the author. |
||||