Ethics & Religion

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love

اخلاقیات اور مذہب

اعلیٰ اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری ، امن اور محبت سے وابستہ

Home

Risk Management

Adventure & Tourism

Ethics & Religion

Install Urdu Font

Urdu Setup

Your Comments

About the Author

آرٹیکل کو ڈاون لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

 

دین دار طبقے کے لئے معاش اور روزگار کے مسائل

معاشی مسئلہ انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر کوئی شخص معاشی اعتبار سے مسائل کا شکار ہو تو وہ کوئی بھی کام ذہنی یکسوئی سے انجام نہیں دے سکتا۔ مالی اعتبار سے مستحکم ہونا، اچھا روزگار حاصل کرنا اور اپنے کاروبار یا ملازمت میں ترقی حاصل کرنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے کا نظام حیات ان اصولوں پر مرتب کیا گیا ہے جو بہت سے معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین سے متصادم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہوں، ان کے لئے معاشی زندگی میں کچھ مخصوص نوعیت کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد ان مسائل کا جائزہ لینا اور ان کے حل کے لئے مناسب تجاویز پیش کرنا ہے۔
          اپنے کیریئر کے اعتبار سے دین دار افراد کو ہم دو طبقات میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو دینی مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگیوں کو مکمل طور پر دین کی تعلیم و تبلیغ کے لئے وقف کردیا ہوا ہے۔ یہ افراد عموماً فل ٹائم دینی خدمات انجام دیتے ہیں۔

          دوسرے وہ لوگ ہیں جو عام سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور اپنے خاندان، اساتذہ، دوستوں، کسی دینی حلقے یا جماعت کے زیر اثر دین کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اس پر عمل کرنے اور اس کی خدمت کرنے کو اپنا نصب العین قرار دیتے ہیں۔ یہ افراد عموماً دین کی خدمت کو ایک پارٹ ٹائم مشغلے کے طور پر اختیار کرتے ہیں اور اپنی معاش کے لئے کسی کاروبار یا ملازمت پر انحصار کرتے ہیں۔

دینی مدارس کا تعلیم یافتہ طبقہ
مدارس کی بالعموم دو اقسام ہیں: ایک تجوید و قرآء ت اور حفظ کے مدارس اور دوسرے درس نظامی اور اعلیٰ دینی تعلیم کے مدارس۔ پہلی قسم کے مدارس کے فارغ التحصیل قرا ء اور حفاظ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد عموماً کسی مسجد میں امام یا موذن کی خدمات انجام دیتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی حفظ یا تجوید کے مدرسے میں بطور معلم خدمات انجام دیتے ہیں۔ آج کل یہ حضرات اپنی آمدنی میں کچھ اضافہ کرنے کے لئے ہوم ٹیوشنز پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے بے شمار مدارس کا ایک جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کامکمل کیریئر بس یہی ہوتا ہے اور وہ اسی سے حاصل ہونے والی قلیل آمدنی سے اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔
          دینی تعلیم کے کورس کو درس نظامی کہا جاتا ہے۔ یہ اورنگ زیب عالمگیر کے دور کے ایک ماہر تعلیم ملا نظام الدین کا ترتیب دیا ہوا نصاب ہے جو تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس میں بالعموم رائج ہے۔
اس دور میں یہ نصاب حکومت کی سول سروس کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ وقت کی ضرورت کے پیش نظر اس میں چند معمولی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ حال ہی میں حکومت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے نصاب کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے ہیں جس کے تحت بعض جدید علوم کو بھی دینی مدارس کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

          ان مدارس کے فارغ التحصیل علماء عموماً مساجد میں امام یا خطیب کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو افراد اچھی تقریر کرنا جانتے ہیں وہ جمعے کی نماز کی خطابت کے علاوہ جلسوں وغیرہ میں تقاریر کرکے بھی کچھ رقم کما لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے جو علمی اعتبار سے مستحکم ہوتے ہیں، وہ کسی مدرسے میں بطور معلم ملازمت حاصل کر لیتے ہیں۔ ہمارے عام سکولوں کے نصاب میں بھی عربی پڑھائی جاتی ہے، اس وجہ سے بعض علماء جدید تعلیمی اداروں میں بھی بطور عربی اور اسلامیات کے معلم کے خدمات انجام دیتے ہیں۔ بعض ایسے حضرات جنہیں مالی امداد کرنے والے دوست اور ساتھی مل جائیں ، عموماً اپنا دینی مدرسہ کھول لیتے ہیں۔ یہ حضرات معاشی اعتبار سے سب سے بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔
          اگر دینی تعلیم و تعلم کو کوئی بطور کیریئر اختیار کرنا چاہے تو اس میں اس کے لئے دنیاوی اعتبار سے کوئی خاص کشش موجود نہیں ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق حفظ و قراۃ کے مدارس کے ایک عام معلم کی تنخواہ 2500 سے لے کر
6000 روپے تک ہوتی ہے۔ مدارس کے ائمہ کی تنخواہیں بھی اسی رینج میں ہوتی ہیں جبکہ مساجد کے موذن اور خادم حضرات کو 1500 سے 3000 روپے تک ادا کئے جاتے ہیں۔ درس نظامی کے فارغ التحصیل علماء بطور خطیب تقریباً 4000 سے 8000 روپے تک تنخواہ پاتے ہیں اور مدارس میں بطور معلم بھی زیادہ سے زیادہ اتنی ہی رقم حاصل کر پاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھی بڑے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عام لوگ مساجد اور مدارس کو اچھی خاصی رقم بطور چندہ ادا کرتے ہیں۔

          چھوٹے شہروں اور دیہات میں یہ رقوم اور بھی کم ہو جاتی ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک امام مسجد اپنی تمام تر کاوشوں کے بعد بڑی مشکل سے زیادہ سے زیادہ پانچ چھ ہزار روپے اور خطیب زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار روپے کما پاتا ہے۔ جو حضرات اپنے مدرسے قائم کر لیتے ہیں، وہ نسبتاً بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔ افراط زر کے ساتھ ساتھ ان ائمہ و خطباء کی تنخواہوں میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا۔گویا جس تنخواہ پر ایک امام یا خطیب اپنے کیریئر کا آغاز کرتا ہے، تقریباً اتنی ہی یا اس سے کچھ زیادہ پر اس کے کیریئر کا اختتام ہوتا ہے۔

          یہ بھی غنیمت ہے کہ عموماً مساجد کے ساتھ امام و موذن کی رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کے یوٹیلیٹی بلز وغیرہ ادا کردیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اس رقم سے یہ حضرات جس درجے کا معیار زندگی حاصل کر سکتے ہیں، اس کا اندازہ ہر شخص کر سکتا ہے۔یہی وجوہات ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ فل ٹائم خدمت کے طور پر اسے اختیار نہیں کرتا۔ اس طبقے میں جو لوگ دین کا درد رکھتے ہیں، وہ اپنی معاش کے لئے کوئی اور انتظام کرتے ہیں اور دینی خدمات کو پارٹ ٹائم مشغلے کے طور پر انجام دیتے ہیں۔
          مساجد کی اکثریت کا نظام انتظامیہ کمیٹیوں کے تحت چلتا ہے۔ بہت سے مساجد کی کمیٹیاں بھی ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہیں جو شاذ ونادر ہی مسجد میں آ کر نماز پڑھتے ہیں۔ بہت مرتبہ ان لوگوں کا رویہ امام مسجد سے حقارت آمیز ہوتا ہے اور یہ انہیں ذاتی ملازم سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امام و خطیب کے انتخاب اور احتساب کا فریضہ وہ لوگ انجام دیتے ہیں جو علوم دینیہ کی ابجدبھی واقف نہیں ہوتے۔

          یہی وجہ ہے کہ امام و خطیب کو مسجد میں انتظامیہ اور نمازیوں کی منشا اور مرضی کے مطابق ہی بات کرنا پڑتی ہے اور اسے مکمل طور پر آزادی رائے حاصل نہیں ہوتی۔ کھل کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا بھی اکثر اوقات ان کے لئے خاصا مشکل ہوجاتا ہے جو ان کی اصل ذمہ داری ہے۔ ان سب کے علاوہ مساجد کی تزئین اور آرائش پر تو لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور لوگ بھی اس میں دل کھول کر چندہ دیتے ہیں لیکن اس زندہ وجود کی کسی کو خبر نہیں ہوتی جو اس مسجد کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مساجد کی تزئین و آرائش میں اسراف کی حد تک خرچ کرنے میں کسی کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا لیکن اس انسان کا کوئی خیال نہیں کرتا جسے اپنے علاوہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے۔ اگر مساجد کی کمیٹیوں کے عہدے دار اپنے اپنے ائمہ مساجد کے گھروں میں جاکر ان کے معیار زندگی کا اندازہ لگائیں تو وہ خود کبھی بھی ایسی زندگی گزارنا پسند نہ کریں۔
          ملک بھر میں چھوٹے بڑے مدارس کا اتنا بڑا جال پھیلا ہوا ہے کہ اس سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ ملک میں اتنی بڑی تعداد میں نہ تو مساجد کی تعمیر ہو رہی ہے اور نہ ہی نئے مدارس وجود میں آ رہے ہیں۔ مدارس کے ذہین طلباء عموماً دین پر ریسرچ کا ذوق رکھتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے ادارے بہت کم  ہیں جہاں دین پر ریسرچ کی جارہی ہو۔ ان حالات کے پیش نظر اس طبقے میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا حل سوچنا نہ صرف ارباب حکومت کا کام ہے بلکہ مدارس کے منتظمین اور علماء کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر خوب غور و خوض کرکے اس کا کوئی حل نکال سکیں۔
          حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مسائل دوہرے نظام تعلیم کی پیداوار ہیں۔ مسلم ممالک پر اہل مغرب کے قبضے سے پہلے یہ صورتحال تھی کہ ایک ہی نظام تعلیم تھا جس میں تمام طالب علم تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اس میں دینی و دنیاوی کی کوئی تفریق نہ تھی۔ مدارس کے تعلیم یافتہ علماء ہی اپنی اہلیت کے مطابق بیوروکریسی، تعلیم، تجارت اور دوسرے شعبوں میں خدمات انجام دیا کرتے۔

          اہل مغرب کے سیکولر ازم نے دوہرے نظام تعلیم کو جنم دیا جس کے مطابق دینی مدارس کے تعلیم یافتہ دنیاوی ذمہ داریوں کے لئے نااہل تھے اور دنیاوی علوم کے ماہرین کا دین سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہ ہوتا تھا۔ پاکستان کی کئی حکومتوں نے اس خلیج کو پاٹنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں جن میں مدارس کی سند کو ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مدارس کے تعلیم یافتہ بھی سرکاری نوکریوں کے لئے اہل قرار پا گئے ہیں۔ اسی طرح مدارس کے نصاب میں جدید علوم اور کمپیوٹر کی تعلیم کو شامل کرلیا گیا ہے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود ان معاشی مسائل پر قابو نہیں پایا جاسکا۔
          ہمارے خیال میں مندرجہ ذیل تجاویز کے ذریعے دینی مدارس کے تعلیم یافتہ طبقے کے معاشی مسائل پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے اور انہیں بھی زندگی کی خوشیوں میں شریک کیا جاسکتا ہے:

·      دینی مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا ہنر بھی سکھایا جائے جس میں وہ اپنی روزی کماسکیں۔ یہ تجویز بہت پہلے دی جاچکی ہے لیکن اسے بہت سے علماء نے رد کردیا۔ ایک عالم دین کے مطابق ، اگر ایک امام مسجد یا خطیب معاشرے کے لئے اپنی فل ٹائم خدمات انجام دیتا ہے تو معاشرے کو بھی اس کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان کا یہ نقطہ نظر اپنی جگہ بالکل درست ہے لیکن اگر معاشرہ اپنی اس ذمہ داری کو بطریق احسن انجام نہیں دے رہا تو پھر مدارس کے طلباء ہی کو اپنے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔ اگر مدارس میں اس طرز کی کسی تعلیم وتربیت کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا تو طلباء کو چاہئے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت خود ہی اپنے طور پر کوئی ہنر سیکھ کر اپنے کیریئر بنانے کے لئے کچھ اقدام کریں۔ ہمارے ہاں عام لوگوں کی طرح دینی طلباء میں بھی محنت اور ہاتھ سے کام کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور اس سے اغماض برتا جاتا ہے۔جو شخص بھی دین کا تھوڑا بہت علم رکھتا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ اکثرجلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محنت مزدوری کیا کرتے تھے ۔ کوئی کپڑے سیتا، کوئی گوشت بیچتا، کوئی جوتے مرمت کرتا، کوئی لوہے کا کام کرتا، کوئی قبریں تیار کرتا، کوئی گھوڑوں کی پرورش کرتا اور کوئی کھیتوں اور باغات میں کام کرتا۔ سیدنا ابوبکر اور عثمان رضی اللہ عنہما تجارت کرتے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ باغات میں مزدوری کرکے اپنی روزی کماتے۔ ان حضرات میں ایسا کوئی کمپلیکس نہیں تھا کہ ان میں سے کوئی پیشہ گھٹیا ہے۔ اہل عرب میں اب تک تما م پیشوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ تصورات ہم میں برصغیر کے مخصوص جاگیر دارانہ ماحول کے زیر اثر آئے ہیں جہاں محنت کشوں کو تیسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔