|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری ،
امن اور محبت
سے وابستہ |
|||
|
آرٹیکل
کو ڈاون لوڈ
کرنے کے لئے یہاں
کلک کیجیے۔ مسلم دنیا
میں علمی و
تحقیقی
رجحانات اس
بات پر پوری
امت مسلمہ کا
اتفاق ہے کہ
اب دین کا
تنہا ماخذ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی ذات
والا صفات ہے۔
حضور نبی
اکرم صلی
اللہ علیہ
وسلم نے ہمیں
دین دو طریقوں
سے عطا فرمایا
ہے: ایک اللہ
تعالیٰ کا
براہ راست
کلام جو قرآن
مجید ہے اور
دوسری حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی سنت
مبارکہ۔ امت کو
جب بھی کسی معاملے
میں کوئی
رہنمائی درپیش
ہو گی تو سب سے
پہلے اللہ
تعالیٰ کے
قرآن اور اس
کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی سنت
کی طرف رجوع کیا
جائے گا۔ اگر
ان میں اس
معاملے کے
بارے میں کوئی
واضح بات
ارشاد نہیں
ہوئی تو اس
معاملے میں
امت کے اہل
علم اجتہاد
کریں گے اور
قرآن و سنت کی
بنیاد پر
قانون سازی
کریں گے۔ جب
اجتہاد کیا
جائے گا تو اس
میں رائے کا
اختلاف پیدا
ہونا ایک
معمولی سا
امرہے۔ اس
اختلاف کی بنیادی
وجہ علم اور
فہم کا فرق
ہوتا ہے۔ ان
وجوہات کو ہم
نے تفصیل سے
اپنے آرٹیکل ’’دین میں
اختلاف کیوں؟‘‘
میں بیان کر دیا
ہے۔ ان
اختلافات کے
خاتمے کا
واحد طریقہ
آپس میں
مکالمہ کرنا
اور رواداری
کا فروغ ہے۔
گفت و شنید کے
ذریعے ایک
دوسرے کے
نقطہ نظر کو
سمجھ کر ایک
متفقہ حل تک
پہنچا
جاسکتا ہے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کی حیات
طیبہ کے
زمانے میں
کوئی اصولی
تو کیا فروعی
اختلاف بھی
جڑ نہیں پکڑ
سکتا تھا۔ جب
کبھی آپ کے
صحابہ رضی
اللہ عنہم میں
کسی مسئلے پر
اختلاف رائے
ہوتا تو وہ
اسے حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی
خدمت میں پیش
کرتے۔ آپ اس
کے لئے یا تو
وحی کا
انتظار
فرماتے یا
پھر اپنے
اجتہاد اور
صحابہ کے مشورے
سے کوئی
لائحہ عمل
تجویز
فرماتے، بعد
میں اللہ
تعالیٰ کی
طرف سے وحی کے
ذریعے اس
اجتہاد کی
تائید کر دی
جاتی یا پھر
اس کا کوئی
متبادل
لائحہ عمل دے
دیا جاتا۔ اس
طرح امت میں
کوئی اختلاف
اہم حیثیت
اختیار نہ
کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی
وفات اقدس کے
بعد خلافت
راشدہ کا دور
آیا۔ سیدنا
ابوبکر اور
عمر رضی اللہ
عنہما کے دور
میں جب کبھی
کوئی نیا
مسئلہ درپیش
ہوتا تو اس کے
بارے میں
قرآن مجید
اور حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی سنت
میں رہنمائی
تلاش کی جاتی۔
اگر اس کے
بارے میں کوئی
واضح حکم نہ
ملتا تو دین میں
گہری سمجھ بوجھ
رکھنے والے
صحابہ کرام
رضی اللہ
عنہم اس
مسئلے پر مل
جل کر غور
کرتے۔ ایسا
بارہا ہوا کہ
ان صحابہ میں
مختلف آرا پیدا
ہوجاتیں لیکن
انہیں باہمی
مکالمے کے ذریعے
حل کر لیا
جاتا اور امت
کسی اجتماعی
نقطہ نظر تک
پہنچ جاتی۔ سیدنا
عثمان رضی
اللہ عنہ کے
دور کے آخر تک
اسلامی
حکومت کی
سرحدیں بہت
دور تک پھیل
گئیں۔ بہت سے
فقہا صحابہ
حکومتی ذمہ
داریوں یا
پھر دین کی
تبلیغ اور
عوام الناس کی
تربیت کے لئے
مختلف شہروں
میں پھیل گئے۔
اس وقت ان کے
لئے
باہمی
مکالمے کا
کوئی موقع نہ
رہا کیونکہ
اسلامی دنیا
اس وقت کی
متمدن دنیا
کے تقریباً
ساٹھ فیصد
حصے تک پھیل
چکی تھی اور
ٹرانسپورٹ
اور کمیونیکیشن
کے ذرائع
اتنے ترقی یافتہ
نہ تھے۔ سیدنا
علی و معاویہ
رضی اللہ
عنہما اور ان
کے بعد کے
ادوار میں یہی
صورتحال
برقرار رہی۔ان
کے بعد کے
حکمران
اخلاقی
اعتبار سے
اتنے اعلیٰ
کردار کے
حامل نہ تھے
کہ عام لوگ دینی
رہنمائی کے
لئے ان کی طرف
دیکھتے۔
چنانچہ دین میں
گہرا شعور
رکھنے والے
فقیہ صحابہ
اور ان کے
لائق
شاگردوں نے
اس کام کو اپنے
ہاتھ میں لے لیا۔
صحابہ
کرام رضی
اللہ عنہم کے
مبارک دور کے
بعد تابعین
کا دور آیا۔
اس دور میں بھی
ایسے ذہین
لوگ پیدا
ہوئے جنہوں
نے صحابہ
کرام سے دین
کا گہرا شعور
حاصل کیا۔ ان
میں مدینہ کے
رہنے والے سعید
بن مسیب ،
بصرہ کے حسن
بصری اور
کوفہ کے
ابراہیم نخعی رحمتہ
اللہ علیہم
نمایاں ہیں۔
ہر شہر کے
رہنے والوں میں
اپنے ہی شہر
کے صحابہ
کرام رضی
اللہ عنہم سے
دین سیکھنے
کا فطری
رجحان موجود
تھا۔ چنانچہ
اہل کوفہ
بالعموم سیدنا
عبداللہ بن
مسعود رضی
اللہ عنہ کے
اجتہادات کی
پیروی کرتے
تھے، جبکہ
اہل مدینہ سیدنا
عثمان غنی رضی
اللہ عنہ کے۔
اسی طرح اہل
شام نے سیدنا
امیر معاویہ
رضی اللہ عنہ
کے اجتہادات
کو زیادہ اہمیت
دی۔ تبع
تابعین کے
دور میں شہروں
میں فاصلہ
ہونے اور
ٹرانسپورٹ
اور کمیونیکیشن
کے ذرائع کی
عدم دستیابی
کے باعث
اجتہادات میں
اختلاف
بڑھتا گیا۔
اس کی بنیادی
وجوہات وہی
تھیں جو اوپر
بیان ہوئیں۔اس
طریقے سے اہل
کوفہ اور اہل
مدینہ کے دو
بڑے مکاتب
فکر (Schools of Thought)
وجود میں
آئے جنہوں نے
دین کو
سمجھنے کے
لئے اپنی
زندگیاں وقف
کر دیں۔ اہل
مدینہ میں سب
سے نمایاں
شخصیت امام مالک
علیہ الرحمۃ
کی تھی جبکہ
اہل عراق میں
امام
ابوحنیفہ علیہ
الرحمۃ کا
مکتب فکر زیادہ
مشہور ہوا۔
ان دونوں
ائمہ نے
اجتماعی
اجتہاد کو
فروغ دیا۔ امام
ابوحنیفہ ،
جو کہ حضرت
ابراہیم نخعی
کے شاگرد
حماد اور
امام جعفر
صادق رحمہم
اللہ کے
شاگرد تھے، کی
تقریباً چالیس
افراد پر
مشتمل ایک ٹیم
تھی جو قرآن و
سنت کی بنیادوں
پر قانون سازی
کا کام کر رہی
تھی۔ اس ٹیم میں
ہر شعبے کے ایکسپرٹ
شامل تھے جن میں
زبان، شعر و
ادب، لغت،
گرامر، حدیث،
تجارت ، سیاست
، فلسفے ہر
علم کے ماہرین
نمایاں
تھے۔ ہر
سوال پر تفصیلی
بحث ہوتی اور
پھر نتائج کو
مرتب کر لیا
جاتا۔ امام
صاحب کا یہ
اصول تھا کہ
وہ ہر معاملے
میں رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کی بات
کو زیادہ اہمیت
دیتے لیکن آپ
کے نزدیک وہی
خبر واحد
قابل قبول تھی
جو قرآن اور
سنت متواترہ
کے مطابق ہو۔
خبر واحد سے
مراد وہ حدیث
ہے جسے رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم سے کوئی
ایک یا دو
اشخاص ہی روایت
کرتے ہوں ۔
امام صاحب کے
نزدیک حضور صلی اللہ علیہ
وسلم دین کو
پوری طرح
پہنچانے کے
مکلف تھے۔ ایسا
نہیں ہو سکتا
تھا کہ آپ نے دین
کے کسی حکم کو
صرف ایک آدھ
شخص تک ہی
پہنچایا ہو
اور وہی اسے بیان
کر رہے ہوں۔ دین کے
کسی حکم کو
آئندہ نسلوں
میں منتقل
کرنے کے لئے
کسی ایک شخص کی
ذاتی صوابدید
پر نہیں
چھوڑا
جاسکتا کہ وہ
اگر چاہے تو
اسے آگے پہنچائے
اور چاہے تو
نہ پہنچائے۔
تواتر کا
مطلب یہ ہے کہ
کسی تاریخی
واقعے یا عمل
کو ہر دور میں
اتنے زیادہ
لوگ بیان کر
رہے ہوں یا
سرانجام دے
رہے ہوں کہ اس
میں کسی غلطی یا
فراڈ کا
امکان نہ رہ جائے۔
اس کے بر عکس
خبر واحد میں یہ
امکان ہوتا
ہے کہ اسے بیان
کرنے والے
راوی سے بات
کو سمجھنے یا
بیان کرنے میں
کوئی غلطی ہو
گئی ہو ۔ ایسا
بھی ہوا ہے کہ
بعض لوگوں نے
اپنی طرف سے
حدیثیں گھڑ
کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم سے
منسوب کردیں
تاکہ ان کے من
پسند عقائد
اور اعمال دین
اسلام کا حصہ
بن جائیں ۔ اس
کی تفصیل حدیث،
اصول حدیث (حدیث
کی Validity کو چیک
کرنے کا طریق
کار) اور
اسماء
الرجال (حدیث
بیان کرنے
والوں کی
عمومی شہرت
کے بارے میں
معلومات) کی
کتابوں میں دیکھی
جاسکتی ہے۔
مزید تفصیلات
کے لئے میری
تحریر "حدیث
اور جدید ذہن
کے شبہات"
ملاحظہ
فرمائیے۔ امام مالک
کی بھی ایک بڑی
ٹیم تھی، جو
انہی خطوط پر
اجتہاد کر رہی
تھی۔ امام
مالک بھی دین
کی تواتر سے منتقلی
کو اہمیت دیتے
تھے، اس لئے
وہ بھی اسی
خبر واحد کو
قبول کرتے جو
قرآن اور سنت
متواترہ کے
مطابق ہوتی۔
امام مالک کے
نزدیک سنت
متواترہ کا
اہم ترین ذریعہ
اہل مدینہ کا
عمل تھا جو کہ
صحابہ کرام
رضی اللہ
عنہم کی
اولاد تھے۔ بعد کے
ادوار میں
امام شافعی
اور امام احمد
بن حنبل رحمۃ
اللہ علیہما
بڑے ائمہ میں
شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے
امام ابوحنیفہ
اور مالک کے
برعکس خبر
واحد کی اہمیت
کو اجاگر کیا ۔
امام شافعی
وہ پہلے شخص ہیں
جنہوں نے
اصول فقہ (Jurisprudence) پر
باقاعدہ ایک
کتاب بھی لکھی
جس میں وہ
اصول بیان
کئے گئے ہیں
جن کی بنیاد
پر فقہا قرآن
و سنت کی بنیاد
پر قانون سازی
کر سکتے ہیں۔ اگر
غور کیا جائے
تو ان ائمہ میں
اساسی نوعیت
کا کوئی
اختلاف
موجود نہیں
تھا۔ یہ سب
حضرات رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم ہی کو دین
کا ماخذ قرار
دیتے تھے۔
فرق صرف اتنا
تھا کہ بعض
ائمہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم سے
معلومات کے
حصول کے جن
ذرائع کو کم
اہمیت دیتے
تھے، دوسرے
انہیں زیادہ
اہمیت دیتے تھے۔ اگر یہ
سب حضرات ایک
ہی زمانے اور
ایک ہی شہر میں
ہوتے تو
لازماً آپس میں
مکالمے کے ذریعے
تمام مسائل میں
اتفاق رائے
تک پہنچ جاتے۔
اگرچہ امام
ابوحنیفہ
اور مالک کے
درمیان اور
امام شافعی
اور احمد بن
حنبل علیہم
الرحمۃ کے
درمیان ایک
آدھ مرتبہ
ملاقات بھی
ہوئی، لیکن
ظاہر ہے ایک
چند ایک
ملاقاتوں میں
مسائل کی ایک
طویل فہرست
پر ڈسکشن
ممکن نہ تھی۔ ان چار
ائمہ کے
علاوہ اور بھی
بہت سے مکاتب
فکر وجود میں
آئے جن میں
امام اوزاعی،
لیث بن سعد، ابن
حزم اور سفیان
ثوری علیہم
الرحمۃ کے
سکول شامل ہیں
لیکن انہیں
مسلم معاشرے
میں فروغ نہ
مل سکا۔ مسلک
حنفی کو
ہارون رشید
کے دور میں
مملکت اسلامیہ
کا قانون بنا
دیا گیا۔ اسی
طرح مسلک
مالکی کو سپین
کی مسلم حکومت
نے اپنا
قانون قرار دیا
جس کی وجہ سے
ان دونوں
مکاتب فکر کو
امت مسلمہ میں
زیادہ فروغ
ملا۔ بعد کے
ادوار میں
مصر میں شافعی
المسلک صلاح
الدین ایوبی
علیہ الرحمۃ
کی حکومت رہی
اور پچھلی دو
صدیوں سے
حنبلی
المسلک آل
سعود کی
حکومت سعودی
عرب میں قائم
ہے۔ یہی وجہ ہے
کہ ان چار
مسالک کو امت
میں زیادہ
فروغ حاصل ہو
سکا۔ بعد کے
ادوار میں
امت مسلمہ پر
فکری جمود
طاری ہوگیا۔
چوتھی صدی
ہجری کے بعد یہ
بات عام ہوگئی
کہ اب اجتہاد
کا دروازہ
بند ہو چکا ہے
اور کسی کو
اجتہاد کرنے
کی ضرورت نہیں۔
اس ضمن میں
اسلاف جو کام
کرگئے بس اسی
پر تکیہ کرتے
ہوئے ہر کسی
کو چار مشہور
فقہی مکاتب
فکر میں سے کسی
ایک کا
انتخاب کر لینا
چاہئے۔ تقلید
کی یہ روش
عوام الناس
تک ہی محدود
رکھی جاتی تو یہ
بالکل درست
ہوتا کیونکہ
ہر کوئی دینی
علوم میں اعلیٰ
درجے کی
مہارت پیدا
کر کے اجتہاد
کرنے کی صلاحیت
تو نہیں رکھتا۔
ستم یہ ہوا کہ
ان اہل علم کو
بھی تقلید کی
اس روش کا
پابند بنا دیاگیا
جنہوں نے اپنی
پوری زندگیاں
ہی دین کو
سمجھنے کے
لئے وقف کر دینے
کا عزم کیا
ہوتا تھا۔ اس فکری
جمود کا نتیجہ
یہ نکلا کہ
پہلی تین صدیوں
کے بر عکس
اگلے ایک
ہزار سال تک
امت مسلمہ میں
اعلیٰ درجے
کے ذہین و فطین
مجتہدین بہت
کم پیدا ہوئے
جو نت نئے
مسائل میں
امت کی
رہنمائی کر
نے کی پوزیشن
میں ہوتے۔
اسلاف کے
کارناموں پر
فخر کرنے اور
اس میں کوئی
اضافہ نہ
کرنے کی یہ
روش اگر صرف
قانونی اور
فقہی مسائل
تک ہی محدود
رہتی تو بھی
عافیت تھی، لیکن
بدقسمتی سے یہ
روش سائنس، ٹیکنالوجی،
فلسفہ، نفسیات،
معاشرت، معیشت
، رسد و رسائل
اور سیاست ہر
میدان میں
فروغ پاگئی
جس کے نتیجے میں
امت میں اعلیٰ
صلاحیتوں کی
حامل لیڈر شپ
کا فقدان پیدا
ہوگیا۔ تقریباً
ڈیڑھ سو سال
پہلے تک یہ
حالت تھی کہ
مصر کی مشہور یونیورسٹی
جامعۃ الازہر
میں سید جمال
الدین افغانی
پر صرف اس بات
پر شدید تنقید
کی گئی کہ وہ
اسلاف کے طریقے
کے بر خلاف
جغرافیے کی
کلاس میں
ہاتھ میں زمین
کا گلوب لے کر
لیکچر دیتے
تھے۔
آج بھی بہت
سے مدارس میں
جدید سمعی و
بصری(Audio-Visual)
معاونات کی
مدد سے تعلیم
دینے کو
بزرگوں کے طریقے
کے مطابق نہ
ہونے کی وجہ
سے بے برکتی
سمجھا جاتا
ہے۔ اسی کا
نتیجہ یہ
نکلا کہ جب
اہل مغرب جدید
ترین سائنسی
ایجادات کے
ذریعے دنیا
فتح کر رہے
تھے تو ایک
طرف ہمارے دینی
علماء، ۔۔’’امتناع
نظیر ‘‘اور
’’امکان کذب ‘‘کی
بحثوں میں
الجھے ہوئے
تھے اوردوسری
طرف دنیاوی
علوم کے ماہر
کہلانے
والوں کو
غزلوں کے قافیے
جوڑنے اور خیالی
تک بندی ہی سے
فرصت نہ تھی۔ انیسویں
اور بیسویں
صدی عیسوی میں
مسلمانوں کو
اب تک کی تاریخ
کے سب سے بڑے چیلنج
کا سامنا
کرنا پڑا۔
اہل یورپ نے
اپنی علمی
برتری کے سبب
مسلم دنیا کے
بڑے حصے پر
قبضہ کر لیا۔
اس سے پہلے
مسلمانوں کو
ایسا چیلنج
تاتاریوں کے
ہاتھوں ہی مل
سکا تھا۔ اہل
تاتار علمی و
تہذیبی
اعتبار سے
بالکل ہی
کورے تھے،
چنانچہ وہ
مسلمانوں کو
کیا متاثر
کرتے، خود ہی
مسلم تہذیب
کو اپنا بیٹھے۔
اس کے بر عکس
اہل یورپ ایک
جدید الحادی
تہذیب کے علم
بردار تھے
اور ان کے پاس
سائنس اور ٹیکنالوجی
کی قوت تھی،
چنانچہ
انہوں نے
مسلمانوں کی
انفرادی اور
اجتماعی
زندگیوں کے
دھارے کو بدل
دیا۔ پچھلی
صدی کے نصف تک
اگرچہ مسلم
ممالک اہل یورپ
کے سیاسی
اقتدار سے تو
آزاد ہو گئے لیکن
ذہنی طور پر
بدستور مغرب
ہی کے پیروکار
رہے۔ امور سیاست،
معیشت اور
معاشرت کے وہ
ماڈل جو پہلی
تین صدیوں کے
مسلم علماء
نے بڑے تخلیقی
کام کے بعد تیار
کئے تھے، تقریباً
بارہ سو سال
تک قابل عمل
رہنے کے بعد یک
لخت ناقابل
عمل ہوگئے۔
سائنس میں نت
نئی ایجادات
اور سماجی
علوم میں جدید
تصورات نے دین
کے بارے میں
طرح طرح کے
سوالات پیدا
کردیے۔ اسلام
اللہ تعالیٰ
کا دین ہے جو قیامت
تک کے لئے
قابل عمل ہے۔
ہر معاشرے
اور ہر دور میں
اتنا زیادہ
اختلاف پایا
جاتا ہے کہ کسی
ایک نظام حیات
کو تمام
زمانوں اور
تمام
معاشروں میں
قابل عمل نہیں
بنایا
جاسکتا ۔ یہی
وجہ ہے کہ
اللہ تعالیٰ
نے مختلف
ادوار میں
اپنے نبیوں
کو جو شریعت
عطا کی، اس میں
عصری تقاضوں
کے لحاظ سے کئی
اختلافات
موجود تھے۔
ان شرعی قوانین
کے علاوہ چند
اخلاقی اصول
بھی انسانوں
کو سکھائے
گئے جو قیامت
تک کے لئے
تمام
معاشروں میں یکساں
طور پر پائے
جاتے ہیں۔
مثلاً دیانت
داری ، سچ وغیرہ
تمام
معاشروں اور
ادوارمیں یکساں
طور پر قابل
عمل ہیں۔
چونکہ قرآن
اللہ تعالیٰ
کی آخری کتاب
ہے جس نے قیامت
تک خدا کے
ماننے والوں
کو ہدایت
فراہم کرنا
ہے، اس لئے اس
نے ان اخلاقی
اصولوں کو تو
پوری طرح
نافذ کیا لیکن
شریعت اور
قانون کے باب
میں چند اساسی
اصول بیان
فرما دیے۔ اب یہ
مسلمانوں کے
اہل علم کا کا
م ہے کہ وہ قیامت
تک اپنے اپنے
دور کے
تقاضوں کے
مطابق ان اصولوں
کی بنیاد پر
قانون سازی
کریں۔ اس کی ایک
مثال زکوۃ کا
نظام ہے۔ اس
کا بنیادی
اصول یہ ہے کہ
امیر لوگوں
کے مال اور پیداوارمیں
سے ایک متعین
حصہ لے کر اسے
غریبوں کی
فلاح و بہبود
پر خرچ کیا
جائے تاکہ
معاشرے میں
امیر و غریب کی
خلیج زیادہ
نہ بڑھ سکے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے
زمانے میں
مال اور پیداوار
کی جو جو شکلیں
موجود تھیں ،
ان کے بارے میں
آپ نے زکوۃ کی
شرحیں اور
نصاب متعین
فرما دیے ۔
بعد کے ادوار
میں مال اور پیداوار
کی جو جو نئی
شکلیں وجود
پذیر ہوں گی،
اہل علم ان پر
اسی اصول کے
تحت زکوۃ
عائد کریں گے۔
سعودی عرب میں
اسی استدلال
کی بنیاد پر
جہاں
کاروباری
منافع پر زکوۃ
عائد کی گئی
ہے۔ اسی
طرح اسلام نے
مالیات (Finance) کے
طریقوں میں
سود ، جوئے
اور ناانصافی
کی ممانعت کی
ہے: ۔ اہل علم
اپنے اپنے
دور ضرورت کے
مطابق مالیات
کے ایسے طریقے
دریافت کرتے
رہیں گے جن میں
یہ تینوں چیزیں
نہ پائی جاتی
ہوں۔ اسی چیز
کا نام
اجتہاد ہے۔ ہمارے
قدیم فقہا نے
جو اجتہادات
کئے اور ان کی
بنیاد پر سیاسی
، عمرانی اور
معاشی نظام
وضع کئے ، وہ
ان کے اپنے
دور کے لحاظ
سے نہایت
مناسب اور
کامیاب تھے۔
وقت کے ساتھ
ساتھ تمدنی
ترقی کے نتیجے
میں ان پر نظر
ثانی کی
ضرورت پیش آتی
تو مشہور فقہی
مکاتب فکر میں
سے کسی مسلک
کے عالم ، کسی
پرانے
اجتہاد ہی کی
مثال (نظائر)
لے کر اس
مسئلے کو حل
کرنے کی کوشش
کرتے۔ اس عمل
کو فقہی
اصطلاح میں
’’تخریج ‘‘کہتے ہیں۔
یہ بالکل وہی
عمل ہے جس کے
تحت آج کل کی
عدالتیں
پرانے کیسوں
کے عدالتی فیصلوں
سے رہنمائی
حاصل کرتی ہیں۔
اس طریق کار کی
کامیابی کی بڑی
وجہ یہ تھی کہ
معاشروں میں
سیاسی، سماجی
اور معاشی
نظام کے
حوالے سے کوئی
بڑی تبدیلی
رونما نہیں
ہوئی تھی۔ ایک
شخص کی
زندگی، پچاس
سال قبل اپنے
دادا کی زندگی
سے بہت مختلف
نہ تھی۔ اہل یورپ
کی یلغار کے
نتیجے میں
مسلمانوں کے
نظام زندگی میں
ایک بڑی تبدیلی
واقع ہوئی۔
اٹھارہویں
صدی کے وسط میں
صنعتی
انقلاب کے
بعد جدید
سائنسی ایجادات
کے نتیجے میں
لائف اسٹائل
تبدیل ہونے
لگے ۔اہل یورپ
لادینی اور سیکولر
بنیادوں پر سیاسی،
معاشرتی اور
معاشی نظام
بھی ڈیویلپ
کرچکے تھے۔
مسلم ممالک کی
آزادی سے
پہلے اور بعد
میں یہی یورپی
نظام ہائے حیات
مسلم ممالک میں
رائج ہونا
شروع ہوگئے۔ یہ
اہل اسلام کے
لئے ایک بڑا
خطرہ تھا کیونکہ
اس کے نتیجے میں
مسلمانوں کا
اسلام پر سے
اعتماد اٹھ
جاتا اور وہ
نام کی حد تک
مسلمان رہنے
کے باوجود
مکمل طور پر
مغربی سانچے
میں ڈھل جاتے۔
صرف عبادات
کے معاملے میں
تو وہ ضرور
اسلامی طریقوں
کو اپناتے لیکن
ان کی عملی
زندگیوں میں
اسلام کا دور
دور تک نام و
نشان نہ ہوتا۔
انیسویں
صدی کے نصف
آخر میں
ہندوستان
اور مصر کے
چند مسلم اہل
علم نے آگے
بڑھ کر یہ
ثابت کرنے کی
کوشش کی کہ
اسلام آج کے
جدید دور میں
بھی اسی طرح
قابل عمل ہے جس
طرح پہلے
ادوار میں
تھا۔ بدقسمتی
سے ان اہل علم
کی پہلی نسل یورپ
سے اتنی زیادہ
مرعوب تھی کہ
انہوں نے
اسلام کی بنیاد
پر جدید زندگی
کے نظام کو
وضع کرنے کی
بجائے اسلام
ہی کو جدید یورپی
تصورات کے
تابع بنانے کی
کوشش کی۔ یہ تحریک
بیسویں صدی
کے نصف اول میں
اور نمو پذیر
ہوئی۔ اس
مرتبہ جن اہل
علم نے قرآن و
سنت کی بنیادوں
پر دور جدید
کے نظام ہائے
حیات مرتب
کرنے پر زور دیا،
وہ یورپ سے
مرعوب نہ تھے
بلکہ اس کے شدید
ناقد تھے۔ اس
کے ساتھ ساتھ
وہ جدید
سائنسی علوم
کے حصول کو
امت مسلمہ کے
لئے ضروری
سمجھتے تھے۔
ان اہل علم میں
ہندوستان کے شبلی
نعمانی، سید سلیمان
ندوی، ابوالکلام
آزاد، محمد
اقبال اور سید
ابوالاعلیٰ
مودودی اور
مصر کے رشید
رضا اور حسن
البنا نمایاں
حیثیت رکھتے
ہیں۔ بیسویں
صدی کے نصف تک
تقریباً
تمام مسلم
ملک آزاد ہو
چکے تھے لیکن
ان ممالک میں
جس طبقے کو
اقتدار حاصل
ہوا وہ پوری
طرح مغرب سے
مرعوب تھا۔ یہ
لوگ دور جدید
میں اسلام کو
قابل عمل ہی
نہ سمجھتے
تھے اور اسے
پرائیویٹ
لائف تک ہی
محدود کرنا
چاہتے تھے۔ ایک
طرف روایتی
طبقے کا علم
چوتھی صدی کی
سطح پر ہی
منجمد (Fossilize)
ہوچکا
تھا اور وہ
سوائے تخریج
کے طریق کار
کے قرآن و سنت
کی بنیاد پر
اجتہاد کرنے
کے لئے تیار
نہ تھے، جو کہ
دور جدید کے
تقاضوں کو
پورا کرنے کے
لئے بالکل ہی
ناکافی تھا۔
دوسری طرف ایسے
علماء جو جدید
علوم سے بھی
واقفیت
رکھتے تھے،
وہ اسلام کی
بنیاد پر جدید
نظام زندگی
کا خاکہ متعین
کرنے کی کوششیں
جاری رکھے
ہوئے تھے۔ اس
کی ایک مثال
اسلامی بینکنگ
کا ارتقا ہے
جس میں سود کے
متبادل
فنانسنگ کے
طریقوں کے
کچھ ماڈل پیش
کئے گئے۔ اسی
طرح اسلام کی
سیاسی اور
عمرانی تعلیمات
کے بنیاد پر
عملی زندگی
کے ماڈلز تیار
کئے گئے۔ یہ
ماڈلز وہی
علماء ہی تیارکر
سکے جو علوم
اسلامیہ کے
علاوہ جدید
زندگی کے
تقاضوں سے بھی
واقف تھے۔ بیسویں
صدی کا نصف
آخر صحیح
معنوں میں
اسلام کی
اجتہادی روح
کی بیداری کا
دور تھا۔ اس
زمانے میں بڑی
بڑی علمی شخصیات
پیدا ہوئیں
جنہوں نے دور
جدید کے
تقاضوں کے
مطابق
اجتہاد کی
ضرورت و اہمیت
پر زور دیا۔
پورے عالم
اسلام حتی کہ
ان غیر مسلم
ممالک میں بھی
جہاں مسلمان
بڑی تعداد میں
موجود ہیں،
اعلیٰ درجے
کے تحقیقی
ادارے قائم
ہوئے۔ اس دور
میں علم کی
سطح بہت بلند
ہو چکی ہے ، اس
لئے کسی فرد
کے لئے یہ
ممکن نہیں کہ
وہ تمام علوم
میں گہری بصیرت
حاصل کرسکے۔
اب انسان کسی
ایک شعبے ہی میں
تخصص (Specialisation) کر
سکتا ہے۔ اس
لئے اس بات کی
ضرورت ہے کہ
اجتہاد
انفرادی سطح
پر کرنے کی
بجائے ، امام
ابوحنیفہ علیہ
الرحمۃ کے طریقے
کے مطابق ٹیم کی
صورت میں کیا
جائے جس میں
قرآن، حدیث،
تفسیر، فقہ،
اصول، اسماء
الرجال، عربی
ادب، لغت،
گرامر، سیاسیات،
عمرانیات،
معاشیات،
نفسیات، مالیات،
تجارت،
سائنس ، طب ،
ماس کمیونی کیشن
اور دیگر
علوم کے ماہرین
شریک ہوں۔ بہت سے
ادارے اسی
اصول
پر اجتہادی
خدمات انجام دے
رہے ہیں۔
پچھلے دو
عشروں کے
دوران دنیا
انفارمیشن ایج
میں داخل ہو
چکی ہے۔
اجتہاد کرنے
والی ہر ٹیم
جدید ترین ٹیکنالوجی
کے ذریعے
اپنے دلائل
اور نتائج کو
دوسری ٹیم کے
ساتھ شیئر کر
سکتی ہے اور
اس طرح وسیع
البنیاد
اجتہادی
سرگرمیوں کو
فروغ دیا
جاسکتا ہے۔
امید کی
جاسکتی ہے کہ
اگلے پچاس سے
سو سال کے
عرصے میں
ہمارے اہل
علم اسلام کی
بنیاد پر جدید
زندگی کے لئے
ایسے ماڈلز تیار
کر چکے ہوں گے
جو تجربے کی
کسوٹی سے گزر
کر امت کے لئے
قابل عمل بن
چکے ہوں گے۔
دور جدید میں
اسلام کی بنیاد
پر قائم جن
ماڈلز کی
ضرورت ہے ان میں
مالیاتی
نظام، سیاسی
نظام اور
عائلی قوانین
زیادہ اہمیت
کے حامل ہیں۔ یہ ایک
فطری سی بات
ہے کہ دور قدیم
کی طرح ، دور
جدید میں بھی
جو اہل علم
اجتہاد کریں
گے ، ان میں
اختلاف رائے
ہو سکتا ہے۔
اس اختلاف کی
بنیاد پر
فرقہ بندی
کرنا، ایک
دوسرے کو
کافر و گمراہ
قرار دینا
اور اپنے
نقطہ نظر کو
دوسروں پر
مسلط کرنا کسی
صورت میں بھی
درست نہیں۔
اس ضمن میں
ہمارا رویہ یہ
ہونا چاہئے
کہ ان
اجتہادات میں
ہم جسے بھی
قرآن و سنت کی
تعلیمات کے
قریب ترین
سمجھیں (نہ کہ
جس میں ہمیں
ذاتی طور پر زیادہ
فائدہ محسوس
ہو) ، اس پر عمل
کریں اور دوسرے
اہل علم کے
نقطہ نظر کا
احترام کرتے
ہوئے شائستگی
اور اخلاق کا
دامن ہاتھ سے
نہ چھوڑیں۔ یہی
ہمارے اسلاف
کی روایت ہے۔ اس
موقع پر
مناسب ہے کہ
جن اہل علم نے
اس کار خیر میں
حصہ لیا ہے
اور فکری
جمود سے امت
مسلمہ کو
نکالا ہے ، ان
کا بھی کچھ
تذکرہ ہو
جائے۔ ہم مسلکی
تعصبات سے
بالاتر ہو
کران کا ذکر
کرنا مناسب سمجھتے
ہیں۔ بیسویں
صدی کے نصف
اول میں جن
اہل علم نے
پورے عالم
اسلام کی سطح
پر اجتہادی
فکر کو فروغ دیا،
یہ ہماری خوش
قسمتی ہے کہ
ان کی اکثریت
ہمارے بر صغیر
سے تعلق رکھتی
ہے۔ ان تحقیقی
اداروں میں
ندوۃ
العلماء کی
اہمیت سے کسی
طرح انکار نہیں
کیا جاسکتا۔
ندوۃ العلما
ء میں شبلی
نعمانی اور سید
سلیمان ندوی
کی قیادت میں
اہل علم کی ایک
جماعت نے خاص
طور پر رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کی سیرت
اور اسلام کی
تاریخ کو
اپنا موضوع
بناتے ہوئے
قابل قدر علمی
خدمات سر
انجام دی ہیں۔
اسی
علاقے میں
شبلی نعمانی
کے شاگرد اور
کزن حمید
الدین فراہی کی
خدمات بہت غیر
معمولی ہیں ۔
انہوں نے نظم
قرآن پر کام کیا
اور تفسیر
قرآن مجید کے
اصول متعین
کئے۔ ان کے
بعد ان کے
شاگرد امین
احسن اصلاحی
نے ان کے کام
کو آگے بڑھایا
اور تدبر
قرآن کے نام
سے تفسیر لکھی
جو اردو زبان
میں اپنی نوعیت
کی منفرد تفسیر
ہے۔ اسی
دور میں
علامہ محمد
اقبال کی شخصیت
بھی غیر
معمولی اہمیت
کی حامل ہے۔
اقبال مغربی
فلسفے کے
ماہر تھے اور
دینی علوم میں
بھی خاصی
دسترس رکھتے
تھے۔ انہوں
نے امت مسلمہ
کی ذہنی بیداری
میں نہایت ہی
اہم کردار
ادا کیا۔ ان
کے خیالات،
اشعار کی
صورت میں نہ
صرف بر صغیر
بلکہ پوری
مسلم دنیا میں
پھیلے۔ انہیں
پاکستان کے
تصور کا خالق
بھی سمجھا
جاتا ہے۔ دور
جدید کے
مسائل پر اسی
دور میں
ابوالکلام
آزاد نے بھی
نہایت عمدہ
بحث کی اور
اسلامی
حکومت کے قیام
کو ہر قسم کی دینی
جدوجہد کی
منزل قرار دیا۔
بعد میں
مولانا آزاد
سیاسی سرگرمیوں
میں مصروف ہو
گئے اور ان کے
خلا کو سید
ابوالاعلیٰ
مودودی نے پر
کیا۔ سید
مودودی وہ
پہلی شخصیت ہیں
جنہوں نے
اسلام کے دور
جدید میں
اطلاق کے عملی
پہلوؤں پر سیر
حاصل بحث کی۔
ان کی کتابوں
کا وسیع پیمانے
پر ترجمہ کیا
گیا اور پوری
دنیا میں انہیں
پھیلایا گیا۔
ان کے خیالات
سے عالم
اسلام کا ایک
بڑا حصہ
متاثر ہوا۔
ان کے بالکل
متوازی شخصیت
مصر میں حسن
البنا کی تھی۔
ان دونوں
رہنماؤں نے
اسلام کے سیاسی
پہلو کو
اجاگر کیا جس
کے نتیجے میں
عالم اسلام کی
دو بڑی تحریکوں
جماعت اسلامی
اور اخوان
المسلمون کے
خدو خال واضح
ہوئے۔ اس دور
کی ایک اور بڑی
شخصیت سید
قطب ہیں، جنہیں
آج Radical Islam کے
نظریے کا بانی
سمجھا جاتا
ہے۔ انہوں نے
اسلام کے
نفاذ کے لئے
موجودہ
حکومتوں کے
خلاف مسلح
جدوجہد پر
زور دیا۔ یہ
تمام کے تمام
رہنما تقلید
جامد کے
مخالف تھے
اور کسی ایک
مکتب فکر کی
تقلید کو
درست نہیں
سمجھتے تھے۔ ان کے
برعکس بر صغیر
کے روایتی
حنفی علماء
جو دیوبندی
اور بریلوی
مکاتب فکر میں
تقسیم ہوگئے
تھے، نئے پیش
آنے والے
مسائل میں
براہ راست
قرآن و سنت سے
اجتہاد کی
بجائے قدیم
ائمہ ہی کے فیصلوں
سے مسائل کے
استخراج کو
درست سمجھتے
تھے۔
ان اہل علم میں
اشرف
علی تھانوی،
ظفر احمد
عثمانی، انور
شاہ کشمیری
اور احمد
رضا خان بریلوی
زیادہ مشہور
ہیں۔ ان
علماء نے روایتی
انداز میں
تخریج کا سلسلہ
جاری رکھا۔
اس تخریج کی ایک
مثال احمد
رضا خان صاحب
کا رسالہ ’’کفل
الفقیہ
الفاہم فی
احکام
القرطاس و
الدراھم‘‘ہے
جس میں قدیم
علماء کے
اجتہادات سے
استنباط
کرتے ہوئے انہوں
نے کرنسی نوٹ
کی شرعی حیثیت
پر گفتگو کی
ہے۔ انہوں نے
قدیم فقہاء کی
اس عبارت کہ
’’کاغذ کے ایک
پرزے کو ہزار
روپے میں بھی
بیچ سکتے ہیں‘‘
سے تخریج
کرتے ہوئے
کرنسی نوٹوں
کو مال قرار
دے کر ان کی خرید
و فروخت کو
جائز قرار دیا
ہے اور اس سے
زکوۃ کی ادائیگی
کو بھی درست
سمجھا ہے۔ اس
مسئلے پر
اشرف علی
تھانوی صاحب نے یہ
رائے قائم کی
کہ نوٹ مال نہیں
بلکہ محض مال
کی رسید ہے،
اس لئے اس سے
زکوۃ کی ادائیگی
نہیں ہو سکتی۔
یہی وجہ ہے کہ
ان کے
شاگردوں اور
مریدوں کے
قائم کردہ
بعض دینی
اداروں میں
زکوۃ کو چاندی
کے سکوں میں
ادا کیا جاتا
رہا ہے۔ جدوجہد
آزادی کے
دوران نفاذ
اسلام اور
اجتہاد محض
نظریاتی بحثیں
تھی کیونکہ
عالم اسلام
کے بڑے حصے پر
اہل یورپ
قابض تھے جو
سوائے پرسنل
لاء کے کوئی
اسلامی
قانون نافذ
کرنے کے لئے تیار
نہ تھے۔ آزادی
کے بعد نفاذ
اسلام کی تحریک
چلی۔ اس تحریک
کے بڑے مراکز
پاکستان اور
مصر تھے۔
پاکستان کی دینی
جماعتوں، جن
میں جماعت
اسلامی سر
فہرست تھی،
نے حکومت سے
اسلام کے
نفاذ کا
مطالبہ پیش کیا۔
اسی طرح مصر کی
اخوان
المسلمون نے
ایک بڑی تحریک
برپا کی۔ انہی
کی پیروی میں
عالم اسلام
کے دوسرے
ممالک میں
اسلامی تحریکیں
پیدا ہوئیں۔ مسلم
دنیا کے
حکمران
بالعموم
مغرب پرست
تھے اور
اسلام کے عملی
نفاذ میں کوئی
دلچسپی نہ
رکھتے تھے۔
انہوں نے اس
بات پر زور دیا
کہ اگرچہ دور
جدید میں
اسلام کے
اخلاقی اصول
تو کارآمد ہیں
لیکن شریعت
کے بہت سے
پہلو قابل
عمل نہیں۔
اگر کوئی یہ
کہتا ہے کہ
اسلام اس دور
میں بھی قابل
عمل ہے تو پھر
وہ اسلام کی
بنیاد پر جدید
زندگی کے لئے
نظام حیات کے
ماڈلز تیار
کرے۔ اس بات
نے مسلم اہل
علم کو ایک
بڑے چیلنج سے
دوچار کردیا۔
حقیقت یہ ہے
کہ اس چیلنج ہی
نے امت مسلمہ
میں اجتہاد کی
روح بیدار
کرنے کا کام کیا۔
پورے عالم
اسلام میں جدید
دور کے
تقاضوں کے
مطابق نظام
ہائے حیات
مرتب کرنے پر
کام شروع ہوا۔
اس مرتبہ بھی
اس کام میں
پاکستان کے
علماء نے نہایت
اہم کردار
ادا کیا۔ نہ
صرف جدید تعلیم
یافتہ اہل
علم بلکہ روایتی
علماء بھی اس
چیلنج کے زیر
اثر میدان میں
آگئے۔ یہی
وجہ ہے کہ بیسویں
صدی کا نصف
آخربالخصوص
آخری دو عشرے
امت مسلمہ میں
اجتہادی روح
کی بیداری کا
دور ہے۔ اس دور
کی ایک اہم ترین
خصوصیت یہ ہے
کہ اس میں
اسلام کے عملی
پہلوؤں پر
خاصا تحقیقی
کام کیا گیا۔
اس ضمن میں
سعودی حکومت
کے تعاون سے
دنیا بھر میں
اسلامک ریسرچ
سینٹرز قائم
کئے گئے جس کی
مثال
پاکستان اور
ملائشیا کی
انٹرنیشنل
اسلامک یونیورسٹیز
ہیں جہاں جدید
اور دینی
علوم کی تعلیم
و تحقیق جاری
ہے۔ ریسرچ
کے میدان میں
حمید الدین
فراہی اور امین
احسن اصلاحی
کے شاگردوں
نے قابل قدر
خدمات انجام
دی ہیں۔
مولانا
اصلاحی کے ایک
شاگرد جاوید
احمد غامدی
نے المورد کے
نام سے لاہور
میں ایک ریسرچ
سینٹر قائم کیا
ہے جہاں
اسلام
بالخصوص
قرآن پر تفصیلی
ریسرچ جاری
ہے۔ علامہ
اقبال نے
اپنے مشہور
خطبات میں
فقہ اسلامی کی
تشکیل نو (Reconstruction)
پر زور دیا
تھا۔ اس کے بر
عکس غامدی
صاحب اس بات
کے قائل ہیں کہ
کسی تشکیل نو
کی ضرورت نہیں
بلکہ صرف اس
بات کی ضرورت
ہے کہ اللہ
تعالیٰ کی
نازل کردہ شریعت
کو فقہا کے
اجتہادات سے
الگ کر لیا
جائے۔ ہمارے
قدیم فقہ کی
کتب میں اللہ
تعالیٰ کی شریعت
اور فقہا کے
اجتہادات میں
امتیاز نہیں
رکھا گیا۔
اللہ تعالیٰ
کی شریعت تو
ناقابل تغیر
ہے اور اس میں
کوئی تبدیلی
نہیں کی
جاسکتی لیکن
فقہا ہماری
طرح کے انسان
تھے اور
انہوں نے
اپنے اپنے
ادوار کے لئے
قانون سازی کی۔
قانون سازی
کا یہ کام
ہمارے دور کے
لئے ہمارے
فقہا بھی کر
سکتے ہیں اور
پرانے
اجتہادات سے
اختلاف بھی کیا
جاسکتا ہے۔ لاہور
ہی میں ڈاکٹر طاہر
القادری نے
بھی ایک ریسرچ
سینٹر قائم کیا
ہے۔ قادری
صاحب اگرچہ
حنفی مذہب سے
تعلق رکھتے ہیں
لیکن دور جدید
میں اجتہاد
کے قائل ہیں
اور بہت سے قدیم
و جدید
اختلافی
مسائل میں
اپنی رائے
رکھتے ہیں۔ ان اہل
علم کے علاوہ
روایتی
علماء نے بھی
انفرادی طور
پر دور جدید
کے مسائل پر
قابل قدر کام
کیا ہے۔ان میں
کراچی کے
غلام رسول سعیدی
اور جسٹس محمد
تقی عثمانی
اور بھیرہ کے
پیر محمد
کرم شاہ
الازہری کے
نام اہمیت کے
حامل ہیں۔ سعیدی
صاحب نے حدیث
کی مشہور
کتاب مسلم کی
شرح لکھتے
ہوئے بہت سے
قدیم اور جدید
مسائل پر تفصیلی
بحث کی ہے۔
عثمانی صاحب
نے جدید معاشی
اور بینکاری
کے مسائل پر
قابل قدر کام
کیا ہے۔ آپ کئی
اسلامی بینکوں
کے شریعہ ایڈوائزری
بورڈز کے بھی
رکن ہیں۔ پیر
کرم شاہ صاحب
نے اہل تصوف کی
عام روایت کے
بر عکس بہت سے
مسائل پر
محققانہ
گفتگو کی ہے
جو کہ ایک بڑی
تبدیلی ہے۔ یہ
دونوں حضرات
فیڈرل شریعت
کورٹ کے جج بھی
رہ چکے ہیں
اور ان کے کئی فیصلے
بہت مشہور بھی
ہوئے ہیں۔
اہل حدیث
علماء میں
عبد الجبار
شاکر، صلاح
الدین یوسف
اور حافظ عبد
السلام مدنی
نے ان
موضوعات پر
کام کیا ہے۔ پاکستان
سے باہر
دوسرے ممالک
کے علماء نے
بھی قابل قدر
علمی کام کئے
ہیں۔ عالم عرب
میں بالعموم
آزادی رائے
پر پابندی
ہے، اس کے
باوجود بہت
سے اہل علم نے
نہایت غیر
معمولی تحقیقی
کام کئے ہیں۔
ان میں سب سے
نمایاں کام
شام کے عالم ناصر
الدین البانی
کا ہے۔ انہوں
نے حدیث کے
پورے ذخیرے
پر کام کرتے
ہوئے ہر حدیث
کی علمی حیثیت
پر گفتگو کی
ہے۔ اسی
طرح قطر کے
عالم ڈاکٹر یوسف
القرضاوی نے
جدید فقہی
مسائل پر تحقیقی
کام کیا ہے۔ بھارت
میں بھی بہت
سے علمی حلقے
کام کر رہے ہیں۔
سید ابوالحسن
علی ندوی نے
مسلمانوں کی
تاریخ پر تفصیلی
کام کیا ہے
بالخصوص ان کی
سات جلدوں پر
مشتمل ’’تاریخ
دعوت و عزیمت‘‘
اپنے موضوع
پر شاید پہلی
کتا ب ہے۔
بھارت ہی سے
تعلق رکھنے
والے عالم دین
ڈاکٹر
حمید
اللہ نے
فرانس میں
زبردست علمی
خدمات سر
انجام دی ہیں
اور وہاں
اسلام کے
فروغ کے لئے
زبردست
جدوجہد کی ہے۔
اہل تشیع
کے ہاں
انقلاب ایران
کے بعد بہت سے
مسائل پر تحقیقی
کام کیا گیا
ہے اور جدید
موضوعات پر آیت
اللہ خمینی کی
کئی کتب منظر
عام پر آئی ہیں۔
انقلاب ایران
سے پہلے ان
موضوعات پر
ڈاکٹر علی
شریعتی کا
کام کافی تفصیلی
ہے۔ چونکہ
مسلم دنیا میں
اقتصادی
اعتبار سے
ملائشیا ہی
سب سے زیادہ
ترقی یافتہ
ہے اس لئے
وہاں کے
علماء نے
فنانشل مارکیٹس
پر گہری ریسرچ
کے ذریعے بہت
سے جدید
ماڈلز وضع
کئے ہیں جو
قرآن و سنت کے
مطابق ہیں۔
اس کی ایک
مثال "اسلامی
انشورنس" یا
"تکافل" کا
نظام ہے جو
ملائشیا کے ماہرین
کی دریافت ہے۔
اسلامی معاشیات
پر ڈاکٹر
نجات اللہ صدیقی
اور سعودی
سکالر عمر
چھاپرا کی
تحقیقات
قابل قدر ہیں۔
اسلامی
معاشیات پر
مسلم علماء
کے کام کی تفصیلات
اس
لنک پر دیکھی
جا سکتی ہیں۔ امریکہ
اور یورپ کی
بہت سی یونیورسٹیوں
میں اسلام کے
نظام ہائے حیات
پر بہت سے
مسلم اور غیر
مسلم سکالرز
نے تحقیقی
کام کئے ہیں
اور اس موضوع
پر ڈاکٹریٹ
بھی کی ہے۔ اس
کام میں
پاکستانی بھی
کسی سے پیچھے
نہیں ہیں۔
اسلام کے
نظام مالیات
پر ایک نمایاں
کام لاہور یونیورسٹی
آف مینجمنٹ
سائنسز (LUMS) کے
ڈاکٹر خالد
ظہیر کا ہے
جنہوں نے یونیورسٹی
آف ویلز سے اس
موضوع پر
ڈاکٹریٹ کی
ہے۔ امریکی
مسلمانوں میں
ڈاکٹر اکبر
احمد اور مقتدر
خان نمایاں ہیں
جن کی تحقیق
کا بنیادی میدان
"سماجی علوم"
ہیں۔ انہوں
نے دور جدید میں
مسلمانوں کے
سماجی و سیاسی
مسائل پر
قابل قدر کام
کیا ہے۔ اس
مختصر تحریر
میں تمام اہل
علم کی
کاوشوں کا
احاطہ کرنا
تو ممکن نہیں
لیکن اوپر کی
بحث سے ہم اس
نتیجے پر
پہنچ سکتے ہیں
کہ انفارمیشن
ایج میں
داخلے کے
ساتھ ساتھ
مسلمانوں کے
ہر مکتب فکر میں
بھی علم اور
تحقیق کا
رجحان پیدا
ہو چکا ہے۔ امید
کی جاسکتی ہے
کہ تعلیم کے
فروغ کے ساتھ
ساتھ
مسلمانوں میں
یہ رجحان اور
ترقی کرے گا
اور اکیسویں
صدی کے آخر تک یہ
عظیم اجتہادی
کام اس حد تک
پہنچ جائے گا
کہ آئندہ آنے
والی کئی صدیوں
کے لئے قرآن و
سنت کی بنیاد
پر زندگی
گزارنے کے
ماڈلز فراہم
ہو جائیں گے
اور
مسلمانوں کو
پھر کسی اور کی
طرف نہیں دیکھنا
پڑے گا۔ محمد
مبشر نذیر October 2003 آرٹیکل
کو ڈاون لوڈ
کرنے کے لئے یہاں
کلک کیجیے۔ مزید
مطالعے کے
لئے ·
دین دار
افراد کے لئے
معاش اور
روزگار کے
مسائل ·
دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار ·
اختلاف
رائے کی صورت
میں ہمارا رویہ |
||||
|
سفر نامے روانگی
برائے سعودی
عرب جدہ
مکہ جبل
نور اور غار
حرا مکہ کے دیگر
تاریخی
مقامات سفر
حج سفر
ہجرت
مدینہ مدینہ
کے تاریخی
مقامات بدر احد خندق طائف جازان،
ابہا اور
فیفا
دمام،
الخبر اور
بحرین کاز وے خیبر،
مدائن صالح
اور تبوک روانگی
برائے اردن پیٹرا جنگ
موتہ اور ڈیڈ
سی مادبہ، جبل نیبو
اور بپتسمہ
سائٹ
عقبہ مصر
کا بحری سفر جزیرہ
نما سینا قاہرہ اسکندریہ مصر
سے سعودی عرب
براستہ اردن
مذہبی
معاملات کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص دیباچہ مقدمہ حصہ
اول: تعارف باب 1:
تعارف باب 2:
البیان باب 3:
اسلامی
قانون کا علم حصہ
دوم: کتاب
اللہ باب 4:
قرآن کی زبان
باب 5:
خاص اور عام باب 6:
ناسخ و منسوخ
احکامات حصہ سوم: سنت
باب 7:
اللہ اور اس
کے رسول کے
احکامات کو
قبول کرنے کی
ذمہ داری باب 8:
اللہ اور اس
کے رسول کی
بیان کردہ
ممانعتیں باب 9:
روایات باب 10:
خبر واحد حصہ چہارم:
اجماع،
قیاس،
اجتہاد اور
اختلاف رائے
باب 11:
اجماع باب 12:
قیاس باب13
:
اجتہاد باب 14:
اختلاف رائے ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ | دین کا
مطالعہ
معروضی
طریقے پر
کیجیے | رہبانیت | دوہرے
معیارات | فارم
اور اسپرٹ | دین میں
اضافے | گنیش
جی کا جلوس | صوفیاء
کی دعوتی حکمت
عملی | عقل
اور عشق | اسلام نے
غلامی کو ایک
دم ختم کیوں
نہ کیا؟ | سورہ
توبہ کے شروع
میں بسم اللہ
کیوں نہیں ہے
؟ | کیا
رسولوں پر
ایمان ضروری
ہے؟
| مکہ
اور مدینہ حرم
کیوں کہلاتے
ہیں؟ | مرد
کا وراثت میں
حصہ دوگنا
کیوں ہے؟ | متشابہات
کیا ہیں؟ | عقائد و
نظریات الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات الحاد کی
تعریف یورپ
میں الحاد کی
تحریک مسلم
معاشروں میں
الحاد کا
فروغ
مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
الحاد کے
اثرات کائنات:
خدا کی ایک
نشانی | Quranic Concept of Human Life Cycle | A Dialogue with Atheism | کیا
عقل کے ذریعے
خدا کی پہچان
ممکن ہے؟ | کیا آخرت
کا عقیدہ
معقولیت
رکھتا ہے؟ | خدا کے
جسم سے کیا
مراد ہے؟ | خدا
نظر کیوں
نہیں آتا؟ | تقدیر کا
مسئلہ؟ بعض
لوگ خدا کے
منکر کیوں
ہیں؟ | محمد
رسول اللہ کی رسالت
کا ثبوت کیا
ہے؟ | Empirical Evidence of God’s Accountability | معاشرتی
معاملات اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز | دین دار
افراد کے لئے
معاش اور
روزگار کے
مسائل | موٹر وے
کی ٹریفک | جنریشن
گیپ | ساس اور
بہو کا مسئلہ | ہماری شخصیت اپنی
شخصیت اور کردار
کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ مایوسی کی تعریف مایوسی
کی اقسام مایوسی
کی وجوہات مایوسی
دور کرنے کے
لئے چند
تجاویز
بزرگوں
کی کرامات یا
ان کا کردار سبز یا
نیلا | مشکل
پسندی | اختلاف
رائے کی صورت
میں ہمارا
رویہ | سیکس کے
بارے میں
متضاد رویے | تکبر کے
اسٹائل | انسان کا
اپنی شخصیت
پر کنٹرول | علماء
کی زبان | جذبہ حسد
اور جدید
امتحانی
طریقہ | فرشتے،
جانور اور
انسان | شیطانی
قوتوں کا
مقابلہ کیسے
کیا جائے؟ | اسلام اور
دور جدید اسلام
اور دور حاضر
میں وقوع
پذیر ہونے
والی تبدیلیاں دیباچہ معاشرے
میں تبدیلی
کا عمل انسانی
نفسیات اور
طرز فکر میں تبدیلی معاشرتی
اور ثقافتی
تبدیلی سیاسی
تبدیلی معاشی
اور تکنیکی
تبدیلی دور
جدید کی
تبدیلیاں
اور ہمارا رد
عمل دور
جدید میں دعوت
دین کا طریق
کار دعوت دین کی
اہمیت داعی
اور اس کی
صفات
دعوت دین
کی منصوبہ
بندی
دعوتی
پیغام کی
تیاری اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا
حقیقت | مسلم
دنیا میں
علمی و
تحقیقی
رجحانات | دور
جدید کی سازش | ہم
اسلام نافذ
کیوں نہ کر
سکے؟ | امت
مسلمہ زوال پذیر
کیوں ہے؟ | اقوام
عالم کو مسلمانوں
سے ہمدردی
کیوں نہیں؟ | مذہب
کی دعوت کے
لئے کرنے کا
سب سے بڑا
کام؟ | مولوی
اور دور جدید |
||||
|
The content of this website is copyright protected ©
Mubashir Nazir. All rights expressly reserved. The material can be
republished with permission of the author. |
||||