|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری ،
امن اور محبت
سے وابستہ |
|||
|
آرٹیکل
کو ڈاون لوڈ
کرنے کے لئے یہاں
کلک کیجیے۔ ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ موجودہ
دور کو اگر
انفارمیشن ٹیکنالوجی
اور میڈیا کا
دور کہا جائے
تو اس میں کوئی
مبالغہ نہ
ہوگا۔ میڈیا
کے فروغ کے
سبب مصنوعات
کی تشہیر یا ایڈورٹائزنگ
(Advertising) ایک
ایسی صنعت کا
درجہ اختیار
کرگئی ہے جو
انتہا درجے کی
منافع بخش ہے۔
ہر بڑی کمپنی
اس مد میں
کروڑوں
اربوں روپے
خرچ کرتی ہے
اور اس کے ذریعے
اپنی
مصنوعات کی سیل
بڑھانے کا
کام لیا جاتا
ہے۔ کیا دین
اسلام نے ہمیں
اس معاملے میں
بھی کوئی
رہنمائی دی
ہے؟ کیا ایڈورٹائزنگ
کا شعبہ
اسلام کی تعلیمات
کے عین مطابق
ہے یا اس کے
خلاف ہے؟
موجودہ ایڈورٹائزنگ
میں اخلاقی و
شرعی نقطہ
نظر سے کیا کیا
قباحتیں پائی
جاتی ہیں؟ ان
سوالات کا
جواب حاصل
کرنے سے پہلے
ہم کچھ تفصیل
سے ایڈورٹائزنگ
کا جائزہ لیتے
ہیں
تاکہ اس کی
نوعیت اور
تفصیلات کو
سمجھ کر اس پر
اخلاقی نقطہ
نظر سے بحث
کرسکیں۔ ایڈورٹائزنگ
کیا ہے؟ اردو میں
ایڈورٹائزنگ
کے لئے ’’تشہیر‘‘
کا لفظ
استعمال کیا
جاتا ہے۔ درحقیقت
یہ لفظ اتنی
وسعت نہیں
رکھتا جس قدر
اس کا ہم معنی
انگریزی لفظ
رکھتا ہے۔ ایڈورٹائزنگ
کے وسیع تر
مفہوم میں اپنی
مصنوعات (Products) کو
شہرت دینا،
ان کی سیل میں
اضافہ کرنا،
لوگوں کے
ذہنوں میں
اپنے برانڈ
کے بارے میں
مثبت رائے کو
فروغ دینا،
لوگوں کو اپنا
برانڈ خریدنے
پر آمادہ
کرنا اور اسی
سے متعلق
تمام
لوازمات
شامل ہیں۔ بنیادی
طور پر ایڈورٹائزنگ
کے دو پہلو ہیں: ان میں
سے ایک تھیم (Theme)
اور دوسری
سکیم (Scheme)
کہلاتی ہے۔
نت نئے آئیڈیاز
کے ذریعے
اشتہارات کی
تیاری ، میڈیا
کے ذریعے ان
کے پھیلاؤ،
ان کے ذریعے
عوام الناس
کے ذہنوں پر
مخصوص اثرات
مرتب کرنا
اور اس طرح
اپنے برانڈ کی
سیل میں
اضافہ کرنا
تھیم کہلاتا
ہے۔ اس کے
علاوہ
اپنی
پراڈکٹ کے
بارے میں کوئی
ایسی سکیم
نکالی جاتی
ہے جس کے نتیجے
میں سیل میں
اضافہ ہو۔ ان
کی مثالوں میں
مختلف طرز کی
انعامی سکیمیں،
تین پیک خریدنے
پر ایک مفت، ایک
پیک خریدنے
پر کوئی اور چیز
بطور تحفہ
ساتھ دینا اور اسی
طرز کی اور سکیمیں
شامل ہیں۔ ایڈورٹائزنگ
کا مکمل
انحصار
برانڈ (Brand) پر
ہوتا ہے۔
برانڈ سے
مراد کسی
مخصوص کمپنی
کی تیار کردہ
پراڈکٹ کا
نام ہوتا ہے۔
ہر چیز اپنے
نام ہی سے
پہچانی جاتی
ہے اور اسی
نام سے متعلق
مثبت یا منفی
تصورات قائم
کئے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ
تمام مارکیٹنگ
کمپنیاں اپنی
ہر پراڈکٹ کو
ایک مخصوص
نام دیتی ہے
اور ہر
اشتہار کا
مقصد اسی نام
کو فروغ دینا
ہوتا ہے۔
تمام
پراڈکٹس بنیادی
طور پر دو
اقسام کی ہوتی
ہیں۔ ان میں
سے ایک تو اشیائے
صرف (Consumer Goods)
کہلاتی ہیں
اور دوسری اشیائے
پیداوار یعنی
(Industrial
Goods) کہلاتی
ہیں۔ پہلی
قسم کی اشیاء
کے خریدار
عام لوگ ہوتے
ہیں جبکہ
دوسری قسم کی
اشیاء کے خریدار
بڑی بڑی صنعتیں
اور کاروبار
ہوتے ہیں۔
عام طور پر
ماس میڈیا کو
پہلی قسم کی
اشیاء کے لئے
استعمال کیا
جاتا ہے۔
صنعتی اشیاء
کی فروخت کے
لئے ذاتی
رابطوں اور
کاروباری
تعلقات فروغ
دیا جاتا ہے۔ ایڈوٹائزنگ
کے مقاصد دو
طرح کے ہوتے ہیں:
ان میں سے ایک
تو اس کے طویل
المیعاد
مقاصد (Long-Term Objectives)
ہوتے ہیں جن
کا تعلق طویل
عرصے سے ہوتا
ہے۔ ان میں طویل
عرصے میں
اپنے برانڈ کی
مارکیٹ ویلیو
میں اضافہ
کرنا، زیادہ
سے زیادہ
مارکیٹ شیئرحاصل
کرنااور اگر یہ
پراڈکٹ
بالکل ہی نئی
ہو تو اس کے
بارے میں
لوگوں میں
آگاہی (Awareness) پیدا کرنا
شامل ہے۔ قلیل
المیعاد
مقاصد (Short-Term Objectives) میں
ایک محدود
مدت میں اپنی
پراڈکٹ کی سیل
میں اضافہ
اور اس سے
متعلق مخصوص
ٹارگٹ کو
پورا کرنا
شامل ہے۔ ایڈورٹائزنگ
میڈیا کے ذریعے
کی جاتی ہے۔
موجودہ دور میں
میڈیا کی بنیادی
طور پر تین
اقسام ہیں۔
ان میں سے ایک
الیکٹرانک میڈیا،
دوسری پرنٹ میڈیا
اور تیسری
آؤٹ ڈور میڈیا
ہے۔ الیکٹرانک
میڈیا میں سب
سے نمایاں ٹیلی
ویژن ہے۔ اس
کے علاوہ اس میں
ریڈیو ، سینما
اور انٹرنیٹ
بھی شامل ہیں۔
پرنٹ میڈیا میں
اخبارات اور
جرائد شامل ہیں۔
آؤٹ ڈور میڈیا
میں
شاہراہوں
اور پبلک
مقامات پر
لگے ہوئے
چھوٹے بڑے
سائن بورڈز،
ہورڈنگز ، پینا
فلیکس، نیون
سائنز اور بل
بورڈز شامل ہیں۔
اب
سے تیس چالیس
برس پہلے ریڈیو
اور سینما سب
سے طاقتور میڈیا
سمجھے جاتے
تھے لیکن اب
ان کی جگہ ٹی وی
نے لے لی ہے۔
حالیہ دنوں میں
ٹی وی اور
اخبارات
اپنے دور
عروج سے گزر
رہے ہیں ۔
پچھلے دس
سالوں میں
انٹر نیٹ اور
آؤٹ ڈور میڈیا
نے بہت زیادہ
ترقی کی ہے
تاہم ان کے
اثرات اور ایڈورٹائزنگ
کے ریٹس ٹی وی
اور اخبارات
کی نسبت کم ہیں۔ ایڈورٹائزنگ
کا طریق کار یہ
ہے کہ سب سے
پہلے یہ
منصوبہ بندی
کی جاتی ہے کہ
ہم عوام
الناس کے
ذہنوں میں
اپنے برانڈ
کا کیا امیج
قائم کرنا چاہتے
ہیں۔ مارکیٹ
میں اس وقت
مقابل
برانڈز کی کیا
صورتحال ہے
اور ان حالات
میں ہمیں کیا
کرنا چاہئے۔
اپنے اہداف
کا تعین کرنے
کے بعد اس امیج
کو قائم کرنے
کے لئے مناسب
آئیڈیاز
سوچے جاتے ہیں
اور ان سے جو
آئیڈیا زیادہ
مناسب اور
اچھا لگے اس
پر اشتہارات
تیار کئے جاتے
ہیں۔ ٹی وی کے
لئے تین
جہتوں والی (Three-Dimensional) اشتہاری
فلمیں،
اخبارات کے
لئے شائع
ہونے کے قابل
دو جہتوں
والے (Two-Dimensional)
اشتہارات،
انٹرنیٹ کے
لئے ویب
سائٹس اور
آؤٹ ڈور میڈیا
کے ڈیزائن
شامل ہیں۔ اس
کے بعد ٹی وی
پر ان
اشتہارات کا
وقت بک کیا
جاتا ہے جسے ایئر
ٹائم کہتے ہیں۔
اس کے علاوہ
اخبارات میں
اشتہارات کے
لئے جگہ،
مختلف ویب
سائٹس پر جگہ یا
بینر اور
مختلف جگہوں
پر لگے ہوئے
سائن بورڈز
وغیرہ کو ایک
مخصوص تاریخ یا
مدت کے لئے خریدا
جاتا ہے۔ ایسے
اوقات جن میں
ٹی وی زیادہ دیکھا
جارہا ہو، ایسی
تاریخیں جن میں
اخبارات زیادہ
تعداد میں
شائع ہوتے
ہوں، ایسی ویب
سائٹس جن پر
لوگ زیادہ
تعداد میں
وزٹ کرتے ہوں
اور ایسے آؤٹ
ڈور سائٹس
جنہیں لوگ
بہت زیادہ دیکھتے
ہوں کے ریٹس
بہت زیادہ
ہوتے ہیں۔ میڈیا
پر اشتہار
آنے کے بعد اس
اشتہار کے
اثرات کا جائزہ
لینے کے لئے ریسرچ
کی جاتی ہے
اور عوام
الناس میں
سروے کر کے اس
اشتہاری مہم
کے اثرات کا
جائزہ لیا
جاتا ہے اور
حاصل ہونے
والے نتائج کی
روشنی میں نئی
اشتہاری مہم (Advertising
Campaign) کی تیاری
کی جاتی ہے۔
مختصر طور پر
ہم یہ کہہ
سکتے ہیں کہ ایڈورٹائزنگ
پراسیس
دراصل
کاروباری مقاصد
کی تکمیل کے
لئے نت نئے آئیڈیاز
کی تخلیق، ان
کے مطابق
اشتہارات کی
تیاری، ان
اشتہارات کو
میڈیا کے ذریعے
عوام تک
پہنچانااور
اس کے اثرات
کا جائزہ لینے
کے لئے مارکیٹ
ریسرچ پر
مشتمل ہے۔ ایڈورٹائزنگ
کے موجودہ طریق
کار کی اخلاقی
حیثیت دین
اسلام کے
احکامات قانون
اور اخلاق پر
مشتمل ہیں۔ دین
ہمیں ایک طرف
قانونی
احکامات یا
شریعت عطا
کرتا ہے اور
دوسری طرف ہمیں
ایسے اخلاقیات
کی تعلیم دیتا
ہے جو انسان کی
اپنی فطرت کا
حصہ ہیں۔ ہمیں
ان دونوں
پہلوؤں سے ایڈورٹائزنگ
کا جائزہ لینے
کی ضرورت ہے۔ جہاں
تک بذات خود ایڈورٹائزنگ
کا تعلق ہے تو
اس کے بارے میں
اسلام کو کوئی
اعتراض نہیں۔
ہر شخص کو یہ
حق حاصل ہے کہ
وہ دوسرے کی
مرضی سے اسے
کوئی اپنی
کوئی بھی چیز
فروخت کرے۔
قرآن مجید میں
ارشادباری
تعالیٰ ہے: یا ایھا
الذین اٰمنوا
لا تاکلوا
اموالکم بینکم
بالباطل ،
الا ان تکون
تجارۃ عن
تراض منکم۔
(النساء 4:29)
’’اے
ایمان والو!
آپس میں ایک
دوسرے کے
اموال باطل
طریقے سے نہ
کھاؤ سوائے
اس کے کہ یہ
تمہاری مرضی
کی تجارت ہو۔‘‘ کسی
کو بھی اپنی تیار
کردہ اشیاء
فروخت کرنے
کے لئے اسے ان
کے بارے میں
آگاہ بھی کیا
جاسکتا ہے،
اسے ان کو خریدنے
کے بارے میں
ترغیب بھی دی
جاسکتی ہے
اور اس کے
فوائد بھی
بتائے
جاسکتے ہیں۔ یہ
کام دور قدیم
کی طرح بازار
میں کھڑے
ہوکر آواز
لگانے سے بھی
ہوسکتا ہے
اور دور جدید
کی طرح میڈیا
کے ذریعے بھی۔
ایڈورٹائزنگ
کی اس عام
اجازت کے
باوجود دور
جدید کی ایڈورٹائزنگ
میں بعض ایسے
عوامل بھی
داخل ہوگئے ہیں
جو اخلاقی
اعتبار سے کسی
طرح بھی قابل
قبول نہیں۔
اس کی تفصیل
کچھ اس طرح سے
ہے۔ صارفین
کے جذبات کو
اپیل کرنا جیسا کہ
ہم یہ بیان
کرچکے ہیں کہ
ایڈورٹائزنگ
کا بنیادی
مقصد یہ ہے کہ
اپنی پراڈکٹ یا
برانڈ کے
متعلق لوگوں
میں آگاہی پیدا
کردی جائے
اور انہیں اس
کے فوائد بتا
کر عقلی طور
پر اس بات پر
قائل کیا
جائے کو وہ ان
پراڈکٹس کو
خرید لیں۔ ہمارے
معاشرے میں
اپنی
پراڈکٹس کے
فوائد بتلا
کر ان کو خریدنے
کی ترغیب پیدا
کرنے کا کام
بھی کیا جاتا
ہے لیکن اس کے
ساتھ ساتھ زیادہ
زور اس بات پر
ہے کہ لوگ اپنی
عقل و دانش کے
تحت تجزیہ کر
کے نہیں بلکہ
اپنے جذبات
کے ہاتھوں ان
پراڈکٹس کو
خریدنے پر
مجبور ہوجائیں۔
اس مقصد کے
لئے ہر برانڈ
کو کسی مخصوص
جذبے مثلاً
دوستی، عشق و
محبت ،
مامتا،
اپنائیت،
ذہنی سکون، ایڈونچر
حتی کہ جنسی
خواہش کے
ساتھ وابستہ
کردیا جاتا
ہے۔ جن افراد
میں یہ جذبات
شدت سے پائے
جاتے ہیں،
اشتہارات ان
کے انہی
جذبوں میں
تحریک پیدا
کرتے ہیں اور
اس کے ذریعے
انہیں اپنا
برانڈ خریدنے
پر مجبور
کرتے ہیں۔ ان
اشتہارات کو
بار بار دکھا
کر ، انہیں میوزک
اورنغموں (Jingles) کے ذریعے
ذہنوں میں
اتار کر، اور
ان میں نت نئی
ورائٹی پیدا
کرکے انہیں زیادہ
سے زیادہ
دلچسپ بنا کر
ان جذبات کی
شدت میں اور
اضافہ کیا
جاتا ہے۔ اخلاقی
اعتبار سے اس
طرز عمل کو
درست قرار نہیں
دیا جاسکتا۔
ایسا تو
ہوسکتا ہے کہ
اپنی
پراڈکٹس کے
حقیقی فوائد
بتا کر عقل و
دانش کا اپیل
کرنے کے ساتھ
ساتھ کسی مثبت
جذبے کو تقویت
دی جائے۔
مثلاً شیر
خوار بچوں سے
متعلق
پراڈکٹس کی
تشہیر میں
مامتا کے
جذبات،
نوجوانوں کی
پراڈکٹس کے
اشتہارات میں
ایڈونچر اور
شجاعت کے
جذبات، گھریلو
قسم کی اشیاء
کے بارے میں
اپنائیت کے
جذبات وغیرہ
کو تو ایک
مناسب حد تک
اپیل کیا
جاسکتا ہے لیکن
غصے، نفرت،
تشدد اور جنسی
خواہش کے
جذبات کو
ابھارنا کسی
بھی معاشرے کی
اخلاقیات میں
جائز قرار نہیں
دیا جاسکتا۔ یہی
وجہ ہے کہ دنیا
کے کئی ترقی یافتہ
ممالک میں ایسے
اشتہارات پر
پابندی ہے جن
میں منفی
جذبات کو تقویت
دی گئی ہو۔ قرآن مجید
کی اوپر بیان
کردہ آیت میں
'الا ان تکون
تجارۃ عن
تراض منکم' کے
الفاظ تجارت
کے جواز میں یہ
شرط لگاتے ہیں
کہ تجارت میں
دونوں فریقوں
کی آزادانہ
مرضی سے ہو۔ ایسانہ
ہو کہ کسی ایک
فریق نے
دوسرے کو اس
کے حقیقی
فوائد کے
خلاف مجبور
کرکے سودے میں
شامل کیا ہو۔
جذباتی
اشتہارات میں
عموماً ناظرین
کو اپنے
جذبات کے سحر
میں اس حد تک
مسمرائز کر دیا
جاتا ہے کہ وہ
اس پراڈکٹ کو
خریدنے پر
مجبور ہو
جاتے ہیں۔ بے حیائی ہمارے
ہاں الیکٹرانک،
پرنٹ اور آؤٹ
ڈور میڈیا کے
اشتہارات میں
جس جذبے کو سب
سے زیادہ تقویت
دی جارہی ہے
وہ جنسی جذبہ
ہے۔ ان
اشتہارات میں
جس طریقے سے
نوجوان نسل
کو بے راہ روی
کی طرف لگایا
جارہا ہے، وہ
ہر معقول
انسان کے نزدیک
قابل مذمت ہے۔
ایسے
اشتہارات
تخلیق کرنے
والے
بالعموم
مادر پدر
آزاد اور دینی
احکام سے
لاپرواہ و بے
خبر ہوتے ہیں۔
اگر ان میں سے
کوئی فرد اپنی
زندگی میں
قرآن و سنت میں
پیش کردہ
احکام کو اہمیت
دیتا ہو،
اپنے دل میں
اللہ تعالیٰ
کا خوف رکھتا
ہو اور اسے اس
دنیا کی چند
سالہ زندگی
کے بعد آخرت کی
لامحدود
سالوں پر
مشتمل زندگی
کی پرواہ بھی
ہو تو اس کے
لئے اتنا ہی
کافی ہے کہ بے
حیائی پھیلانے
سے ہمیں
ہمارے دین نے
منع کیا ہے۔ ایڈورٹائزنگ
میں جھوٹ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی ایڈورٹائزنگ کا ایک ا | ||||