Ethics & Religion

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love

اخلاقیات اور مذہب

اعلیٰ اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری ، امن اور محبت سے وابستہ

Home

Risk Management

Adventure & Tourism

Ethics & Religion

Install Urdu Font

Urdu Setup

Your Comments

About the Author

آرٹیکل کو ڈاون لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

 

اسلام اور نسلی و قومی امتیاز

نسلی و قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ برتری صرف اس کے ہاں پائی جاتی ہے اور باقی سب کمتر ہیں۔ یہی تفاخر اور غرورآگے چل کر نفرتوں، چپقلشوں ، مقابلوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جن کے نتیجے میں دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔ زیادہ دور کیوں جائیے ، ابھی پچاس سال پہلے ہی اسی نسلی غرور کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کو یاد کیجئے جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے تھے۔ صرف یہ خیال نہ کیجئے کہ یہ غرور صرف غیرمسلموں کے ہاں ہی پایا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بھی اس باطل تصور کا اتنا ہی شکار ہوئے ہیں جتنا کہ دوسری اقوام۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کے ہمارے معاشروں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ اس سے بچاؤ کی کیا تدابیر ہیں؟ ہم یہاں پر دوسری اقوام کی بجائے صرف مسلمانوں ہی پر فوکس کرتے ہوئے ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

          سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کے ہاں یہ غرور خود ان کے دین نے پیدا کیا ہے یا یہ کہیں اور سے آیا ہے۔ جب ہم اس موضوع پر قرآن کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں صاف لکھا ہوا نظر آتا ہے:

یا ایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ و خلق منہا زوجہا و بث منہما رجالا کثیرا و نسآء۔ (النساء 4:1)  ’’اے انسانو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک انسان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بنایا۔ (اس کے بعد) ان دونوں کی نسل سے کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔‘‘

 پھر ارشاد ہوتا ہے:

یا ایھا الناس! انا خلقنٰکم من ذکر و انثی وجعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ۔ ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقٰکم۔ (الحجرات 49:13)  ’’اے انسانو! ہم نے تمہیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور تمہیں گروہ اور قبائل بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک عزت والا وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔‘‘

اسی اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشہور خطبہ حجۃ الوداع میں ارشاد فرماتے ہیں:

 ’’تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اے لوگو! سنو تمہارا رب ایک رب ہے، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کوئی کالا کسی گورے سے بہتر ہے اور نہ گورا کالے سے۔ فضیلت صرف اور صرف تقویٰ کے سبب ہے۔‘‘

 

          قرآن و حدیث کی ان تصریحات سے یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کسی ذات پات، رنگ، نسل اور قومیت کو فضیلت کی بنیادنہیں مانتا بلکہ صرف اور صرف تقوی اور پرہیز گاری کو ہی فضیلت کا معیار قرار دیتا ہے۔ ظاہر ہے کوئی اپنی نیکیوں کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر تو سمجھ نہیں سکتا اور نہ ہی اسے کمتر قرار دے سکتا ہے ورنہ اس کا اپنا تقوی خطرے میں پڑ جائے گا۔

           دنیا کی دوسری اقوام اگر اپنے قومی و نسلی غرور میں مبتلا ہوتی ہیں تو یہ ان کے باطل نظریات کا قصور ہے لیکن حیرت ان مسلمانوں پر ہے جو قرآن کی ان آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر بھی اس تکبر میں مبتلا ہیں۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں قومی و نسلی تفاخر کے اثرات دوسری اقوام سے آئے۔ اس میں ان کے دین کا ہرگز ہرگز کوئی قصور نہیں ہے۔

          ہمیں سب سے پہلے یہ تعین کرنا چاہئے کہ ہمارے اندر نسلی تفاخر کی کیا کیا صورتیں پائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یہ صورتیں کس طرح سے مسلمانوں کے اندر پیدا ہوئیں اور ان کے مسلم معاشروں پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ ہمارے یہاں نسلی و قومی امتیاز کی یہ صورتیں رواج پذیر ہیں:

 

·      ہمارے ذات پات کے نظام میں بعض ذاتوں کو اعلیٰ اور بعض کو ادنیٰ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے بہت سے لوگ دوسری ذات میں شادی کرنا پسند نہیں کرتے۔ بعض حضرات اپنے بیٹوں کی شادیاں تو دوسری ذاتوں میں کر دیتے ہیں لیکن بیٹیوں کی شادیاں صرف اپنی ہی ذات میں رکھتے ہیں۔

·      مختلف پیشوں کے بارے میں ہمارے یہاں گھٹیا ہونے کا تصور موجود ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر محنت کشوں اور ہاتھ سے کام کرنے والے پیشوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ دیہی معاشرے میں جاگیر دار اور زمیندار اپنے ملازمین کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کرتے ہیں۔ شہری معاشرے میں اگرچہ ملازمین کے ساتھ اتنا حقارت آمیز سلوک نہیں ہوتا لیکن انہیں بہرحال مالکوں اور اعلیٰ افسران سے کمتر ہی تصور کیا جاتا ہے۔

·      ہم لوگ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی خود سے حقیر سمجھ کر ان کی توہین کرتے ہیں اور بسا اوقات ان سے تحقیر آمیز رویہ رکھتے ہیں۔ بالکل اسی قسم کا سلوک مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔

·      رنگ کی بنیاد پر بھی امتیاز رکھا جاتا ہے اور سیاہی مائل جلد رکھنے والوں کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ اس بنیاد پر امتیاز ہماری نسبت مغربی اقوام میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

·      زبان اور صوبے یا علاقے کی بنیاد پر بھی ہمارے ہاں خاصا تعصب پایا جاتا ہے اور ایک علاقے یا صوبے کا فرد دوسروں کا مذاق اڑاتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہمارے بعض شہروں جیسے کراچی میں تو یہ تعصب ایک زمانے میں اتنے عروج پر پہنچ گیا کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد لسانی فسادات کا شکار بنے۔

 

نسلی امتیاز (Race Discrimination)

برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام کو اختیار کیا۔ قدیم ہند کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے قدیم باشندے چھوٹے قد کے اور سیاہی مائل رنگت کے تھے۔ وسطی ایشیا سے آریہ اور راجپوت قبائل ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار ہوئے۔

          اس کے بعد انہوں نے تمام مقامی باشندوں کو مذہبی جبر و تشدد کے ذریعے اپنے مذہب کو اپنانے پر مجبو رکیا اور اس کے ساتھ ہی ذات پات کا نظام رائج کیا۔ اس نظام کے تحت مذہبی رہنما یعنی برہمن سب سے بلند و برتر، سیاسی رہنما یعنی کھشتری دوسرے نمبر پر، محنت کش اور تاجر یعنی ویش تیسرے نمبر پر اور ادنیٰ درجے کے کام کرنے والے شودر چوتھے درجے کی ذات قرار پائے۔ ایک مشہور روایت کے مطابق برہما یعنی خدا نے برہمن کو اپنے سر سے، کھشتری کو اپنے بازوؤں سے ، ویش کو اپنی ٹانگوں سے اور شودر کو پاؤں سے پیدا کیا۔ اس تقسیم کے نتیجے میں پہلی دو ذاتیں اعلی ترین اور آخری دو ذاتیں ادنیٰ ترین قرار پائیں۔

 

          جب برصغیر میں اسلام کی کرنیں داخل ہوئیں تو سب سے پہلے نچلی ذات کہلانے والوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے حسن سلوک اور اسلام کے آفاقی پیغام سے متاثر ہوکر یا پھر اپنے مفادات کے تحت اعلیٰ کہلانے والی ذاتوں کے افراد نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ اگرچہ ان نومسلموں نے اسلام کے بہت سے احکام کو اپنا تو لیا لیکن اپنی بعض پرانی عادات و خصائل سے نجات حاصل نہ کر سکے۔ ان میں سے ایک عادت ذات پات کی تفریق کی تھی۔

          اگر ہم پنجاب اور سندھ کی مختلف ذاتوں کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ ان میں سے زیادہ تر دراصل قبائل ہی کے نام ہیں۔ بلوچستان اور سرحد تو خیر اب بھی قبائلی علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ سکھوں کے دور حکومت سے قبل پنجاب اور سندھ بھی قبائلی علاقوں پر مشتمل تھے۔ بعد کی سیاسی اور عمرانی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ قبائل تو ختم ہوگئے لیکن ان کے نام ذات (Caste)   کی صورت میں باقی رہ گئے۔ چونکہ ان میں ذات پات کی تفریق کی عادتیں موجود تھیں لہٰذا اس کی باقیات اب تک پائی جاتی ہیں۔

          جدید شہری معاشروں میں بعض سماجی و معاشی تبدیلیوں کے نتیجے میں ذات پات کا نظام زوال پذیر ہے البتہ دیہی معاشروں میں اس میں ابھی بھی کچھ دم خم باقی ہے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک تو ان بنیادوں پر لڑائی جھگڑے اور فساد بھی ہوجایا کرتے تھے لیکن ہمارے دور میں ذات پات کی تفریق عام طور پر صرف رشتے ناتے اور شادی بیاہ کرتے ہوئے یا پھر الیکشن میں ووٹ دیتے ہوئے سامنے آتی ہے ۔

           بہت سے لوگ اپنی ذات اور برادری سے باہر شادی کرنا پسند نہیں کرتے جس کی بنیادی وجہ وہی تصورات ہیں۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ حساس کردار سادات ادا کرتے ہیں۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کی وجہ سے آپ کی اولاد ، مسلمانوں کے لئے قابل صد احترام ہے۔ بعض سید حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عام مسلمانوں سے بہتر ہیں اور ان کے ساتھ شادی بیاہ کا تعلق اپنے عالی نسب میں اختلاط پیدا کرنے کے مساوی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی بیٹیاں بوڑھی ہوجاتی ہیں لیکن سید کا رشتہ نہ ملنے کے باعث ان کی شادیاں نہیں ہوپاتیں۔ جہاں تک حضور  صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت اطہار کی سیرت طیبہ کا ہم نے مطالعہ کیا ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ طرز عمل تمام مسلمانوں کے امام اور اپنے جد امجد ، حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، ارشادات اور عمل کے خلاف ہے۔

          جو شخص حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے معمولی سی واقفیت بھی رکھتا ہے ، وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ آپ نے اپنی چار میں سے تین صاحبزادیوں کا نکاح غیر سید حضرات میں کیا۔ آپ کی بڑی صاحبزادی سیدۃ زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے ہوا جو بنو امیہ کے چشم و چراغ تھے۔ اسی طرح سیدۃ رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کا نکاح یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا گیا جو آپ کے خاندان سے باہر بنو امیہ ہی سے تعلق رکھتے تھے۔

          آپ نے اپنی حیات طیبہ میں اپنی چچا زاد بہن ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا مقداد بن اسود سے اور پھوپھی زاد بہن زینب بنت جحش کا نکاح سیدنا زید بن حارثہ (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ حضر موت کے رہنے والے نوجوان تھے جو مکہ میں پلے بڑھے تھے۔ اسی طرح حضرت زید رضی اللہ عنہ ایک آزاد کردہ غلام تھے۔ اس کے بعد انہی زید کے بیٹے اسامہ رضی اللہ عنہما کا نکاح قریش کی عالی نسب خاتون فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے کردیا۔ اس طرح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب نسب پر فخر و غرور کے ان تمام بتوں کو پاش پاش کردیا جو لوگوں نے اپنی طرف سے  قائم کر لئے تھے۔  آپ کی پیروی میں آپ کے صحابہ میں یہی رجحان پھیلتا چلا گیا اور حسب و نسب سے ہٹ کر شادیاں ہونے لگیں۔ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ایک آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ سے کردیا۔ یہ وہی سالم ہیں جن کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے کہ اگر سالم زندہ ہوتے تو میں انہیں خلافت کے لئے اپنا جانشین نامزد کردیتا۔

          حسب و نسب کے غرور کو توڑنے میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے افراد نے بھی پوری طرح حصہ لیا۔ چنانچہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا جو کہ سید نہ تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی ا&#