Ethics & Religion

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love

اخلاقیات اور مذہب

اعلیٰ اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری ، امن اور محبت سے وابستہ

Home

Risk Management

Adventure & Tourism

Ethics & Religion

Install Urdu Font

Urdu Setup

Your Comments

About the Author

مکمل آرٹیکل کو ڈاون لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

دین میں اختلاف کیوں؟

جب بھی کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرتا ہے یا کوئی جدید تعلیم یافتہ شخص دین کی طرف مائل ہونا چاہتا ہے تو اس کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دین اسلام کی کون سی تعبیر کو اختیار کرے۔ وہ کس نقطہ نظر کی پیروی کرے اور اپنا تعلق کس فرقے سے قائم کرے۔ بعض اختلافات اتنی شدت اختیار کر چکے ہیں کہ ایک نقطہ نظر کے ماننے والے دوسرے نقطہ نظر کے ماننے والوں کو کافر یا گمراہ سے کم قرار دینے کے لئے تیار ہی نہیں۔ جب حکومتی سطح پر اسلام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں اگر اسلامی قانون نافذ کیا جائے تو کس فقہ کا نافذ کیا جائے اور حکومت کس نقطہ نظر کے مطابق اسلامی تعلیمات کو فروغ دے؟

          عام لوگوں کے لئے فرقے اور مسلک کا انتخاب کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ ہماری عمومی روش یہ ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد جس مسلک، جس فقہ اور جس فرقے کے پیروکار رہے ہیں، ہم بھی آنکھیں بند کرکے اسے ہی ماننے لگ جاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے گھر کے قریب مسجد جس فرقے کے زیر اہتمام ہوتی ہے، وہی ان کا مسلک بن جاتا ہے۔ بد قسمتی سے اہل کتاب کی طرح ہماری عبادت گاہیں بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہو چکی ہیں اور ہر مسجد پر کسی نہ کسی مسلک اور فرقے کا نام لکھا ہوتا ہے اور اسی کی اجارہ داری سمجھی جاتی ہے۔ بعض ایسے علاقے جہاں فرقہ وارانہ اختلاف مسلح جھگڑوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں، میں دوسرے مسلک کے کسی فرد کو اپنی مسجد میں داخل ہونے سے بھی منع کیا جاتا ہے اور اگر وہ غلطی سے ایک مسلک کی مسجد میں آ بھی جائے تو اسے نہایت بدتمیزی کے ساتھ مسجد سے نکال دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس شخص کے داخلے سے معاذ اللہ مسجد ناپاک ہو گئی ہے اور وہ اسے دھونے کا اہتمام کرتے ہیں۔

          اس قسم کے رویے بالعموم دین سے جہالت کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ عام غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں یہ فرقہ واریت زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔ بدقسمتی سے دینی مدارس کا نظام، جو اسلام کا قلعہ سمجھا جاتا ہے، بھی نصاب سے لے کر امتحانی باڈیز، اور اساتذہ سے لے کر فنانس فراہم کرنے والوں تک فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے۔ اس نظام میں نہایت تنگ نظری کے ساتھ صرف اپنے ہی نقطہ نظر کا مطالعہ کروایا جاتا ہے اور اگر دوسرے مسلک کو کہیں کوئی حوالہ بھی دیا جاتا ہے تو صرف اور صرف رد کی نیت سے۔ مثبت طریقے سے دوسروں کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور عقل و دانش کے معیارات پر پرکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔

          ان حالات میں امید کی ایک کرن نظر آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص جب جدید تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کے منفی اثرات کے ساتھ ساتھ اس میں ایک مثبت اثر بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ مثبت اثر یہ ہے کہ جدید تعلیم کا یہ نظام اور کچھ پیدا کرے یا نہ کرے بہرحال وسعت نظری ضرور پیدا کر دیتا ہے۔ اس نظام سے گزرنے والے طالب علم لکیر کے فقیر نہیں رہتے بلکہ اپنی عقل و شعور سے کچھ سوچنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی بات محض اس لئے درست نہیں ہوتی کہ بزرگوں نے اسے اسی طرح فرمایا تھا بلکہ وہ اسے دلیل کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔یہ لوگ جب دین کی طرف مائل ہوتے ہیں تو ان کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ بنتا ہے کہ وہ دین کی کون سی تعبیر اختیار کریں اور کون سے مسلک کی پیروی کریں۔ چونکہ اس امتحان سے مجھے بھی گزرنے کا اتفاق ہوا ہے لہٰذا میری یہ خواہش ہے کہ ان تجربات کو دوسروں سے بھی شیئر کروں تاکہ انہیں اس مرحلے پر ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے جن کا سامنا مجھے کرنا پڑا۔

          کسی بھی چیز کے مطالعے کے دو طریقے دنیا میں رائج ہیں۔ ایک غیر معروضی (Subjective)   طریقہ کہلاتا ہے اور دوسرا معروضی (Objective)   طریقہ۔ غیر معروضی طریقے میں انسان کچھ چیزوں کو پہلے سے ہی فرض کر لیتا ہے اور پھر اس کے مطالعے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس نے جو نقطہ نظر پہلے سے ہی متعین کر لیا ہے، وہ اس کے حق میں دلائل تلاش کرے اور اگر اس کے خلاف کوئی بات اسے نظر آئے تو اسے یا تو نظر انداز کردے یا پھر توڑ مروڑ کر اس سے اپنے مطلب کی بات اخذ کرلے۔ معروضی طریقے میں انسان پہلے سے کوئی چیز طے نہیں کرتا بلکہ اپنے مطالعے اور مشاہدے سے اس پر جو حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے وہ اسے تسلیم کرلیتا ہے۔ دنیا بھر میں عام طور پر (اگرچہ کبھی کبھاراس کا الٹ بھی دیکھنے میں آتا ہے)  مذہبی رہنما، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اپنے مطالعے اور تعلیم میں غیر معروضی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے برعکس سائنس دان عموماً غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے، معروضی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل اس طرح بیان کرتے ہیں:

 

جب دو سائنس دانوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے تو وہ اختلاف کو دور کرنے کے لئے ثبوت تلاش کرتے ہیں۔ جس کے حق میں ٹھوس اور واضح ثبوت مل جاتے ہیں، وہ راست قرار پاتا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ سائنس دان ہونے کے حیثیت سے ان دونوں میں سے کوئی بھی خود کو بے خطا خیال نہیں کرتا۔ دونوں سمجھتے ہیں کہ وہ غلطی پر ہوسکتے ہیں۔ اس کے برخلاف جب دو مذہبی علماء میں اختلاف پیدا ہوتا ہے تو وہ دونوں اپنے آپ کو مبرا عن الخطا خیال کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے کوئی غلطی نہیں ہوسکتی۔ دونوں میں سے ہر ایک کو یقین ہوتا ہے کہ صرف وہی راستی پر ہے۔ لہٰذا ان کے درمیان فیصلہ نہیں ہوپاتا۔ بس یہ ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں کیونکہ دونوں کو یقین ہوتا ہے کہ دوسرا نہ صرف غلطی پر ہے ، بلکہ راہ حق سے ہٹ جانے کے باعث گناہ گار بھی ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ جذبات بھڑک اٹھتے ہیں اور نظری مسائل حل کرنے کے لئے دنگا فساد تک نوبت جاپہنچتی ہے۔ (برٹرینڈ رسل: لوگوں کو سوچنے دو، اردو ترجمہ از قاضی جاوید، ص 86  )

 

یہ بات بدیہی طور پر واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرآن اور اس کے پیارے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا مطالعہ غیر معروضی طریقے سے نہیں بلکہ معروضی طریقے پر کرنا چاہئے۔ اگر کوئی شخص پہلے ہی کوئی عقیدہ بنا لے اور پھر قرآن و سنت کا مطالعہ شروع کرے تو وہ دراصل اپنے دل و دماغ کو اللہ کے سامنے نہیں جھکا رہا بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ العیاذ باللہ قرآن و سنت اس کی خواہش اور اس کے نظریے کے سامنے جھک جائیں۔ اس لئے ایسے لوگوں سے،  جو مختلف مسالک اور فرقوں کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں، ہماری گذارش یہ ہے کہ وہ پہلے سے کوئی چیز طے نہ کریں بلکہ جیسا انہیں قرآن اور سنت سے ملے ، اسے ہی اپنے عقیدے یا عمل کے طور پر اختیار کریں۔

 

دین میں اصولی اور بنیادی اختلافات    

دین اسلام انسان کو عقائد کا ایک نظام دیتا ہے اور انہی عقائد کی بنیاد پر اعمال کا ایک مجموعہ عنایت کرتا ہے۔ ان عقائد کو تفصیل سے قرآن مجید میں بیان کردیا گیا ہے۔ جہاں تک اعمال کا تعلق ہے، ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: ایک قانون (کتاب) اور دوسرے اخلاقیات (حکمت)۔ قانون کے تحت دین کے کچھ احکام بیان ہوئے ہیں جن میں کچھ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کچھ چیزوں سے روکا گیا ہے۔ اخلاقیات کے تحت جو چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ انسان کے نفس کا تزکیہ کرکے اسے ایک اچھا انسان بناتی ہیں۔

          ہم نے جہاں تک مسلمانوں کے مختلف مسالک اور فرقوں میں اختلافات کا جائزہ لیا تو یہی معلوم ہوا کہ اختلافات بنیادی طور پر دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ اختلافات جواساسی اور بنیادی نوعیت کے ہیں اور دوسرے وہ جو فروعی قسم کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ، دین کی اساس کے بارے میں تو بہت واضح عقائد اور احکام بیان کرتی ہیں۔ دین بڑے واضح طور پر توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد بیان کرتا ہے اور نماز پڑھنے، روزہ رکھنے، زکوۃ دینے، حج کرنے، نیکی کی ترغیب دینے، گناہوں سے منع کرنے، حسن اخلاق سے پیش آنے، دوسروں سے اچھا سلوک کرنے ، دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور معاشرے میں عدل قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔اس کے علاوہ دین شرک، جھوٹ، بد دیانتی، غیبت، سود، عیب جوئی ، جنسی بے راہ روی اور دوسری برائیوں سے روکتا ہے۔ الحمد للہ دین کے بنیادی احکام کے بارے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔

          ہمارے یہاں اساسی مسائل میں جو چند ایک اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کے بارے میں قرآن مجید اور سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم میں اتنی واضح رہنمائی پائی جاتی ہے کہ کوئی بھی غیر متعصب انسان جو معروضی اندا زمیں دین کا مطالعہ کرنا چاہتا ہو ، وہ قرآن مجید اور حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطالعے سے باآسانی یہ جان سکتا ہے کہ اللہ ایک ہے یا نہیں؟ اس کے ساتھ شرک کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے؟ کیا مرنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہے یا نہیں؟ کیا جنت و جہنم میں سب کو بھیجا جائے گا یا پھر یہ محض کیفیتوں ہی کے نام ہیں؟ کیا دین صرف اور صرف قرآن مجید ہی میں بیان ہوا ہے یا پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی دین کا ماخذ ہے ؟ کیا محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں یا آپ کے بعد بھی نبوت کا سلسلہ ابھی جاری ہے؟ کیا آپ  کے بعد امت کی سیاسی امامت یعنی خلافت عام لوگوں کے مشورے اور انتخاب سے قائم ہوتی ہے یا پھر اسے صرف حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہی کے ساتھ خاص کر دیا گیا ہے؟ دین کو آگے منتقل کرنے کے معاملے میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم قابل اعتماد ہیں یانہیں؟ کیا ختم نبوت کے بعد وحی و الہام کا سلسلہ منقطع ہو گیا یا پھر اب بھی اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ڈائرکٹ رہنمائی فراہم کرتا ہے اور ہم پر ان لوگوں کی پیروی لازم ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے نیک بندے لوگوں کی مافوق الفطرت طریقے سے مدد کرتے ہیں یا نہیں اور کیا ان سے دعا کرنا درست ہے یا نہیں؟ کیا وضو، نماز، زکوۃ اور حج کا جو طریقہ ہمیں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت متواترہ سے ملتا ہے ، وہی درست ہے یا پھر ہم اس میں کوئی تبدیلیاں کر سکتے ہیں؟ کیا ان عبادتوں کا وہی مفہوم ہے جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے یا ان کا کوئی باطنی مفہوم بھی ہے؟ کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی طرف سے دین میں کوئی اضافہ یا کمی کر دے یا پھر دین بالکل مکمل ہے؟ ہمارے معاشرے میں دین کے نام پر پائے جانے والے کئی رسم و رواج دین ہی کی حیثیت رکھتے ہیں یا پھر ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں؟

          یہ چند ایک سوالات ہیں جن کے بارے میں امت کی اکثریت (سواد اعظم ) ایک متعین نقطہ نظر رکھتی ہے ۔ البتہ چند اقلیتی گروہ ان میں سے کسی کسی سوال پر کچھ اختلاف رکھتے ہیں۔ ان سب سوالات کے جوابات قرآن مجید اور حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں واضح طور پر ملتے ہیں۔ اگر کوئی غیر متعصب شخص بالکل معروضی طریقے پر قرآن و سنت کا مطالعہ کرے تو وہ حق کو با آسانی پا سکتا ہے۔ اس کے لئے امت کے اکثریتی گروہ اور دوسرے مسالک کے نقطہ ہائے نظر کا تقابلی مطالعہ ہی کافی ہے۔ ان موضوعات پر تفصیلی لٹریچر بھی موجود ہے۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پہلے سے کوئی نقطہ نظر قائم کئے بغیر اس لٹریچر کے مطالعے پر روزانہ ایک سے دو گھنٹے صرف کرے تو بمشکل چند ماہ کے مطالعے کے بعد وہ حق تک پہنچ سکتا ہے۔ اس تحریر میں ہم ان مسائل پر تفصیلی بحث سے اجتناب کر رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی غیر متعصب شخص ان مسائل پر تفصیلی مطالعے کے بعد مختلف الرائے نہیں ہو سکتا۔ان معاملات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک سوائے چند اقلیتی گروہوں کے پوری امت کا نقطہ نظر بالکل یکساں ہے۔

 

فروعی اختلافات

ہمارے دینی لٹریچر میں اساسی مسائل سے ہٹ کر بے شمار فروعی اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔ فروعی اختلاف کامطلب یہ ہے کہ ان مسائل میں اختلاف سے دین میں کوئی بڑا فرق نہیں پیدا ہوتا ۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی پائے جاتے تھے۔ اس کی ایک مثال وہ مشہور واقع ہے جس میں حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ایک جماعت کو یہودیوں کے قبیلے بنی قریظہ کے علاقے میں بھیجا اور انہیں تلقین کی کہ وہاں پہنچ کر عصر کی نماز پڑھیں۔ راستے میں دیر ہوگئی اور نمازکا وقت تنگ پڑ گیا۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے پہنچ کر نماز پڑھنے کو زیادہ اہم سمجھا اور انہوں نے بنی قریظہ کے علاقے میں پہنچ کر قضا نماز ادا کی۔ ان کے بالکل بر عکس بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ سمجھا کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل زور نما ز پڑھنے پر تھا، اس لئے انہوں نے راستے میں ہی نماز ادا کر لی۔ واپس آکر جب انہوں نے اپنے اختلاف کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے دونوں ہی کو درست قرار دیا کیونکہ دونوں ہی نے اس حکم کی اصل سپرٹ کو پالیا تھا۔ اگر معاذ اللہ یہ صحابہ بھی ہماری طرح چھوٹی چھوٹی باتوں کو اچھالنے والے ہوتے تو ایک گروہ دوسرے کو ’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ‘‘اور دوسرا پہلے کو ’’نماز کا تارک‘‘ قرار دے کر اس پر کفر کا فتویٰ جڑ رہا ہوتا۔

 

فروعی اختلافات کے اسباب

اس تحریر کے بقیہ حصے میں ہم یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ دین میں فروعی اختلافات کیوں پیدا ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں ہمارے لئے درست لائحہ عمل کیا ہے؟ہمارے خیال میں فروعی اختلافات کا پیدا ہونا ایک فطری سی بات ہے کیونکہ کسی بھی معاملے پر دو افراد کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ اصل برائی اس رویے میں پائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں امت کے مختلف گروہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھ کر ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جاتے ہیں۔ فروعی اختلافات کے پیدا ہونے کے چند اسباب یہ ہیں۔

 

اخبار احاد کے ذریعے دینی معلومات کی منتقلی

یہ ایک فطری سی بات ہے کہ ایک ہی واقعے کو جب دو اشخاص دیکھتے ہیں تو ان کے بیانات میں تضاد پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ دونوں ہمیشہ بد دیانت ہوتے ہیں اور حقائق کو چھپانا چاہتے ہیں بلکہ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کو اپنے خیالات، نظریات، دلچسپیوں اور تعصبات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ مثلاً اگر کسی جگہ کوئی قتل کا واقعہ ہو جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گواہ تو پوری تفصیل سے قاتل کا حلیہ بتا دیتا ہے لیکن اس کے قتل کرنے کے انداز کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کر پاتا کیونکہ اس طریقے میں اس کی دلچسپی نہیں ہوتی اور وہ اسے مناسب حد تک نوٹ نہیں کر پایا ہوتا ۔ اس کے برعکس دوسرا گواہ قاتل کے حلیے کو تو زیادہ تفصیل سے نوٹ نہیں کرتا لیکن قتل کرنے کے انداز کو بڑے واضح انداز میں بیان کر دیتا ہے کیونکہ اس کی دلچسپی اسی میں ہوتی ہے۔ اسی طریقے سے اگر اس واقعے کو کوئی ایسا شخص بھی دیکھ رہا ہو جو اسلحے میں بڑی دلچسپی رکھتا ہو تو وہ باقی چیزوں کی نسبت آلہ قتل کی جزئیات کو بڑی تفصیل سے بیان کردے گا۔ جب کوئی ماہر عالم کسی دینی مسئلے میں غور و فکر کرتا ہے تو وہ خواہ کتنا ہی معروضی انداز اختیار کرے ، اس کی ذاتی دلچسپیاں، لائف سٹائل، معاشرے کے رسوم و رواج، معاشی حالات ، نفسیاتی کیفیات اور ماحول بڑی حد تک اس پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لئے ایک یا دو اشخاص کو ذمہ داری نہیں دی بلکہ دین کو امت کے تواتر سے منتقل فرمایا جس میں ذاتی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس قسم کے اختلاف کو باہمی گفت و شنید اور مکالمے سے دور کیا جاسکتا ہے۔

          رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ذمہ داری عائد تھی کہ آپ دین کو پورے کا پورا ، صحیح طور پر امت تک پہنچا دیں۔ اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اس معاملے میں آپ  سے کوئی کوتاہی ہو سکے۔ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو پورے کا پورا اپنی امت تک قرآن و سنت کی شکل میں تواتر سے منتقل کیا۔ ازمنہ قدیم سے تاریخ میں کسی بھی چیز یا واقعے کے متعلق معلومات کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے دو طریق ہائے کار رائج ہیں۔ ان میں سے ایک تواتر کا طریقہ ہے جس میں اس واقعے کو ہر دور میں اتنے زیادہ افراد بیان کرتے ہیں کہ ان کے جھوٹ پر متفق ہونے کا کوئی احتمال باقی نہیں رہ جاتا۔ اس بات میں کسی کو کوئی شک یا اختلاف نہیں ہے کہ 1947  میں پاکستان معرض وجود میں آیا تھا یا اڑھائی سو سال پہلے دہلی میں شاہ ولی اللہ نامی ایک عالم دین ہوا کرتے تھے یا آٹھ سوسال پہلے صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگوں کی قیادت کی تھی یا پھر چودہ سو سال پہلے مکہ میں حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تھا یا دو ہزار سال پہلے فلسطین میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے دین کی دعوت پیش کی تھی۔ اس قسم کے واقعات میں کوئی صحیح العقل شخص اختلاف یا شک نہیں کر سکتا کیونکہ ان واقعات کو بیان کرنے والے ہر دور میں اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ کسی نے اس بات کو کسی سازش کے تحت گھڑ کر پھیلا دیا ہو۔

           حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو پہنچانے کے لئے یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ چنانچہ قرآن مجید کو مکمل طور پر حفظ کرنے والے آپ  کی حیات طیبہ ہی میں ہزاروں کی تعداد میں تھے جبکہ جزوی طور پر اسے یاد کرنے والوں کا تو کوئی شمار ہی نہ تھا۔ بعد کے ادوار میں یہ تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی اور آج کے دور تک کبھی ایسا وقت نہیں آیا کہ حفاظ کی تعداد اس سے کم ہوئی ہو۔ کروڑوں اربوں کی تعداد میں لوگ قرآن کو اپنی نمازوں اور اس کے علاوہ بھی پڑھتے آئے ہیں اور رمضان میں تراویح میں مکمل قرآن پڑھنے کا سلسلہ چودہ سو سال سے جاری ہے اور اس میں کبھی کوئی انقطاع واقع نہیں ہوا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے قولی تواتر کے بعد اس بات کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ کسی نے درمیان میں قرآن میں کوئی کمی بیشی کر دی ہو یا پھر اس کو منتقل کرنے میں بحیثیت مجموعی امت سے کوئی غلطی ہو گئی ہو۔

          یہی معاملہ سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ دین کا جو حصہ سنت میں محفوظ کیا گیا، اسے بھی تواتر سے منتقل کیا گیا جس کی مثال نماز کا بنیادی طریقہ ، زکوۃ کے ریٹس، حج کے مناسک اور ختنہ وغیرہ ہیں۔ چنانچہ صحابہ کے دور میں لاکھوں افراد اور بعد کے ادوار میں کروڑوں اربوں افراد ایک ہی بنیادی طریقے سے نماز پڑھتے ہیں، زکوۃ ادا کرتے ہیں، حج کرتے ہیں اور اس بنیادی ڈھانچے میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ پوری امت کے اربوں افراد کا یہی عمل ہے۔

          دین کے ان بنیادی احکام کو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طریقے سے ادا فرمایا؟ آپ نے کسی خاص موقع پر کیا بات ارشاد فرمائی، یا کسی کو تنہائی میں کیا نصیحت فرمائی؟ گھر میں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ کس طرح برتاؤ فرمایا؟ کسی کے ساتھ کاروباری لین دین کیسے کیا؟ یہ سب وہ معاملات ہیں جنہیں مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے ذوق، فہم ، یادداشت اور مرضی کے مطابق یاد رکھا اور اگلی نسلوں کو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ باتیں بتائیں۔ انہوں نے یہ باتیں آگے منتقل کیں اور آپ کی وفات اقدس کے کچھ عرصے بعد انہیں اکٹھا (Compile)   کرکے کتابوں کی صورت میں لکھ لیا گیا۔ معلومات کے اس ذخیرے کو حدیث کہتے ہیں۔

          چونکہ ان احادیث کو تواتر سے منتقل نہیں کیا گیا بلکہ اسے مختلف افراد نے اپنے ذوق ، فہم ، یادداشت اور مرضی سے انفرادی طور پر منتقل کیا اس لئے اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ اس معاملے میں ان سے کوئی غلطی ہو گئی ہویا پھر بعد کے ادوار میں کسی فتنہ پرور نے اپنی طرف سے کوئی حدیث گھڑ کر اسے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا ہو۔ اسی بنیاد پر امت کے ائمہ حدیث نے اصول حدیث (حدیث کی صحت (Validity) کو پرکھنے کا طریق کار)اور اسماء الرجال (حدیث بیان کرنے والے افراد کی عمومی شہرت کے بارے میں معلومات) کے فن مرتب کئے  جن کی بنیاد پر کسی بھی حدیث کی حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کو چیک کرنے کا ایک پورا طریق کار موجود ہے۔

          اگرچہ نماز وغیرہ کا بنیادی طریق کار تو امت کو تواتر سے منتقل ہوا ہے لیکن اس کی جزوی تفصیلات (Minute Details)   ہم تک حدیث ہی کے ذریعے سے پہنچی ہیں ، اس وجہ سے نماز کے تفصیلی طریق کار میں معمولی سا اختلاف پایا جاتا ہے جس کی دین میں کوئی بڑی حیثیت نہیں ہے۔ اگر ذہنوں کو کھلا رکھا جائے تو باہمی مکالمے سے ان اختلافات کو حل کیا جاسکتا ہے اور اگر رواداری کا مظاہرہ کیا جائے تو ان اختلافات کے موجود رہتے ہوئے بھی ہم ایک ہوسکتے ہیں کیونکہ دین میں ان کا کوئی بڑا مقام نہیں۔

 

ایک ماہر کے پاس نامکمل معلومات

بعض اوقات دین میں غور و فکر کرنے والے ایک ماہر کے پاس مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔ اس کی وجہ سے وہ ایک نتیجے پر پہنچتا ہے اور دوسرا عالم دوسرے نتیجے پر پہنچتا ہے۔ اس بات کو اس مشہور مثال سے واضح کیا جاسکتا ہے کہ چند پیدائشی نابینا افراد کے سامنے پہلی مرتبہ ایک ہاتھی آگیا۔ یہ سب کے سب اسے ٹٹولنے لگے اور اس کا تصور ذہن میں قائم کرنے لگے۔ جس کے ہاتھ میں سونڈ آئی، اس نے کہا ، ہاتھی ایک نرم نرم اور لمبی لمبی سی پائپ نماکوئی چیز ہے، جس کا ہاتھ اس کی ٹانگ پر پڑا، اس نے کہا کہ ہاتھی ستون کی طرح کی کوئی چیز ہے، جس کے ہاتھ میں اس کی دم آئی، اس نے کہا کہ یہ سانپ یا رسی کی طرح کی کوئی چیز ہے اور جو ذرا بلند ہو کر اس کی پیٹھ تک پہنچ گیا، اس کا خیال یہ تھا کہ ہاتھی کوئی پلیٹ فارم نما چیز ہے۔ اسی طرح معلومات کی کمی کی وجہ سے دو اشخاص میں اختلاف واقع ہوسکتا ہے۔ اس اختلاف کو معلومات کے باہمی تبادلے سے دور کیا جاسکتا ہے۔

 

دینی عمل کے ایک سے زائد صحیح طریقے

دینی معاملات میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی عمل کو دو طریقوں سے ادا فرمایا۔ ایک صحابی نے ایک طریقہ بیان کردیا اور دوسرے نے دوسرا۔ یہ دونوں طریقے ہی صحیح تھے لیکن اس کے نتیجے میں بعد کے اہل علم میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ ناف کے نیچے باندھ کر بھی نماز پڑھی اور سینے پر بھی۔ مختلف صحابہ نے مختلف طریقوں کو روایت کیا جس کے نتیجے میں یہ معمولی سا فرق عام ہوگیا۔ مختلف روایتوں کی جمع و تطبیق کرکے ان سے کوئی نتیجہ نکالنے سے اس قسم کے اختلافات کو بھی ختم کیاجاسکتا ہے۔

 

ماہرین کے غور و فکر کے درجوں میں فرق

بعض لوگ فطرتاً گہرے غور و فکر کے عادی ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ نسبتاً کم گہری سوچ رکھتے ہیں۔ گہرا غور و فکر کرنے والے افراد ہر معاملے میں بال کی کھال نکالتے ہیں اور اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرتے ہیں۔ کم گہری سوچ رکھنے والے الفاظ کے ظاہری معنوں سے جو مفہوم ابتدائی طور پر ان کے ذہن میں آتا ہے ، اسے اختیار کرلیتے ہیں۔ بنی قریظہ والی حدیث میں جن صحابہ نے وہاں پہنچ کر نماز پڑھی ، انہوں نے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری الفاظ کو اہمیت دی جبکہ دوسرے گروہ نے اس حکم کی اصل سپرٹ پر۔ اس قسم کے اختلافات کو عام طریقے سے ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ دین کے طلباء کو گہرے غور و فکر کی تربیت دی جائے تاکہ جب وہ عملاً اجتہاد کریں تو معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کریں۔حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے اختلاف اگر باقی رہ بھی جائیں تو کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا بشرطیکہ لوگوں میں صبر و تحمل اور برداشت کا مادہ موجود ہو۔

 

عربی زبان کے مختلف اسالیب

قرآن مجید میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں آیت کے الفاظ کے ایک سے زائد معنی کلام عرب میں مستعمل ہیں۔ اس کی ایک مثال وہ آیت ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے طلاق یافتہ خواتین کی عدت کی مدت بیان کی ہے: والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ قروء۔ (البقرہ 2:228) ’’طلاق یافتہ عورتیں خود کو تین قروء تک روکے رکھیں۔‘‘  اس آیت میں لفظ قروء سے مراد حیض کا پیریڈ بھی ہوسکتا ہے اور دو حیض کے درمیان پاکیزگی کا پیریڈ (طہر) بھی۔ دونوں صورتوں میں عدت کی مدت تین ماہ یا اس سے کچھ کم و بیش بنتی ہے لیکن عملاً اس سے چند دن کا فرق پڑتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک معمولی سا اختلاف ہے۔  اگر اس قسم کے اختلافات حل ہونے سے رہ بھی جائیں تو کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔اگر ان اختلافات کو حل کرنا بہت ہی ضروری ہو تو انہیں زبان کے گہرے شعور اور سیاق و سباق کی مدد سے حل کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے دین کے طالب علموں کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی عربی زبان اور اس کے اسالیب کا گہرا علم ہونا ضروری ہے۔

 

دین سے غیر متعلق موضوعات

بہت سے ایسے معاملات ہیں، جنہیں دین نے موضوع بحث ہی نہیں بنایا یا پھر ان کے بارے میں چند اصولی ہدایات دے کر باقی تفصیلات کو انسانوں پر چھوڑ دیا ہے۔ ان معاملات میں تمام انسانوں کو آزادی حاصل ہے کہ وہ دین کی اساسی تعلیمات کو اپناتے ہوئے جیسے چاہیں قانون سازی کریں یا اپنی زندگی کے معاملات کو متعین کریں۔ اس کی مثال ٹریفک کے قوانین، اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز، فنانس کے طریق ہائے کار، معاشرتی رسم و رواج ، لبا س وغیرہ ہیں۔ اگرچہ اس قسم کے اختلافات کی کوئی دینی حیثیت نہیں لیکن ان کو بھی باہمی مکالمے کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے معاملات میں ہمارے قدیم فقہا میں بھی بارہا اختلاف ہوا ہے جسے ان کے ناسمجھ پیروکاروں نے دین کا مسئلہ بنا لیا ہے۔

 

دین کے احکامات کے اطلاق (Application)  میں اختلاف

بہت سے معاملات ایسے ہیں ، جو بعد کے دور کی پیداوار ہیں۔ ان معاملات میں شریعت کے کسی قانون کے اطلاق میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔

 اس کی ایک مثال انشورنس کا نظام ہے۔ بعض علماء اسے جوا قرار دے کر ناجائز سمجھتے ہیں اور بعض اسے دیت کی طرز کا ایک نظام سمجھ کر اس کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اسی طرح کسی فوت ہونے والے کے اعضا کی کسی زندہ معذور شخص کے جسم میں پیوند کاری کا مسئلہ ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ میت کی بے حرمتی ہے اور ناجائز ہے۔ علماء کو دوسرا گروہ اسے مفاد عامہ کے پیش نظر جائز سمجھتا ہے۔ اسی طرح بعض علماء صنعتی پیداوار کو زرعی پیداوار کی طرح قرار دے کر اس پر پانچ فیصد زکوۃ کے قائل ہیں جبکہ بعض علماء اسے تجارتی مال قرار دے کر اس پر ڈھائی فیصد زکوۃ ہی کو لازم سمجھتے ہیں۔ اسی طرز پر ٹسٹ ٹیوب بے بی اور کلوننگ کے جواز کے مسائل ہیں جن میں علماء کے آرا مختلف ہیں۔ اس قسم کے اختلافات کا حل بھی باہمی مکالمے کے ذریعے ممکن ہے۔

 

اختلاف رائے کی صورت میں مجوزہ طرز عمل

ہمارے نزدیک اختلاف رائے کی صورت میں جو طرز عمل ایک اچھے مسلمان کو اختیار کرنا چاہئے، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

 

1.     اصولی مسائل کے بارے میں ہر اس مسلمان پر، جو حق تک پہنچنا چاہتا ہے، یہ لازم ہے کہ وہ امت کی اکثریت اور اقلیتی گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کے دلائل کا تقابلی مطالعہ کرے ۔ ان معاملات پر قرآن و سنت میں اتنی تفصیلی رہنمائی موجود ہے کہ ایک عام شخص بھی حق تک پہنچ سکتا ہے۔

2.     فروعی مسائل کے بارے میں ہم انسانوں کو تین درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: 

a.      ایک تو ایسے عام مسلمان جو عام سی ذہنی سطح رکھتے ہیں اور زیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں۔ ان کے لئے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ فروعی مسائل کی تفصیلی علمی بحثوں کو سمجھ سکیں ۔ ان کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ دینی مسائل کو علماء سے سیکھیں۔ اگرچہ علماء کے درمیان بہت سے مسائل پر اختلاف موجود ہے، لیکن ان مسائل میں یہ لوگ بلا تکلف کسی بھی ایسے عالم دین، جس سے وہ اصولی مسائل پر اتفاق رائے رکھتے ہوں اور جس کی سیرت و کردار سے وہ مطمئن ہوں  سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

b.     دوسرا گروہ ان اہل علم کا ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو دین سمجھنے اور سمجھانے کے لئے وقف کر دیا ہے۔ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ علوم اسلامیہ اور علوم جدیدہ میں مجتہد کے درجے کی مہارت حاصل کرنے کے بعد، پچھلے ائمہ کے اجتہادات کی روشنی میں خود اجتہاد کریں اور دین کو اپنی سمجھ کے مطابق اختیار کریں۔

c.      تیسرا گروہ ان دونوں کے درمیان ایسے مسلمانوں کا ہے جو ذہانت اور تعلیم میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں لیکن اپنی معاشی مجبوریوں کے باعث خود کو فل ٹائم دین کے لئے وقف نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ پہلے دو گروہوں کے مابین ایک پل کا کام کر سکتے ہیں۔ ان کا طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ یہ اختلافی معاملات میں مختلف اہل علم کے نقطہ نظر کا مطالعہ کریں اور جس رائے کو قرآن و سنت کے قریب پائیں، اسے اختیار کریں۔ اس بات کا خیال رہے کہ رائے کو ترجیح دینے میں انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ترجیح کامعیار (Criteria)   قرآن و سنت ہیں نہ کہ ذاتی مفادات اور خواہشات نفس۔ اگر کوئی یہ محسوس کرے کہ وہ ترجیح دینے میں اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کر رہا ہے تو اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ اگر اس پر قابو نہ پاسکے تو پھر اس کے لئے بہتر راستہ کسی قابل اعتماد عالم کی پیروی ہی کا ہے۔

3.      مسائل خواہ اصولی ہوں یا اختلافی، ان پر جب بھی گفتگو کی جائے تو شائستگی اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ کسی بھی دوسرے مسلک کی شخصیات کی نیت، ذات اور ان کے ذاتی کردار کو موضوع بحث نہ بنایا جائے اور ان کا ذکر احترام سے کیا جائے۔ ہاں نقطہ نظر پر احسن انداز میں تنقید کی جاسکتی ہے لیکن اس میں بھی اس بات کا خیال رہے کہ دوسرے شخص کی دل آزاری سے ہر صورت میں بچا جائے۔ ایک دوسرے میں برداشت اور صبر و تحمل کا مادہ پیدا کیا جائے اور رواداری کو فروغ دیا جائے۔ اس بات کو صرف مسلمانوں کے فرقوں اور مسالک تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھا جائے۔ اگر ہم اس طرز عمل کو اختیار کر سکیں تو بہت حد تک اپنے فرقہ وارانہ اور اختلافی امور پر قابو پاسکتے ہیں۔

محمد مبشر نذیر

October 2003

مکمل آرٹیکل کو ڈاون لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

 

مزید مطالعے کے لئے

·        دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے

·        رہبانیت

·        دوہرے معیارات

·        فارم اور اسپیرٹ

·        دین میں اضافے

 

 

سفر نامے

قرآن  اور بائبل  کے دیس میں

روانگی برائے سعودی عرب      جدہ      مکہ       جبل نور اور غار حرا       مکہ کے دیگر تاریخی مقامات       سفر حج       سفر ہجرت       مدینہ        مدینہ کے تاریخی مقامات       بدر          احد        خندق        طائف        جازان، ابہا اور فیفا       دمام، الخبر اور بحرین کاز وے         خیبر، مدائن صالح اور تبوک        روانگی برائے اردن   پیٹرا         جنگ موتہ اور ڈیڈ سی         مادبہ، جبل نیبو اور بپتسمہ سائٹ        عقبہ          مصر کا بحری سفر        جزیرہ نما سینا        قاہرہ        اسکندریہ                  مصر سے سعودی عرب براستہ اردن

 

مذہبی معاملات

کتاب الرسالہ: امام شافعی کی اصول فقہ پر پہلی کتاب کا اردو ترجمہ و تلخیص

دیباچہ    مقدمہ    حصہ اول: تعارف    باب 1: تعارف    باب 2: البیان    باب 3: اسلامی قانون کا علم   حصہ دوم: کتاب اللہ     باب 4: قرآن کی زبان     باب 5: خاص اور عام     باب 6: ناسخ و منسوخ احکامات   حصہ سوم: سنت     باب 7: اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو قبول کرنے کی ذمہ داری     باب 8: اللہ اور اس کے رسول کی بیان کردہ ممانعتیں     باب 9: روایات     باب 10: خبر واحد  حصہ چہارم: اجماع، قیاس، اجتہاد اور اختلاف رائے     باب 11: اجماع     باب 12: قیاس     باب13 : اجتہاد     باب 14: اختلاف رائے

 

ایڈورٹائزنگ کا اخلاقی پہلو سے جائزہ   |  دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے   | رہبانیت   |  دوہرے معیارات    | فارم اور اسپرٹ    | دین میں اضافے    | گنیش جی کا جلوس    | صوفیاء کی دعوتی حکمت عملی    | عقل اور عشق    | اسلام نے غلامی کو ایک دم ختم کیوں نہ کیا؟    | سورہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ کیوں نہیں ہے ؟   |  کیا رسولوں پر ایمان ضروری ہے؟    | مکہ اور مدینہ حرم کیوں کہلاتے ہیں؟    | مرد کا وراثت میں حصہ دوگنا کیوں ہے؟    | متشابہات کیا ہیں؟    |

 

عقائد و نظریات

الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات   

الحاد کی تعریف       یورپ میں الحاد کی تحریک       مسلم معاشروں میں الحاد کا فروغ       مغربی اور مسلم معاشروں پر الحاد کے اثرات  
الحاد کی سائنسی بنیادوں کا انہدام        الحاد، اکیسویں صدی اور ہماری ذمہ داریاں

 

کائنات: خدا کی ایک نشانی   |   Quranic Concept of Human Life Cycle   |   A Dialogue with Atheism   |  کیا عقل کے ذریعے خدا کی پہچان ممکن ہے؟   |  کیا آخرت کا عقیدہ معقولیت رکھتا ہے؟   |  خدا کے جسم سے کیا مراد ہے؟   |  خدا نظر کیوں نہیں آتا؟   |  تقدیر کا مسئلہ؟  بعض لوگ خدا کے منکر کیوں ہیں؟   |  محمد رسول اللہ کی رسالت کا ثبوت کیا ہے؟   | Empirical Evidence of God’s Accountability   |

 

معاشرتی معاملات

 اسلام اور نسلی و قومی امتیاز   |  دین دار افراد کے لئے معاش اور روزگار کے مسائل   |  موٹر وے کی ٹریفک   |  جنریشن گیپ   |  ساس اور بہو کا مسئلہ   |  

 

ہماری شخصیت

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟

ذہانت    ذہنی پختگی    علمی سطح    طرز فکر اور مکتب فکر    فطری رجحان    تخلیقی صلاحتیں     احساس ذمہ داری      قوت ارادی اور خود اعتمادی

شجاعت و بہادری    انصاف پسندی    کامیابی کی لگن    بخل و سخاوت     لالچ اور قناعت     عادات و خصائل    فنی اور پیشہ ورانہ مہارت     جنسی جذبہ     غصہ و جارحیت      مایوسی و تشویش کی صورت میں رویہ     خوشی و غمی     محبت و نفرت

اخلاص     خوف     حیرت و تجسس     ترجیحات     قوت برداشت      صبر و شکر      ٹیم اسپرٹ     خود انحصاری     خود غرضی     قائدانہ صلاحیتیں     عصبیت     قانون کی پاسداری

ظاہری شکل و شباہت     جسمانی صحت     چستی    ایثار     احساس کمتری و برتری     خوش اخلاقی    معاملہ فہمی    انتہا پسندی     ابلاغ کی صلاحیتیں     خطرات کے بارے میں رویہ     پسندیدگی اور ناپسندیدگی     جذبات و احساسات کا طریق اظہار     غیبت      جوش و ولولہ     خود آگہی

 

مایوسی کا علاج کیوں کر ممکن ہے؟

مایوسی کی تعریف    مایوسی کی اقسام    مایوسی کی وجوہات    مایوسی دور کرنے کے لئے چند تجاویز

 

 

بزرگوں کی کرامات یا ان کا کردار  سبز یا نیلا   |  مشکل پسندی   |  اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ   |  سیکس کے بارے میں متضاد رویے   |  تکبر کے اسٹائل   |  انسان کا اپنی شخصیت پر کنٹرول   |  علماء کی زبان    | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریقہ   |  فرشتے، جانور اور انسان   | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |

 

اسلام اور دور جدید

 اسلام اور دور حاضر میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں

دیباچہ    معاشرے میں تبدیلی کا عمل     انسانی نفسیات اور طرز فکر میں تبدیلی    معاشرتی اور ثقافتی تبدیلی    سیاسی تبدیلی    معاشی اور تکنیکی تبدیلی    دور جدید کی تبدیلیاں اور ہمارا رد عمل

 

دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار

دعوت دین کی اہمیت    داعی اور اس کی صفات     دعوت دین کی منصوبہ بندی    دعوتی پیغام کی تیاری   

 

اسلام کا خطرہ: محض ایک وہم یا حقیقت    | مسلم دنیا میں علمی و تحقیقی رجحانات     | دور جدید کی سازش    | ہم اسلام نافذ کیوں نہ کر سکے؟    | امت مسلمہ زوال پذیر کیوں ہے؟    | اقوام عالم کو مسلمانوں سے ہمدردی کیوں نہیں؟    | مذہب کی دعوت کے لئے کرنے کا سب سے بڑا کام؟  |   مولوی اور دور جدید

 

Home

Risk Management

Adventure & Tourism

Ethics & Religion

Install Urdu Font

Urdu Setup

Your Comments

About the Author

The content of this website is copyright protected © Mubashir Nazir. All rights expressly reserved. The material can be republished with permission of the author.