|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری ،
امن اور محبت
سے وابستہ |
|||
اگلا
صفحہ فہرست پچھلا
صفحہ
اگر ہم
روزمرہ کے
اخبارات کا
جائزہ لیں تو
ہمیں روزانہ
کسی نہ کسی کی
خودکشی کی
خبر نظر آئے گی۔
ایک اندازے
کے مطابق دنیا
بھر میں
سالانہ دس
لاکھ افراد خودکشی
کرتے ہیں اور
ایک سے دو
کروڑ انسان
اس کی کوشش
کرتے ہیں۔ غریب
اور پسماندہ
ممالک میں
خود کشی کرنے
والوں کی شرح
نسبتاً زیادہ
ہے۔ اگر ہم
خود کشی کی
وجوہات کا
جائزہ لیںتو
صرف اور صرف ایک
ہی وجہ نظر آتی
ہے جسے ’’مایوسی‘‘
یا Frustration کہا
جاتا ہے۔ یہ
وہ چیز ہے جس
کا شکار تقریباً
ہر انسان
ہوتا ہے۔ بعض
افراد میں یہ
مایوسی اتنی
شدت تک پہنچ
جاتی ہے کہ وہ
اپنی زندگی
کے خاتمے کو
ترجیح دیتے ہیں۔
اس موضوع پر
بہت کچھ لکھا
جاچکا ہے۔
عام طور پر ان
مسائل کے حل کی
جو تجاویز دی
جاتی ہیں ، وہ
اجتماعی سطح
پر دی جاتی ہیں
جن پر عمل
حکومت یا بڑے
بڑے ادارے ہی
کر سکتے ہیں۔
اس کے برعکس
ہماری اس تحریر
کا مخاطب وہ
لوگ ہوں گے جو
کسی نہ کسی
قسم کی مایوسی
کا شکار ہیں۔
اس تحریر میں
ہم یہ جائزہ لینے
کی کوشش کریں
گے کہ
انسانوں میں
مایوسی کیوں
پیدا ہوتی ہے
اور اس کے
تدارک کا طریقہ
کار کیا ہے؟ کیا
اللہ تعالیٰ
نے اپنے دین میں
ہمیں اس کے
متعلق کچھ
تعلیمات دی ہیں
؟ ہم کن طریقوں
سے اپنے اندر
مایوسی کو کم
کر سکتے ہیں
اور زیادہ سے
زیادہ خوشیاں
سمیٹ سکتے ہیں؟ مایوسی کی
تعریف علم نفسیات
میں مایوسی
کو خیبت بھی
کہا جاتا ہے۔
پاکستان کے
ممتاز ماہر نفسیات
حمیر ہاشمی
جن کی تصنیفات
امریکہ اور کینیڈا
کی یونیوسٹیوں
کے نصاب میں
شامل ہیں ، مایوسی
کی تعریف کچھ
اس طرح کرتے ہیں: ’’مایوسی
یا خیبت ہم اس
احساس کو
کہتے ہیں جو ایک
شخص اپنی کسی
خواہش کی تسکین
نہ ہونے کے
طور پر محسوس
کرتا ہے،
مثلاً اگر ایک
طالب علم امتحان
میں پاس ہونا
چاہے لیکن فیل
ہو جائے تو وہ
خیبت یا مایوسی
سے دوچار
ہوگا یا اگر
کوئی کھلاڑی
کھیل کے میدان
میں مقابلہ جیتنا
چاہے، لیکن
ہار جائے تو
وہ خیبت کا
شکار ہوگا۔‘‘
اس کے بعد وہ
لکھتے ہیں: ’’اب اگر
ہم اس تعریف میں
اپنے آپ کا
اور اپنے گرد
وپیش کے افراد
کا جائزہ لیں
تو ہم جان لیں
گے کہ دنیا کا
ہر شخص اپنی
زندگی میں مایوسی
یا خیبت کا
شکار رہا ہے
اور جب تک کسی
شخص کے سانس میں
سانس ہے، وہ خیبت
سے دوچار
ہوتا رہے گا۔
اس کی وجہ یہ
ہے کہ کسی بھی
شخص کی تمام
خواہشات کی
تسکین اس کی
مرضی کے عین
مطابق ممکن ہی
نہیں ہوتی،
اس لئے وہ کسی
نہ کسی حد تک
مایوسی کا
شکار رہے گا۔
تاہم کچھ لوگ
ایسے بھی ہیں
جن میں یہ
احساس زیادہ
شدید نہیں
ہوتا اور کچھ
لوگ ایسے ہیں،
جن میں یہ
احساس شدید
حد تک پایا
جاتا ہے۔ ‘‘ (حمیر
ہاشمی، نفسیات،
ص 772-773 ) سادہ
الفاظ میں
اگر کوئی شخص
کسی چیز کی
خواہش کرے
اورکسی وجہ
سے وہ خواہش
پوری نہ
ہوسکے تو اس
کے نتیجے میں
اس کے دل
ودماغ میں جو
تلخ احساس پیدا
ہوتا ہے، اسے
مایوسی کہتے
ہیں۔ مایوسی کی
اقسام مایوسی بنیادی
طور پر دو طرح
کی ہوتی ہے، ایک
تو وہ جو
ہمارے بس سے
باہر ہے اور
دوسری وہ جو
ہمارے اپنے
کنٹرول میں
ہوتی ہے۔
ناقابل
کنٹرول مایوسی
کی مثال ایسے
ہے جیسے کوئی
شخص یہ چاہتا
ہے کہ اس کا
بچہ زندہ رہے
اور بڑا ہو کر اس
کی خدمت کرے۔
کسی وجہ سے اس
بچے کی موت
واقع ہوجائے
اور اس شخص کی یہ
خواہش پوری
نہ ہوسکے تو یہ
ناقابل
کنٹرول مایوسی
کہلاتی ہے۔
اسی طرح جب ہم
فطری حوادث جیسے
سیلاب،
زلزلہ اور
طوفان میں
لوگوں کو
ہلاک ہوتے دیکھتے
ہیں تو اس سے
ہمارے دل میں
جو غم، دکھ یا
مایوسی پیدا
ہوتی ہیں وہ
ناقابل
کنٹرول ہوتی
ہے۔ یہ
وہ معاملات ہیں
جن میں انسان
کچھ نہیں
کرسکتا ۔ اس
قسم کی مایوسی
کے بارے میں
اللہ تعالیٰ
نے اپنے دین میں
یہ ہدایت دی
ہے کہ انسان
کو چاہئے کہ ایسے
معاملات میں
وہ اللہ کی
پناہ پکڑے
اور صبر اور
نما زکی مدد
سے اس مایوسی
کو کم کرے۔
چنانچہ
ارشاد باری
تعالیٰ ہے : واستعینوا
بالصبر و
الصلوۃ، و
انھا لکبیرۃ
الا علی
الخاشعین،
الذین یظنون
انھم ملٰقوا
ربھم و انھم
الیہ راجعون۔
(البقرۃ 2:45-46) ’’صبر
اور نماز سے
مدد چاہو۔ بے
شک یہ
(اللہ سے) ڈرنے
والوں کے
علاوہ (دوسرے
لوگوں کے لئے
)بہت مشکل ہے۔
(اللہ سے ڈرنے
والے تو وہ ہیں)
جو یہ یقین
رکھتے ہیں کہ
انہیں اپنے
رب سے ملنا ہے
اور انہیں اسی
کی طرف لوٹ کر
جانا ہے۔‘‘ اس
آیت میں یہ حقیقت
بھی بیان کردی
گئی ہے کہ یہ
آفات کوئی بڑی
چیز نہیں ہیں
اس لئے کہ ایک
دن سب نے ہی
اپنے رب سے
ملاقات کرنے
کے لئے اس دنیا
سے جانا ہے۔
اگر انسان حقیقت
پسند ہو اور
کائنات کی اس
بڑی حقیقت کو
قبول کرلے تو
پھر اسے صبر آ
ہی جاتا ہے
اور یوں اس کی
مایوسی کے
زخم مندمل ہو
جاتے ہیں کیونکہ
چند روزہ
زندگی کے بعد
ایک لامحدود
زندگی اس کے
سامنے ہوتی
ہے جہاں نہ
کوئی دکھ ہو
گا اور نہ کوئی
غم۔ اگر ہم
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کی سیرت
طیبہ کا
جائزہ لیں تو
ہمیں یہ
معلوم ہوگا
کہ آپ
نے ہر ایسے
معاملے میں
اللہ کی پناہ
پکڑی ہے اور
جب بھی آپ کو
کسی مشکل کا
سامنا کرنا
پڑا تو آپ نے
نماز کے ذریعے
اپنے رب کی
طرف رجوع کر
کے ذہنی سکون
حاصل کیا اور
اس مصیبت پر
صبر کیا۔ اس کا
احساس ہمیں
آپ کی
دعاؤں سے
ہوتا ہے۔ دوسری
قسم کی مایوسی
وہ ہوتی ہے جو
انسانی
وجوہات سے ہوتی
ہے اور اگر
انسان چاہے
تو اسے کم سے
کم حد تک لے جا
سکتا ہے۔ اس
قسم کی مایوسی
کی بہت سی
وجوہات ہیں۔
ہم ان میں سے ایک
ایک پر بحث
کرکے ان کا حل
تجویز کرنے کی
کوشش کریں گے۔ اگلا
صفحہ فہرست پچھلا
صفحہ
مزید
مطالعے کے
لئے ·
اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟ ·
اختلاف
رائے کی صورت
میں ہمارا رویہ ·
انسان
کا اپنی شخصیت
پر کنٹرول ·
شیطانی
قوتوں کا
مقابلہ کیسے
کیا جائے؟ |
||||
|
The content of this website is copyright protected ©
Mubashir Nazir. All rights expressly reserved. The material can be
republished with permission of the author. |
|||