|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ پنجم: اسناد
اور اس سے
متعلقہ علوم یونٹ 12: اسماء
الرجال (راویوں
کا علم) |
||
|
سبق 2:
تابعین تابعی کی جمع
تابعین ہے۔
لغوی اعتبار
سے اس کا معنی
ہے بعد میں
آنے والا۔
اصطلاحی
مفہوم میں
تابعی اس شخص
کو کہا جاتا
ہے جس نے کسی
صحابی سے
حالت اسلام
میں ملاقات
کی ہو اور پھر
اس نے حالت
اسلام ہی پر
وفات پائی
ہو۔ ایک رائے
یہ بھی ہے کہ
تابعی اس شخص
کو کہتے ہیں
جس نے کسی صحابی
کی صحبت
اختیار کی
ہو۔ تابعین کو
جاننے سے
مرسل اور
متصل احادیث
میں فرق کیا
جا سکتا ہے۔ تابعین کے طبقات
کی تعداد کے
بارے میں
اختلاف رائے
ہے۔ ہر عالم
نے الگ انداز
میں انہیں
طبقات میں
تقسیم کیا
ہے۔ امام
مسلم نے
انہیں تین،
ابن سعد نے چار
اور حاکم نے
پانچ طبقات
میں تقسیم
کیا ہے۔ ان
میں سب سے
افضل تابعی
انہیں سمجھا
جاتا ہے جنہیں
عشرہ مبشرہ
کے صحابہ سے
شرف صحبت
حاصل ہو۔ مخضرمین،
مخضرم کی جمع
ہے۔ اس کا
مطلب ہے ایسے
افراد جو
جاہلیت اور
پھر رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے زمانے میں
موجود رہے
ہوں لیکن ان
کی آپ سے
ملاقات نہ
ہوئی ہو (لیکن
وہ آپ پر
ایمان لے آئے
ہوں۔) صحیح
نقطہ نظر کے
مطابق مخضرمین
کو تابعین
میں شمار کیا
جاتا ہے۔
امام مسلم کی
رائے کے
مطابق
مخضرمین کی
تعداد بیس ہے
لیکن درست یہ
ہے کہ ان کی
تعداد اس سے
زیادہ ہے۔
ابو عثمان
النھدی اور
اسود بن یزید
النخعی کا
شمار انہی
میں ہوتا ہے۔
(اویس قرنی
اور حبشہ کے
بادشاہ نجاشی
کا شمار بھی
انہی میں
ہوتا ہے۔) سات تابعین
کو فقہاء کہا
جاتا ہے۔ یہ
حضرات تابعین
میں بڑے اہل
علم ہوئے
ہیں۔ یہ سب کے
سب مدینہ سے
تعلق رکھتے
تھے۔ ان کے
نام یہ ہیں: ·
سعید بن
مسیب ·
قاسم بن
محمد بن
ابوبکر ·
عروۃ بن
زبیر ·
خارجہ بن
زید ·
ابو سلمۃ
بن
عبدالرحمٰن ·
عبیداللہ
بن عبداللہ
بن عتبہ ·
سلیمان
بن یسار رحمۃ
اللہ علیہم
اجمعین (ابن مبارک نے
ابو سلمۃ کی
جگہ سالم بن
عبداللہ بن
عمر کو اور
ابوالزناد
نے ان کی جگہ
ابوبکر بن
عبدالرحمٰن
کو سات فقہاء
تابعین میں
شمار کیا ہے۔) اہل علم کی اس
معاملے میں
مختلف آراء ہیں۔
مشہور یہ ہے
کہ سعید بن
مسیب رحمہ
اللہ ان میں
سب سے افضل
ہیں۔ محمد بن
خفیف
الشیرازی نے
بیان کیا ہے
کہ اہل مدینہ
سعید بن مسیب
کو، اہل کوفہ
اویس القرنی
کو اور اہل
بصرہ حسن
بصری رحمۃ
اللہ علیہم
کو سب سے افضل
سمجھتے ہیں۔ ابوبکر بن
داؤد کی رائے
کے مطابق
حفصۃ بنت
سیرین اور عمرۃ
بنت
عبدالرحمٰن
اور ان کے بعد
ام الدرداء
(الصغریٰ)
رحمۃ اللہ
علیہن سب سے
افضل تابعیات
ہیں۔ ابو المطرف
بن فطیس
الاندلسی کی
کتاب "معرفۃ التابعین"۔
(الرسالة
المستطرفة ص 105) تابعین کے
مشہور اہل
علم بالخصوص
سات فقہا کے
حالات زندگی
کو انٹرنیٹ
پر تلاش کر کے
ان کا مطالعہ
کیجیے۔ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||