|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری،
امن اور
انسانیت کی
محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک
تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ پنجم:
اسناد اور اس
سے متعلقہ
علوم یونٹ 12:
اسماء
الرجال (راویوں
کا علم) |
|||
|
سبق 1:
صحابہ کرام لغوی
اعتبار سے
صحابی، صحبت
کا مصدر ہے۔
صحابی کی جمع
صحابہ ہے جس
کا معنی ہے
ساتھی۔ اصطلاحی
مفہوم میں
صحابی اس شخص
کو کہا جاتا
ہے جس نے حالت
ایمان میں
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے
ملاقات کی ہو
اور اس کے بعد
ان کی وفات بھی
حالت اسلام ہی
میں ہوئی ہو۔
صحیح نقطہ
نظر کے مطابق
اگر کوئی
صحابی کچھ
عرصے کے لئے
مرتد بھی ہو
جائے لیکن
بعد میں
دوبارہ
اسلام قبول
کر لے تو وہ
صحابی ہی
کہلائے گا۔ صحابہ کے
علم کے کثیر
فوائد ہیں۔
فن حدیث میں
اس علم کا
فائدہ یہ ہے
کہ اس کی
بدولت مرسل حدیث
کو ترقی دے کر
متصل کے درجے
تک لایا جا
سکتا ہے۔ کسی شخص
کے صحابی
ہونے کا علم کیسے
ہوتا ہے؟ · تواتر
کے ذریعے جیسے
سیدنا
ابوبکر و عمر یا
دیگر عشرہ
مبشرہ کے
صحابہ رضی
اللہ عنہم۔ · شہرت
کے ذریعے جیسے
ضمام بن
ثعلبہ اور
عکاشہ بن
محصن رضی
اللہ عنہما۔ · کسی
اور صحابی کی
دی ہوئی خبر
کے ذریعے کہ یہ
صاحب، صحابی
ہیں۔ · کسی
ثقہ تابعی کی
دی ہوئی خبر
کے ذریعے کہ یہ
صاحب، صحابی
ہیں۔ · خود ان
صاحب کے دعوے
کے ذریعے
بشرطیکہ وہ
قابل اعتماد
ہوں اور ان کا
صحابی ہونا
ممکن ہو (یعنی
وہ عہد رسالت
میں عرب میں
موجود رہے
ہوں۔ مثال کے
طور پر رتن
ہندی کا صحابی
ہونے کا دعوی
قبول نہ کیا
جائے گا کیونکہ
اس نے یہ دعوی 600ھ میں کیا تھا۔
ذہبی کہتے ہیں
کہ وہ جھوٹا
شخص تھا۔) (الميزان
جـ 2 – ص 45) سب کے سب
صحابہ کرام
رضی اللہ
عنہم عادل یعنی
اچھے کردار
کے حامل ہیں
خواہ وہ
فتنوں کے دور میں
ان میں مبتلا
ہوئے ہوں یا
نہ ہوں۔ ان پر
اعتماد کرنے
والوں کے
اتفاق رائے
سے یہ بات طے
ہے۔ ان کے
عادل ہونے کا
معنی یہ ہے کہ
وہ کبھی جان
بوجھ کر کسی
جھوٹی بات کو
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے
منسوب نہیں
کرتے اور نہ ہی
آپ کے حکم سے
انحراف کرتے
ہیں۔ اس
سے یہ نتیجہ
نکلتا ہے کہ
صحابی کی بیان
کی گئی تمام
احادیث کو
قبول کیا
جائے گا اور
اس معاملے میں
ان کے کردار
کو پرکھا نہیں
جائے گا۔ ان میں
سے جو حضرات
فتنوں میں
مبتلا ہو گئے
(جیسے جنگ جمل
و صفین کے
فتنےوغیرہ) ،
ان کے بارے میں
یہ اچھا گمان
رکھا جائے گا
کہ یہ ان کی
اجتہادی غلطی
تھی۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ
ان کا زمانہ
سب سے بہترین
تھا اور وہ شریعت
پر عمل کرنے
والے تھے۔ کثرت سے
احادیث روایت
کرنے والے
صحابہ صحابہ میں
چھ صحابی رضی
اللہ عنہم
کثرت سے حدیث
بیان کرنے
والے تھے۔ · ابوہریرہ:
ان سے 5374احادیث
منقول ہیں
اور ان سے300 سے زائد
افراد نے
احادیث روایت
کی ہیں۔ · عبداللہ
بن عمر: ان سے 2630 احادیث
مروی ہیں۔ · انس
بن مالک: ان سے 2286 احادیث
مروی ہیں۔ · ام
المومنین
عائشہ: ان سے 2210 احادیث
مروی ہیں۔ · عبداللہ
ابن عباس: ان
سے 1660 احادیث
مروی ہیں۔ · جابر
بن عبداللہ:
ان سے 1540 احادیث
مروی ہیں۔ روایت کرنے
والے صحابہ میں
سب سے بڑے
عالم سیدنا
عبداللہ بن
عباس رضی
اللہ عنہما ہیں۔
ان کے علاوہ
بڑی عمر کے
صحابہ میں بھی
بڑے علماء
گزرے ہیں۔
مسروق کی
رائے کے
مطابق، "صحابہ کرام
میں علم چھ
افراد پر ختم
ہے اور وہ سیدنا
عمر، علی، ابی
بن کعب، زید
بن ثابت، ابو
درداء، اور
عبداللہ ابن
مسعود رضی
اللہ عنہم ہیں۔
اس کے بعد ان
چھ کا علم سیدنا
علی اور
عبداللہ بن
مسعود رضی
اللہ عنہما
پر ختم ہے۔" عبادلہ
سے مراد وہ
صحابہ ہیں جن
کا نام
عبداللہ ہے۔
ویسے تو عبداللہ
نام کے صحابہ
کی تعداد تین
سو کے قریب ہے
لیکن یہ لفظ
بول کر چار
مخصوص صحابی
مراد لئے
جاتے ہیں: · عبداللہ
بن عمر · عبداللہ
بن عباس · عبداللہ
بن زبیر · عبداللہ
بن عمرو بن
عاص رضی اللہ
عنہم ان چاروں
صحابہ کی
خصوصیت یہ ہے
کہ یہ سب کے سب
بڑے عالم تھے
اور ان سب نے
طویل عمر پائی
جس کی وجہ سے
ان کا علم ہر
طرف پھیل گیا
جس کے باعث
انہیں امت میں
خصوصی مقام
اور مرتبہ
حاصل ہوا۔ جب یہ
چاروں حضرات
کسی معاملے میں
متفق ہوں تو
کہا جاتا ہے
کہ "یہ
عبادلہ کی
رائے ہے۔" صحابہ کرام کی
صحیح تعداد
کو متعین
کرنا تو مشکل
ہے لیکن اس
معاملے میں
اہل علم کی
مختلف آراء
پائی جاتی ہیں۔
ان سے
استفادہ
کرتے ہوئے یہ
کہا جا سکتا
ہے کہ صحابہ کی
تعداد ایک
لاکھ سے زائد
تھی۔ ان میں
مشہور ترین
رائے ابن زرعۃ
الرازی کی
ہے، "رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
سے 124,000
صحابہ نے علم
حاصل کیا اور
پھر ان صحابہ
سے حدیث روایت
کی گئی۔" (التقريب
مع التدريب
جـ 2 - 2201) صحابہ
کرام کے
طبقات کی
تعداد کے
بارے میں اہل
علم میں
اختلاف رائے
پایا جاتا ہے۔
بعض اہل علم
نے اسلام
قبول کرنے کے
وقت یا ہجرت
کے وقت کے
اعتبار سے
انہیں طبقات
میں تقسیم کیا
ہے اور بعض دیگر
اہل علم نے
اپنے اجتہاد
کے مطابق کسی
اور بنیاد پر
ایسا کیا ہے۔
ابن سعد نے
صحابہ کو
پانچ طبقات
اور حاکم نے بارہ
طبقات میں
تقسیم کیا ہے۔
اہل سنت
کا اس بات پر
اتفاق رائے
ہے کہ صحابہ میں
سب سے افضل سیدنا
ابوبکر صدیق
اور ان کے بعد
سیدنا عمر
فاروق رضی
اللہ عنہما ہیں۔
ان کی اکثریت
کے نقطہ نظر
کے مطابق اس
کے بعد سیدنا
عثمان، اسے
کے بعد سیدنا
علی، اسے کے
بعد باقی
عشرہ مبشرہ،
اس کے بعد اہل
بدر، اس کے
بعد اہل احد
اور اس کے بعد
بیت الرضوان
میں شریک
ہونے والے
صحابہ رضی
اللہ عنہم کا
درجہ ہے۔ (اہل
تشیع سیدنا
علی رضی اللہ
عنہ کو سب سے
افضل صحابی
قرار دیتے ہیں۔) سب سے
پہلے اسلام
قبول کرنے
والے صحابہ · آزاد
مردوں میں: سیدنا
ابوبکر صدیق · بچوں
میں: سیدنا علی · خواتین
میں: ام
المومنین سیدہ
خدیجہ · آزاد
کردہ غلاموں
میں: سیدنا زید
بن حارثہ · غلاموں
میں: سیدنا
بلال بن رباح
رضی اللہ
عنہم سب سے آخر
میں وفات
پانے والے
صحابہ سب سے آخر
میں وفات
پانے والے
صحابی سیدنا
عامر بن
واثلہ اللیثی
ہیں جنہوں نے
مکہ میں 100ھ میں وفات
پائی۔ اکثر
اہل علم کی
رائے کے
مطابق ان سے
پہلے وفات
پانے والے
آخری صحابی سیدنا
انس بن مالک
رضی اللہ عنہ
ہیں جنہوں نے 93ھ میں
بصرہ میں
وفات پائی۔ · ابن
حجر عسقلانی
کی "الاصابۃ
فی تمییز
الصحابۃ"۔ · ابن
الاثیر کی
"اسد الغابۃ
فی معرفۃ
الصحابۃ"۔ · ابن
عبدالبر کی
"الاستیعاب فی
معرفۃ
الاصحاب"۔ ·
سیرت
صحابہ پر لکھی
گئی کسی کتاب
سے کم از کم دس
صحابہ کرام
کے حالات
زندگی کا
مطالعہ کیجیے۔
·
طبقات
ابن سعد میں صحابہ
کرام رضی
اللہ عنہم کے
جو طبقات بیان
کیے گئے ہیں،
ان کی ایک
فہرست تیار کیجیے۔
|
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||