|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ پنجم: اسناد
اور اس سے
متعلقہ علوم یونٹ 11: اسناد
سے متعلق اہم
مباحث |
|||
|
سبق 3:
اکابر کی
اصاغر سے
حدیث کی
روایت لغوی
اعتبار سے
"اکابر"،
اکبر کی جمع
ہے جس کا معنی
ہے بڑا اور
"اصاغر"،
اصغر کی جمع
ہے جس کا معنی
ہے چھوٹا۔
بعض اوقات بڑی
عمر کے راوی،
اپنے سے کم
عمر راویوں
سے حدیث روایت
کرتے ہیں جسے
"روایت
الاکابر عن
الاصاغر" کہا
جاتا ہے۔ اصطلاحی
مفہوم میں اس
کا معنی ہے کہ
ایک راوی کسی
ایسے دوسرے
راوی سے حدیث
حاصل کرے جو
عمر اور طبقے
(یعنی دور) کے
اعتبار سے اس
سے کم ہو یا علم
اور حفظ حدیث
میں پہلے
راوی سے کم
درجے کا حامل
ہو۔ روایت
الاکابر عن
الاصاغر کا
مطلب یہ ہے کہ
کوئی راوی
کسی حدیث کو
اپنے سے کم
عمر راوی سے
روایت کرے یا
وہ دوسرا
راوی پہلے
راوی کی نسبت
بعد کے طبقے
سے تعلق
رکھتا ہو
جیسے کوئی
صحابی تابعی
سے حدیث حاصل
کرے۔ اس کا
ایک دوسرا
مفہوم یہ ہے
کہ ایک حافظ
اور عالم شخص
حدیث کو کسی
ایسے شخص سے
حاصل کرے جو
علم و فضل میں
پہلے شخص سے
کم ہو اگرچہ
وہ عمر میں پہلے
شخص سے زیادہ
ہو۔
اکابر کی
اصاغر سے
روایت کی تین
اقسام ہیں: · بڑا
راوی چھوٹے
راوی سے عمر
اور طبقے
دونوں کے
اعتبار سے
بڑا ہو یعنی
اس کا علم اور
حفظ بھی
چھوٹے راوی
سے زیادہ ہو۔
(مثلاً کوئی
صحابی کسی
تابعی سے
روایت کرے۔) · بڑا
راوی صرف علم
و فضل کے
اعتبار سے
بڑا سمجھا
جاتا ہو
اگرچہ عمر
میں وہ چھوٹے
راوی سے کم ہو،
مثلاً کوئی
بڑا نوجوان عالم
کسی بوڑھے
غیر عالم سے
حدیث روایت
کر رہا ہو
جیسے امام مالک
عبداللہ بن
دینار سے
حدیث روایت
کریں۔ (امام
مالک فقہ اور
حدیث کے
مشہور امام
ہیں جبکہ
عبداللہ بن
دینار ایک
عام بزرگ
راوی ہیں۔) · دونوں
راوی ایک ہی
طبقے سے تعلق
رکھتے ہوں
لیکن بڑا
راوی عمر اور
علم میں
چھوٹے راوی
سے زیادہ ہو۔
مثلاً
برقانی خطیب
سے حدیث
روایت کریں۔
(برقانی خطیب
کے استاذ
تھے۔) روایت
الاکابر عن
الاصاغر کی
صورتیں · صحابہ
کی تابعین سے
روایت۔ اس کی
مثال یہ ہے کہ
سیدنا
عبداللہ بن
عمر رضی اللہ
عنہما، کعب الاحبار
علیہ الرحمۃ
سے روایت
کریں۔ · تابعی
کی تبع تابعی
سے روایت۔
جیسے یحیی بن
سعید
الانصاری،
امام مالک
(رحمۃ اللہ
علیہما) سے
حدیث روایت
کریں۔ اس قسم کی
احادیث کی
چھان بین کا
فائدہ یہ ہوتا
ہے کہ یہ شک
دور ہو جاتا
ہے کہ شاید
روایت میں نام
آگے پیچھے نہ
ہو گئے ہوں یا
چھوٹا راوی
بڑے راوی سے
زیادہ درجہ
نہ رکھتا ہو۔ ابو
یعقوب اسحق
بن ابراہیم الوراق
(م 403ھ) کی کتاب
"ما رواہ
الکبار عن
الصغار و
الآبا عن
الابناء" اکابر کی
اصاغر سے
روایت کے علم
کی اہمیت کیا ہے؟ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||