|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ پنجم: اسناد
اور اس سے
متعلقہ علوم یونٹ 11: اسناد
سے متعلق اہم
مباحث |
|||
|
سبق 2:
مسلسل لغوی
اعتبار سے یہ
"سلسلہ" کا
اسم مفعول ہے
جس کا معنی ہے
ملی ہوئی
چیز۔ اسی سے
سلسلہ حدیث ماخوذ
ہے جو کہ حدیث
کے اجزا میں
کسی مشابہت
کو کہا جاتا
ہے۔ اصطلاحی
مفہوم میں
حدیث کے ایک
راوی میں ایک
حالت یا صفت
موجود ہو اور
وہی صفت اس کے
بعد کے ہر
راوی میں
پائی جائے۔
روایت
میں تسلسل کا
معنی یہ ہے کہ
اسناد میں شروع
سے لے کر آخر
تک کوئی ایک
صفت یا حالت
پائی جاتی ہو
یا بذات خود
روایت میں
کوئی خصوصیت
مسلسل پائی جا
رہی ہو۔ تعریف کی
وضاحت سے یہ
معلوم ہوتا
ہے کہ تسلسل کی
تین بڑی
اقسام ہیں:
راویوں کی
حالت کے اعتبار
سے تسلسل،
راویوں کی
خصوصیات کے
اعتبار سے تسلسل
اور روایت کی
خصوصیات کے
اعتبار سے
تسلسل۔ راویوں
کی حالت کے
اعتبار سے
تسلسل · راویوں
کے حالات کے
اعتبار سے
تسلسل ان کے
قول یا فعل کی
بنیاد پر
پایا جا سکتا
ہے۔ قولی تسلسل
کی مثال سنن
ابو داؤد کی
یہ حدیث ہے کہ
رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے
سیدنا معاذ بن
جبل رضی اللہ
عنہ سے
فرمایا، "اے معاذ!
مجھے یہ پسند
ہے کہ تم ہر
نماز کے بعد کہو،
اے اللہ! اپنے
ذکر، شکر اور
اچھے طریقے سے
عبادت کرنے
میں میری مدد
فرما۔" اس روایت کے
ہر راوی نے اس
روایت کو
بیان کرتے ہوئے
"انا
احبک فقل"
یعنی "مجھے
یہ پسند ہے کہ
تم کہو" کے الفاظ کہے
ہیں۔ · فعلی
تسلسل کی
مثال سیدنا
ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ
کی بیان کردہ
یہ حدیث ہے کہ
رسول اللہ
صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم نے ان کے
ہاتھ کو پکڑ
کر ارشاد
فرمایا، "اللہ تعالی
نے زمین کو
ہفتے کے دن
بنایا۔" اس حدیث کو
بیان کرتے
ہوئے ہر راوی
نے اگلے راوی
کے ہاتھ پکڑ
کر یہ بات
کہی۔ (معرفة علوم
الحديث ص 42) · قولی اور
فعلی دونوں
قسم کے تسلسل
کی مثال سیدنا
انس رضی اللہ
عنہ کی بیان
کردہ یہ حدیث
ہے کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے فرمایا، "کوئی شخص اس
وقت تک ایمان
کی مٹھاس
حاصل نہیں کر
سکتا جب تک کہ
وہ اچھی و بری
اور خوشگوار
و ناگوار
تقدیر پر
ایمان نہ لے
آئے۔" اس کے بعد آپ
نے انس رضی
اللہ عنہ کی
داڑھی پکڑ کر
یہ ارشاد
فرمایا، "میں اچھی
بری اور
خوشگوار و
ناخوشگوار
ہر طرح کی
تقدیر پر
ایمان لایا۔" اس حدیث کی
روایت کرتے
ہوئے ہر راوی
نے اپنے سے
اگلے راوی کی
داڑھی پکڑ کر
یہ الفاظ کہے
ہیں۔ (معرفة علوم
الحديث ص40) راویوں
کی خصوصیات
کے اعتبار سے
تسلسل راوی کے
قول و فعل کے
اعتبار سے
بھی حدیث میں
تسلسل پایا
جاتا ہے: · راویوں
کی خصوصیات
کے قولی
تسلسل کی
مثال سورۃ صف
کی تلاوت سے
متعلق حدیث
ہے جس میں ہر
راوی نے
حدیث بیان
کرنے کے بعد
یہ صفت بیان
کی ہے کہ
"فلاں نے
سورۃ صف کی
تلاوت اس طرح
سے کی تھی۔"
عراقی کہتے
ہیں کہ یہاں راویوں
کی وہ صفات
بیان کی جاتی
ہیں جو ان کی
قول سے متعلق
ہوں۔ · راویوں
کی خصوصیات
کے فعلی
تسلسل کی
مثال یہ ہے کہ
راویوں میں
کوئی مشترک
صفت پائی
جائے جیسے
ایک سے زائد
راوی کا نام
محمد ہو، یا
سب راوی فقہ
کے ماہر ہوں،
یا سب کے سب
حافظ حدیث
ہوں، یا سب کے
سب ایک ہی علاقے
جیسے مصر یا
دمشق سے تعلق
رکھتے ہوں۔ روایت
کی خصوصیت کے
اعتبار سے
تسلسل روایت کی
خصوصیت میں
تسلسل اس طرح
سے پایا جا سکتا
ہے کہ ہر راوی
نے اس روایت
کو مخصوص الفاظ
میں بیان کیا
ہو یا یہ
روایت کسی
خاص علاقے یا
خاص وقت میں
بیان کی گئی
ہو۔ · مخصوص
الفاظ میں
بیان کرنے کی
مثال یہ ہے کہ
ہر راوی حدیث
کو "سمعتُ" یا
"اخبرنا" کہہ
کر بیان کرے۔ · خاص
وقت میں
روایت کی
مثال یہ ہے کہ
ہر راوی نے اس
حدیث کو عید
کے دن ہی بیان
کیا ہو۔ · خاص
مقام پر حدیث
کو بیان کرنے
کی مثال یہ ہے
کہ ہر راوی نے
اس حدیث کو
خانہ کعبہ کے
دروازے کے
پاس بیان کیا
ہو۔ تسلسل
میں سب سے
بہتر خصوصیت
یہ ہے کہ اس سے
یہ معلوم ہو
جائے کہ ہر
راوی نے حدیث
کو اپنے استاذ
ہی سے سنا ہے
اور یہ حدیث
تدلیس سے پاک
ہے۔ تسلسل کا
فائدہ یہ ہے
کہ اس سے راوی
کے بہترین ضبط
کا اندازہ
ہوتا ہے۔ کیا
تسلسل کا
تمام راویوں
میں پایا
جانا ضروری
ہے؟ تسلسل کا
شروع سے لے کر
آخر تک تمام
راویوں میں
پایا جانا
ضروری نہیں
ہے۔ ایسی
صورت میں یہ
کہا جائے گا
کہ "یہ حدیث
فلاں راوی تک
مسلسل ہے۔" کیا
مسلسل حدیث
کا صحیح ہونا
ضروری ہے؟ یہ ضروری
نہیں ہے کہ
مسلسل حدیث
صحیح بھی ہو۔ یہ
ضعیف بھی ہو
سکتی ہے۔ یہ
بھی ممکن ہے
کہ ایک حدیث
مسلسل نہ ہو
لیکن وہ صحیح
ہو۔ · سیوطی
کی
مسلسلات
الکبری۔ اس میں
پچاسی مسلسل
احادیث ہیں۔ · محمد
عبدالباقی
الایوبی کی المناہل
السلسلہ فی
الاحادیث
المسلسلہ۔ اس میں 212
احادیث کو
درج کیا گیا
ہے۔ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||