|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||||||||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||||||||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||||||||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ
چہارم: روایت،
اس کے آداب
اور اس کے ضبط
کا طریق کار------
یونٹ 9: ضبط
روایت |
|||||||||
|
سبق 2:
حدیث کو حاصل
کرنے کے
مختلف طریقے حدیث کو
حاصل کرنے کے
طریقے آٹھ
ہیں: · شیخ
(یعنی استاذ)
کے الفاظ میں
سننا (سماع
حدیث) · شیخ
کو پڑھ کر
سنانا (قراءۃ
علی الشیخ) · اجازت · مناولۃ · کتابت · اعلام · وصیت · وجادۃ ہم ان میں
سے ہر ایک سے
متعلق مختصر
بحث کریں گے۔
حدیث کو آگے
منتقل کرتے
ہوئے ان
طریقوں کو جن
مخصوص الفاظ
میں بیان کیا
جاتا ہے، ہم
ان کی بھی
مختصراً
وضاحت کریں
گے۔ شیخ کے
الفاظ میں
سننا (سماع
حدیث) اس کی
صورت یہ ہے کہ
شیخ احادیث
پڑھ کر سنائے اور
اس کے طالب
علم احادیث
کو سنیں۔ شیخ
احادیث کو
اپنی کتاب سے
پڑھ کر بھی
سنا سکتا ہے
اور اپنی
یادداشت کے
سہارے بھی
بیان کر سکتا
ہے۔ طالب علم
اس حدیث کو سن
کر اپنے
حافظے میں
بھی محفوظ
رکھ سکتے ہیں
اور اپنی نوٹ
بک میں بھی
اسے لکھ سکتے
ہیں۔ اہل
علم کی
اکثریت کے
مطابق حدیث
کو حاصل کرنے
کا سب سے
بہترین طریقہ
یہی ہے۔
(چونکہ کسی
شخص کے لئے
حدیث کو آگے
منتقل کرتے
وقت یہ بتانا
ضروری ہے کہ
اس نے یہ حدیث
کس طریقے سے
اپنے استاذ
سے حاصل کی
ہے، اس وجہ سے
کچھ
اسٹینڈرڈ
الفاظ کو
مخصوص طریقوں
کے لئے مقرر
دیا گیا ہے۔)
جس زمانے میں
یہ الفاظ
مقرر نہیں
کیے گئے تھے،
اس زمانے میں
آگے حدیث
بیان کرتے
ہوئے ان میں
سے کوئی لفظ
بھی بول دیا
جانا درست
سمجھا جاتا
تھا۔ لیکن جب
یہ الفاظ
مقرر کر دیے
گئے، اس کے
بعد انہی
الفاظ میں
حدیث کو بیان
کرنا ضروری
ہے۔ اس کی
تفصیل یہ ہے: · سن
کر حدیث حاصل
کرنے کے لئے: سمعت (میں نے
سنا ہے) یا حدثنی (انہوں نے
مجھ سے حدیث
بیان کی۔) · یہ
بیان کرنے کے
لئے کہ استاذ
نے حدیث پڑھ
کر سنائی: اخبرنی (انہوں نے
مجھے خبر
پہنچائی۔) · اجازت
کے لئے: انباءنی (انہوں نے
مجھے خبر
پہنچائی۔) · سماع
مذاکرہ کے
لئے: قال لی (انہوں نے
مجھ سے کہا) یا ذکر لی (انہوں نے
مجھ سے ذکر
کیا۔)
شیخ کے
سامنے حدیث
پڑھ کر سنانا اسے اکثر
محدثین نے
"عرض" کا نام
بھی دیا ہے۔ اس
کی صورت یہ ہے
کہ طالب علم
حدیث پڑھے
اور شیخ یا
استاذ اس
حدیث کو سنے۔
اس سے فرق
نہیں پڑتا کہ
ایک شاگرد
خود پڑھ رہا
ہے یا دوسرا
پڑھ رہا ہے،
شاگرد کسی
کتاب سے پڑھ
کر سنا رہا ہے
یا اپنے
حافظے کی مدد
سے زبانی پڑھ
رہا ہے، شیخ
حدیث کو اپنے
حافظے کی مدد
سے ہی سن رہا
ہے یا اس نے
اپنے سامنے
کتاب رکھی
ہوئی ہے،
پڑھنے والا
شاگرد ثقہ ہے
یا نہیں ہے۔
شیخ
کے سامنے
حدیث کو پڑھ
کر روایت
کرنا ایک بالکل
درست طریق
کار ہے اگرچہ
بعض شدت پسند
افراد نے اس
سے اختلاف
کیا ہے۔ اس
طریق کار کے
درجے سے
متعلق تین
نقطہ ہائے
نظر پائے
جاتے ہیں۔ امام
مالک، بخاری
اور حجاز و
کوفہ کے جلیل
القدر علماء
کی رائے کے
مطابق یہ
طریقہ، پہلے
طریقے (یعنی
شیخ سے سننے)
کے برابر ہے۔
اہل مشرق
(یعنی خراسان،
ہندوستان
وغیرہ) کے
علماء کی
اکثریت کے نقطہ
نظر کے مطابق
یہ پہلے
طریقے سے
ادنی درجے کا
طریقہ ہے۔
امام
ابوحنیفہ،
ابن ابی ذئب
اور مالک سے
ایک ایک
روایت کے
مطابق یہ پہلے
طریقے سے
اعلی درجے کا
طریقہ ہے۔ اس طریقے
کو بیان کرنے
کے الفاظ کی
تفصیل یہ ہے: · سب
سے محفوظ
طریقہ یہ ہے
کہ کہا جائے،
"قرات
علی فلان" یعنی
"میں نے فلاں
کے سامنے اسے
پڑھا ہے" یا "قری علیہ
و انا اسمع
فاقر بہ" یعنی
"ان شیخ کے
سامنے اس
حدیث کو پڑھ
کر سنایا گیا۔
میں نے خود
اپنے کانوں
سے سنا کہ
استاذ نے اس
حدیث کی
توثیق کر
دی۔" · یہ
بھی درست ہے
کہ اس طریقے
کو پہلے
طریقے (یعنی
شیخ سے سننے)
کے الفاظ میں
بیان کر دیا
جائے لیکن
ساتھ ہی
قراءۃ (یعنی
پڑھنے) کے
الفاظ بول دیے
جائیں جیسے "حدثنا
قراءۃ علیہ" یعنی
"انہوں نے ہم
سے حدیث بیان
کی جو ان کے
سامنے پڑھی
گئی۔" · محدثین
اکثر اوقات
لفظ "اخبرنا" یعنی
"انہوں نے
ہمیں خبر دی"
کہہ کر اس سے
یہ طریقہ
مراد لیتے
ہیں۔ اس کا
مطلب ہے حدیث
کسی کو روایت
کرنے کی زبانی
یا تحریری
اجازت دینا۔
(ایسا اس صورت
میں ہوتا ہے
جب شیخ شاگرد
کو باقاعدہ
حدیث کی
تعلیم دیے
بغیر اسے
اپنے آپ سے
حدیث روایت
کرنے کی
اجازت دے دے۔) اس
کی صورت یہ
ہوتی ہے کہ
شیخ کسی شخص
سے یہ کہے،
"میں نے
تمہیں اس بات
کی اجازت دی
کہ تم مجھ سے
صحیح بخاری
روایت کرو۔"
اجازت کی بہت
سی اقسام ہیں
جن میں سے ہم
پانچ کا ذکر
کریں گے۔ · شیخ
کسی متعین
طالب علم کو
متعین حدیث
کے بارے میں
اجازت دے:
مثلاً وہ کسی
خاص شاگرد کو
یہ کہے، "میں
نے تمہیں
اجازت دی کہ
تم مجھ سے
صحیح بخاری کی
یہ حدیث روایت
کرو۔" یہ
اجازت کی سب
سے اعلی شکل
ہے۔ · شیخ
کسی متعین
شاگرد کو غیر
متعین حدیث
کے بارے میں
اجازت دے: مثلاً
"میں نے
تمہیں اجازت
دی کہ تم نے
مجھ سے جو بھی
حدیث سنی ہے،
اسے روایت کر
دو۔" · شیخ
غیر متعین
افراد کو غیر
متعین حدیث
کے بارے میں
اجازت دے:
مثلاً "میں
سب کو یہ
اجازت دیتا
ہوں کہ وہ مجھ
سے جو حدیث
سنیں، روایت
کر دیں۔" · شیخ
غیر متعین
افراد یا غیر
متعین حدیث
کے بارے میں
اجازت دے:
مثلاً "میں
کتاب السنن کی
اجازت دیتا
ہوں" جبکہ
کتاب السنن
کئی ہوں۔ یا
"میں محمد بن
خالد کو
اجازت دیتا
ہوں" جبکہ اس
نام کے متعدد
افراد موجود
ہوں۔ · شیخ
کسی غیر حاضر
شخص کے لئے
اجازت دے دے:
وہ غیر حاضر
شخص حقیقتاً
دنیا میں
موجود ہو
مثلاً "میں
نے فلاں اور
اس کے بیٹے کو
اجازت دی"۔
یہ بھی ممکن
ہے وہ غیر
حاضر شخص
دنیا میں
موجود ہی نہ
ہو مثلاً
"میں نے فلاں
اور اس کی آنے
والی نسل کو
اجازت دی۔" اہل علم
کی اکثریت کے
نزدیک پہلی
قسم کی اجازت
دینا درست ہے
اور اسی پر ان
کا عمل رہا
ہے۔ اہل علم
کے ایک گروہ
جس میں امام
شافعی بھی
ایک روایت کے
مطابق شامل
ہیں نے اس
اجازت کو بھی
غلط قرار دیا
ہے۔ باقی
قسم کی
اجازتوں کے
درست ہونے یا
نہ ہونے کے
بارے میں
شدید اختلاف
رائے پایا
جاتا ہے۔ ان
میں سے ہر قسم
کی اجازت میں
تساہل اور
سستی تو
بہرحال پائی
ہی جاتی ہے۔ اجازت کو
بیان کرنے کے
الفاظ یہ ہیں: ·
سب سے
بہتر تو یہ ہے
کہ کہاں
جائے،"اجاز لی
فلان" یعنی "فلاں
نے مجھے اس
حدیث کو
روایت کرنے
کی اجازت دی
ہے۔" · سماع
(یعنی پہلے
طریقے) کے
الفاظ کے
ساتھ 'اجازت'
کا لفظ لگا کر
بھی اسے بیان
کرنا درست ہے
جیسے "حدثنا
اجازۃ" یعنی
"انہوں نے
ہمیں حدیث
بیان کرنے کی
اجازت دی" یا
"اخبرنا
اجازۃ" یعنی
"انہوں نے
ہمیں خبر
بیان کرنے کی
اجازت دی۔" · بعد
کے دور کے اہل
علم (متاخرین)
نے اجازت کے
لئے "انباءنا" کا لفظ
استعمال
کرنا شروع
کیا ہے اور
اسے کتاب "الوجازۃ
فی تجویز
الاجازۃ" کے مصنف
ابو العباس
الولید بن
بکر العمری
نے بھی
اختیار کیا
ہے۔
(شیخ اگر
کسی شخص کو
حدیث کی ہاتھ
سے لکھی ہوئی
کتاب پکڑا دے تو
اسے مناولۃ
کہا جاتا ہے۔)
مناولۃ کی دو
اقسام ہیں:
اجازت کے
ساتھ دینا
اور اجازت کے
بغیر دینا۔ · اجازت
کے ساتھ دینا:
یہ اجازت کی
سب سے اعلی قسم
ہے۔ اس کی
صورت یہ ہے کہ
شیخ، اپنے
شاگرد کو حدیث
کی ڈائری دے
کر کہے، "یہ
احادیث میں
نے فلاں سے
روایت کی
تھیں، تم اب
انہیں مجھ سے
روایت کر
سکتے ہو۔" اس
کے بعد وہ
ڈائری شاگرد
کی ملکیت ہو
جائے یا
شاگرد اس ڈائری
کو نقل کر کے
اسے شیخ کو
واپس کر دے۔ · اجازت
کے بغیر دینا:
اس کی صورت یہ
ہے کہ شیخ طالب
علم کو ڈائری
دے اور مختصر
طور پر یہ کہہ
دے کہ "یہ
میری سنی
ہوئی احادیث
ہیں۔" (یعنی
وہ اسے روایت
کرنے کی
اجازت نہ دے۔) جہاں تک
اجازت کے
ساتھ مناولت
کا تعلق ہے تو
اس قسم کی
مناولت کی
بنیاد پر
حدیث کو
روایت کرنا
درست ہے۔ اس
کا درجہ
البتہ شیخ سے
سننے یا اسے
سنانے سے
بہرحال کم
ہے۔ صحیح
نقطہ نظر کے
مطابق اجازت
کے بغیر
مناولت کی
بنیاد پر حدیث
روایت کرنا
درست نہیں
ہے۔
مناولت
کو بیان کرنے
کے لئے یہ
الفاظ مقرر
کئے گئے ہیں: · بہتر
الفاظ یہ
ہیں، "ناولنی" یعنی
"انہوں نے
کتاب مجھے
دی" یا اگر
اجازت بھی دی
ہو تو "ناولنی و
اجاز لی" یعنی
"انہوں نے
مجھے کتاب دی
اور اسے
روایت کرنے
کی اجازت بھی
دی۔" · پہلے
دو طریقوں کے
الفاظ کو "مناولۃ" کے
الفاظ کے
ساتھ ملا کر
استعمال
کرنا بھی درست
ہے جیسے "حدثنی
مناولۃ" یعنی
"انہوں نے
کتاب دے کر
مجھ تک حدیث
پہنچائی" یا "اخبرنا
مناولۃ" یعنی
"انہوں نے
کتاب دے کر
مجھے خبر
پہنچائی۔" · بعد
کے دور کے اہل
علم جیسے
کتاب "الوجازۃ
فی تجویز
الاجازۃ" کے مصنف
ابو العباس
ولید بن بکر
المعمری نے اس
کے لئے "انباءنا" یعنی
"انہوں نے
مجھے خبر
پہنچائی" کا
لفظ مخصوص کر
لیا ہے۔ (کتابت
لکھ کر
احادیث کسی
کو دینے کو
کہتے ہیں) اس
کی صورت یہ ہے
کہ شیخ کسی
موجود یا غیر
موجود شخص کے
لئے احادیث
اپنے ہاتھ سے
لکھ دے یا کسی
اور سے لکھوا
کر اس شخص کو
دے دے۔ اس کی
بھی دو اقسام
ہیں: · ایک
تو یہ کہ شیخ
احادیث کو
لکھ کر
بھجوانے کے ساتھ
ساتھ اسے
روایت کرنے
کی اجازت بھی
دے دے۔ جیسے
وہ یہ کہے،
"میں نے جو
کچھ لکھ کر آپ
کو دیا ہے،
میں اس کی
روایت کی
اجازت دیتا
ہوں۔" · دوسری
قسم یہ ہے کہ
شیخ احادیث
لکھ کر بھجوا
تو دے لیکن اس
کی روایت کی
اجازت کو
واضح الفاظ میں
بیان نہ کرے۔ ان میں سے
پہلی قسم کی
کتابت کا حکم
بالکل اسی
مناولۃ کی
طرح ہے جس کی
روایت کی
اجازت دے دی
گئی ہو۔ ایسی
احادیث کی
روایت کرنا
درست ہے۔
دوسری قسم کی
کتابت کے
بارے میں اہل
علم کے ہاں
اختلاف رائے
ہے۔ ایک نقطہ
نظر کے مطابق
ایسی تحریر
کی روایت منع
ہے لیکن حدیث
کے ماہرین کے
صحیح نقطہ
نظر کے مطابق
اس کی روایت
کرنا درست
ہے۔ اس کی وجہ
یہ ہے کہ لکھ
کر دینے کا
مطلب ہی
روایت کرنے
کی اجازت
دینا ہوتا
ہے۔
اب سوال
یہ پیدا ہوتا
ہے کہ کیا
تحریر پر
اعتماد کرتے
ہوئے یہ طے کر
لیا جائے گا
کہ یہ احادیث
اسی شخص سے روایت
کی گئی ہیں جس
نے یہ تحریر
لکھی ہے۔ ایک
نقطہ نظر تو
یہ ہے کہ محض
تحریر پر
اعتماد نہ کیا
جائے کیونکہ
مختلف افراد
کی تحریریں
ملتی جلتی
ہوا کرتی
ہیں۔ یہ نقطہ
نظر کمزور
ہے۔ صحیح
نقطہ نظر یہ
ہے کہ تحریر
سے اس کے
لکھنے والے
کی پہچان
ہوتی ہے
کیونکہ ہر
شخص کی تحریر
مختلف ہوتی
ہے (اور تحریر
پہچاننے کے
ماہرین اس کا
فیصلہ کر
سکتے ہیں۔)
کتابت کو
بیان کرنے کے
لئے یہ الفاظ
مقرر کیے گئے
ہیں: · تحریر
میں یہ بات
واضح کر دی
گئی ہو جیسے
لکھا ہو، "یہ
تحریر فلاں
شخص کے لئے
ہے۔" · روایت
کرنے والا
روایت کرتے
ہوئے سماع کے
الفاظ کے
ساتھ ساتھ
"کتابت" کے
لفظ کا اضافہ
کر دے، جیسے "حدثنی
فلان کتابۃ" یعنی
"فلاں نے لکھ
کر مجھ سے
حدیث بیان
کی۔" اعلام کی
صورت یہ ہے کہ
شیخ، اپنے
شاگرد کو (پرائیویٹ
مجلس میں) یہ
بتائے کہ اس
نے یہ حدیث یا
حدیث کی یہ
کتاب اپنے شیخ
سے سن رکھی
ہے۔ ایسی
صورت میں
شاگرد کے لئے اس
حدیث کو
روایت کرنے
کے بارے میں
اہل علم کے ہاں
اختلاف رائے
ہے: · حدیث،
فقہ اور اصول
فقہ کے
ماہرین کی
اکثریت کے
نقطہ نظر کے
مطابق ایسی
حدیث کی
روایت جائز ہے۔ · بعض
محدثین کے
نقطہ نظر کے
مطابق ایسی
حدیث کو آگے
روایت کرنا
جائز نہیں
ہے۔ یہی نقطہ
نظر صحیح ہے کیونکہ
شیخ نے شاگرد
کو یہ حدیث
بتا تو دی ہے
لیکن اس حدیث
میں کوئی
ایسی خامی
موجود ہے جس
کی وجہ سے شیخ
نے اس حدیث کی
روایت کی
اجازت نہیں دی
ہے۔ اگر اس
حدیث میں یہ
خامی موجود
نہ ہوتی تو
شیخ اس حدیث
کو روایت
کرنے کی اجازت
دے دیتا۔ "اعلام"
کو بیان کرنے
کے لئے یہ
الفاظ کہے
جاتے ہیں،
"اعلمنی شیخی
بکذا" یعنی
"میرے استاذ نے
مجھے اس حدیث
کے بارے میں
مطلع کیا۔" وصیت کی
صورت یہ ہے کہ
ایک شیخ مرتے
ہوئے یا کسی
طویل سفر پر
جاتے ہوئے
کسی شخص کو
اپنی حدیث کی
ڈائری دینے
کی اجازت دے
جائے۔ بعض
اہل علم کے
نزدیک اس
ڈائری کی
احادیث کو روایت
کرنا جائز
ہے۔ یہ نقطہ
نظر درست
نہیں۔ دیگر
اہل علم اس
ڈائری کی
احادیث کو
روایت کرنے کو
درست نہیں
سمجھتے
کیونکہ شیخ
نے ڈائری اس شخص
کو دینے کی
وصیت کی ہوتی
ہے، روایت
کرنے کی
اجازت نہیں
دی ہوتی۔ یہی
نقطہ نظر
درست ہے۔ وصیت
کو ان الفاظ
میں ادا کیا
جاتا ہے،
"اوصی الی
فلان بکذا"
یعنی "انہوں
نے فلاں کے
لئے یہ وصیت
کی" یا "حدثنی
فلان وصیۃ"
یعنی "فلاں
استاذ نے
وصیت کے
ذریعے یہ
حدیث مجھ تک
منتقل کی۔" وجادہ،
وجد کا مصدر
ہے اور اس کا
مطلب ہے کسی
چیز کو پانا۔
اس کی صورت یہ
ہے کہ ایک
طالب علم کو
شیخ کے ہاتھ
کا لکھا ہوا
حدیث کا کوئی
نسخہ مل جائے
اور وہ طالب
علم شیخ کی
تحریر کو
پہچانتا ہو۔
ایسی صورت
میں اس نے
حدیث کو نہ تو
براہ راست سنا
ہوتا ہے اور
نہ ہی اسے
حدیث کو شیخ
سے روایت
کرنے کی
اجازت ملی
ہوتی ہے۔ وجادہ
کے ذریعے
روایت،
منقطع حدیث
کی طرح ہوتی
ہے لیکن اس
میں ایک قسم
کا اتصال
پایا جاتا ہے۔
اس کو ادا
کرنے کے لئے
یہ الفاظ ادا
کئے جاتے
ہیں، "وجدت بخط
فلان او قرات
بخط فلان کذا" یعنی
"مجھے فلاں
کی تحریر ملی
ہے یا میں نے
فلاں کی
تحریر پڑھی
ہے اور اس میں
یہ لکھا
ہے۔۔۔"۔ اس
کے بعد وہ
اسناد اور
متن کو نارمل
انداز میں
بیان کرتا
ہے۔
· حدیث کے
حصول کی تمام
صورتوں کو
مثالوں سے
بیان کیجیے۔ · کتابت،
اجازت اور
مناولت میں
کیا فرق ہے؟ · وجادہ سے
کیا مراد ہے؟
موجودہ دور
میں ملنے والے
مخطوطوں کے
اصلی یا جعلی
ہونے کی
پہچان کس طرح
کی جا سکتی
ہے؟ |
|||||||||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||||||||