|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ
چہارم: روایت،
اس کے آداب
اور اس کے ضبط
کا طریق کار------
یونٹ 9: ضبط
روایت |
|||
|
سبق 1:
حدیث کو
حاصل، محفوظ
اور روایت
کرنے کا طریق کار "حدیث کو
سننے، محفوظ
رکھنے اور
روایت کرنے
کے طریق کار"
سے مراد یہ ہے
کہ ان شرائط
کی وضاحت کر
دی جائے جو اس
شخص کے لئے
لازم ہیں جو
کسی استاذ سے
حدیث سنے، اسے
اپنے پاس
محفوظ رکھے
اور پھر اپنے
بعد میں آنے
والی نسلوں
تک منتقل کر
دے۔ ان میں سے
بعض شرائط
ایسی ہیں جن
پر عمل کرنا لازم
ہے جبکہ بعض
پر عمل کرنا
لازم تو نہیں
لیکن بہتر
ضرور ہے۔ حدیث
کے "تحمل"
یعنی "اخذ
کرنے" کا
معنی یہ ہے کہ
طالب حدیث کس
طریقے سے
حدیث کو اپنے
شیوخ (اساتذہ)
سے حاصل کرے۔
"ضبط" یعنی
"محفوظ رکھنے"
کا مطلب یہ ہے
کہ جو حدیث
ایک طالب علم
تک پہنچی ہے
وہ اسے اس کی
اصل حالت میں
محفوظ رکھے
تاکہ جب وہ
اسے اگلی نسل
تک منتقل کرے
تو یہ بالکل
(صحیح سالم اپنی
اصل اور) قابل
اطمینان
حالت میں
اگلی نسل تک
منتقل ہو
جائے۔ علوم
حدیث کے
ماہرین نے اس
فن کو اہمیت
دی ہے اور اس
کے قواعد و
ضوابط اور
شرائط مقرر کر
دی ہیں۔
انہوں نے حدیث
کو اخذ کرنے
کے مختلف
درجات مقرر
کیے ہیں۔ یہ
محنت اس وجہ
سے ہے کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کی حدیث
بالکل صحیح
حالت میں ایک
شخص سے دوسرے
شخص تک منتقل
ہو سکے تاکہ
ہر مسلمان کو
اس طریقے کے
بارے میں
اطمینان
حاصل ہو سکے
اور وہ یہ جان
لے کہ یہی
بالکل درست
اور متعین
طریق کار ہے
جس سے وہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کی حدیث کو
حاصل کر رہا
ہے۔
کیا حدیث
کو حاصل کرنے
کے لئے
مسلمان اور
بالغ ہونا
ضروری ہے؟ صحیح
نقطہ نظر کے
مطابق حدیث
کو محض حاصل
کرنے کے لئے
مسلمان اور
بالغ ہونا
ضروری نہیں
ہے البتہ
جیسا کہ ہم
راوی کی
شرائط میں
بیان کر چکے
ہیں کہ حدیث کو
آگے منتقل
کرنے کے لئے
مسلمان اور
بالغ ہونا
ضروری ہے۔
اسی وجہ سے
مسلمان اور
بالغ راویوں
کی بیان کردہ
ان احادیث کو
بھی قبول کر
لیا جاتا ہے
جو انہوں نے
اسلام لانے
یا بالغ ہونے
سے پہلے کسی
استاذ سے
حاصل کی تھیں (بشرطیکہ
وہ سوچنے
سمجھنے کی
عمر کو پہنچ
چکے ہوں۔)
لیکن ان
احادیث کے
بارے میں یہ
فرق کرنا ضروری
ہے کہ فلاں
راوی نے یہ
احادیث
(اسلام لانے
یا) بالغ ہونے
سے پہلے حاصل
کی تھیں۔ ایک
نقطہ نظر یہ
بھی ہے کہ
حدیث کو حاصل
کرنے کے لئے
بالغ ہونے کی
شرط لازم ہے
لیکن یہ نقطہ
نظر صحیح
نہیں ہے۔ اس
کی وجہ یہ ہے
کہ مسلمانوں
نے ان صحابہ
کی بیان کردہ
احادیث کو
قبول کیا ہے
جو عہد رسالت
میں ابھی بچے
تھے جیسے سیدنا
حسن اور ابن
عباس رضی
اللہ عنہم
وغیرہ۔ ان
احادیث میں
یہ فرق نہیں
کیا جاتا کہ
ان حضرات نے
یہ حدیث بالغ
ہونے سے پہلے
حاصل کی تھی
یا بعد میں۔ حدیث کو
حاصل کرنے کا
عمل کتنی عمر
میں شروع کرنا
بہتر ہے؟ اہل شام
میں یہ رواج
رہا ہے کہ ایک
طالب علم حدیث
کو حاصل کرنے
کا عمل تیس
سال کی عمر
میں شروع
کرے۔ اہل
کوفہ میں بیس
سال اور اہل
بصرہ میں دس
سال کی عمر
میں حدیث کی
تعلیم شروع
کرنے کو بہتر
سمجھا جاتا
رہا ہے۔ بعد
کے ادوار میں
جلد سے جلد
حدیث کو
سیکھنے کا
عمل شروع
کرنا ہی بہتر
ہے۔ بس یہ
ضروری ہے کہ طالب
علم حدیث کو
صحیح طور پر
حاصل کر کے
سمجھ سکے
کیونکہ اب تو
احادیث کی
کتابیں شائع
ہو چکی ہیں۔ کیا کم
عمری میں
حدیث کو حاصل
کرنے کے عمل کے
صحیح ہونے کی
کوئی کم از کم
حد مقرر ہے؟ بعض اہل
علم کا یہ
موقف ہے کہ اس
شخص کی بیان
کردہ حدیث کو
قابل اعتماد
سمجھا جائے
گا جو اس نے کم
سے کم پانچ
سال کی عمر
میں سنی ہو۔
حدیث کے ماہرین
میں اسی بات
پر عمل کیا
جاتا رہا ہے۔ بعض
دیگر اہل علم
کا یہ نقطہ
نظر بھی ہے کہ
صرف اسی صورت
میں کسی شخص
کی حدیث کو قابل
اعتماد
سمجھا جائے
جب اس نے وہ
حدیث اس عمر
میں سنی ہو جب
وہ چیزوں میں
فرق کرنے لگا
ہو یعنی بات
کو سمجھنے
لگا ہو۔ اس
نقطہ نظر کو
مسترد کر دیا
گیا ہے
کیونکہ بچہ
اسی وقت
چیزوں میں
فرق کر سکتا
ہے جب وہ اسے
صحیح طور پر
سن سکے۔ اگر
ایسا نہیں ہے
تو وہ اسے صحیح
طور پر سمجھ
بھی نہیں
سکتا۔ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||