|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||||||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||||||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||||||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ سوم:
جرح و تعدیل یونٹ 6: راوی
اور اسے قبول
کرنے کی
شرائط |
|||||||
|
سبق 3: جرح و
تعدیل سے
متعلق چند
اہم مباحث اگر کسی راوی
کے بارے میں
جرح اور تعدیل
دونوں پائی
جائیں توکیا
کیا جائے؟ اگر کسی
راوی کے بارے
میں مثبت اور
منفی دونوں
قسم کی آراء
موجود ہوں
اور جرح (منفی
رائے) تفصیلی
ہو تو صحیح
نقطہ نظر یہ
ہے کہ اس شخص
کے بارے میں
جرح کو ترجیح
دی جائے گی۔
دوسرا نقطہ
نظر یہ بھی بیان
کیا گیا ہے کہ
اگر تعدیل
کرنے والے
ماہرین کی
تعداد جرح
کرنے والے
ماہرین کی
نسبت زیادہ ہے
تو اس شخص کی
تعدیل کی
جائے گی۔ اس
نقطہ نظر پر
اعتماد نہیں
کیا گیا ہے۔
کسی راوی
کے بارے میں
اسی سے مروی
تعدیل کی روایات
کا حکم اہل علم کی
اکثریت کا
نقطہ نظر یہ
ہے کہ کسی شخص
کے قابل
اعتماد ہونے
سے متعلق ایسی
روایات جو اسی
شخص سے مروی ہیں
ناقابل قبول
ہیں۔ یہی
نقطہ نظر صحیح
ہے اگرچہ بعض
لوگوں نے ان
روایات کو
قابل قبول
قرار دیا ہے۔
فسق و
فجور سے توبہ
کرنے والے سے
حدیث قبول
کرنے کا حکم فسق و
فجور سے توبہ
کرنے والے
شخص کی (توبہ
کے بعد کے
زمانے میں کی
گئی) روایات
کو
قبول کیا
جائے گا۔ لیکن
اگر کوئی شخص
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے جھوٹی
احادیث
منسوب کرنے
کا مرتکب ہو
تو اس کی بیان
کردہ روایات
کو توبہ کے
بعد بھی قبول
نہ کیا جائے
گا۔
حدیث کی
تعلیم کا
معاوضہ لینے
والے سے حدیث
قبول کرنے کا
حکم بعض اہل
علم جیسے
امام احمد بن
حنبل، ابو
اسحاق اور
ابن حاتم کے
نزدیک ایسے
شخص سے احادیث
قبول کرنا
درست نہیں ہے۔
بعض دیگر اہل
علم جیسے
ابونعیم
الفضل بن دکین
کے نزدیک ایسے
شخص سے احادیث
قبول کی جائیں
گی۔ ابو
اسحاق شیرازی
کا نقطہ نظر یہ
ہے کہ جو شخص
حدیث کی تعلیم
میں مشغولیت
کے باعث اپنے
اہل و عیال کے
لئے کسب معاش
نہ کر سکے تو
اس کے لئے یہ
معاوضہ لینا
جائز ہے۔
تساہل،
سستی اور غلطیاں
کرنے والے سے
حدیث قبول
کرنے کا حکم ایسا شخص
جو حدیث کو
سننے اور
سنانے میں
سستی اور
لاپرواہی سے
کام لیتا ہو،
اس کی روایت
کردہ احادیث
کو قبول نہیں
کیا جائے گا۔
مثال کے طور
پر جو شخص حدیث
کو سننے کی
محفل میں بیٹھ
کر عام طور پر
اونگھتا رہے یا
اصل استاذ کی
بجائے اس کے
کسی شاگرد سے
حدیث سن کر
روایت کرے تو
اس کی بیان
کردہ احادیث
کو قبول نہیں
کیا جائے گا۔ اس
شخص کی روایات
کو بھی قبول
نہیں کیا
جائے گا جو حدیث
کو بغیر سوچے
سمجھے (ہاں،
ہاں) قبول کر لیتا
ہے۔ اس کی وجہ یہ
ہے کہ جو ایسا
کرتا ہے وہ یہ
نہیں جانتا
کہ جو بات وہ بیان
کر رہا ہے وہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی حدیث
ہے بھی یا نہیں۔ جو
شخص روایت بیان
کرنے میں
کثرت سے غلطیاں
کرتا ہو، اس کی
بیان کردہ حدیث
کو بھی قبول
نہیں کیا
جائے گا۔
حدیث بیان
کر کے بھول
جانے والے کی
بیان کردہ
احادیث کا
حکم اس کی
صورت یہ ہے کہ
کوئی شاگرد یہ
بیان کرتا ہے
کہ میں نے یہ
حدیث اپنے
استاذ سے سنی
ہے اور استاذ یہ
کہتا ہے کہ میں
نے یہ حدیث بیان
نہیں کی۔ (اب
دو ہی صورتیں
ممکن ہیں، یا
تو استاذ حدیث
بیان کرنے کے
بعد خود بھول
گیا اور دوسری
یہ کہ شاگرد
جھوٹ بول رہا
ہے۔) ایسی
احادیث کا
حکم یہ ہے کہ
اگر استاذ
سختی سے اس حدیث
کی تردید کرے
اور مثلاً یہ
کہے کہ میں نے
اس شاگرد کو
کبھی دیکھا ہی
نہیں یا وہ
شخص میرے
متعلق جھوٹ
بول رہا ہے تو
اس حدیث کو
مسترد کر دیا
جائے گا۔
دوسری صورت یہ
ہے کہ استاذ
خود متردد ہو
کہ اس نے یہ حدیث
بیان کی ہے یا
نہیں (اور
شاگرد بھی
ثقہ راوی ہو)
تو اس صورت میں
حدیث کو قبول
کر لیا جائے
گا۔ اس کی
مثال وہ حدیث
ہے ابو داؤد،
ترمذی اور
ابن ماجہ نے
روایت کی ہے۔ ربیعۃ بن
ابی
عبدالرحمٰن
نے سہیل بن ابی
صالح سے،
انہوں نے
اپنے والد
اور انہوں نے
سیدنا ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ
سے روایت کیا
کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے (ایک مقدمے
میں) ایک گواہ
اور قسم
کھانے کی بنیاد
پر فیصلہ
فرما دیا۔ عبدالعزیز
بن محمد
الدراوردی
کہتے ہیں کہ یہ
حدیث ربیعۃ
بن ابی
عبدالرحمٰن
نے مجھ سے اسی
سند کے ساتھ بیان
کی۔ اس کے بعد
میری ملاقات
سہیل بن ابی
صالح سے ہوئی
تو میں نے اس
حدیث کے بارے
میں ان سے
پوچھا تو وہ
اس سے بے خبر
تھے۔ میں نے
ان سے کہا کہ
ربیعۃ تو یہ
حدیث آپ کے
حوالے سے بیان
کر رہے ہیں۔
اس کے بعد سہیل
لوگوں کو
بتاتے تھے کہ
اور ربیعۃ نے یہ
کہہ کر
عبدالعزیز
سے حدیث بیان
کی کہ ان سے یہ
حدیث میں نے بیان
کی ہے۔ حدیث
کو بیان کرنے
کے بعد بھول
جانے سے
متعلق خطیب
بغدادی نے ایک
کتاب "اخبار
من حدث و نسی"
تصنیف کی ہے۔ · ان خصوصیات
کی فہرست تیار
کیجیے جن کی
بنیاد پر کسی
راوی پر جرح کی
جاتی ہے؟ |
|||||||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی جائے؟ / مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||||||