|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم: خبر
(حدیث) یونٹ 5: مقبول
و مردود
دونوں قسم کی
احادیث پر
مشتمل تقسیم |
|||
|
سبق 4:
"مَقطُوع"
حدیث لغوی
اعتبار سے
مقطوع، قطع
کا اسم مفعول
ہے اور اس کا
معنی ہے کٹا
ہوا۔ یہ وصل
یعنی ملا ہوا
کا متضاد ہے۔
اصطلاحی
مفہوم میں
ایسی حدیث کو
مقطوع کہا
جاتا ہے جس کا
سلسلہ سند تابعی
یا اس کے
علاوہ کسی اور
(تبع تابعی) پر
پہنچ کر ختم
ہو جائے۔
ایسی حدیث
میں تابعی کے
قول و فعل کو
بیان کیا
جاتا ہے۔ مقطوع وہ
حدیث ہوتی ہے
جس کا سلسلہ
سند تابعی یا
تبع تابعی یا
کسی اور کے
قول و فعل پر
پہنچ کر ختم
ہو جاتا ہے۔
مقطوع اور
منقطع حدیث
ایک دوسرے سے
مختلف ہے۔
منقطع حدیث
کا تعلق حدیث
کی سند سے اور
مقطوع کا تعلق
متن سے ہوتا
ہے۔ مقطوع
حدیث وہ ہوتی
ہے جس میں
تابعی کا قول
و فعل بیان
کیا جائے
اگرچہ اس کی
سند اس تابعی
تک متصل ہو۔
اس کے برعکس
منقطع حدیث
وہ ہوتی ہے جس
کی سند کا سلسلہ
کٹا ہوا ہو۔
اس کا متن سے
کوئی تعلق
نہیں ہوتا۔ مقطوع قولی
کی مثال حسن
بصری رحمۃ
اللہ علیہ کا
یہ قول ہے جو
کہ بدعتی کی
امامت میں
نماز ادا کرنے
سے متعلق ہے، "اس کے پیچھے
نماز پڑھ لیا
کرو کیونکہ
اس کی بدعت کی
ذمہ داری خود
اس پر ہے۔" (البخاري) مقطوع
فعلی کی مثال
ابراہیم بن
محمد بن
المنتشر کا
یہ قول ہے، "مسروق
(تابعی) اپنے
اور اپنے اہل
و عیال کے درمیان
ایک پردہ
ٹانگ لیتے
اور نماز
شروع کر دیتے۔
اس طرح انہیں
اہل و عیال
اور دنیاوی
امور کی کوئی
خبر نہ
رہتی۔" (حلية
الأولياء جـ 2
ـ ص 96) مقطوع
حدیث سے دینی
احکام اخذ
کرنے کا حکم اگرچہ
مقطوع حدیث
متعلقہ
تابعی سے
ثابت شدہ ہو،
اس کے باوجود
احکام شرعیۃ
میں اس سے
استدلال
نہیں کیا جا
سکتا کیونکہ
یہ محض کسی
مسلمان کا
قول یا فعل
ہے۔ ہاں اگر
کچھ ایسے
شواہد و قرائن
موجود ہوں جن
سے یہ علم
ہوتا ہو کہ یہ
دراصل مرفوع
حدیث ہے تو اس
صورت میں اس
کا وہی حکم ہو
گا جو مرسل
حدیث کا ہوا
کرتا ہے۔ ان
شواہد کی
مثال یہ ہے کہ
بعض راوی،
تابعی کا نام
ذکر کر کے لفظ
'یرفعہ' یعنی
'انہوں نے اسے
مرفوع طریقے
سے روایت کیا'
کہہ دیتے ہیں۔ بعض
محدثین جیسے
شافعی و
طبرانی نے
لفظ 'مقطوع' کو
'منقطع' حدیث
کے لئے
استعمال
کرتے ہیں۔
منقطع وہ
حدیث ہوتی ہے
جس کی سند کا
سلسلہ ٹوٹا
ہوا ہو۔ ان کی
یہ اصطلاح
عام محدثین
میں مشہور نہیں
ہے۔ امام شافعی
کے ایسا کرنے
کی وجہ یہ ہے
کہ انہوں نے
اصطلاحات کا
فن ایجاد
ہونے سے پہلے
ایسا کیا۔ امام
طبرانی کا یہ
استعمال
اصطلاحات کے
فن میں کسی حد
تک برداشت کر
لیا گیا ہے۔ · مُصَنَف
ابن ابی شیبہ · مصنف
عبدالرزاق · ابن
جریر، ابو
حاتم اور ابن
المنذر کی
تفاسیر
·
موقوف
اور مقطوع
حدیث میں فرق
بیان کیجیے۔ ·
اوپر
بیان کردہ
کتب کو
انٹرنیٹ پر
تلاش کیجیے۔ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||