|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
|||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
||
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
|||
|
علوم
الحدیث: ایک تعارف کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 5MB) حصہ دوم: خبر
(حدیث) یونٹ 5: مقبول
و مردود
دونوں قسم کی
احادیث پر
مشتمل تقسیم |
|||
|
سبق 3:
"مَوقُوف"
حدیث لغوی
اعتبار سے
'موقوف'، وقف
کا اسم مفعول
ہے یعنی
ٹھہری ہوئی
چیز۔ اصطلاحی
مفہوم میں یہ
اس حدیث کو
کہا جاتا ہے
جس کا سلسلہ
سند صحابی پر
پہنچ کر رک
جائے اور اس
کے دیگر
سلسلہ ہائے
اسناد نہ
پائے جاتے
ہوں۔ یہ وہ حدیث
ہوتی ہے جس
میں کسی قول،
فعل یا تقریر
کی نسبت
صحابی سے کی
گئی ہو۔ موقوف
حدیث وہ ہوتی
ہے جس کا
سلسلہ سند
صحابی پر
پہنچ کر ختم
ہو جاتا ہے
اور اسے ایک
یا ایک سے
زائد صحابہ
سے منسوب کیا
گیا ہوتا ہے۔
سند خواہ
متصل ہو یا
منقطع، یہ
حدیث موقوف
ہی کہلاتی
ہے۔ · موقوف
قولی کی مثال
بخاری کی یہ
روایت ہے کہ
سیدنا علی بن
ابی طالب رضی
اللہ عنہ نے
فرمایا، "لوگوں سے
وہی حدیث
بیان کرو جسے
تم جانتے ہو۔ کیا
تم اللہ اور
اس کے رسول سے
جھوٹ منسوب
کرو گے؟" · موقوف
فعلی کی مثال
امام بخاری
کا یہ قول ہے، "سیدنا ابن
عباس رضی
اللہ عنہما
نے تیمم کی حالت
میں نماز کی
امامت
فرمائی۔" (البخاري
ـ كتاب
التيمم ـ جـ1 ص 82) · موقوف
تقریری کی
مثال بعض
تابعین کا یہ
قول ہے، "ایک صحابی
کے سامنے یہ
کام کیا گیا
لیکن انہوں
نے اس سے منع
نہیں
فرمایا۔" لفظ 'موقوف'
کو ایسی حدیث
کے بارے میں
استعمال کیا
جاتا ہے جس کا
سلسلہ سند
صحابی کے
علاوہ کسی
اور پر جا کر
رک گیا ہو۔
ایسی صورت
میں واضح طور
پر نام لیا
جاتا ہے۔ اس
کی مثال یہ ہے
کہ کہا جائے، "یہ حدیث ابن
شہاب زہری پر
موقوف ہے یا
عطاء الخراسانی
پر موقوف
ہے۔" فقہاء
خراسان کے
نزدیک
"موقوف" کی
تعریف (قرون
وسطی میں) خراسان
کے رہنے والے
فقہاء کے
نزدیک مرفوع
حدیث کو "خبر"
اور موقوف
حدیث کو "اثر"
کہا جاتا ہے۔
محدثین ان
میں سے ہر ایک
کو "اثر" کہتے
ہیں کیونکہ
یہ "اثرت الشئی"
سے ماخوذ ہے
جس کا معنی ہے
روایت یا نقل
کرنا۔ مرفوع
قرار دی جانے
والی موقوف
احادیث سے
متعلق احکام بعض اوقات
اپنے ظاہری
الفاظ یا شکل
میں کوئی
حدیث موقوف
ہوتی ہے لیکن
اس میں گہرے
غور و فکر سے اندازہ
ہوتا ہے کہ یہ
حدیث دراصل
مرفوع ہی ہے۔ اس
حدیث کو
"مرفوع حکمی"
کا نام دیا
گیا ہے کیونکہ
یہ حدیث
بظاہر موقوف
لیکن
درحقیقت
مرفوع ہوتی
ہے۔ اس کی یہ
صورتیں ممکن
ہیں: ·
صحابی
کوئی ایسی
بات کہیں جس
میں اجتہاد
کرنے کی
گنجائش نہ
ہو، نہ ہی وہ
بات کسی لفظ
کی تشریح سے
متعلق ہو اور
نہ ہی وہ
صحابی اہل
کتاب سے روایت
کرنے کے بارے
میں مشہور
ہوں تو وہ
حدیث مرفوع
ہوتی ہے۔ a
ماضی کے
واقعات جیسے
کائنات کی
تخلیق کی
ابتدا وغیرہ
سے متعلق حدیث۔
a
مستقبل
کے امور سے
متعلق خبریں
جیسے جنگیں،
فتنے اور
قیامت کی
علامتیں۔ a
کسی
مخصوص کام کو
کرنے پر ثواب
یا عذاب کی
تفصیل جیسے
یہ کہا جائے،
"اگر یہ کام
کرو گے تو اس کا
یہ اجر ملے
گا۔" a
صحابی
کوئی ایسا
کام کر رہا ہو
جس میں
اجتہاد کرنے
کی کوئی
گنجائش نہ ہو
جیسا کہ
سیدنا علی
رضی اللہ عنہ
کے بارے میں
بیان کیا
جاتا ہے کہ
انہوں نے
سورج گرہن کی
نماز میں ہر
رکعت میں دو
سے زیادہ
رکوع کئے۔ ·
صحابی یہ
بیان کریں کہ
ہم اس طرح
کرتے تھے یا یہ
کہا کرتے تھے
یا اس میں
ہمیں کوئی
حرج محسوس نہیں
ہوتا تھا۔ a
اگر صحابہ کے
اس قول و فعل کا
تعلق رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے زمانے سے
ہو تو صحیح
نقطہ نظر یہ
ہے کہ یہ حدیث مرفوع
ہے۔ جیسا کہ
سیدنا جابر
رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں، "ہم لوگ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم کے
زمانے میں
عزل کیا کرتے
تھے۔" (البخاري
ومسلم) a
اگر صحابہ کے قول و فعل
کا تعلق رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کے زمانے سے
قائم نہ کیا
گیا ہو تو اہل
علم کی اکثریت
کے نزدیک یہ
حدیث موقوف
ہے۔ جیسا کہ
سیدنا جابر
رضی اللہ عنہ
ہی کا ارشاد
ہے، "جب ہم بلندی
کی طرف جاتے
تو اللہ اکبر
کہا کرتے اور
جب نیچے
اترتے تو
سبحان اللہ
کہا کرتے
تھے۔" (البخاري) ·
اگر صحابی یہ
کہیں، "ہمیں
اس کام کا حکم
دیا گیا یا اس
کام سے منع
کیا گیا" تو
یہ بھی مرفوع
حدیث ہوتی
ہے۔ اس کی
مثال یہ ہے: a بعض
صحابہ کا یہ
ارشاد
جیسے "سیدنا بلال
رضی اللہ عنہ
کو اذان کے
کلمات دو دو
بار کہنے اور
اقامت کے
کلمات ایک
ایک بار کہنے
کا حکم دیا
گیا۔" (البخاري
ومسلم) a سیدہ ام عطیہ رضی
اللہ عنہا
فرماتی ہیں، "ہمیں جنازے
کے پیچھے
چلنے سے روک
دیا گیا اور اسے
ہمارے سامنے
نہ روکا
جاتا۔" (البخاري
ومسلم) a ابو قلابہ سیدنا انس
رضی اللہ عنہ
سے منسوب
کرتے ہیں، "یہ سنت ہے کہ
اگر کوئی
شادی شدہ شخص
کسی کنواری
لڑکی سے شادی
کرے تو اس کے
ہاں شادی کے
فوراً بعد
سات دن
گزارے۔" (البخاري
ومسلم) ·
حدیث کا
راوی، حدیث
بیان کرتے
ہوئے صحابی
کے نام کے
ساتھ کچھ
مخصوص الفاظ
بولے تو یہ
حدیث مرفوع
ہوتی ہے۔ یہ
مخصوص الفاظ
چار ہیں:
یرفعہ (اسے
بلند کیا گیا
ہے)، ینمیہ (اسے
بڑھایا گیا
ہے)، یبلغ بہ
(اسے پہنچایا
گیا ہے) اور
روایۃً (اسے
روایت کیا
گیا ہے)۔ اس کی
مثال اعرج کی
حدیث ہے جو وہ
سیدنا
ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ
سے روایۃً
بیان کرتے
ہیں۔ "ہم لوگ ایسی
قوم سے جنگ
کریں گے جن کی
آنکھیں چھوٹی
ہوں گی۔" (غالباً یہاں
تاتاری مراد
ہیں۔) (البخاري) ·
صحابی کسی
حدیث کو قرآن
مجید کی کسی
آیت کے شان
نزول سے
متعلق بیان
کر رہا ہو تو
وہ حدیث بھی مرفوع
ہوتی ہے۔ اس
کی مثال
سیدنا جابر
رضی اللہ عنہ
کا قول ہے، "یہودی یہ
کہا کرتے تھے
کہ اگر کوئی
شخص اپنی بیوی
کی شرمگاہ (Vegina) میں اس کی
پچھلی جانب
سے جنسی عمل
کرے تو اس کی
اولاد
بھینگی ہوتی
ہے۔ اس (غلط
فہمی کو دور
کرنے کے لئے)
اللہ تعالی
نے آیت نازل
کی کہ تمہاری
خواتین
تمہارے لئے
کھیت کی
مانند ہیں سو
جس طریقے سے
چاہو ان سے
ازدواجی
تعلقات قائم
کرو۔" (مسلم)
کیا
موقوف حدیث
سے استدلال
کیا جا سکتا
ہے؟ جیسا کہ
ہم جانتے ہیں
کہ موقوف
حدیث صحیح،
حسن، ضعیف
کچھ بھی ہو
سکتی ہے۔
سوال یہ پیدا
ہوتا ہے کہ
موقوف حدیث
اگر 'صحیح' کے
درجے کی ہو تو
کیا اس سے
دینی امور
میں استدلال
کرتے ہوئے
نتائج اخذ
کیے جا سکتے
ہیں؟ اس کا
جواب یہ ہے کہ
اپنی اصل میں
تو موقوف
حدیث سے دینی
احکام اخذ
نہیں کئے جا
سکتے کیونکہ
یہ صحابہ
کرام کے
اقوال و
افعال پر مشتمل
ہے (اور دینی
حکم ثابت
ہونے کے لئے
اس کا رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
سے تعلق ہونا
ضروری ہے۔) جیسا
کہ مرسل کی بحث
میں ہم بیان
کر چکے ہیں کہ
اگر موقوف
حدیث صحیح
ثابت ہو جائے
تو اس کی مدد
سے ضعیف
حدیث، مضبوط
ہو جاتی ہے۔
اس کی وجہ یہ
ہے کہ صحابہ
ہر حال میں
سنت کی پیروی
کرتے تھے۔ یہ
اس صورت میں ہے
اگر موقوف
حدیث، مرفوع
حکمی نہ ہو۔
اگر وہ مرفوع
حکمی ہو تو یہ
مرفوع حدیث کی
طرح ہی حجت
ہے۔ ·
مرفوع
اور موقوف
حدیث میں کیا
فرق ہے؟ ·
موقوف
حدیث کو کن
بنیادوں پر
مرفوع حدیث
قرار دیا جا
سکتا ہے؟ |
|||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
|||